28 مئی 2022ء کی صبح مجھے محترم عمر حیات میاں نے اطلاع دی کہ شہزادہ عدنان اورنگ زیب جو عوام میں ’’عدنان باچا‘‘ کے نام سے مقبول تھے، اسلام آباد سے آرہے ہیں۔ وہ پانچ دس منٹ کے لیے مجھ سے ابوہا میں ملاقات کریں گے۔
مَیں نے معزز شخصیت کی آمد کے پیشِ نظر قریبی حجرے میں نشست کا پروگرام بنایا اور اُن کے سیکریٹری کی ہدایت پر کسی بھی قسم کی خور و نوش کا تکلف نہیں کیا۔
فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
عالی قدر شہزادے کے ساتھ اُن کی صاحب زادی بھی تھی۔ یہ اُن کی آمد کے بعد مجھے معلوم ہوا۔ میاں صاحب اُن کی آمد سے پہلے سیدو سے آچکے تھے۔
میانگل عدنان باچا اپنی کار میں آئے، توصاحب زادی کو اُسی میں سیدو شریف روانہ کیا اور خود ایک بڑا سا پیکٹ اُٹھائے ہماری طرف آئے، ہم سے بغل گیر ہوئے اور بڑی گرم جوشی سے ہماری پہلی ملاقات کا آغاز ہوا۔
وہ اندر تشریف لاکر اُسی صوفے پر بیٹھ گئے جو میری فیس بُک وال پر شیئر کی گئی ہے۔ رسمی کلمات کے بعد باتیں شروع ہوئیں اور پانچ دس منٹ کی ملاقات طول پکڑ کر کوئی تین گھنٹے تک جاری رہی۔
جاتے جاتے عدنان باچا نے وہ پیکٹ مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ ’’ملاقات جلدی میں طے ہوئی، تو مَیں آپ کے لیے کوئی مناسب تحفہ نہ لاسکا، بس اسلام آباد سے یہ کیک چلتے وقت ساتھ لے آیا ہوں!‘‘
وہ میاں صاحب کے ساتھ چلے گئے اور مَیں دیر تک سوچوں میں گم رہا کہ ریاست کے یہ چوتھے وارث کتنے کھلے ڈھلے عوامی مزاج کے شہزادے ہیں۔ تاریخ اچانک کروٹ نہ لیتی، تو یہ آج ہمارے حکم ران ہوتے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
ریاستِ سوات کے خاتمے کا مروڑ (ڈاکٹر سلطانِ روم)  
ریاستِ سوات اور سیاحت (کامریڈ امجد علی سحاب) 
ریاستی دور کا سوات سنیما (ساجد امان)  
ریاستِ سوات کا تاریخی چِرڑوں سنیما (فیاض ظفر) 
ریاستِ سوات کے تعلیمی وظائف (ڈاکٹر سلطانِ روم)  
ریاستِ سوات کا خفیہ فنڈ (ڈاکٹر سلطانِ روم) 
عدنان باچا سے میری ذکر شدہ ملاقات دو بہ دو تھی، جو بدقسمتی سے آخری ثابت ہوئی۔ اُس سے پہلے پریس کلب کی ایک تقریب میں جو 5 جون 2017ء کو منعقد ہوئی تھی، سوالات کے وقفے میں، مَیں نے اُن سے ایک سوال کیا تھا،جس کا اُس وقت اُنھوں نے جواب دیا تھا، مگر اُن سے اور کچھ کہنے سننے کا موقع نہ ملا تھا۔
مَیں نے عدنان باچا کی ذہانت، ریاست کی تاریخ پر عبور، حاضر جوابی اور سادگی کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا، مگر اس طرح کا عملی مظاہرہ پہلی بار دیکھنے میں آیا۔ مَیں بالکل سحرزدہ ہوکر اُن کو سنتا رہا۔ اُن سے کئی موضوعات پر، خاص کر 1954ء کے ’’سپلیمنٹری انسٹرومنٹ آف ایکسشن‘‘ پر گفت گو ہوئی۔
عدنان باچا کے قابلِ احترام والد اور ہمہ جہت شخصیت میانگل اورنگ زیب (ولی عہد صاحب) کے بارے میں بہت کچھ جاننے کا موقع ملا۔ وہ والی صاحب کی شخصیت اور طرزِ حکم رانی سے بہت متاثر تھے اور اپنے دادا سے بہت کچھ سیکھنے کے معترف تھے۔
میانگل اورنگ زیب کے اپنے ملازمین کے ساتھ حسنِ سلوک کے بہت سے واقعات سنائے۔ اپنے دوستوں اور سٹاف ممبروں کو قیمتی تحائف جیسے گھڑیاں، بندوق اور کف لنکس وغیرہ عنایت کرتے تھے۔ اپنے بچوں سے کہتے تھے کہ تم شاہوں کے گھر پیدا ہوگئے، تو خو بو بھی شاہوں والی رکھنا، مگر عادتیں عام لوگوں کی اختیار کرنا اوراپنے آپ کو ہر تبدیلی کے لیے تیار رکھنا۔
اسی لیے میانگل اورنگ زیب نے اپنی اولاد کو بھی اعلا تعلیم دلوائی۔ اللہ نے تینوں بیٹے بھی ایسے ذہین عطا کیے، جو اپنے اپنے فیلڈ میں ہمیشہ نمایاں رہے۔ عدنان باچا نے انجینئرنگ کی تعلیم امریکہ سے حاصل کی۔ قومی اسمبلی میں پارلیمانی سیکریٹری رہے۔ دنیا بھر کی سیاحت کی۔ میانگل حسن اورنگ زیب نے برطانیہ سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینئر جج ہیں۔ ڈاکٹر محمود اورنگ زیب مشہور سرجن ہیں۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی اور پی ایم ڈی سی کے ممبر ہیں۔
اللہ، میانگل عدنان باچا کے درجات بلند فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔