پرانے سینما گھروں کا تفصیلی بیان تو ابراہیم ضیا کی کتاب ’’پشاور کے فن کار‘‘ میں بڑے منفرد انداز میں موجود ہے۔ پشاور میں کچھ ایسے سینما گھر بھی ہیں، جو بعد میں بنے اور ختم ہوگئے۔ ’’ناولٹی سینما‘‘ کو مسمار کرکے اُس پر پلازہ بنا دیا گیا ہے۔ ’’امان سنیما گھر‘‘ میڈیکل سنٹر میں تبدل کردیا گیا ہے۔ ’’فلک سیر‘‘ کی زمین پر پلازہ بنا ہوا ہے۔ صدر میں ایک ہی سینما ’’کیپٹل سینما‘‘ موجود ہے، لیکن وہ بھی بند ہے اور اُس میں بھی اَب فلمیں نہیں چلتیں۔
سجاد احمد کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sajjad-ahmad/
نوشہرہ میں 5 سینما گھر تھے، مگر اَب وہ بھی تجارت کا مرکز بن چکے ہیں۔ اُن سینما گھروں میں دو ’’گلستان‘‘ اور ’’تاج‘‘ جو مین چوک میں تھے، اب بینکوں اور دوسرے تجارتی کاموں کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ اس طرح اُن میں تین سینما گھر فوجیوں کے تھے، جن میں پشتو فلمیں چلتی تھیں، وہ بھی اَب بند ہوچکے ہیں۔
اس طرح صوبہ بھر کے بڑے شہروں میں جو سینما گھر ہوا کرتے تھے، اب نہیں رہے۔ ان میں مردان کے 5 سینما گھر بھی شامل ہیں۔ بنوں، کوہاٹ اور جہانگیری میں ایک پرانا سینما تھا، جو پشتو فلموں کے عروج ہی کے دور میں ختم ہوگیا تھا۔
سوات میں 2 سینما گھروں میں بھی ایک باقی ہے، جو ’’سوات سینما‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ سوات کی معروف شخصیت امان اللہ خان کی ملکیت تھا۔ اُن کا ایک سینما پشاور میں چلتا تھا، جو اب بند ہوچکا ہے۔ اس طرح اور بہت سے سینما گھر جن میں پشتو فلمیں چلتی تھیں، بند ہوگئی ہیں۔
پشاور میں اب 8 سینما گھر رہ گئے ہیں، جن میں ’’آئینہ‘‘، ’’صابرینہ‘‘، ’’ارشد‘‘، ’’تصویر محل‘‘، ’’پکچر ہاؤس‘‘، ’’ناز‘‘ اور ’’شمع‘‘ شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ایک اور چھوٹا سینما گھر بنا ہے، جس پر انگریزی فلمیں چلتی ہیں۔
راولپنڈی میں ’’خورشید سینما‘‘ پر پشتو فلمیں چلتی ہیں۔ کراچی میں بھی پشتو فلمیں لگتی ہیں۔ کوئٹہ اور کابل جو پشتو فلموں کی بڑی مارکیٹ تھے، مکمل طور پر بند ہوگئے ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
پاکستان فلم انڈسٹری کی تباہی کی وجوہات 
ریاستی دور کا سوات سنیما 
پشتو فلموں میں فحاشی و عریانی کیسے در آئی؟  
پشتو ڈراموں اور ٹیلی فلموں کا المیہ  
بدر منیر، ایک عہد ساز اداکار  
دراصل نئی ٹیکنالوجی کے آنے کے بعد فلم بنانے پر اس کا خرچ بڑھ گیا ہے۔ ایک فلم کی لاگت 50 لاکھ روپے کے لگ بھگ پہنچ گئی ہے۔ پرانے رئیل کمرے بے کار ہوچکے ہیں۔ فلموں کی ایڈٹینگ بھی اب کمپیوٹر کے ذریعے ہوتی ہے۔ اس طرح سینما ہالوں میں لگے پرانے ’’پروجیکٹر‘‘ بھی اب کسی کام کے نہیں رہے۔
ایک دفعہ ’’آئینہ سینما‘‘ کے منیجر حبیب الرحمان کے ساتھ اس حوالے سے گفت گو ہو رہی تھی، تو اُنھوں نے پشتو فلموں اور سنیما گھروں کے ختم ہونے کے حوالے سے بتایا کہ ’’نئی پشتو فلم سینما میں 8 سے 10 ہفتوں تک چلتی تھی۔ ایک دور تھا کہ پشاور کے سینما گھروں میں ایک فلم 3 سے 4 ماہ تک چلتی، تو اُس کے بعد نوشہرہ اور سوات کے سینما گھروں پر لگتی۔ یوں چھوٹے بڑے سٹیشنوں جیسے بنوں، کوہاٹ وغیرہ میں یہ فلمیں چلتی رہتیں۔ اَب جب بھی کوئی نئی فلم بنتی ہے، تو اُس پر خرچ کیا گیا سرمایہ بھی پورا نہیں ہوپاتا۔ اس سے سینما کا ٹھیکے دار نقصان اُٹھاتا ہے۔ اُن کے اخراجات جس میں بجلی بِل، ورکروں کی دہاڑی، کمیٹی ٹیکس اور اس طرح کے دیگر چھوٹے بڑے اخراجات ہوتے ہیں۔‘‘
ٹکٹ مہنگا ہونے کے حوالے سے اُنھوں نے بتایا کہ ’’نئی فلم کا ٹکٹ اِس وقت تقریباً 400 روپے میں ملتا ہے۔ شہروں کے لوگوں کے پاس جدید ٹیکنالوجی آگئی ہے۔ وہ کیبل اور ڈش ٹی وی پر فلمیں دیکھتے ہیں اور سینما گھر نہیں آتے۔ فلم دیکھنے صرف اب دیہات ہی کے لوگ آتے ہیں۔ وہ بھی بہت کم تعداد میں۔ اس طرح سینما گھروں میں فلم دیکھنے لوگ اب صرف جمعہ اور اتوار کے روز آتے ہیں، جس کی تعداد بھی 50، 60 تک ہی ہوتی ہے، جب کہ شام چھے بچے کے شو میں 10، 15 لوگ ہی شامل ہوپاتے ہیں۔ ایسے شوز میں سینما کا خرچ بھی پورا نہیں ہوتا۔
زیادہ تر سینما مالکان خود سنیما گھر نہیں چلاتے، بلکہ اُنھیں ٹھیکے دار کو دیا ہوتا ہے۔ ان سینما گھروں میں ایک ہی سینما اس خسارے سے بچا ہوا ہے اور وہ ہے’’ ارشد سینما‘‘۔ کیوں کہ یہ فلم ڈائریکٹر ارشد خان اور شاہد خان کی ذاتی ملکیت ہے۔ آج نئی فلمیں بھی وہی لوگ بنا رہے ہیں، جس میں سب کچھ اُن کا اپنا ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ اس تاوان سے بچے ہوئے ہیں۔‘‘
اس طرح پرانے دور کے وہ یادگار فلم ساز اور ڈائریکٹر اَب نہیں رہے۔ کچھ انتقال کرگئے ہیں، کچھ بیماریوں کی وجہ سے بستر پر پڑے ہیں اور روٹی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ بھوک اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں۔
پشتو فلم کے شعبے سے وابستہ افراد اداکار، گلوکار، سینما گھر کے مالکان، ٹھیکے دار، دہاڑی دار مزدور سب آج در در کی ٹوکر کھا رہے ہیں۔ اُن میں سے کچھ اپنے گھر، دیہات اور گاؤں واپس چلے گئے ہیں اور گم نامی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ کچھ اَب بھی لاہور میں بد حال دن گزار رہے ہیں۔
(کتاب ’’پشتو فلمونہ، تاریخ، تحقیق او تنقید‘‘ مولف ’’حاجی محمد اسلم‘‘، پبلشر ’’اعراف پرنٹر پشاور‘‘، سنہ اشاعت ’’جولائی 2020ء‘‘ صفحہ نمبر 68 تا 70 کا اُردو ترجمہ)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔