تحریر: وسیم فرید ملک
399 قبلِ مسیح میں جب سقراط پر ایتھنز (یونان) کے نوجوانوں کو ورغلانے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا، تو اُس وقت اس کی عمر 70 برس تھی۔ سقراط ’’تعلیم بہ ذریعہ مکالمہ‘‘ کے لیے جانا جاتا ہے، یعنی وہ رسمی طریقے سے براہِ راست تعلیم نہیں دیتا تھا، بلکہ اپنے شاگردوں سے غیر روائتی انداز میں مکالمہ کرتا، بات سے بات نکالتا اور لوگوں کو سنجیدہ موضوعات پر سوچنے پر مجبور کرتا اور یہی اس کا اصل جُرم ٹھہرا ۔ اُس نے زندگی کے ہر طبقے کے لوگوں کو، شاعروں سے لے کر سیاست دانوں اور علما سے لے کر نوجوانوں تک سب کو اپنے اپنے مروجہ عقائد، نظریات اور طرزِ زندگی پر ازسرِ نو سوچنے پر مجبور کیا۔ سقراط نے اپنی تعلیمات کو کبھی قلم بند نہیں کیا۔ اُس کے خیال میں کسی خیال، معلومات یا سوچ کو تحریر کرنا، یادداشت کو کم زور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ آج ہم تک سقراط کی جتنی تعلیمات پہنچی ہیں، وہ اُس کے نام ور شاگردوں کی محفوظ کی ہوئی تحریروں کے ذریعے پہنچی ہیں۔ اُن شاگردوں میں افلاطون کا نام سرِ فہرست ہے۔
ایتھنز کی اُس وقت کی مقتدرہ نے سقراط کو اپنی حکومت اور مملکت کے استحکام کے لیے خطرہ گردانا۔ ایتھنز اُس وقت طاعون اور پیلونیشیا کی جنگ کی وجہ سے تباہ حال تھا۔ لنگڑی لولی جمہوریت مسخ شدہ حالت میں سسک رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ اتھینز کے شہریوں کے دیوتا اُن سے ناراض ہوچکے ہیں۔ ایسے میں طاقت ور طبقات قربانی کے بکرے کی تلاش میں تھے، جس کو قربان کرکے وہ اپنے تئیں اپنے دیوتاؤں کو راضی کرسکتے تھے اور عام عوام کے سامنے اس بدحالی کی وجہ بھی بیان کرسکتے تھے۔ سقراط روائتی دیوتاؤں کی پوجا نہیں کرتا تھا، بلکہ اپنے اندر کے سچ کو ہی سچا عقیدہ سمجھتا تھا۔ اس کے بہ قول اُس کا رہبر اُس کے اندر کا حق اور خدائی آواز ہے، جسے انگریزی میں "Daimon” کہا جاتا ہے۔
سقراط کے پاس اس بغاوت کے مقدمے سے بچنے کے کئی آسان راستے تھے، لیکن اُس نے اپنے اندر کے سچ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس مقدمہ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تاریخی مقدمے کی شنوائی کے لیے اُس وقت کے دستور کے مطابق 501 افراد کی جیوری کی تشکیل ہوئی۔ مقدمات کی تفصیلات دو دستاویزات کی صورت میں ہم تک پہنچی ہیں، جن میں سے ایک اُس کے شاگرد افلاطون کی مرتب کردہ ہے۔ سقراط کو اپنے دو شاگردوں کے ہم راہ اُس وقت کی نام نہاد جمہوریت، ریاست یا آمریت کے خلاف بغاوت کا ملزم ٹھہرایا گیا تھا۔ جواباً سقراط نے کسی قسم کی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے کی بہ جائے دوبارہ برملا اس نظام کے خلاف اپنی شدید ناپسندیدگی کا اِظہار کیا اور کہا کہ وہ اپنی فکر کی ترویج سے باز نہیں آئے گا۔
یہاں یہ سوال اُٹھتا ہے کہ سقراط اُس وقت کے نظام یا جمہوریت کی اُس قسم کو کیوں ناپسند کرتا تھا؟
افلاطون اپنی کتاب جمہوریہ میں اس سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ سقراط کے نزدیک ریاست ایک بحری جہاز کی مانند ہے۔ اگر اس ریاست کو چلانے کے لیے نظام وضع کرنے والے عوام کی اکثریت کم علم اور کم شعور رکھنے والی ہے، تو یہ ایسا ہی ہے کہ اُس بحری جہاز کو ایسے عملے کے حوالے کر دیا جائے جسے جہاز رانی کا کوئی تجربہ نہ ہو۔ گویا کسی معاشرے میں جمہوریت اتنی ہی معیاری یا غیر معیاری ہو گی، جتنا وہاں کے عوام کا معیارِ علم اور درجۂ شعور…… لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہ لیا جائے کہ سقراط ووٹنگ کے حق کو ایک مخصوص مراعات یافتہ اور تعلیم یافتہ گروہ تک محدود کر دینا چاہتا تھا۔ اِس کے برعکس اُس کی خواہش تھی کہ معاشرے کا زیادہ سے زیادہ طبقہ اِس نظام میں فعال حصہ لینے کے لیے شعور کی ایک خاص سطح تک پہنچے۔ علم کی فراوانی ہو اور ہر شخص گہرا، روشن خیالی اور عقلی طور پر سوچنے کے قابل ہوسکے۔ سقراط کا یہ فلسفہ مقدمے کے دوران میں سقراط کے اس مشہور جملے کی یاد دِلاتا ہے: ’’خود احتسابی اور خود شناسی سے ماورا زندگی، جینے کے قابل نہیں۔‘‘ (The unexamined life is not worth living.)
سقراط کے نزدیک ایک بامقصد زندگی کا راستہ خود احتسابی اور خود شناسی کی پگڈنڈیوں ہی سے تشکیل پاتا ہے۔ اُس کا ماننا تھا کہ یہ اُس کی خدا کی طرف سے عائد کردہ ذمے دادی ہے کہ وہ ہر شخص میں اس سوچ کو اُجاگر کرنے کی سعی کرے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
فلسفہ کیا ہے؟ 
ارسطو، دنیا کا پہلا فلسفی   
سقراط جس نے فلسفلہ کو ایک نئی شکل دی 
افلاطون اور الٰہیات 
سقراط کا سب سے بڑا دفاع یہ تھا کہ وہ ایک روائتی اُستاد نہیں تھا، اُس نے لوگوں کو کچھ کرنے پر نہیں اُکسایا تھا، اُس نے لوگوں کے ذہنوں میں کوئی خاص فکر مسلط نہیں کی تھی، بل کہ اُس نے لوگوں کو یہ بتایا کہ سوچا کیسا جاتا ہے، مروجہ اُصول، ضابطوں، کلیشوں اور عقائد سے آگے بڑھ کر کیسے سوچا جاتا ہے، تجزیہ اور عمل کی بنیاد منطق پر کیسے رکھی جاتی ہے؟ اس سب کے بعد نوجوان طبقہ جو عمل کرتا ہے، اُس کا ذمے دار سقراط نہیں۔ سقراط کا کہنا تھا کا اُس کے طرزِ عمل نے اشرافیہ کو، خصوصاً سیاسی اشرافیہ کو پریشان کر دیا ہے۔ کیوں کہ اُس نے اُن کی جہالت اور غیر منطقی عقائد کو بے نقاب کیا ہے۔ بہ قولِ سقراط، ’’مَیں نے اس طبقے کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ خود کو انتہائی عقل مند یا عقلِ کُل سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ جِس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس طبقے نے مجھ سے نفرت کرنی شروع کر دی۔‘‘
بہ ہرحال جیوری نے 220 کے مقابلے میں 281 ووٹ سے سزا طے کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ مجرم کو سزائے موت کے مقابلے میں جَلا وطنی جیسی ہلکی سزا کی اپیل کرنے کا اختیار بھی دیا گیا، لیکن سقراط نے محض جان بچانے کے لیے اپنی زمین چھوڑ کر جانے سے انکار کر دیا، بل کہ اُس نے جیوری کو استہزائیہ انداز میں یہاں تک کہا کہ سزا کی بہ جائے اُس کی خدمات کے بدلے اسے عمر بھر مفت کھانا کھلایا جانا چاہیے۔
نتیجتاً سقراط کو زہرخوانی کے ذریعے سزائے موت سنا دی گئی۔
اس ساری کارروائی میں سب سے اہم چیز جو سقراط کے اصل کردار اور اُس کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے، وہ اس کی بے خوفی اور موت کے ڈر سے لاتعلقی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ معافی نہ مانگنے کی صورت میں موت کی سزا طے ہے، وہ اپنے اُصول پر ڈٹا رہا۔ سقراط کے لیے موت سے بچنا اہم نہیں تھا، بلکہ زِندگی کے مقابلے میں اُسے اپنے عقیدے اور سوچ کی حرمت زیادہ عزیز تھی۔ اسی لیے جب بات سزا تک پہنچی، تو اُس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے زہر کا پیالہ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور جواں مردی سے اُسے اپنے اندر اُنڈیل لیا۔
جیوری کے سامنے اُس کا آخری اور سب سے مشہور مکالمہ کچھ ایسے بیان کیا جاتا ہے: ’’حضرات، موت سے بچنا مُشکل نہیں، بدی سے بچنا اس سے کہیں زیادہ مُشکل ہے…… کہ بدی موت کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزرفتاری سے سفر کرتی ہے۔‘‘
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔