کشور سلطان کا نام جو بھی سنتا ہے، اُسے علی حیدر جوشیؔ کا لکھا ہوا یہ گیت
سر تہ می کینہ خوشی میدان دے
سلگئی می راغلے، روح می روان دے
ضروریاد آتا ہے، جسے کشور سلطان اور گلنار بیگم نے مل کر گایا تھا۔
کشور سلطان کا تعلق فن کار گھرانے سے تھا۔ اُن کی دو پھوپیوں مہر النسا اور صبر النسا کا شمار اپنے دور کی مشہور فن کاراؤں میں ہوتا تھا۔ چشتی چمن جان (جن کا اصل نام ختم النسا تھا) کشور سلطان کی ممانی تھیں۔
کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
کشور سلطان کی ایک بہن جو پتلی جان کے نام سے مشہور تھی، بھی ایک فن کارہ تھی۔ کشور سلطان کی ماں کا نام بخت النسا تھا، جو مردانئی کے نام سے مشہور تھیں، اپنے دور کی نام ور فن کارہ تھیں۔ دولت ربابی، کشور سلطان کے ماموں تھے۔ دولت کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام طارق محمود تھا جس کے ساتھ کشور سلطان شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔ دوسرے کا نام دلبر تھا، جو مشہور سازندے تھے۔ دلبر ہارمونیم بجاتے تھے۔ ریکارڈنگ کمپنیوں کے لیے کمپوزنگ کیا کرتے تھے۔ اپنے منفرد فن کی وجہ سے ’’دلبر راج‘‘ کا خطاب حاصل کیا۔
دلبر راج نے گلشن کمپنی میں لمبے عرصے تک کام کیا۔ حمزہ شنواری اپنی کتاب ’’نقشۂ حیات‘‘ میں لکھتے ہیں کہ دلبر راج زبردست موسیقار تھے۔ ہارمونیم تو اس طرح بجاتے تھے کہ دیگر ہم عصر ہنر مند انگشتِ بہ دنداں رہ جاتے۔ زندگی نے وفا نہ کی اور عالمِ شباب میں 1938 ء میں انتقال کرگئے۔
کشور سلطان نے سنہ 1936ء میں جنم لیا۔ اُن کے والد کا نام محمد روشن تھا، مگر روشن چوہدری کے نام سے مشہور تھے۔ طبلہ نواز تھے۔ گرامو فون کے لیے استعمال ہونے والے کالے رنگ کے ڈیسک میں ریکارڈ شدہ نغموں میں ڈھیر سارے فن کاروں کے نغموں کے ساتھ طبلہ بجایا۔ بے نظیر جان، جو اپنے دور کی مشہور گلوکارہ تھیں، کشور سلطان کی بھابی تھیں۔
کہ نظیر جان د چا یادیگی
لار دی راوخلی تر لاندئی تہ دی رازینہ
وزیر جان دراصل کشور سلطان کی سگی پھوپی تھیں۔ وہ بھی اپنے دور کی مشہور و معروف گلوکارہ تھیں۔ وزیر جان اور بے نظیر جان کے ڈھیر سارے گیت اب بھی پروگرام ’’تیر ھیر آوازونہ‘‘ میں اتوار کے روز نشر ہوتے ہیں۔ رحمت دلبر جان، کشور سلطان کی ممانی تھیں، جن کا یہ گیت کافی مشہور ہوا:
د معشوقو پہ مخکی زے پہ سر دی قیش دے
کشور سلطان کے ماموں زاد ’’راحدت حسین‘‘ ایک مشہور موسیقار تھے۔ اُنھوں نے ریڈیو، ٹیلی وِژن اور پشتو فلموں کے سیکڑوں گیتوں کے لیے دھنیں تیار کیں۔
جیسا کہ پہلے رقم کیا جاچکا ہے کہ راحدت حسین کشور سلطان کے ماموں زاد تھے۔ دوسری طرف امت حسین جو مشہور طلبہ نواز تھے، بھی کشور سلطان کے خالہ زاد تھے۔ امت حسین نے لمبے عرصے تک ریڈیو اور فلموں کے لیے تیار کیے گئے گیتوں میں طلبہ بجایا۔ اس طرح ممتاز بیگم، بے نظیر، معشوق سلطان، اقبال بانو اور فریدہ خان بھی کشور سلطان کی رشتہ دار تھیں۔
کشور سلطان کے خاوند طارق محمود 3 اگست 1992ء کو انتقال کرگئے۔ پشتو کے مشہور گلوکار خیال محمد کے حجرے کے ساتھ والے قبرستان میں سپردِ خاک ہیں۔ کشور سلطان کی بیٹی مہرالنسا، جو فن کی دنیا میں ’’جانانہ‘‘ کے نام سے مشہور تھیں، خیال محمد کی بیوی تھیں۔ خیال محمد کے ساتھ ڈھیر سارے گیت ریڈیو اور فلموں کے لیے گائے تھے۔ جانانہ نے خیال محمد اور کشور سلطان دونوں کے ساتھ فلموں کے لیے گیت گائے۔ جانانہ 7 مئی 2005ء کو انتقال کرگئیں۔ ان کو دفنانے کے لیے قبر اپنے والد طارق محمود کے پہلو میں کھودی گئی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
زرسانگہ، فن و شخصیت (سجاد احمد)  
ماہ جبیں قزلباش، فن و شخصیت (سجاد احمد)  
شکیلہ ناز اپنے فن کے تناظر میں (کامریڈ امجد علی سحابؔ)  
اُستاد رفیق شنواری کی زندگی پر اِک نظر (کامریڈ امجد علی سحابؔ) 
خیال محمد، ایک عام گلوکار سے شہنشاہِ غزل تک کا سفر (اسلام گل آفریدی)  
کشور سلطان کی دوسری بیٹی سعید النسا ہیں، جن کا فن کی دنیا میں نام شائستہ جبیں ہے۔ اُنھوں نے لمبے عرصے تک ریڈیو اور ڈراموں میں کام کیا ہے۔ ریڈیو پر چند گیت بھی ریکارڈ کرائے ہیں۔ وہ پشتو ڈراموں میں کام کرنے والے مشہور اداکار طارق جمال کی منکوحہ ہیں۔ سعید النسا نے شادی کے بعد جانانہ کی طرح فن کی دنیا کو خیر آباد کہا۔
کشور سلطان کے ایک بیٹے واحد طارق نامی نعت خواں تھے۔ اُنھوں ریڈیو کے لیے دو نغمے بھی گائے تھے، جن میں ایک کافی مشہور بھی ہوا، ملاحظہ ہو:
’’پہ غریبئی چی می شرمیگے بیا بہ نہ رازمہ‘‘
واحد طارق گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوئے اور 29 نومبر 1994ء کو انتقال کرگئے۔ اپنے مرحوم والد کے پہلو میں دفن ہیں۔
کشور سلطان کے دوسرے بیٹے جاوید طارق ہیں، جو کئی فلموں اور ڈراموں کے پروڈیوسر رہ چکے ہیں۔ جاوید طارق والدہ کے فن کے اصل وارث ہیں۔
کشور سلطان طویل علالت کے بعد 21 ستمبر 2001ء کو انتقال کرگئیں اور اپنے علاقائی قبرستان جہاں پہلے سے اُن کے خاوند، بیٹی اور بیٹا دفن تھے، لحد میں اُتاری گئیں۔
یہ تو رہیں کشور سلطان کے خاندان اور اُن کی زندگی کے بارے میں معلومات…… اب آتے ہیں کشور سلطان کے فن کی طرف۔
ریڈیو میں امتحان دیا، تو پلک جھپکتے میں آواز کے امتحان میں کام یاب قرار پائیں۔ یہ اس لیے کہ کشور سلطان ایک ایسے گھر میں پھلی پھولی تھیں، جہاں سُر اور لے پورے خاندان کا گویا اُوڑھنا بچھونا تھا۔ پہلا نغمہ گلستان کا کلام:
یا الٰہی راولے یو زل گلِ خندان زما
گایا۔ یہ کلام عبداللہ جان نے گرامو فون کے لیے استعمال ہونے والے کالے ڈیسکمیں ریکارڈ کرایا تھا۔ یوں کشور سلطان نے اس کے بعد ریڈیو کے لیے سیکڑوں گیت گائے۔ اُس وقت کے ہر موسیقار کی ترتیب کردہ دھنوں پر گیت گائے۔ عبدالستار شاہ باچا، جنھیں عام طور پر باچا خان کے نام سے یاد کیا جاتا، کی مرید تھیں۔ اُن کے ہاں جاکر قوالی میں حصہ لیا کرتیں۔ ’’ہز ماسٹر وائس‘‘ نامی ریکارڈنگ کمپنی میں ڈھیر سارے گیت ریکارڈ کروائے، جن میں ایک یہ مشہور گیت:
مستی منگے بر اُوڑے دے
بھی شامل تھا۔ ریڈیو کے علاوہ پشتو فلم ’’درہ خیبر‘‘ کے لیے پہلا گیت:
گورمہ شرمیگم ورتلے نہ شم باران دے
گایا۔ اس سلسلے کو دوام بخشا۔ خیال محمد، ہدایت اللہ، گلریز تبسم اور دیگر گلوکاروں کے ساتھ ریڈیو اور فلم کے لیے ڈھیر سرے نغمے ریکارڈ کروائے۔ مشہور گیتوں میں ہدایت اللہ کے ساتھ ’’بیلتون دی ڈیر وکڑو ظلمونہ‘‘، خیال محمد کے ساتھ ’’رازہ چی یوہ جوڑہ کو جونگڑہ پہ زنگل کی‘‘ اور اور گلنار بیگم کے ساتھ ’’سر تہ می کینہ خوشے میدان دے‘‘ گا کر اَمر کردیے۔ خاص کر جب عبد اللہ استاد کا یہ گیت :
سپینے باریکے لیچے تشے گرزوومہ
بنگڑی والے ترورے زمونگ کوسے لہ راشہ
گایا، تو شہرت کی بلندیوں کو چھوگئیں۔ ذکر شدہ گیت سبز علی خان اور سعید اللہ نے سنہ 1938ء میں دہلی میں کالے ڈیسکوں میں محفوظ کیے ہیں۔ خدا لگتی کہوں، تو ذکر شدہ گیت کشور سلطان نے بہتر انداز میں گائے ہیں۔
کشور سلطان کا سُروں کا سفر کام یابی کے ساتھ جاری تھا کہ واحد طارق (بیٹا) گردوں کے عارضے میں مبتلا ہوگیا۔ جگر گوشے کے علاج کی خاطرسبھی چیزیں یہاں تک کہ ذاتی گھر بھی فروخت کر ڈالا۔ کافی دوڑ دھوپ اور روپیا پیسا خرچ کرنے کے باوجود واحد طارق کو اِفاقہ نہ ہوا اور 29 نومبر 1994ء کو انتقال کرگیا۔ جوان بیٹے کی موت کشور سلطان کو ذہنی اذیت میں مبتلا کرگئیں۔ صحت گرنے لگی۔ یہاں تک کہ گلوکاری چھوڑ بیٹھیں اور بیمار رہنے لگیں۔ بعد میں 21 ستمبر 2001ء کو انتقال کرگئیں۔ اُسی قبرستان میں دفن ہوئیں، جہاں خاوند طارق محمود، بیٹا واحد طارق اور بیٹی جانانہ پہلے سے دفن تھیں۔
کشور سلطان کو اپنی فن کارانہ صلاحیتوں کے صلے میں ڈھیر سارے ایوارڈ ملے تھے۔ حتی کہ اُنھیں صدارتی ایوارڈ بھی دیا گیا تھا۔ سٹیج پروگراموں کے لیے کئی ممالک کا سفر کیا۔
جہاں تک فن کی بات ہوتی ہے، تو فن کار سب کو پسند ہوتا ہے، لیکن فن کار کو معاشرے میں وہ مقام نہیں دیا جاتا، جو اُس کا حق ہوتا ہے۔ کوئی فن کار کو ’’میراثی‘‘ کے نام سے پکارتا ہے، تو کوئی اس قبیل کے دیگر مضحکہ خیز ناموں سے۔ ان فن کاروں کے حوالے سے تھوڑی سی تحقیق کی جائے، تو پتا چلتا ہے کہ ان کا تعلق اچھے گھرانوں سے ہوتا ہے۔ ہر فن کار کے ساتھ وہی کچھ ہوتا ہے، جو ہم نے عظیم فن کارہ کشور سلطان کے ساتھ کیا۔ حالاں کہ یہی فن کار ہیں جو پشتون ثقافت اور پشتو اَدب کی خدمت کرتے ہیں۔ چاہے میدانِ جنگ ہو یا شادی خانہ آبادی، یہی فن کار اپنے گیتوں اور نغموں سے میدان کو گرماتے ہیں۔
اب کشور سلطان کے چند مشہور گیت ملاحظہ ہوں: ’’خبرہ د خندا می شوہ بدلہ پہ ژڑا‘‘، ’’خدایہ ستا دی لوئے قدرت تہ حیرانیگم‘‘، ’’خوشی میدان کی پاتی شومہ‘‘، ’’بیا پہ وطن جنگ دے‘‘، ’’محبت کی کۂ غم شتہ خوندونہ ھم شتہ‘‘، ’’غڑیگی لکہ خوب میں انتظار پہ سترگو سترگو کی۔‘‘
(پشتو کی کتاب’’تیر ہیر آوازونہ‘‘ از حاجی محمد اسلم، دوسری اشاعت سنہ 2020ء، مطبوعہ ’’اعراف پرنٹرز محلہ جنگی پشاور‘‘، صفحہ نمبر 394 تا 398 کا اُردو ترجمہ)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔