ترجمہ: محمد اسماعیل ازہری لکھنوی 
٭ احسان عبدالقدوس:۔ مصری ادیب احسان عبد القدوس نے اپنی بیوی کو اپنا ناول ’’لا تطفئ الشمس‘‘ ہدیہ کیا اور اس پر یہ چند سطریں لکھ دیں: ’’اس شخص کے لیے جس نے میرے ساتھ مل کر حیرت ومحبت کی تاریک وادیاں پار کیں…… پھر ہم دونوں کو روشنی کا کنارہ مل گیا…… بے قراری کی گھٹا چھٹی اور قرار آ گیا۔
اور پھر میری حسرتوں کا مجھے صلہ مل گیا۔
میری عقل کو وہ نور عطا ہوا جس نے میرے فن پر نور کا ملمع چڑھادیا۔
میری ساری خطاؤں کو مسکرا کر معاف کردیا۔
میرے بچن کا خواب
میری جوانی کا سرمایہ
میرے بڑھاپے کا سکون
میری محبت
میری بیوی
جس سے میرے دل کی دنیا آباد ہے۔‘‘
٭ مرید البرغوثی:۔ فلسطینی شاعر مرید البرغوثی نے اپنی بیوی مصری ادیبہ رضوی عاشور کے لیے یہ چند کلمات لکھے: ’’آپ ایک آزاد وطن کی طرح خوب صورت ہیں اور مَیں ایک غلام ملک کی طرح تھک چکا ہوں۔‘‘
٭ محمود درویش:۔ فلسطینی شاعر محمود درویش جب ایک اسرائیلی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوئے، تو انھوں نے اُس کو یہ الفاظ لکھے: ’’میں اپنے قبیلے، اپنے ملک، اپنے معاشرے کی عادتوں سے پرے ہٹ کر آپ سے محبت کرتا ہوں…… لیکن مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ اگر یہ ساری چیزیں مَیں نے فروخت کردیں، تو کہیں آپ مجھے نہ فروخت کردیں…… پھر میں کہیں کا نہ رہ جاؤں۔‘‘
پھر جب محمد درویش کو پتا چلا کہ وہ ایک اسرائیلی جاسوس تھی، تو انھوں نے اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’مجھے لگتا رہا ہے کہ میرا وطن آج دوبارہ غلام ہوگیا!‘‘
٭ غسانکنفانی:۔ فلسطینی ناول نگار غسانکنفانی نے غادہ السمان کو خط لکھا، جس میں یہ الفاظ درج تھے: ’’مَیں آپ کے پاس اس طرح لوٹ کر آؤں گا جس طرح سے ایک یتیم اپنی واحد پناہ گاہ کی طرف لوٹ کر آتا ہے…… اور مَیں ہمیشہ لوٹ کر آپ کے پاس آیا کروں گا۔‘‘
٭ طہ حسین:۔ مصری ادیب طہ حسین نے اپنی فرانسیسی بیوی سوزان پریسو کے لیے یہ کلمات لکھے: ’’حقیقی معنوں میں، مَیں اپنے آپ کو اندھا اس وقت محسوس کرتا ہوں، جب آپ میرے ساتھ نہیں ہوتیں…… اور آپ کے ساتھ تو ہر چیز مجھے صاف نظر آتی ہے۔‘‘
(نوٹ: طہ حسین ایک نابینا ادیب اور شاعر تھے)
٭ نزار قبانی:۔ سیری شاعر نزار قبانی نے اپنی عراقی بیوی بلقیس کے مرثیہ میں یہ الفاظ کہے: ’’بلقیس! میری یادوں کا عِطر…… میری بیوی…… میری محبت…… میری غزل……! آپ اللہ کی حفاظت میں سوتی رہیں…… آپ کے بعد میرے لیے شعر وشاعری محال سی ہوگئی ہے، بلکہ پوری نسوانیت سے ہی میرا دل اُکتا گیا ہے۔‘‘
٭ جبران خلیل:۔ لبنانی ادیب جبران خلیل جبران نے اپنی محبوبہ ادیبہ می و زیادہ کو یہ الفاظ لکھے ، جن میں انھوں نے اُس کے بارے میں اپنی غیرت کو بیان کرتے ہوئے کہا: ’’می……! مجھے لگتا ہے کہ مَیں کوئی آتش فشاں ہوں…… جس کا منھ بند کردیا گیا ہو!‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔