ہائیکو جاپانی صنفِ سخن ہے جسے ’’ہائے کائے‘‘، ’’ہاکو‘‘ اور ’’بکو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ جاپان میں سب سے زیادہ مقبول صنف ہے۔ جاپانی شاعری میں قافیہ ہو تا ہے نہ بحر، مگر آہنگ ہو تا ہے۔ ہائیکومیں تین مصرعے ہوتے ہیں جس میں مضمون کی قید بھی نہیں ہوتی۔ اس کے مختلف مصرعوں کے ارکان مقرر ہوتے ہیں۔
ظفر علی ناز ؔ جنہیں میں ادب سے ’’خان دادا‘‘ کہتا ہوں، سوات میں ادب کے حوالے سے جانے پہچانے نام ہیں جو ’’بلبلِ سوات‘‘ بھی کہلائے جاتے ہیں۔ ظفر علی نام ہے اور نازؔ تخلص کرتے ہیں۔ مکانباغ مینگورہ سوات میں 5 نومبر 1964ء کومنیر خان کے ہاں آنکھ کھولی۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری سکول ملا بابا سے حاصل کی جب کہ 1992ء میں پشاور یونیورسٹی سے پشتو ادبیات میں امتیازی نمبروں کے ساتھ ایم اے کیا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ نازؔنے واپڈا میں 1988ء سے ملازمت کا آغاز بھی کیا۔ تاحال اس ملازمت کے ساتھ منسلک ہیں۔
نازؔمحض سوات کے ہی شاعر نہیں بل کہ تمام خیبر پختون خوا کے شاعر ہیں ۔ خیبر پختون خوا کے ہر بڑے شہر میں جہاں ادبی مراکز میں مشاعرے ہوتے ہیں، نازؔ وہاں پیش پیش ہوتے ہیں۔ صرف ملک کے اندر ہی نہیں بل کہ ملک کے باہر بھی آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے متحدہ عرب امارات کے سات ادبی اسفار کیے ہیں۔ نازؔ کے ہائیکو میں حقیقت نگاری کے حوالے سے اتناکہا جاسکتا ہے کہ جس طرح اُن کی غزل زندگی سے مطابقت رکھتی ہے، اسی طرح وہ ہائیکو میں بھی زندگی سے قریب تر ہیں۔ ڈاکٹر سلام سندیلوی کا کہنا ہے کہ بڑا شاعر وہی ہے جس کا کلام زندگی سے مطابقت رکھتا ہو۔ یوں نازؔ نے بھی ہائیکو میں معاشرے کی عکاسی کی ہے، کہتے ہیں:
پروت یے وو پہ پوزہ کی پیزوان د رَسم
ھم یے پہ غاڑہ وو زنزیر د رِواج
وہ پختنہ، زوانی یے کور زڑہ کڑہ
مطلب یہ کہ اس خوبرو حسینہ کے زیورات نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے تھے، وہ جوان تھی، خوب صورت تھی…… مگر اس کی بد قسمتی یہ تھی کہ اس کے گلے میں رواج کی زنجیر لٹک رہی تھی۔ اس لیے اُس نے پوری جوانی گھر ہی پر گزار دی۔ یہاں شاعر نے معاشرے کے غلط قسم کے رواج پر طنز کیا ہے اور ایک عام سی مثال میں ہمارے فرسودہ قسم کے خیالات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس طرح ہمارے سماج کی عورت کی بے بسی کے بارے میں کہتے ہیں :
زہ دَ غوجلی نہ اوزگارہ نہ یم
پہ دیوال ٹولہ ورز سپیاکی تپم
راتہ یے وے بنگڑی دی چا لہ راوڑہ
مطلب یہ کہ میرے ہاتھ ہر وقت گوبر میں گندے ہوتے ہیں، مویشیوں کا خیال رکھتے رکھتے مجھے گوبر سے فرصت نہیں ملتی…… اور تم میرے لیے چوڑیاں لائے ہو! مَیں چوڑیاں کیسے پہن سکتی ہوں؟ یہاں بھی نازؔ نے ہمارے معاشرے کی ایسی خاتون کی بے بسی دکھائی ہے جو رحم کی مستحق ہے، لیکن بد قسمتی سے ہم ایسی خاتون کو جوتی کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔
محبت کی توہین کے حوالے سے نازؔ کا یہ ہائیکو دل پر خنجر کاوار ہے، وہ کہتے ہیں:
د گودرونو او چینو نہ راغلہ
پہ بازارونو کی نیلام کڑہ خکلو
اوس کہ سوک اخلی نو خرسیگی مینہ
نازؔ کہتے ہیں کہ پنگھٹ اور چشموں میں جو محبت کے پاکیزہ جذبات پائے جاتے تھے، اور جو خاص محبت دلوں میں تھی، اب بازاروں میں نیلام ہوگئی ہے۔ اب سرِ عام بازاروں میں محبت کا سودا ہو تا ہے۔
نازؔ دردمند انسان ہیں، اس لیے ان کے کلام میں زندگی سے متعلق یہ حقیقت بھی قابلِ توجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ محبت کا جذبہ دلوں سے آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے اور اس پاکیزہ جذبے کا انجام یہ ہو تا ہے کہ یہ سرِ عام رسوا ہوجا تا ہے۔ انہوں نے معاشرے کے دوسرے ناسوروں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، کہتے ہیں:
ما چی ئی سر پہ لوپٹہ کی پٹ کڑو
راتہ غصہ کے ئی وے دا سہ کوے
دا دے توہین د انسانی حقونو
یعنی کہ مَیں نے خاتون کی عزت کے لیے اس کا دوپٹا اس کے سر پر رکھا، تواس نے غصے سے مجھے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ تم تو انسانی حقوق کی تو ہین کر رہے ہو۔ شاعر کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آج کی خاتون کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ اس کی جتنی عزت کی جائے، وہ اسے اپنی توہین سمجھتی ہے۔ آج کی خاتون کے حوالے سے وہ مزید لکھتے ہیں:
پرون د خزو د پردے پہ حق کی
چی سومرہ خزو تقریرونہ کول
د یوے ھم نہ وہ پہ سر لوپٹہ
یعنی کل عورتوں کے پردے اوران کے حقوق کے حوالے سے ایک تقریب میں جتنی عورتوں نے تقاریر کیں…… ان میں ایک کے سر پر بھی دوپٹا نہیں دیکھا۔
اب اگر غور کیا جائے، تو یہاں نازـؔ نے معاشرے کی ایک خطرناک بیماری کی طرف اشارہ کیا ہے اور مردوں کی غیرت کو للکاراہے۔ وہ عورت اپنے حقوق کے لیے کیا تگ و دَو کرے گی جسے خوداپنی عزت کاخیال نہ ہو اور جو اپنے جسم سے بے خبر ہو، وہ دوسروں کے حقوق کے لیے کیوں کر لڑ سکتی ہے؟
معاشرے کے فضول رسموں اور رواجوں کے حوالے سے نازؔ کایہ ہائیکو ملاحظہ ہو:
چی یے د لُور غوختو لہ خلق راتلل
پلار بہ رٹل یے ورکولہ یے نہ
جوڑہ تری دا شوہ چی مٹیزہ لاڑہ
اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک لڑکی کے لیے بار بار رشتے آتے رہے، مگر اس کا والد انکار کرتا رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لڑکی مجبور ہو کر گھر سے بھاگ گئی۔ یوں نازؔ نے اس معاشرے کی ایک اور خرابی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ایسے واقعات اس معاشرے میں رونما ہو تے ہیں، جس کی شاعر نے کھل کر مذمت کی ہے۔ ہمارے معاشرے میں فضول رسومات کا شاعر عمیق نظر سے مطالعہ کرتے ہیں اور ان رسومات کی مذمت اپنے کلام میں کرتے ہیں۔ جس طرح شوہر بیوی سے مخاطب ہے:
تر سو چی تہ ئی پہ دے کور کی خزے
او دا فضول فرمایشونہ وی ستا
زہ بہ خاوند د خادی ورزی نہ شم
مطلب یہ کہ اے میری بیوی! اگر گھر میں اسی طرح تیری فضول فرمائشیں جاری رہیں، تو مَیں اچھے دن نہیں دیکھ پاؤں گا۔ ہمارے معاشرے کی ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ ہم فضول رسموں میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں، حتی کہ ہم دین کے احکامات کو بھی بھلا بیٹھے ہیں۔ اس لیے شاعر نے ہائیکو میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔دوسری جگہ انہوں نے رمضان میں روزہ نہ رکھنے اور عید جوش و خروش سے منانے والوں کی خوب خبر لی ہے:
زڑہ بہ زمونگ لہ غمہ ولے نہ چوی
چی پہ نہرہ روژے مونگ اونیسو
او اخترونہ بوزتیانو اوکڑو
یعنی بہت افسوس کا مقام ہے کہ ہم نے نہار منہ روزے رکھے، سختیاں برداشت کیں اور جنہوں نے روزے نہیں رکھے، وہ عید منا رہے ہیں۔ اس ہائیکو میں شاعر نے روزہ اور روزہ نہ رکھنے والوں کو مثال کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس سے ان کا بہت گہرا مطلب ہے، سمجھنے والے خوب سمجھتے کہ ان کا اشارہ معاشرے میں ناسوروں کی طرف ہے جو اس ملک کے وسایل پر بے جا قابض ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ نازؔ نے ایک اور ہائیکو میں عوام کی نیتوں کے حوالے سے کہاہے:
چی تہ ممبر شے نو ٹیوب ویل بہ جوڑ کڑے
پہ دے غرض چی مونگ ووٹونہ درکڑہ
نو خدائے پہ مونگ ھاغہ چینے وچی کڑے
مطلب یہ کہ ہم عوام نے اپنے ممبر کو ووٹ اس لیے دیا کہ وہ منتخب ہو کر ہمارے لیے ٹیوب ویل بنائے۔ ایسا ہی ہوا ہم نے ووٹ دیا، وہ کامیاب ہو گیا اور اس نے ٹیوب ویل کا انتظام تو کیا، لیکن ہماری نیتوں کو دیکھ کر اللہ تعالا نے قدرتی چشمے بھی سکھا دیے۔ ایک ہائیکو میں ناز ؔدیگر اقوام کی ترقی کے حوالے سے کہتے ہیں:
کہ دَ دنیا قومونہ مخکی لاڑل
نو مونگہ ھم دَ چا نہ پاتی نہ یو
خو ھغوی زان او مونگ گھڑئی مخکی کڑے
مطلب یہ کہ دنیا کی دیگر ا قوم ترقی کی دوڑ میں ہم سے آگے ہیں۔ اپنی قوم پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ اگر دیگر اقوام آگے جا چکی ہیں، تو ہم نے بھی اپنی گھڑیوں کو آگے کردیا۔ یہ بھی ترقی کی ایک شکل ہے۔
نازؔ سینے میں درد بھرا دل رکھتے ہیں، اس دنیا میں امن کے حوالے سے کہتے ہیں :
اے دعوہ گیرو د نڑئی د اَمن
کہ غواڑئی دا چی دی جنگونہ نہ وی
نو د بارودو دا اڈے ختمی کڑئی
اے امن کے دعوے دارو! اگر تم یہ چاہتے ہو کہ دنیا میں امن قایم ہو اور جنگ نہ ہو، تو ضروری ہے کہ بارود بنانے والے اڈوں کا خاتمہ ہو۔ کیوں کہ جب تک بارود بنتا رہے گا، اس دنیا میں امن کانام ونشان تک نہیں رہے گا۔ نازؔکی شاعری سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ اپنے ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہیں، اس لیے انہوں نے ہائیکو میں وہ حقایق بیان کیے ہیں جن کی طرف دوسرے شعرا نے بہت کم توجہ دلائی ہے ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالا ظفر علی ناز ؔ کے قلم میں اور بھی قوت ڈال دے، تاکہ وہ ادب کی اسی طرح آبیاری کرتے رہیں…… آمین!
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔