فلاحی ریاستِ سوات باچا صاحب (مرحوم) اور والی صاحب (مرحوم) کی لیڈر شپ میں واقعی اعلا مثالیں قائم کر رہی تھی۔ ہر نسلی گروپ اور قوم کے افراد نے ریاست کی کام یابی میں تن من دھن کی قربان دی۔ ’’یوسف زئی ریاستِ سوات‘‘ کے نام سے قائم ریاست میں قدرے نئے شہری یوسف زو کے ساتھ سوات کے قدیم باشندوں گوجر برادری اور قدیم سواتی اقوام نے بلاتفریق کار ہائے نمایاں انجام دیے۔ سیدو اور نواح میں آباد حاجی امیر خان گوجر کا خاندان باچا صاحب کے معتمدِ خاص رہے۔ اُن کے والد صاحب ’’باجوڑے پاچا‘‘ کو صوبے دار مقرر کیا گیا، جن کی وفاداری اور بہادری کی خود باچا صاحب معترف تھے۔ صوبے دار صاحب کے بھائی بھی ریاستِ سوات کی وفاداری میں پیش پیش تھے۔ جمع دار حاجی لال سید مینگورہ اور خائستہ لال نے بھی اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔
ساجد امان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/saj/
امیر خان 3 جنوری 1938ء کو سیدو شریف میں پیدا ہوئے۔ یہ ریاستِ سوات کے قیام کے اولین سال تھے۔ اب ریاست نے مستحکم ہونا تھا۔ مادرِ علمی ودودیہ سکول جو باچا صاحب کے نام پر تھا، کا قیام ہو چکا تھا اور تعلیم کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔
صوبے دار باجوڑے پاچا نے اپنے بیٹے امیر خان کو اسی سکول میں داخل کرایا۔ امیر خان کے بھائی بھی اسی سکول سے علم کا نور لے کر نکلے۔ اُن کے بھائیوں حاجی سید عمر خان، صنوبر خان، عمر خان اور ثمر خان نے معاشرے میں نمایاں کردار ادا کیا اور آگے اپنی اولاد میں وہی قابلیت، خودی، وفاداری اور بہادری منتقل کی، جو اُن کو ورثے میں ملی تھی۔
18 جون 1954ء کو امیر خان بہ طور پیتھالوجسٹ سیدو گروپ ہسپتال میں متعین ہوئے اور خدمات کا آغاز کیا، مگر جلد ہی اُن کو احساس ہوا کہ اس شعبے میں ملکہ حاصل کرنا چاہیے، تاکہ کوئی نمایاں حیثیت حاصل کرکے بہتر خدمت کی جائے۔
ریاستِ سوات کی اجازت اور مرضی سے ’’آرمڈ انسٹی ٹیوٹ آف پیتھالوجی راولپنڈی‘‘ چلے گئے۔ یہ ادارہ تحقیق و خدمات کا نمایاں ریکارڈ رکھتا تھا۔ وہاں مزید تعلیم و تربیت اس نمایاں حیثیت میں حاصل کی کہ تکمیل پر ادارے نے وہاں ہی پیتھالوجسٹ کی حیثیت سے ملازمت کرنے کی پیش کش کر دی۔ ریاستِ سوات اور بزرگوں کے مشورے پر اُنھوں نے مذکورہ پیش کش قبول کرلی، اس شرط پر کہ جب ریاستِ سوات کو ضرورت ہوگی، وہ بغیر کسی جھجک یا تاخیر کے مذکورہ ادارے کو خیر آباد کَہ کر سوات آئیں گے۔
ادارے نے بھی اُن کی شرط منظور کرکے ملازمت پر رکھ لیا۔ اپنی انتہائی محنت، دل چسپی اور مہارت کی بنیاد پر 17 جون 1960ء کو مختصر وقت کے اندر ان کو اس عظیم ادارے میں چیف پیتھالوجسٹ کی حیثیت سے ترقی دی گئی۔
کچھ ہی وقت بعد ملاکنڈ ڈویژن کے پہلے میڈیکل سپیشلسٹ اور مستند معالج ڈاکٹر نجیب اللہ صاحب نے سیدو ہسپتال میں پیتھالوجی کا پورا ایک خودمختار ڈیپارٹمنٹ بنانے کا ارادہ کیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
صنوبر استاد صاحب  
ملوک حاجی صاحب، ایک سچا دوست  
بزوگر حاجی صاحب  
والئی سوات کے پرائیویٹ سیکریٹری، پردل خان لالا 
باجکٹہ (بونیر) کے سید کریم خان  
ڈاکٹر نجیب صاحب کا تعلق لاہور سے تھا۔ اُن کو والی صاحب نے سوات بلایا اور پھر انتقال تک اُنھوں نے سوات کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیا۔ وہ ریاست کی صحت کی پالیسی اور ترقی کی ذمے داری بھی رکھتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب کی نظر میں امیر خان صاحب پہلے سے تھے۔ اُن کو ریاستی پیغام بھجوایا گیا کہ سوات کو اب آپ کی ضرورت ہے۔ امیر خان صاحب بغیر کسی لیت و لعل کے سیدو ہسپتال پہنچے اور سیدو ہسپتال میں پیتھالوجی کی لیبارٹری کا سنہری دور شروع ہوا۔اُن کو شاہی پیتھالوجسٹ کا اعزاز بھی حاصل رہا۔
اب سوات میں ہر ممکن ٹیسٹوں کی سہولیات کے ساتھ آنے والے نئے پیتھالوجسٹوں کی تربیت بھی شروع ہوئی۔ 1965ء میں امیر خان (مرحوم) نے وزیر مال صاحب کے محلے میں مائیکرو سرچ لیبارٹری کے نام سے نجی لیبارٹری قائم کی۔ یہ اُن لوگوں کے لیے نادر موقع تھا، جو ہسپتال میں تربیت حاصل نہیں کر پاسکتے تھے، تو یہاں سے فیض حاصل کرنا شروع کیا۔
امیر خان (مرحوم) ایک ادارے کے طور پر زندہ رہے اور ہر وقت خدمت و تربیت میں لگے رہتے۔ اُن سے ہزاروں شاگرد فیض یاب ہوئے۔ اُن کے صاحب زادے ڈاکٹر محمد طارق، ڈاکٹر خالد محمود خالد، محمد قاسم، نصیر احمد اور محمد فاروق (شہید) ہیں۔
ڈاکٹر خالد محمود خالد نے والد صاحب کے ورثے اور نام کو قائم رکھا اور اُن کے والد کی قائم کردہ لیبارٹری سوات کی تاریخ کی یادگار کے طور پر اب بھی قائم ہے۔ گو کہ ڈاکٹر خالد محمود خالد سیاسی طبیعت رکھتے ہیں، زمانۂ طالب علمی میں پیپلز سٹوڈنٹس فیڈریشن، پھر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن اور عملی زندگی میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی سے منسلک رہے، لیکن والد صاحب کے ورثے اور پہچان ’’لیبارٹری‘‘ کو ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ دو دفعہ سیدو شریف سے نظامت جیتی۔ اس کے علاوہ ’’گجر یوتھ فورم‘‘ کے پلیٹ فارم سے برداری کے فلاح کے لیے سرگرم ہیں۔ سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے ترجمان کے طور پر بھی اُن کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ سوات کے حقوق کے حصول کی جنگ میں اُن کی آواز نمایاں رہتی ہے۔
حاجی امیر خان کے بھتیجے اقبال خان المعروف جنابِ علی (مرحوم) الفلاح تنظیم کے روحِ رواں، الفلاح فٹ بال ٹیم کے موثر ممبر ، کیمسٹ ایسوسی ایشن کے بانی صدر اور جنرل سیکرٹری رہے۔ نسیم سحر (مرحوم) ایک ادیب، شاعر اور صاحبِ علم تھے۔ ابرار چٹان (مرحوم) ایک سیاسی کارکن، انسانیت دوست اور نڈر انسان تھے۔
تیسری نسل میں منصور خالد ماسٹرز کے ساتھ سول انجینئر ہیں۔ مسرور طارق کارڈیالوجسٹ ہیں۔ حسن چٹان (فرزندِ ابرابر چٹان) منجھے ہوئے صحافی ہیں۔ نیلم چٹان (دخترِ ابرار چٹان) نام ور وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں ۔ سونیا خالد ایم بی بی ایس ہیں۔ لیلیٰ خالد گائناکالوجسٹ ہیں۔
ایک شمع جو مرحوم صوبے دار باجوڑے پاچا نے روشن کی، اُس کی روشنی حاجی امیر خان صاحب نے آگے پہنچائی اور اب نسل در نسل اس کی روشنی پھیل رہی ہے۔ اللہ تعالا مرحومین کو جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے اور زندوں کو اچھی صحت کے ساتھ کام یابی و کامرانی عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔