برقی انقلاب آنے سے پہلے ہر شہر، ہر گاؤں میں کوئی نہ کوئی قصہ یا لوک داستان موجود ہوتی۔ کوئی کسی کی بہادری کے قِصے چھیڑتا، تو کوئی کسی کی محبت اور رومان بھری داستانیں سناکر محفل سجاتا۔ یہ روایت ہماری ہندکی دھرتی میں بہت عام تھی۔ ویسے تو بہت ساری لوک دستانیں اپنے اپنے دورمیں مشہور ہوئیں، لیکن ان لوک دستانوں میں لیلیٰ مجنوں، سوہنی مہیوال اور وارث شاہ کی لکھی ہوئی ہیر رانجھا جیسی لازوال داستانیں آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر چھاپ بٹھانے میں کامیاب ہیں، لیکن گذشتہ ایک عرصہ سے میوڑیا چتوڑ کی رانی ’’پدماوتی‘‘ اور تیرہویں صدی میں دہلی کے تخت پر براجمان سلطان علاؤالدین خلجی کی زندگی پر بنی فلم الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر خاصی زیر بحث ہے۔ انتہا پسند ہندؤں کی جانب سے فلم روکنے کے لئے بھرپور مظاہرے ہو رہے ہیں۔ وجہ جو بھی ہو، خیر اس وجہ نے تو ہمیں بھی رانی پدماوتی اورسلطان علاؤالدین خلجی کی زندگی پر ملک محمد جسوی اور امیر خسرو کے لکھے چند اقتباسات سے کچھ حوالے پڑھنے پر مجبور کیا۔ اب تاریخی ا عتبار سے ان کی صحت کیا ہے، یہ تو مؤرخ ہی جانیں۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں اپنے قارئین کے ساتھ اس دلچسپ کہانی کا خلاصہ شیئر کرتے ہیں، تاکہ انہیں بھی ایک عجیب داستان کا پتا چل جائے۔
پندرہویں صدی کے ایک لکھاری ملک محمد جسوی یہ داستان کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ رانی پدماوتی جیسلمیر کے پونیا پال نامی راجا کی بیٹی تھی۔ رانی کی خوبصورتی کے چرچے عام تھے۔ اس کے حسن و جمال کا چرچا چتوڑ کے راجا رتن پال سنگھ کے محل تک جا پہنچا، تو انہوں نے رانی کو اپنا جیون ساتھی بنانا چاہا۔ راجا نے آخرِکار ایک سوئمبر میں جیت کر پدماوتی کو اپنی رانی بنا ہی لیا۔ راجا رتن پال سنگھ ایک بہادر راجا تھے جو اپنی رعایا میں خاصے مقبول تھے۔ راجا کو گیت سنگیت اور مختلف فنون میں گہری دلچسپی تھی۔ ان کے دربار میں ویسے تو کئی فنکار ہوتے، پر ان میں سے ایک راگھو چیتن نامی فنکار کافی مشہور تھا۔ ایک دفعہ راجا کی راگھو چیتن کے ساتھ کسی بات پے بحث ہوگئی جس کی وجہ راگھو کو ذلت کے ساتھ ملک بدر ہونا پڑا۔ اپنے سینے میں بدلے کی آگ لئے ہوئے راگھو چیتن نے سلطان علاؤالدین خلجی کی طرف دہلی رخ کیا، جو اس وقت دہلی کے تخت پر براجمان تھے۔ تاریخ میں بھی سلطان علاؤالدین خلجی کا بارہویں سے تیرہویں صدی تک دہلی کے تخت پر قابض رہنے کا ذکر موجود ہے۔



سلطان علاؤ الدین خلجی (Photo: siasat.com)

راگھو شاطر دماغ اور دوسروں کو اپنی جانب راغب کرنے میں ماہر تھا۔ اپنی اسی مہارت کی بدولت راگھو نے سلطان کے دربار میں اپنی جگہ بنا کر سلطان کو راجستھان کے درالخلافہ چتوڑ کے محل و قوع اور اس جگہ کی کاروباری خصوصیت سے آگاہ کیا۔ ساتھ ہی راگھو نے چتوڑ کی رانی پدماوتی کی خوبصورتی کا ایسا راگ چھیڑا کہ سلطان ان کا غائبانہ عاشق ہوا۔ ویسے بھی ہر دور میں دہلی کے تخت پر قابض بادشاہ راجستھان کا یہ علاقہ اپنے ماتحت بنانے کا خواہاں رہتا۔ وجہ اس علاقے کی باقی ریاستوں کی بندرگاہوں سے ملاپ تھی۔ باقی باشاہوں کی طرح علاؤالدین بھی دور دور تک اپنے نام کا ڈنکا بجانا چاہتے تھے۔ یوں سلطان نے چتوڑ پر چڑھائی کا فیصلہ کیا اور بھرپور طریقے سے چتوڑ کی ریاست پر حملہ کر دیا۔ اونچائی پر بنے مظبوط قلعہ اور رتن پال سنگھ کے سپاہیوں کے سامنے علاؤالدین کی فوج بے بس رہی۔ آٹھ مہینے تک قلعہ کے محاصرے پر بیٹھے سلطان کی جانب سے ایک پیغام بھیجا گیا۔ پیغام میں سلطان نے کہا کہ وہ رانی کو ایک دفعہ دیکھ کر واپس جانا چاہتا ہے۔ یہ بات راجپوتوں کی شان کے خلاف تھی، لیکن اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ آخرِکار راجا کی پرجا نے اس کا حل نکال ہی لیا۔ سلطان علاؤالدین خلجی کو پانی میں رانی کا عکس دکھایا گیا۔ رانی کا دیدار کرتے ہی سلطان کے سر پر رانی کو پانے کا جنون سوار ہوا۔ راجا جب سلطان کو رخصت کرنے قلعہ سے باہر آئے، تو علاؤالدین خلجی نے راجا رتن پال سنگھ کو اغوا کرلیا۔ سلطان نے راجا کی رہائی کے بدلے رانی کو دربار میں حاضر ہونے کا کہا۔ رانی پدماواتی سوہن گڑھ کے گورا اور بادل نامی جرنیلوں کے ساتھ کچھ سپاہیوں کو اپنے داسی کے بھیس میں لے کرسلطان کے ہاں پہنچی۔
یہاں سے آگے کی کہانی بڑی دلچسپ ہے۔ رانی اپنی رچائی ہوئی چال سے راجا کو رہا کرکے چتوڑ کے قلعہ میں لے آتی ہے۔ سلطان علاؤالدین خلجی ایک بارپھر چتوڑ پر حملہ کر دیتا ہے۔ اس بار ان کے سپاہیوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کیونکہ چتوڑ کے بہت سارے سپاہی سلطان کے ساتھ معرکہ میں مارے جاچکے تھے۔ اسی حملے میں چتوڑ کے راجا رتن پال سنگھ مارے جاتے ہیں۔ یہ خبر جب رانی پدماوتی تک پہنچتی ہے، تو وہ خود کو سلطان کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی اپنی سولہ ہزار رانیوں اور داسیوں کے ساتھ آگ کی نذر کر دیتی ہیں۔ اس کے بعد سلطان علاوالدین آگ سے جھلسی ہوئی رانی کی لاش کو پاتا ہے۔

رانی پدماوتی اپنی سولہ ہزار رانیوں اور داسیوں کے ساتھ آگ کی نذر ہو رہی ہیں۔(Photo: amarujala.com)

اور یوں سلطان علاوالدین خلجی کے جنونی عشق کا اختتام ہو جاتا ہے۔

…………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے