تحریر: طارق عزیز

پروفیسر احمد فوادؔ کا اصل نام فرید احمد ہے۔ احمد فوادؔ ان کا قلمی نام اور فوادؔ تخلص ہے۔ وہ ضلع شانگلہ (سابقہ ضلع سوات، موجودہ ضلع شانگلہ) میں مارتونگ، شگہ کے مقام پر 10 جون 1954ء کو پیدا ہوئے۔ فوادؔ کے والد عبدالقیوم اُردو، فارسی اور عربی علوم کے ماہر اور پشتو کے مایہ ناز شاعر تھے…… جب کہ دادا ماصم خان، فنِ سپاہ گری کے ماہر اور علاقے کے ایک معزز بزرگ تھے۔ آپ کے والد نے حصولِ معاش کے سلسلے میں پہلے بمبئ اور پھر پاکستان بننے کے بعد کراچی ہجرت کی۔ فوادؔ نے دینی علوم اور قرآنِ کریم کی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی۔ بعد میں اپنے والد صاحب کے ساتھ صوبہ سندھ چلے گئے…… جہاں آپ نے 1969ء میں تعمیرِ ملت ہائی سکول اینڈ شاہ ولی اللہ اورینٹل کالج منصورہ سے میٹرک اور مولوی عالم فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ انگریزی اور سوشیالوجی میں بی اے آنرز کیا اور پھر اسی یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا۔ 1987ء میں آپ انگلش لیکچرار کے طور پر منتخب ہوئے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ جہانزیب کالج سیدو شریف سوات میں بطورِ صدر شعبۂ انگریزی بھی رہے۔ 2014ء میں پروفیسر کے طور پر ریٹایرڈ ہوئے، آج کل کبل سوات میں رہایش پذیر ہیں۔
فوادؔ کثیر الجہات شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ کی شخصیت، علمیت، سنجیدگی، پُراَسراریت، وقار اور متانت کا مجموعہ ہے۔ کم گو انسان ہیں۔ ’’پہلے تولو پھر بولو‘‘ کی زندہ مثال ہیں۔ ٹھہراو اور دھیما پن آپ کی طبیعت کا خاصا ہے۔ تیز تیز بولنا، آگے بڑھ بڑھ کر اوروں سے مناظرہ کرنا، اپنی بات منوانے کے لیے زور زور سے دلایل دینا ان کی شخصیت سے میل نہیں کھاتا۔ ایک طرح سے تکمیلیت پسند انسان ہیں۔ شہرت بے زاری، بردباری اور استغنا آپ کی شخصیت کے بنیادی حوالے ہیں۔ سہولت پسند اور سہل پسند نہیں اور نہ بہت جلد گُھل مل جانے والے انسان ہی ہیں۔ دوستی بڑھانے میں عجلت سے کام نہیں لیتے۔ احباب کے انتخاب میں بہت محتاط ہیں۔ خوشی اور غم کی حالت میں اعتدال پسندی کے اصول پر قایم ہیں۔ اس لیے تو مخاطب کے لیے ان کے چہرے کے تاثرات پڑھنا مشکل ہوجاتا ہے۔
فوادؔ راسخ العقیدہ اور وسیع المشرب انسان ہیں۔ خود ستائی سے دور بھاگتے ہیں۔ اس لیے تو مشاعروں میں بہت کم شرکت کرتے ہیں۔ تقوا اور زہد کی صفات سے لب ریز شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی استغنا اور بے نیازی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے اپنی کسی کتاب پر کسی سے کوئی تقریظ یا دیباچہ نہیں لکھوایا۔ فوادؔ کی شاعری کی کونپل اس وقت پھوٹی جب آپ ساتویں جماعت میں پڑھ رہے تھے۔ آپ کی پہلی غزل کا مطلع یہ ہے:
آسمان پر بادل رنگین ہے یہ چھایا ہوا
یا رخِ روشن پہ ہے پردہ کوئی پھیلا ہوا (1)
شاعری اور فوادؔ لازم و ملزوم ہیں۔ فوادؔ فنا فی الفن ہیں اور بہ قول ان کے ’’مَیں نے شاعری سے شادی کرلی ہے۔‘‘ لیکن شہرت طلبی اور فرطِ شوق میں اُنہوں نے فنِ شاعری کو عوام کے شوق اور مذاق پر قربان نہیں ہونے دیا۔ وہ علامہ اقبالؔ کی طرح شعر سنانے اور داد وصول کرنے کے بالکل طلب گار نہیں۔ یہ ادبی بے نیازی بہت کم شعرا میں پائی جاتی ہے۔ وہ ایک صاحبِ کردار اور سنجیدہ گفتار شاعر ہیں۔ اگرچہ وہ نرم دمِ گفت گو ہیں لیکن گرم دم جستجو بھی ہیں…… جیسا کہ وہ ایک شعر میں کہتے ہیں:
سکھ چین سے رہنا مری فطرت میں نہیں ہے
دریا ہوں کسی بحر کا ساحل تو نہیں ہوں (2)
فوادؔ نے چھے زبانوں اُردو، انگریزی، عربی، فارسی، فرانسیسی اور پشتو کی ادبیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی علمی بصیرت، ادبی نظریات اور عمیق نظری کا اندازہ مختلف کتابوں پر ان کے لکھے گئے مقدموں، دیباچوں، انٹرویوز اور کالمز سے لگتا ہے۔ اگرچہ اُنہوں نے تنقید پر کوئی باقاعدہ کتا ب نہیں لکھی…… لیکن ان کے تنقیدی نظریات جا بجا بکھرے پڑے ہیں جن کو اگر یک جا کیا جائے، تو ایک علمی اور تنقیدی شاہ کار تخلیق ہوسکتا ہے۔ ان کی شاعری انفرادیت کی ایک بہترین مثال ہے۔
فوادؔ بہ یک وقت ایک استاد، شاعر، کالم نگار، ناول نگار، خاکہ نگار، نقاد اور مترجم ہیں۔ اُردو، پشتو اور انگریزی تینوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں۔ابھی تک ا ن کا پشتو کا ایک مجموعہ ’’کہ تہ راغلے زہ بہ گل شم‘‘ اور اُردو کے تین مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘، ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ اور ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شایع ہو چکے ہیں…… جب کہ ان کی انگریزی شاعری غیر مطبوعہ ہے۔
ایک ناول ’’یہ کیسا دکھ ہے ‘‘ بھی جلد منظرِ عام پر آجائے گا۔
فوادؔ نے کراچی میں صحافت کے میدان میں اپنے بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے اور زمانۂ طالب علمی میں روزنامہ ’’جسارت‘‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ پھر ’’وقت‘‘ نامی رسالے میں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ دورانِ صحافت کئی مشہور ادبی شخصیات کے خاکے بھی لکھے۔ کراچی کے مشہور اخبار ’’اُمّت‘‘ میں ’’یادیں‘‘ کے سلسلے سے کافی عرصہ تک کالم لکھتے رہے۔ ریڈیو پاکستان کے لیے بھی کئی فیچرز اور پروگرامز لکھے۔
اگرچہ قیامِ کراچی کے دوران میں وہ جس ادبی ماحول میں رہے…… وہاں امجد اسلام امجدؔ، مستنصر حسین تارڑ، سحر انصاری، قمرجمیل، پروینؔ شاکر، ڈاکٹر آصف فرخی، ثروت حسین (مرحوم)، کشور ناہید، زاہدہ حنا اور عذرا عباس جیسے جید اور قد آور اُدبا ان کے حلقۂ احباب میں شامل تھے…… لیکن شعر و ادب کے اُفق پر اپنی پوری جلوہ گری کے ساتھ نمودار نہ ہونا فوادؔ کی طبیعت کی سرد مہری ہے جو اسے ستایش کی تمنا اور صلے کی پروا سے دور رکھتی ہے۔
انہوں نے چوں کہ تدریسی فرایض ضلع سوات میں انجام دیے ہیں…… اس لیے یہاں شعر و سخن کی محافل کا نہ ہونا ان کی انفرادی شاعری کی منظرِ عام پر نہ آنے کی ایک وجہ ہے…… تاہم کراچی، اسلام آباد اور ہندوستان میں ان کی شاعری کی انفرادیت اور روایت شکن اسلوب کی آواز گویا ’’نفیری‘‘ کی طرح ہر طرف سنائی دیتی ہے۔
ہندوستان سے ڈاکٹر شمیم حنفی اور شمس الرحمان فاروقی نے آپ کی شاعری پر تبصرے کیے ہیں اور تنقیدی آرا رقم کی ہیں…… جو پاکستانی اخبارات اور ادبی رسایل اور جریدوں میں بھی شایع ہوئی ہیں۔
صوبہ خیبر پختون خوا میں جب پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسمؔ اور گوہر نوید کاٹلنگ نے تحقیق و تنقید کے تیشے سے ادبی پہاڑ کو کھودنے کی کوشش شروع کی، تو کئی دوسرے ہیروں کے ساتھ ساتھ فوادؔ کی شاعرانہ عظمت کو بھی منصۂ شہود پر جلوہ گر ہونے کا موقع ملا۔
شاداب تخیل، جداگانہ اُسلوب، مخصوص لب و لہجہ اور انفرادیت کے مالک فوادؔ کی شاعری روایت اور جدت کا بہترین امتزاج ہے۔ ان کی شاعری جلوۂ صد رنگ کا مظہر نظر آتی ہے اور قوسِ قُزح کے رنگوں سے مزین ہے۔ اگرچہ ان کی غزلیں اعلا پائے کی ہیں…… لیکن ان کے فنِ شاعری کا اصل جوہر ان کی نظموں میں کھل کر سامنے آتا ہے۔ غزلیں روایتی اور نظمیں جدت اور انفرادیت کی صفات سے متصف ہیں۔
چوں کہ فوادؔ نظم کے شاعر ہیں…… اس لیے اس مقالے میں ان کی نظموں میں موجود روایت شکنی کے حوالے سے بحث کی جائے گی۔
’’روایت‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں: روشِ عام پر چلنا، دوسروں کی نقل کرنا یا دوسروں کے طریقے اپنانا۔
اس طرح روایت شکنی کا مطلب ہے: روشِ عام سے ہٹ کر چلنا، نیا انداز اپنانا یا اُن طریقوں سے دامن بچاکر چلنا جو ماضی کا حصہ ہوں۔
شاعری میں روایت شکنی سے مراد موجود اور مروجہ ہیئتوں، اسالیب اور فنی و فکری راستوں سے انحراف ہے۔ روایتی انداز کے متعلق ڈاکٹر مرزا حامد بیگ اپنی کتاب ’’ٹی ایس ایلیٹ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’روایتی انداز اختیار کرنے سے مراد تقلید اور نقالی ہے۔ یعنی جو کچھ زمانے میں ہوتا رہا ہے، ان سب باتوں پر کوئی فنکار یا شاعر اپنی تخلیق کی بنیاد رکھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اور زمانے کی تبدیلی کے ساتھ روایت میں تغیر کا عمل جاری رہتا ہے۔‘‘ (3)
کاینات کی ہر شے ارتقائی مراحل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کیوں کہ تغیر ایک فطری عمل ہے۔ ہر دور اور ہر مقام میں شعر و سخن میں ہیئت کے تجربے ہوتے رہتے ہیں۔ اگر نئے نئے اسالیب، خیالات اور فنی و فکری جہتیں اُردو شاعری کے ساتھ ساتھ نہ چلتیں، تو اُردو شاعری زمانے کا ساتھ دینے اور ذہن و دل کے اظہار سے قاصر رہتی۔ اُردو ادب آج جس مقام پر کھڑا ہے…… اس کے لیے اس نے سیکڑوں سال کا ارتقائی سفر کیا ہے۔ یہ ادب خیزی اور ادب نوازی ہمارے ادیبوں اور شاعروں کی طباعی اور ذہانت کا نتیجہ ہے۔ اگر اُدبا و شعرا نئے نئے مفاہیم اور گل دستۂ معانی کی تلاش میں نہ نکلے ہوتے، تو ادب کا یہ چمن آج اس طرح گل ہائے رنگ رنگ سے معطر نہ ہوتا۔ بقولِ ڈاکٹر وزیر آغا:
’’جب علم کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور نظر کے سامنے نئے اُفق نمودار ہوتے ہیں، تو قدرتی طور پر سارا قدیم ادب اور اسلوبِ حیات مشکوک دکھائی دینے لگتا ہے۔‘‘ (4)
ہر ذہین اور عظیم شاعر رسمی تقلید، یکسانیت اور گھسے پٹے راستوں پر چلنے کی بجائے نئے نئے راستوں پر چلنے کا متمنی ہوتا ہے۔ وہ انفرادیت اور نئے پن کا خواہش مند ہوتا ہے اور جہاں تک فوادؔ کی انفرادیت اور روایت شکنی کا تعلق ہے، تو معاصر شعرا میں ان کی پہچان ستاروں کے درمیان چاند کی موجودگی کی طرح ہے۔ کیوں کہ وہ طبعی طور پر روایت شکنی اور جدت کی طرف مایل ہیں۔ لہٰذا فرماتے ہیں:
ایک ایک لمحہ سب بدلتا ہے
جو پرانا ہے وہ نیا بھی ہے (5)
اب فوادؔ کی شاعری کا جدید انداز ملاحظہ کیجیے۔ عام طور پر کسی سفر نامے میں مختلف ملکوں اور شہروں کے ناموں کا ذکر ہوتا ہے۔ سفر نامہ نگار کی طرح فوادؔ بھی اپنی ایک نظم میں کئی ملکوں اور شہروں کے نام لے کر قاری کو ان جگہوں کی سیر کراتے ہیں۔ اُردو شاعری میں کسی ایک نظم میں اتنے ملکوں اور شہروں کے نام نہیں آئے ہیں…… بلکہ اُردو شاعری اس قسم کے تجربے سے ناآشنا تھی۔ فوادؔ کے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ کی ایک نظم ’’صبا، بادِ صبا کی روح کا پرتو‘‘ سے چند مصرعے ملاحظہ ہوں:
کسی نے اصفہان کے سیب کھائے ہیں
یہ غزنی کی زمیں کا ہے اثر شاید
کہیں پر سوئٹزرلینڈ کی جھیلیں ہیں
کہیں اٹلی کے باغوں میں
وہ پیرانیز کی سربند کوہوں پر
مدائن کے پہاڑوں میں
یہ لندن، ٹوکیو، پیرس کی سڑکیں کتنی روشن ہیں (6)
درجِ بالا مصرعوں کے علاوہ جنیوا، لبنان، رومان، نیویارک، ماسکو، نیل، آگرہ، آسٹریلیا اور روم جیسے الفاظ نظمِ مذکورہ کا حسن بڑھاتے ہیں۔
اُردو شاعری میں خصوصاً اکبر اِلہ آبادی اور عموماً دوسرے شعرا نے انگریزی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جتنے انگریزی الفاظ اکبرؔ نے اپنے ضخیم کلیات میں استعمال کیے ہیں، ان سے زیادہ انگریزی الفاظ فوادؔ نے اپنے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ میں استعمال کیے ہیں۔ اکبرؔ نے انگریزی الفاظ، انگریزی زبان و ثقافت کا تمسخر اُڑانے کی خاطر استعمال کیے ہیں…… لیکن فوادؔ کے ہاں ان الفاظ کا استعمال موقع و محل کی مناسبت سے اور اُردو شاعری کی ایک ضرورت کے طور پر ہوا ہے۔ ان کے اس مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ سے چند الفاظ یہاں نقل کیے جاتے ہیں: ’’اوورکوٹ، ایڈریس، البم، اسٹیشن، آٹوگراف، انڈر وئیر، اسکیچ، اسکیم، انٹرویو، اسٹیج، اسٹور روم، بٹن، ہارٹ فیل، شوکیس، ٹوسٹ، ٹیوشن، وارڈروب، ریک، کافی، ناک، ٹیبل، گٹار، یونیفارم، سیٹ، شوٹ، سایرن، بلیک آوٹ، کیبن، ڈراینگ روم، سگریٹ، بلڈوزر، پرس، میوزک، لفٹ، نیل پالش، پارسل، پیانو، لپ اسٹک، پیراشوٹ، سینڈل، پوسٹر، رجسٹر، ریکٹ، ٹین، ٹرین، ٹینک، فٹ پاتھ، لایٹ، لاکر، مینٹل پیس، بریف کیس، ڈایری، ڈس اون، ریلنگ، سرٹیفکیٹ، ہیلو، کنسرٹ، ٹیلی گرام، مگ، اکاونٹ، پلیٹ، فایل، رپورٹ، ٹرے، سگریٹ، فریم، ٹکٹ، گیٹ، لیکچر، ٹی بی، پرائیویٹ، فیشن شو، پرس، ہسٹیریا، ائیر کنڈیشن، کالک، بریزر، پیکٹ، رجسٹرڈ وغیرہ۔‘‘ (7)
صرف یہ نہیں بلکہ اُنہوں نے ایک طویل نثری نظم میں انگریزی کا ایک بند بھی شامل کردیا ہے۔ اس سے اُردو شاعری میں ایک انوکھا اضافہ ہوا ہے۔ فوادؔ نے پہلی اینٹ رکھی ہے، موجودہ دور میں اُردو میں انگریزیت پسندی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے یہ ممکن ہے کہ مستقبل کے شعرا اُردو اور انگریزی پر مشتمل نظموں کو رواج دیں گے۔
آئیے اب دیکھیے نظم ’’ولگا ایک نئی کہانی لکھ رہا ہے‘‘ کا ایک انگریزی بند:
He comes and goes like the wind
The windows are deaf and the doors are dumb
And a single leaf is left on the floor
He comes and goes like the wind
He doesn’t like hangers and cupboards
There’s a space in my heart for his belongings
He comes and goes like the wind
He is the gossip of weathers in the stillness of night
He is the sadness of sunshine in the quite of after noon
He is all that one longs to have in life
He comes and goes like the wind (8)
اُردو شاعری کے پودے میں انگریزی کی قلم لگانے کے حوالے سے رام بابو سکسینہ کہتے ہیں: ’’اُردو شاعری میں جدید رنگ انگریزی زبان اور انگریزی طرزِ تعلیم کے مرہون منت ہے۔ اس نے شاعری کو وسیع کردیا ہے۔ اس کی وجہ سے ایک وسیع اور قیمتی ذخیرۂ الفاظ، نئے تخیلات، نئی تشبیہات، نئے نئے مضامین، نئے مناظر اور شعر کے نئے نئے سامان فراہم ہوئے۔ مقررہ قواعد و عروض سے لاپروائی، ہر قسم کے قابل و ناقابل مضامین کو شعر کے سانچے میں ڈھالنا، انگریزی الفاظ کی بھرمار۔ پھر بھی اگر غور سے دیکھا جائے، تو اس کے فواید، نقصانات سے زیادہ ہیں اور یہ خرابیاں جو آج پیشِ نظر ہیں،کسی روز رفع ہوجائیں گی۔‘‘ (9)
ایک نظم ’’چاند بالکنی میں کھڑا اپنے بال خشک کر رہا ہے‘‘ میں فوادؔ نے ایک نیا انداز اپنایا ہے۔ ہیئت کے اس نئے تجربے میں اُنہوں نے نثری نظم کے پہلے تین حصوں میں موجود ہر شعر کے دوسرے مصرعے کو ٹیپ کے مصرعے کے انداز میں لکھا ہے۔ مثلاً پہلے حصے کے ٹیپ کا مصرع ہے۔’’وہ خواب کی دہلیز پہ خاموش کھڑی ہے‘‘ دوسرے حصے کے ٹیپ کا مصرع ہے ’’محبت ناک کرکے تو کبھی دل میں نہیں آتی‘‘ تیسرے حصے کے ٹیپ کا مصرع ہے ’’کتابیں، میز، کرسی، کھڑکیاں سب ٹوسٹ کرتی ہیں۔‘‘ (10)
انہوں نے اپنے تیسرے مجموعے ’’ایک جانب چاندنی‘‘ میں ایک ایسی منفرد اور نیم مسلسل غزل لکھی ہے جس کے ہر شعر کا دوسرا مصرع ایک طرح کا اور بار بار دُہرایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ غزل کی زمین فنی طور پر نئی فصلوں کے لیے سازگار نہیں لیکن قاری فوادؔ کے اس نئے تجربے میں ایک نیا دل کش احساس محسوس کرے گا۔ اس غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ کیجیے اور اس میں موجود مٹھاس محسوس کیجیے:
دل کہاں جائے بیچارہ زندگی مشکل میں ہے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
چاہنے والے پریشاں ہیں کہ کس کا ساتھ دیں
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
اس لیے دلچسپ لگتی ہے محبت کی کتاب
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
جانے اس کمبخت دل کو اور اب کیا چاہیے
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ
تیرے ہونے کا یہاں کیا اور مانگیں گے ثبوت
ایک جانب چاندنی ہے ایک جانب زرد دھوپ (11)
’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ کے مقابلے میں ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ میں روایت شکنی کے تجربے بہت کم کیے گئے ہیں، تاہم موخر الذکر مجموعے کی پہلی غزل ’’حمدیہ غزل‘‘ ہے، اس کے اشعار میں ربط اور تعلق نظم کے اشعار کی طرح ہے اور ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر شعر کا قافیہ اور ردیف مثنوی کی طرح الگ الگ ہیں، لیکن نظم کی طرح عنوان کے علاوہ ساری ہیئت اور فنی انداز نظم کی ہے۔ یہاں بہ طورِ مثال دو اشعار نقل کرتا ہوں:
تو جو ٹوٹے ہوئے تاروں کو زباں دیتا ہے
خشک پتوں کو لب و نطق و بیاں دیتا ہے
رات کی کوکھ میں دن تیری اجازت سے ہے
خاک میں رنگ و نوا تیری اجازت سے ہے (12)
غزل کے اشعار میں قافیے اور ردیف کی پابندی کتنی ضروری ہوتی ہے…… اس بارے میں ڈاکٹر طاہر فاروقی کہتے ہیں:
’’اگر مطلع میں قافیے کے ساتھ ردیف بھی ہو، تو باقی تمام شعروں میں اس کی پابندی ضروری ہے۔ ردیف کا ہونا غزل میں ضروری نہیں…… لیکن جہاں ایک ردیف غزل میں آئے، اس کی پابندی تمام اشعار میں کی جائے گی۔‘‘ (13)
درجِ بالا بیان کو اگر فوادؔ کی غزلوں پر ’’ایپلائی‘‘ کیا جائے، تو اُنہوں نے کہیں کہیں غزلوں کے پہلے اشعار میں ردیف اور قافیے کی پابندی کا اہتمام نہیں کیا ہے۔ اس طرح ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ کے صفحہ نمبر 36 پر ایک غزل مطلع کے بغیر ہے۔ اس غزل میں مقطع بھی نہیں:
اس غزل کا پہلا شعر یہ ہے:
جیسے ہو تیز دھوپ میں تنہا کوئی گلاب
دیکھا اُسے تو اور طبیعت ہوئی اُداس (14)
’’ایک جانب چاندنی‘‘ میں بھی بغیر مطلعوں کی غزلیں موجود ہیں۔ ان غزلوں کے پہلے اور دوسرے اشعار یہ ہیں:
مَیں کن چشموں سے اُن کا حال پوچھوں
وہ دریا جو زمیں میں کھوگئے ہیں
تمہیں اب کون آئے گا منانے
مری آنکھوں کے نغمے سوگئے ہیں
مَیں اپنا درد ہوا کے سپرد کرتا رہا
سماعتوں کا دریچہ کھلا نہ در کوئی
تم اپنے نالہ و فریاد سے ہی جاؤگے
یہاں کسی پہ بھی ہوتا نہیں اثر کوئی (15)
دو غزلہ اور سہ غزلہ کی روایت تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ آج کل کے اکثر شعرا ایجاز و اختصار سے کام لیتے ہوئے کم سے کم اشعار میں مافی الضمیر کے بیان کو ترجیح دیتے ہیں۔ ویسے بھی غزل کے اشعار کی تعداد جتنی کم ہو…… اُتنی ہی اس میں اثر افرینی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک معیاری غزل میں اشعار کی تعداد پانچ سے لے کر گیارہ تک ہوتی ہے۔ معیاری غزل کے بارے میں ڈاکٹر سید عبداللہ ’’ولی سے اقبال تک‘‘ میں رقم طراز ہیں:
’’علمائے فن نے غزل کی ساخت میں تعدادِ اشعار کو معین اور محدود کرنے کی کوشش کی ہے اور غزل کی طوالت کو عیب قرار دیا ہے جب غزل میں اشعار کی تعداد زیادہ ہوجاتی ہے، تو غزل کے مرکزی جذبے کا اثر بکھر جاتا ہے۔‘‘ (16)
فوادؔ نے دو غزلہ کی روایت پھر سے شروع کردی ہے۔’’دل ورق ورق تیرا‘‘ میں صفحہ نمبر 52 پر موجود دو غزلہ کے پہلے حصے میں 27 اشعار اور دوسرے حصے میں 21 اشعار موجود ہیں۔ اس غزل کا مطلعِ اول و ثانی ملاحظہ کیجیے:
اب وہ غم ہے نہ وہ مسرت ہے
وہ گیا ہے، تو کتنی فرصت ہے
پوچھنے کی بھی کیا ضرورت ہے
ٹھیک ہوں آپ کی عنایت ہے (17)
جب کہ ان کے تیسرے مجموعے ’’ایک جانب چاندنی‘‘ میں ایک حمدیہ سہ غزلہ بھی موجود ہے جس میں مجموعی طور پر 39 اشعار ہیں……جس کے مطلعے یہ ہیں:
نہیں یہ ذہن تنہا الجھنوں میں
ہے میرا دل بھی مشکل مرحلوں میں
نظر آیا ہے وہ آکر بنوں میں
جسے ڈھونڈا سدا آبادیوں میں
نہ اب شعلے بھڑکتے ہیں دلوں میں
نہ وہ شوخی رہی ہے دلبروں میں (18)
اُنہوں نے لمبی لمبی غزلوں کے لکھنے کی روایت پھر سے شروع کی۔ اگرچہ پرانے زمانے میں ان غزلوں کا رواج تھا…… لیکن زمانے کی تیز رفتاری نے بھی غزل کو اختصار پر مجبور کر دیا…… اور یوں شعرا مختصر پیرائے، کنائے اور علامتوں میں اپنے احساسات اور جذبات بیان کرنے لگے۔
فوادؔ کے اختراعی ذہن نے روایتِ عام سے ہٹ کر لمبی لمبی غزلوں کے رنگوں اور ذایقوں سے ایک بار پھر اکیسویں صدی کے قاری کو آشنا کردیا۔ ان کے تیسرے مجموعے ’’ایک جانب چاندنی‘‘ میں 18، 20 اور 24 اشعار تک کی غزلیں موجود ہیں۔ اُنہوں نے نہ صرف لمبی لمبی غزلیں لکھیں…… بلکہ ’’ہے آسماں‘‘ جیسی مشکل ردیف کے تحت 51 اشعار پر مشتمل غزل بھی لکھی۔ اس قسم کی ردیف کا مسلسل استعمال اور اس میں روانی اور تازگی برقرار رکھنا فوادؔ کے لیے بازیچۂ اطفال ہے۔
قدیم اور جدید شعرا نظم میں کسی نہ کسی ہیئت کی پابندی کرتے چلے آئے ہیں۔ ان ہیئتوں کی مختلف اقسام ہیں…… جن میں سے ایک قسم مسمط ہے۔ مسمط نظم کی وہ قسم ہے جس میں متعدد بند ہوں اور ہر بند میں متعدد مصرعے ہوں۔ ایک بند میں 3 سے لے کر 10 مصرعے تک ہوسکتے ہیں…… یعنی ایک نظم مثلث، مربع، مخمس، مسدس، مسبع یا مثمن کی ہیئت میں ہوسکتی ہے، لیکن کوئی سی بھی ایک نظم مکمل طور پر ایک ہیئت میں ہوتی ہے، یہ یا تو مخمس کی شکل میں ہوتی ہے…… یا مسدس وغیرہ کی شکل میں۔
فوادؔ کے دوسرے مجموعے ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ میں ایک نظم ’’کس کی تفصیل ہے یہ‘‘ میں اُنہوں نے مختلف بندوں میں مختلف مصرعوں کی تعداد بھی مختلف رکھی ہے۔ پہلے اور دوسرے بند میں مصرعوں کی تعداد 9 ہے، تیسرے بند میں مصرعوں کی تعداد 12 ہے، چوتھے بند میں بھی مصرعوں کی تعداد 9 ہے۔ پانچویں بند میں مصرعوں کی تعداد 7 ہے۔ چھٹے بند میں مصرعوں کی تعداد 11 ہے۔ اس طرح اس نظم کو مخمس، مسدس، مسبع، معشر یا کسی اور ہیئت میں ڈالنا مشکل ہے…… بلکہ مستقبل میں اس کے لیے کسی نام کا امکان ممکن ہے۔ دراصل یہ نئی ہیئت مروجہ فنی قیود سے انحراف کی ایک خوش گوار مثال ہے…… جس سے قاری کو پرانی شراب میں ایک نیا مزا محسوس ہوگا۔
اس مجموعے میں ایک نظم بہ عنوان ’’ماں نے جاتے ہوئے……‘‘ بھی ایک شخصی مرثیہ ہے۔ مرثیہ عام طور پر مسدس کی ہیئت میں لکھا جاتا ہے۔ اقبالؔ کا شخصی مرثیہ ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ بھی مسدس کی ہیئت میں ہے…… جب کہ غالبؔ نے پہلی مرتبہ اپنے بھانجے عارف کا نوحہ غزل کی ہیئت میں لکھا۔ اس کے بعد فیضؔ نے بھی اپنے ایک دوست کا نوحہ غزل کی ہیئت میں لکھا…… لیکن فوادؔ کے مذکورہ بالا مرثیے کی ہیئت بھی عجیب ہے۔ پہلے پانچ بند مخمس کی شکل میں ہیں۔چھٹا اور ساتواں بند آزاد نظم کی شکل میں ہیں جب کہ آٹھواں بند مخمس کی شکل میں ہے۔ مرثیہ لکھنے کے لیے ہیئت کی کوئی پابندی نہیں…… لیکن قدما کی پیروی کرنا بعض شعرا فرضِ عین سمجھتے ہیں۔ اس اتباع سے ادب اور خاص کر شاعری میں نئے نئے تجربوں اور زمانے کے ساتھ چلنے کے امکانات معدوم ہوجاتے ہیں۔ اگر اُردو شاعری میں روایت شکنی اور نئے تجربات کے نئے راستوں اور امکانات کو روکا جائے، تو آج اُردو شاعری جس آفاقی مقام پر کھڑی ہے، یہ عروج کبھی اس کے مقدر میں نہ ہوتا…… بلکہ یہ ایک بے جان اور ساکن چیز تصور کی جاتی۔
شاعری میں فوادؔ نے اپنی جرات مندانہ روایت شکنی کی بدولت نئے تجربوں کو دعوت دی ہے۔ اس رائے کو تقویت دینے کے لیے میں یہاں پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسمؔ کی کتاب ’’صوبہ سرحد کے اُردو غزل گو شعرا‘‘ سے ایک اقتباس نقل کرتا ہوں:
وہ (فارغ بخاری) خود کہتا تھا کہ تجربے ہوتے رہنا چاہیے، جس تجربے میں جان ہوگی وہ تسلیم کرلیا جائے گا۔ اس لیے اس نے اپنی زندگی میں نثری نظم کی مخالفت نہیں کی۔‘‘ (19)
عام طور پر غزل کے اشعار کی ترتیب کو اگر بدل دیا جائے، تو غزل کا مرکزی جذبہ متاثر نہیں ہوتا…… لیکن نظم کے اشعار تسلسل اور ربط کا تقاضا کرتے ہیں۔ گویا ان اشعار کی ترتیب ایک، دو اور تین کی طرح ہوتی ہے۔
فوادؔ کے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ میں ان کی آزاد اور نثری نظموں میں سیکڑوں مصرعے ایسے ہیں جن کو اگر ایک دوسرے کے ساتھ بدل دیا جائے، تو معنی اور مفاہیم وہی ہوتے ہیں جو تبدیلی سے پہلے موجود تھے۔ ان کی ایک نثری نظم سے ایک بند پیش کیا جاتا ہے:
آنسوؤں میں تصویریں بگڑ جاتی ہیں
خوابوں کی گلیوں میں ننگے پاؤں گھومنا منع ہے
ان پتھروں کے دل ریشم کے بنے ہیں
جو تمہارے پاؤں کے نشانات ہاتھوں میں چھپائے چلے ہیں
درجِ بالا مصرعوں کی ترتیب بدل دینے سے ان کے مفہوم پر کچھ اثر نہیں پڑتا۔ کیوں کہ فوادؔ کی نظموں میں غزل کی سی شان پائی جاتی ہے۔آیئے دیکھیے:
جو تمہارے پاؤں کے نشانات ہاتھوں میں چھپائے چلے ہیں
ان پتھروں کے دل ریشم کے بنے ہیں
خوابوں کی گلیوں میں ننگے پاؤں گھومنا منع ہے
آنسوؤں میں تصویریں بگڑ جاتی ہیں (20)
فوادؔ کے ایک تنقید نگار اور افسانہ نگار دوست آصف فرخی، ان کے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ کی انفرادی شاعری کے بارے میں ایک انگریزی اخبار میں لکھتے ہیں:
(ترجمہ) احمد فوادؔ نے اُردو شاعری میں ایک نئی اور بہترین ہیئت کی بنیاد رکھی۔ ان کی ساری نظمیں مختلف حصوں میں تقسیم ہوچکی ہیں جن کو موضوعات کی جگہ رومن ہندسوں سے ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر کوئی کسی نظم کے کسی ایک بند کو کسی دوسری نظم کے کسی بند کے ساتھ ملا دے، تو اس سے روانی اور ربط پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ ساری نظمیں ایک خاندان کے بہن بھائی (افراد) ہیں۔ مختصر نظمیں ایک دوسرے سے اس طرح ملی ہوئی ہیں جیسے کسی عمارت کی اینٹیں…… غزل اور نظم کی ہیئت اور مزاج میں بہت فرق پایا جاتا ہے۔ ان کے درمیان ایک فرق یہ بھی ہے کہ نظم کے اشعار ایک موضوع کے تحت ہوتے ہیں…… جب کہ غزل کے لیے یہ شرط ضروری نہیں۔
اس سلسلے میں رفیع الدین ہاشمی رقم طراز ہیں: ’’اصطلاحاً غزل کی مختلف تعریفیں کی گئی ہیں، جن کا مفہوم یہ ہے کہ غزل کے ہر شعر میں ایک مکمل مفہوم ہوتا ہے، یوں غزل میں بڑی لچک ہے اور اس کی مقبولیت کا راز بھی یہی ہے کہ غزل کا ہر شعر معنوی اعتبار سے ایک مکمل اکائی ہوتا ہے جب کہ دیگر تمام اصناف شعر میں بالعموم تسلسل پایا جاتا ہے۔ البتہ کبھی کبھی پوری غزل میں یا اس کے چند شعروں میں موضوع یا خیال کا ربط و تسلسل موجود رہتا ہے۔‘‘ (22)
فوادؔ کی آزاد اور نثری نظموں میں بھی غزلوں کی طرح ہر مصرعے میں الگ الگ مفہوم پایا جاتا ہے۔ یوں ان کی نظموں میں آزاد تلازمۂ خیال کی تکنیک بھی دوسرے شعرا کی نسبت زیادہ استعمال ہوئی ہے۔ یہ ان کی نظموں کی ایک خاص خوبی ہے کہ اُنہوں نے نظم اور غزل کے درمیان فرق کو کم کردیا ہے۔ اس سے مستقبل میں اس بات کا امکان پیدا ہوگیا ہے کہ ’’غزلیہ نظمیں‘‘ اور ’’نظمیہ غزلوں‘‘ کی اصطلاحات بھی اُردو شاعری کی زینت بن جائیں گی۔ مجھے تو یہ قوی امکان ہے کہ اس روایت کی ابتدا کا سہرا بھی فوادؔ کے سر سجے گا۔ قاری جب یہ شاعری بار بار پڑھے گا، تو اس سے ہر دفعہ ایک نیا مزہ اور نیا مفہوم لے گا۔ ان کی ایک نظم ’’مَیں جب فون پر بات کرتا ہوں‘‘ کے ایک بند سے الگ الگ مفہوم والے غزلیہ مصرعے پیش خدمت ہیں:
اب اس نظم میں آگ لگ جائے گی
محبت نے اس گھر کی تعمیر کا ٹھیکہ ریت کو دیا ہے
پاگل پن پہ کسی کا اجارہ نہیں ہے
اپنی آواز اس بریف کیس میں رکھ دو
جب کہ اس نظم میں اگلے بند میں موجود غزلیہ طرز کے اشعار بھی ملاحظہ کیجیے…… جو نظم کی جدت میں ایک نیا اضافہ ہیں:
ہاں محبت کے اشتہار میں آؤ
یا کسی دھوپ رنگ کار میں آؤ
اس طرح میں نہیں ملوں گا تمہیں
مجھ سے ملنا ہو، تو قِطار میں آؤ
یہ میرے گیت ساتھ لے جانا
تاکہ تم بھی کسی شمار میں آؤ
اس نظم کے اگلے بند میں صرف دو اشعار ہیں اور دونوں غزل کے مطلعوں یا مثنوی کی ہیئت کی طرح ہم قافیہ و ہم ردیف ہیں:
تم سے پہلے بھی لوگ اندھے تھے
چاند پاگل تھا روڈ گندے تھے
آرزوؤں کے خالی ٹھیلے تھے
تم سے پہلے بھی ہم اکیلے تھے (23)
فوادؔ کے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ میں موضوع کے لحاظ سے کل 16 نظمیں ہیں۔ اگرچہ ساری نظمیں موضوعاتی ہیں…… لیکن یہ ساری نظمیں روایتی نظموں کی طرح اپنے موضوع کے تابع نہیں۔ وہ، ہر نظم میں غزل کی طرح ہر شعر بلکہ ہر مصرعے میں الگ الگ خیال ظاہر کرتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اُن کا مذکورہ بالا سارا مجموعہ ایک مکمل نظم ہے، نظم کا ہر بند ایک الگ نظم کی شکل بھی اختیار کرتا ہے اور ہر نظم کا ہر مصرع ایک الگ مفہوم بھی رکھتا ہے۔ ہر موضوعی نظم کو رومن ہندسوں کے حساب سے کئی بندوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کے اس مجموعے کے بارے میں ایک نقاد مظفر علی سید ایک انگریزی اخبار میں اپنا خیال اس طرح بیان کرتا ہے:
"Fawad writes Azad nazam as well as prose nazam and ghazals. Although he writes them separately at different times. He prefers to cut and dissolve them into each other forming filmic montage and producing a unique dramatic effect. He is quite capable of breaking off into English in the middle of an Urdu poem. (24)
(ترجمہ) احمد فوادؔ کی شاعری آزاد نظم، نثری نظم اور غزل پر مشتمل ہے۔ وہ مختلف اوقات میں ان اصناف کو الگ الگ موضوعات کے تحت لکھتے ہیں…… لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک فلم کے سین کی طرح وہ ایک صنف میں دوسری اصناف کے اشعار ملا دیتے ہیں، جس سے ایک ڈرامائی انداز اُن کی شاعری میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اُردو نظم کے بیچ میں اکثر انگریزی اشعار بھی لکھ دیتے ہیں۔‘‘
ان کی ایک طویل نظم ’’صرف دریاؤں کا ٹوٹا ہوا بربط اُسے کیا پیش کریں‘‘ 80 صفحوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ شاعر موصوف نے اس نظم کو 137 حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ہر حصے کو رومن ہندسوں کے حساب سے جدا کردیا ہے۔ رومن ہندسوں کی تقسیم کی یہ روایت فوادؔ کا اختراع ہے۔ حالاں کہ اس سے پہلے کافی طویل نظمیں لکھی جا چکی ہیں…… جیسے حالیؔ کی ’’مد و جزر اسلام‘‘ میر حسنؔ کی ’’سحر البیان‘‘ کمال خان رستمی کی ’’خاور نامہ‘‘ میر تقی میرؔ کی طویل مثنویاں، انیسؔ اور دبیرؔ کے مرثیے، اقبال ؔ کی طویل نظمیں، اس کے علاوہ جدید شعرا نے بھی طویل نظمیں لکھی ہیں…… جن کی تفصیل یہاں احاطۂ تحریر میں نہیں لائی جاسکتی۔ میرا جیؔ نے بھی ایک عجیب روایت قایم کی ہے۔ اس نے 52 سطروں پر مشتمل ایک طویل نظم لکھی ہے۔ تمام سطریں ایک مصرع میں سمائی گئی ہیں اور نثر کی ہیئت میں ہیں…… لیکن فوادؔ کی مذکورہ بالا طویل نظم میں کچھ مصرعے نثری ہیئت میں ہیں، کچھ مصرعے آزاد نظم کی شکل میں ہیں اور کچھ پابند نظم کی شکل میں ہیں۔ یوں یہ نظم فنی تجربات اور خیالات کا ایک بہاؤ ہے۔ اس نظم میں موجود موضوعات کو اگر یک جا کیا جائے، تو ایک علاحدہ مجموعہ مرتب ہوسکتا ہے۔ فواد ؔ نے ان نظموں میں فن کی مروجہ قید میں اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے تخیل کی پرواز کو لامحدود کردیا۔
فوادؔ نے اپنے ایک دوست دانش غنی کی اچانک موت پر ایک شخصی مرثیہ، نثری ہیئت میں لکھ کر اُردو شاعری میں ایک نیا اضافہ کردیا ہے۔ یہ فوادؔ کی روایت شکنی اور جدت کی ایک اعلا مثال ہے۔ ان کی جدید طرز کے مرثیے کا ایک انداز دیکھیں:
موت صرف ہاتھ ملانے کے لیے اس کی طرف بڑھتی تھی لیکن
اس نے مسکراکر اسے گلے لگا لیا
گولی
اس کی کنپٹی میں لگی
اور کان کا وہ حصہ اپنے ساتھ لے گئی
جس میں چڑیوں اور آبشاروں کی گفتگو
کے کچھ حصے محفوظ کیے گئے تھے
شہر میں ہر طرف آنسوؤں کا چراغاں کرو
زندگی لٹ گئی،روشنی اُٹھ گئی (25)
شعری دنیا میں ایک بڑا فن کار لفظوں کے استعاراتی اور علامتی انداز کو روا رکھتا ہے اور اپنے وسیع اور پیچیدہ تجربات کو کم ازکم لفظوں میں بیان کرتا ہے۔ بقولِ ملارمے کہ تخلیق کے معنی متعین کیے جائیں، تو وہ مر جاتی ہے۔ اگرچہ شاعری میں روایتی علایم نے کثرتِ استعمال کے باعث اپنی تازگی اور ندرت کھو دی ہیں، لیکن ایک باکمال شاعر ان علامتوں میں نئے معانی بھی سمو دیتے ہیں۔ لفظ نیا نہیں ہوتا…… بلکہ اس کا استعمال اور معانی نئے ہوتے ہیں۔ فرہاد کو ایک مثالی عاشق کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے لیکن علامہ اقبالؔ اور فیض احمد فیضؔ نے اسے مزدور طبقے کی علامت کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔ فوادؔ کی شاعری کا ایک نمایاں وصف بھی نئی نئی علامتوں کا استعمال ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ کاینات کی مختلف مجرد و مجسم حقیقتوں کو مجازی مفہوم و معانی کا جامہ پہناتے ہیں۔ انہوں نے ادبی سرمائے میں مستعمل رموز و علایم سے استفادے کے ساتھ ساتھ ان میں جدت کے نئے رنگ بھر دیے ہیں۔ ان کی یہ علامتیں بظاہر سادہ مگر اپنے اندر تہ در تہ، عمیق اور عالمگیر معنویت کے حامل ہیں۔
یوں تو فوادؔ کی آزاد اور نثری شاعری کا ہر شعر بلکہ ہر مصرع علامت کی ہمہ جہتی کا ثبوت ہے اور یوں لگتا ہے کہ انہوں نے علامتوں کا ایک حیرت انگیز محل تعمیر کیا ہے۔ فوادؔ کی شاعری کا علامتی نظام کہکشاں میں موجود لاتعداد ستاروں کی طرح لامحدود ہے…… لیکن مقالے کے حجم کو دیکھتے ہوئے میں صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں جس سے ظاہر ہوگا کہ موصوف یہاں بھی روایت شکنی کا پرچم بلند کرتے ہیں۔ چاند ایک آفاقی علامت ہے۔ یہ خوب صورتی، حسن، دل کشی، سیم تن اور نازک بدن کے خد و خال کو واضح کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ چاند کے بارے میں ان کی جدت طبع اور غیر روایتی انداز مختلف مصرعوں میں ملاحظہ ہو:
چاند پاگل ہے اسے منہ نہ لگانا تم بھی
چاند تاروں سے کہو کچھ سلیقہ سے رہیں
چاند کو بھنگ پلائی ہے کسی نے شاید
چاند ایک بدکار عورت ہے
چاند ایک طویل نظم کی تظمین ہے
چاند کو سورج نے پھر گھر سے نکال دیا ہے
چاند کی عصمت دری کی گئی
چاند نے سمندر کو رات کے کپڑے اتارتے دیکھ لیا تھا (26)
فوادؔ کی مشہور نظم ’’چاندنی‘‘ نے تو قارئین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا کہ جس چاند کی تعریف و تحسین میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور جس کی پوجا تک کی جاتی ہے، فوادؔ نے اسے محض ’’طوائف‘‘ قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھیں، ان کی ندرتِ خیال اور جدتِ طبع کی ایک جھلک:
چاندنی پیشہ ور طوائف ہے
وادیوں، جنگلوں، پہاڑوں میں
اس کی آواردگی کے چرچے ہیں
نوجواں مرمریں بدن اس کا
مل کے سب شاعروں نے لوٹا ہے
ہر سیہ گوش اس سے واقف ہے
چاندنی پیشہ ور طوائف ہے (27)
فوادؔ کے پہلے مجموعے کی علامتی، مسلسل اور طویل نظموں کی تہ داری اور گہرائی کو دیکھتے ہوئے یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اگر ایک وقت میں دس قارئین ان نظموں کو پہلی بار پڑھیں گے، تو وہ ان سے دس مختلف مطالب اخذ کریں گے۔ اگر مذکورہ قارئین ان نظموں کو دوبارہ پڑھیں گے، تو اُن کو اِن نظموں میں نئے مفاہیم کے اشارے ملیں گے۔ اگر تیسری دفعہ پڑھیں گے، تو ان کو ایک اور انداز اور لطف محسوس ہوگا۔ یہی تو اس شاعری کا کمال ہے کہ قاری کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور اس پر نئے نئے مفاہیم اور وسعتوں کے در وا ہوتے ہیں۔
غلام زہرا نے اپنی کتاب ’’مرزا غالبؔ‘‘ میں انتظار حسین کا ایک دعوا نقل کیا ہے کہ ’’افسانہ نگار انتظار حسین نے اپنے ایک مضمون میں یہ دعوا کیا ہے کہ مکاتیبِ غالبؔ ایک ناول کا سا نقشہ پیش کرتے ہیں۔‘‘ (28)
اگر غور سے دیکھا جائے، تو یہی لچک، رنگا رنگی اور ہمہ گیریت ہمیں فوادؔ کی نظموں میں بھی دکھائی دیتی ہے…… لیکن کسی نے اس رُخ کی طرف توجہ نہیں دی۔ ان متنوع صفات اور نئے رُخ کی ایک جھلک پیشِ خدمت ہے۔ گورنمنٹ ڈگری کالج آگرہ کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد نے اِن نظموں کو ایک خط کی شکل میں اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور کے مجلے میں شایع کرکے پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ اس خط کے چند اشعار یہ ہیں:
تمہارے نام یہ خط آنسوؤں نے لکھا ہے
تیرے بغیر کلی دل کی کب چٹکتی ہے
تم میرے دل کے تاروں پہ چلتے رہے
اور تم سے آخری باتیں کرنے کے بعد دل کا یہ حال ہوچکا ہے کہ
اس سے پہلے کہ باؤلا یہ دل
پھر کسی غیر در کا ہوجائے
جانِ جاں مجھ سے ملنے آجانا (29)
فوادؔ کی شاعری پر یہ اعتراض اُٹھایا جاتا ہے کہ ان کی شاعری، خاص کر آزاد اور نثری نظمیں جلد سمجھ میں نہیں آتیں۔ یہ اعتراض بجا ہے۔ اصل میں اُنہوں نے اپنی شاعری کا آغاز غالب ؔ کی طرح مشکل پسندی سے کیا۔ وہ عام ڈگر پر چلنے کے عادی نہیں۔ اس لیے انہوں نے اپنے لیے ایک نئے انداز کا چناؤ کیا ہے۔ وہ جو بھی خیال شاعری کے قالب میں ڈھالتے ہیں، تو مجرد علامتیں ان کے خیالات کا ساتھ بڑی خوب صورتی کے ساتھ دیتی ہیں۔ یہی ان کی شاعری کا ایک مسرت بخش احساس ہے۔ اگرچہ ان کی ابتدائی شاعری مشکل ہے اور جلد سمجھ میں آنے والی نہیں…… لیکن بار بار پڑھنے سے اس کی بہت ساری گُتھیاں سلجھ جاتی ہیں۔ آج کا قاری چوں کہ مشاعراتی شاعری کا عادی ہے، اس لیے تفکر اور علامتی شاعری سے لاتعلق ہوچکا ہے۔ اس موقع کی مناسبت سے روزنامہ ’’آج‘‘ میں ذکر شدہ اقبالؔ کی شاعری سے متعلق ایک واقعے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں: ایک دفعہ 1935ء میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے علامہ اقبالؔ سے دبی ہوئی زبان سے یہ عرض کی کہ اَسرار اور پیام، دونوں کتابیں سمجھ میں نہیں آتیں…… لیکن اس سے قطعِ نظر بھی نہیں کرسکتا۔ دماغ قاصر سہی لیکن دل ان کی طرف ضرور مایل ہے۔ یہ سن کر علامہ نے دریافت فرمایا کہ ’’اَسرارِ خودی کتنی مرتبہ پڑھی ہے؟‘‘ جواب میں کہا: ’’جناب والا! ساری کتاب تو نہیں پڑھی، صرف پہلا باب پڑھا ہے، لیکن وہ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس لیے آگے پڑھنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ اب رہی دوسری کتاب…… تو اس کی غزلیں تو پڑھ لی ہیں…… لیکن نہ لالۂ طور تک رسائی ہوئی، نہ نقشِ فرنگ تک!‘‘ یہ سن کر علامہ نے فرمایا: ’’خوش نویسی یا موسیقی ایک دن میں نہیں آسکتی ہیں۔ فلسفیانہ نظمیں ایک دفعہ پڑھنے سے کیسے اور کیوں کر سمجھ میں آسکتی ہیں۔ الفارابی نے ارسطو کی مابعدالطبیعات کو کئی سال تک پڑھا تھا، تم بھی اس کی تقلید کرو اور ان کتابوں کو بار بار پڑھو۔‘‘ (30)
فوادؔ کی شاعری بھی عمیق نظری کا تقاضا کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں پیچیدہ خیال سمو دینا کہ حرف حرف سے گنجینۂ معنی کا طلسم ٹپکنے لگے، ان کا خاصا ہے۔ اس علامتی ابہام کے بارے میں ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:
’’نظم کی مثال ایک سمندر کی ہے۔ سمندر کی تہ تاریک، مبہم اور پُراَسرار ہے اور وہاں روابط کی شکلیں واضح نہیں۔ چناں چہ نظم میں علامتیت کا تہ دار، گہرا اور ایک حد تک مبہم ہونا، قدرتی بات ہے۔‘‘ (31)
جب کہ فوادؔ کے اس انداز کے بارے میں ڈاکٹر تاج الدین تاجورؔ فرماتے ہیں: ’’احمد فوادؔ جدید نظم کو پوری طرح سمجھنے والے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری معمر نہیں بلکہ ذہنی طور پر بالغ قارئین کے لیے ہے۔ ان کی شاعری جدید حسیات، رمز، استعارے اور علامتوں کی شاعری ہے۔ (32)
ہوا کا چلنا، پانی کا بہنا، پھولوں کا کھلنا، رات کا آنا، چاند کا نمودار ہونا، تمام قد آور شعرا کی شاعری میں مظاہرِ فطرت کے حوالے ہیں…… لیکن اس سلسلے میں فوادؔ ذہنی طور پر بالغ قارئین کو دعوتِ فکر دیتے ہیں اور انہیں علامتوں اور استعاروں کے نگار خانے کی سیر درجِ ذیل مصرعوں کی شکل میں کراتے ہیں۔
جب ہوا گھاس کے بستر پر لیٹ جاتی ہے
جب پانی کسی چٹان کا جبڑا توڑ کر ناچنے لگتا ہے
جب مٹی بارش کے بہکاوے آکر اپنا گھر چھوڑ دیتی ہے
جب کلیاں سورج کے تجربہ کار ہاتھوں سے ہار جاتی ہے
جب شام پنجوں کے بل چلتی ہوئی دن کے ڈرائنگ روم میں داخل ہوجاتی ہے
جب سورج کی صراحی رات کی ٹھوکر سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے
جب دن کی آنکھوں کے ارد گرد سیاہ حلقے پڑجاتے ہیں
جب سیڑھیوں سے اترتے وقت اچانک بادلوں کے پاؤں میں موچ آجاتی ہے اور
چاند اپنے دروازے میں کھڑا زور زور سے ہنسنے لگتا ہے
تب میرا دل جھپٹ کر تمہیں اپنی پچھلی سیٹ پر ڈال دیتا ہے
اور ہوا ہوجاتا ہے (33)
فوادؔ کی شاعری ڈاکٹر وزیر آغا کے الفاظ میں ایک ایسے گہرے سمندر کی طرح ہے جس کی تہ تاریک، گہری اور مبہم ہے جس میں علامتیت کا ایک تہ دار نظام موجود ہے۔ اس علامتی نظام کو تلاش کرنا اور اس کی پرتیں کھولنا مجھ جیسے ادب کے ادنا سے طالب علم کے دایرۂ سعی سے باہر ہے۔ الحاصل اس سعیِ لاحاصل کو مَیں نقادانِ فن کی قیمتی آرا سے زینت بخشتا ہوں۔
’’احمد فوادؔ کے لہجے کی انفرادیت اسے اپنے ہم عصر شعرا میں ایک اہم مقام ضرور عطا کرتی ہے۔ ان کے ہاں جدید استعارے کا ایک مربوط نظام موجود ہے۔‘‘ پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم (34)
’’احمد فواد کی پہلی کتاب’یہ کوئی کتاب نہیں‘ میں روایت شکنی کے تجربے موجود ہیں۔ وہ بنیادی طور پر نظم کے شاعر ہیں۔ میں ان کو ایک اصیل اور جدید شاعر سمجھتا ہوں۔ اگر وہ اپنی شاعری کے ابتدائی انداز کو جاری رکھتے، تو یہ ان کے لیے ایک نیک شگون ثابت ہوتی، لیکن ان کے تخلیقی سَوتے اب بھی جاری ہیں۔‘‘ پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین تاجورؔ (35)
’’احمد فوادؔ نے غزل میں زیادہ تر روایت کی پیروی کی ہے لیکن نظم میں اچھی خاصی روایت شکنی کی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سہیل احمد (36)
احمد فوادؔ نے ایک ایسی شاعری کی بنیاد رکھ دی ہے جسے دیکھ کر قاری انگشتِ بدنداں اور ناقد سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ خاص کر ان کے پہلے مجموعے ’’یہ کوئی کتا ب نہیں‘‘ کے مطالعے سے نئی نئی جہتیں، پرتیں اور معانی و مفہوم کے نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محققینِ فردا کے لیے جستجو اور تحقیق کا ایک خزانہ چھپا ہے جس کی تلاش کے لیے ایک مدت درکار ہے۔ یقینا اپنے تخلیقی ذہن، انفرادیت، روایت شکنی، مخصوص لب و لہجہ اور اپنے لحاظ سے فوادؔ اِزدحامِ سخن وراں میں صاف پہچانے جانے والے شاعر ہیں۔ آنے والا وقت ان کی عظمت اور ہمہ گیریت کا فیصلہ کرے گا، جیسا کہ انہوں نے خود اس کی پیشین گوئی بھی کی ہے۔
میری آنکھیں بند ہونے کا ہے شاید منتظر
رات دن گیت میرے، یہ زمانہ گائے گا (37)
حوالہ جات:۔
1:۔ احمد فوادؔ ( پروفیسر) ذاتی ڈایری غیر مطبوعہ۔
2:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، ص 114
3:۔ مرزا حامد بیگ (ڈاکٹر) ٹی ایس ایلیٹ، الساجد پرنٹرز 1999ء، ص 22
4:۔ وزیر آغا (ڈاکٹر) نئے تناظر، آئینۂ ادب لاہور 1980ء، ص 58
5:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات، 2007ء، ص 34
6:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص 3 تا 10
7:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء ص 10 تا 94
8:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص 11
9:۔ رام بابو سکسینہ، تاریخِ ادب اُردو، سنگِ میل پبلی کیشنز 2003ء ص 296
10:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص13
11:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، ص72
12:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1992ء، ص 11
13:۔ طاہر فاروقی (ڈاکٹر) ’’فصاحت و بلاغت‘‘، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور 1959ء، ص 81
14:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1992ء، ص 36
15:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، ص20
16:۔ سید عبداللہ (ڈاکٹر) ’’ولی سے اقبال تک‘‘ آصف پرنٹرز 2010ء، ص253
17:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1992ء، ص 56
18:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، ص 46 تا 51
19؛۔ نذیر تبسمؔ( پروفیسر، ڈاکٹر) ’’سرحد کے اُردو غزل گو شعرا‘‘ ایکسپرٹ گرافکس پشاور 2012ء، ص 108
20:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص 44
21:۔ آصف اسلم فرخی کا کالم، اپریل 1991ء
22:۔ رفیع الدین ہاشمی ’’اصنافِ ادب‘‘ سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور 2008ء، ص 33
23:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص 39
24:۔ مظفر علی سید "The Friday times” پندرہ ستمبر 1992ء
25 :۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء، ص101 تا 110
26 :۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، متفرق صفحات
27:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’دل ورق ورق تیرا‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1992ء، ص 120
28:۔ غلام زہرا، عدیل نیازی ’’مرزا غالب‘‘ سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور 2011ء، ص 89
29:۔ ’’خیبر‘‘ مجلہ اسلامیہ کالج یونی ورسٹی پشاور 1999ء-2000ء، ص 44
30:۔ روزنامہ ’’آج‘‘ 5 نومبر 2015ء، ص7
31:۔ وزیر آغا (ڈاکٹر) ’’اُردو شاعری کا مزاج‘‘ علی پرنٹرز لاہور 2008ء، ص 369
32:۔ راقم الحروف کا پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین تاجورؔ صاحب سے انٹرویو، بمقام گورنمنٹ کالج پشاور، 19 جنوری 2017ء
33:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’یہ کوئی کتاب نہیں‘‘ دیا پبلی کیشنز اسلام آباد 1991ء ص 123
34:۔ نذیر تبسمؔ (پروفیسر،ڈاکٹر) ’’سرحد کے اُردو غزل گو شعرا‘‘ ایکسپرٹ گرافکس پشاور 2012ء ص 463
35:۔ راقم کا پروفیسر ڈاکٹر تاج الدین تاجورؔ صاحب سے انٹرویو، بمقام گورنمنٹ کالج پشاور، 19 جنوری 2017ء
36:۔ راقم الحروف کا پروفیسر ڈاکٹر سہیل احمد صاحب سے انٹرویو، بمقام شعبۂ اُردو، پشاور یونی ورسٹی، 17 جنوری 2017ء
37:۔ احمد فوادؔ (پروفیسر) ’’ایک جانب چاندنی‘‘ شعیب پبلشرز مینگورہ سوات 2007ء، ص 101
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔