کلام میں اس امر کا التزام کرنا کہ علی الترتیب ایک کلمے کے تمام حروف غیر منقوطہ ہوں اور ایک کلمے کے تمام حروف منقوطہ، علمِ بدیع کی اصطلاح میں صنعتِ خیفا کہلاتا ہے جیسے صہبائیؔ کا یہ مصرع:
کار فیض مدار بخت رہا
اس مصرعہ میں پہلا کلمہ ’’کار‘‘ ملاحظہ ہو اس کے تمام حروف غیر منقوطہ ہیں جب کہ دوسرے کلمہ ’’فیض‘‘ کے تمام حروف منقوطہ ہیں۔
(ابوالاعجاز حفیظ صدیقی کی تالیف "ادبی اصطلاحات کا تعارف” مطبوعہ اسلوب لاہور، اشاعتِ اول، مئی 2015ء، صفحہ 221 سے انتخاب)