(نوٹ:۔ زیر نظر تحریر سلطان محمود سیدو شریف سوات کی ہے۔ یہ آٹھ جون 1980ء کو روزنامہ مشرق میں شائع ہوئی تھی)

مذہبی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے یا معاشرتی، علم کی اہمیت و افادیت سے کوئی بھی ناواقف نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی ترویج و ترقی کے لیے دنیا کے ہر خطے میں لوگ انفرادی اور اجتماعی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی تقریباً ہر حکومت نے اس احساس کے تحت تعلیم کو عام اور سہل بنا کر قوم کو ترقی یافتہ قوموں کا ہم پلہ بنانے کے لیے مقدور بھر کاوشیں کی ہیں اور آج بھی یہی انتھک تگ و دو جاری و ساری ہے۔ نئی نئی سکیمیں اور پالیسیاں تیار ہوتی جا رہی ہیں اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں ہمارے دانشوروں کے اذہان محوِ جستجو ہیں۔ چوں کہ ہر نئی سکیم کے لیے قدیم روایات کو مدِنظر رکھنا ایک فطری بات ہے۔ اس لئے اس بارے میں قلم اٹھانا کہ شاید ان سے کوئی کام کی بات نکلے جو اس عظیم مقصد کے لیے مشعل راہ ثابت ہوسکے، ضروری امر ہے۔
میری بات سمجھنے کے لیے قارئین کرام کو ملاکنڈ ٹاپ کے پار اس علاقے پر نظر ڈالنا ہوگی جس کو آج ’’ضلع سوات‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور جو کبھی ’’ریاستِ سوات‘‘ کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ آثار قدیمہ کے کھنڈرات اور نوادرات سے ہمیں بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ علاقے قدیم گندھارا کی تاریخ میں تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہے اور آج قدم قدم پر منفرد نوعیت کے خوبصورت مدارس اور ان میں طلبہ و طالبات کی چہل پہل اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یہاں علم و دانش کے چشمے جاری ہیں جن سے عام و خاص فیض یاب ہوتے جا رہے ہیں۔
1929ء سے پہلے اس علاقے پر ایک فردِ واحد کی ریاست تھی۔ عام خیال کے مطابق ایسے حالات میں کئی کاموں کی توقع نہیں رکھی جاتی لیکن امیرِ ریاست نے اپنی قوم کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے جو مثبت فیاضانہ اور قابل قدر کردار ادا کیا، وہ ایک مثال ہے۔ ذیل میں اس دور کی تعلیمی پالیسی کا ایک اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے۔
1929ء سے پہلے تقریباً پانچ چھ برس میں علاقہ سوات میں سکولوں کا ایک جال بچھایا گیا تھا۔ ان سکولوں کا انتظام چلانے کے لیے ایک ڈائریکٹر مقرر تھا جس کو وسیع اختیارات دیئے گئے تھے۔ باالفاظ دیگر اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور وسیع تجربات کو کام میں لاکر انقلابی تعلیمی اصلاحات لانے کے لیے اس کا ذہن مکمل طور پر آزاد بنایا گیا تھا۔ اس کے ماتحت دو تین انسپکٹر اور گنتی کے چند کلرک کام کرتے تھے۔ پرائمری مدارس عام طور پر ہائی اور مڈل مدارس کے ہیڈماسٹروں کی زیر نگرانی کام کرتے تھے۔ اس لیے نظم و نسق کے ذمہ دار تھے۔ ہر سال مخصوص رقم کی کتابیں سرکاری خرچ پر خرید کر نادار طلبہ میں تقسیم کی جاتی تھیں اور ان سے گذشتہ سال کی کتابیں واپس وصول کی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ ایسا بڑھا کہ پھر ہر بچے کو سرکاری کتب ملنے لگیں۔ فنڈز ہائی کلاسز تک زیادہ سے زیادہ ایک روپے سالانہ فی کس کے حساب سے لیے جاتے جب کہ فیس کوئی نہیں تھی۔ تمام کھلاڑیوں کو وردیاں اور کالجوں میں نادار طلبہ کو شیروانی اور وظیفے سرکاری طور پر دیئے جاتے۔ ہر سال لوکل ٹورنامنٹ بھی سرکاری اخراجات پر منعقد کرائے جاتے اور بہترین ٹیموں کو ہر سال باقاعدگی سے صوبائی ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے بھیجا جاتا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وظیفے دیئے جاتے۔ کالجوں میں پڑھنے والے طلبہ و طالبات کے لیے ہوسٹل تعمیر کئے گئے۔ طالبات کے لیے سرکاری بسوں کا انتظام تھا۔ اس سلسلے میں والئی سوات کا واضح حکم تھا کہ ان بسوں میں ایک گھنٹے کی خرابی اور طالبات کے سکولوں میں آنے جانے میں رکاؤٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

ہر سال مخصوص رقم کی کتابیں سرکاری خرچ پر خرید کر نادار طلبہ میں تقسیم کی جاتی تھیں اور ان سے گذشتہ سال کی کتابیں واپس وصول کی جاتی تھیں۔ یہ سلسلہ ایسا بڑھا کہ پھر ہر بچے کو سرکاری کتب ملنے لگیں۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ آج پورے ضلع سوات میں کسی سکول کی عمارت کچی نہیں بلکہ ہر عمارت اپنی خوبیوں کی منہ بولتی تصویر ہے۔ ان عمارتوں کی تعمیر کا طریقہ یہ تھا کہ جہاں سکول بنوانے کی منظوری ہوتی، وہاں محکمہ تعمیرات نے کام شروع کروایا اور دو چار مہینوں میں سکول تیار ہوا۔ یقین کریں کہ تعلیمی نظام میں کوئی رکاؤٹ ڈالے بغیر کسی سکول کی پرانی عمارت کے اردگرد نئے ڈیزائن کی عمارت کی تعمیر کی مثالیں موجود ہیں، یعنی طلبہ گرمی یا سردی کی تعطیلات کے لیے سکول سے نکلے اور چھٹیوں کے بعد آتے ہی اس ہی جگہ اپنے سکول کی نئی عمارت کھڑی دیکھتے۔ نئی تعمیر شدہ عمارت کی منظوری حکمران وقت خود وہاں جا کے یہ معلوم کرکے دیتے کہ عمارت ہر لحاظ سے معیاری ہے کہ نہیں۔ ظاہر ہے کہ سکول کی تعمیر میں کسی قسم کی لاپروائی کون اور کیسے کرتا؟ عمارات کی مرمت ہر دوسرے سال باقاعدگی کے ساتھ کی جاتی۔ تقریباً ہر ہائی اور مڈل سکول کے ساتھ کھیل کے میدان بنوائے گئے تھے جو آج بھی موجود ہیں۔ اب میں کیا عرض کروں کہ ایسا کمپیوٹرائزڈ سسٹم کسی اچھی پالیسی اور پُرخلوص جذبۂ خدمت کا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ نہیں؟



تعلیمی نظام میں کوئی رکاؤٹ ڈالے بغیر کسی سکول کی پرانی عمارت کے اردگرد نئے ڈیزائن کی عمارت کی تعمیر کی مثالیں موجود ہیں، یعنی طلبہ گرمی یا سردی کی تعطیلات کے لیے سکول سے نکلے اور چھٹیوں کے بعد آتے ہی اس ہی جگہ اپنے سکول کی نئی عمارت کھڑی دیکھتے۔ (Photo: Mapio.net)

مدارس کے لیے سائنس اور سپورٹس کا سامان، کتب، لائبریری، فرنیچر اور دوسرے ساز و سامان کی فراہمی کا کام ڈائریکٹر تعلیم کے سپرد تھا۔ لہٰذا وہ سال میں دو یا ایک بار حکمران سوات سے اشیا کی قیمتوں اور معیار کی منظوری لے کر ہیڈ ماسٹروں کے تحریری ڈیمانڈز کے مطابق اشیا خرید کر سرکاری ٹرکوں میں ایک ایک سکول میں پہنچانے کا انتظام کرتے۔ مزید برآں چھوٹی موٹی ضروریات کے لیے ہیڈ ماسٹر کسی بھی وقت اپنے نمائندہ استاد یا ملازم کو دفتر تعلیم بھیج کر ایک ہی دن میں اپنا مطالبہ پورا کر پاتے۔ اس طرح ہیڈ ماسٹر ’’پرچیز‘‘ وغیرہ کے گورکھ دھندوں سے آزاد ہمہ وقت اپنے سکول کی تعلیمی حالت سنوارنے میں مگن رہتا۔ نظام کی اس سادگی کی وجہ سے مدارس میں ساز و سامان کی ایسی فراوانی تھی جس کی مثال نہیں۔ اساتذہ کے لیے امدادی کتب کا باقاعدہ انتظام تھا۔ ہر استاد کو اُن درسی کتب کا سیٹ مہیا کیا جاتا جن کو پڑھانے پر وہ مامور ہوتا۔ اساتذہ کی تقرری سربراہِ مملکت خود کرتے جبکہ ان کے تبادلوں کا اختیار ناظمِ تعلیم کو حاصل تھا۔ تقرریاں اور تبادلے میرٹ اور مستقل سکونت کی بنیاد پر ہوتے۔ اساتذہ کو تربیت سرکاری اخراجات پر دی جاتی۔ نیز ہر استاد کو نہ صرف یہ اجازت تھی کہ ملازمت کے دوران میں پرائیویٹ طور پر اپنی تعلیم میں اضافہ کرے بلکہ ہر امتحان پاس کرنے کے فوراً بعد نتیجے کی تاریخ سے اسے تنخواہ، نیا بالا سکیل اور مقررہ اضافہ دے کر اس کی حوصلہ افزائی بھی کی جاتی۔ چوں کہ سکولوں میں تعیناتی کے لیے پوسٹوں کی مقدار میں کوئی پابندی نہیں تھی، اس لیے ہر استاد گھر بیٹھے ملازمت کے ساتھ اپنی تعلیم میں اضافہ کرتے ہوئے مالی فوائد کے علاوہ خود اعتمادی کی دولت سے مالا مال ہوکر ترقی کے زینے چڑھتا رہتا۔ محکمۂ تعلیم سے متعلق کلرکوں کو بھی ایسی ہی مراعات حاصل تھیں۔ اگرچہ خراب نتیجہ دکھانے پر کسی استاد کی سالانہ ترقی کچھ وقت کے لیے روک دی جاتی لیکن بہتر نتیجہ دکھانے پر اسے ایک ماہ کی تنخواہ بہ طور انعام بھی دی جاتی۔ ضرورت کی بنا پر بہت کم اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر قدرے دور مقامات پر تعینات ہوتے لیکن ایسے اساتذہ کے لیے پکے سرکاری مکانات مہیا ہوتے اور ان کی تنخواہوں میں مناسب رقم بطور ’’مسافت الاؤنس‘‘ شامل ہوتی اور ’’سفری الاؤنس‘‘ کی سہولتیں بھی میسر ہوتیں۔ تنخواہیں ایک سادہ سے بل پر یکم سے دو چار دن پہلے سرکاری خزانے سے وصول کی جاتیں۔ چھٹیوں کی تنخواہیں پیشگی دی جاتیں، تاکہ معدودے چند مسافر اساتذہ کو چھٹیوں کے دوران میں تنخواہ وصول کرنے میں دشواری نہ ہو۔ کسی استاد کو اپنی کوئی شکایت لے کر ناظم تعلیم یا ضروری مواقع پر حکمران وقت کے پاس جاکر اپنی تسلی کرانے سے کوئی نہیں روک سکتا تھا۔ شاید انہی سہولتوں کی وجہ سے اس وقت کا استاد تفکرات سے آزاد جذبۂ خدمت اور احساس ذمہ داری سے سرشار اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں پوری لگن سے ہمہ تن مشغول رہتا۔

اگرچہ خراب نتیجہ دکھانے پر کسی استاد کی سالانہ ترقی کچھ وقت کے لیے روک دی جاتی لیکن بہتر نتیجہ دکھانے پر اسے ایک ماہ کی تنخواہ بہ طور انعام بھی دی جاتی۔ (Photo: The Express Tribune)

مذکورہ بالا نظام میں جمہوری اقدار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر مہینے میں باقاعدگی کے ساتھ اور کبھی ہنگامی طور پر ہیڈ ماسٹرز کی میٹنگ، ناظم تعلیمات کی صدارت میں ہوتی۔ اسطرح تمام ہیڈ ماسٹروں کو اپنی مشکلات کے اظہار کے مواقع میسر تھے۔ نیز ناظمِ تعلیم انتظامی امور میں ان کی رائے دیتے رہتے۔ ہر تعلیمی سال کے دوران ہیڈ ماسٹروں کی متفقہ رائے کے مطابق پوری ریاست میں ایک ہی ٹائم ٹیبل کے تحت امتحانات کا انعقاد ہوا کرتا۔ پرچے بنوانے، چھپوانے اور مقررہ وقت پر تمام مدارس کے سربراہوں تک پہنچانے کا انتظام ناظمِ تعلیمات کرایا کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ پورے علاقے میں تعلیم کا معیار یکساں ہوتا۔ بورڈ اور یونیورسٹی کے امتحانات میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو انعامات دے کر انکی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ مختلف فنکشنز میں حصہ لینے کے لیے طلبہ کو بہتر مواقع حاصل ہوتے اور یہ سب کچھ انتہائی قلیل وسائل میں ہوا کرتا تھا۔
یہ بات تسلیم کہ کوئی نظام مکمل طور پر خامیوں سے پاک نہیں ہوسکتا لیکن میں نے صرف اور صرف تعمیری نقطۂ نگاہ سے ان پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جو میری دانست میں جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ایک قوم کے سینوں میں شمع علم روشن کرنے کے لیے بہتر تھے۔ ضرورت ہوئی، تو خامیوں کی نشاندہی بھی ہوسکتی ہے۔ رہا آج کا دور، آج کے وسائل اور آج کے تقاضے، تو آپ سب بہتر جانتے ہیں۔
………………………………………

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے