سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہوگئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں
غالبؔ اس شعر میں یہی یاد دلاتے ہیں کہ دنیا آباد ہونے سے اَب تک نہ جانے کتنے نازنیں پیوندِ خاک ہوئے، لیکن دلوں میں یاد کے چراغ تو خال خال ہی کے روشن ہیں۔
غالبؔ سے بھی ڈھائی سو سال قبل صاحبِ سیف و قلم خوشحال خان خٹک نے اس بات کو کچھ یوں بیان کیا تھا:
مڑ ھغہ چی نہ ئی نوم نہ ئی نشان وی
تل تر تلہ پہ خہ نوم پائی خاغلی
بابا کہتے ہیں کہ مرتے تو وہ ہیں جن کے مرنے کے ساتھ اُن کا نام و نشاں بھی مٹ جاتا ہے…… مگر اُنھیں کہاں بھلایا جاتا ہے، جو مٹی اور ملت کی خاطر تن، من، دھن قربان کر جاتے ہیں۔ وہ لوگ جو اپنے لہو سے گلشن کو لالہ زار کریں، اُن کا تو مقام ہی الگ ہے۔ قرآن ایسے بندوں کو، جو راہِ حق میں کام آتے ہیں، زندہ قرار دیتا ہے۔ اس اعزاز سے بڑھ کر بھلا انسانیت کی معراج اور کیا ہوسکتی ہے۔ علامہ اقبال کے بہ قول:
مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلہ شہید کیا ہے ، تب و تاب جاودانہ
بلاشبہ بشیر احمد بلور بھی ایسی ہی زندہ و جاوید فہرست میں نمایاں ہیں۔
شہید کو اگرچہ ہم سے جدا ہوئے 12 سال کا عرصہ گزرچکا ہے، لیکن اُن کی یادیں اُس روز کی طرح تر و تازہ ہیں جس روز وہ اپنے مقصد کی قربان گاہ میں کام آئے۔
اختر حسین ابدالی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akhtar-hussain/
جرات، بے باکی اور بہادری کا استعارہ شہید بشیر احمد بلور یکم اگست 1943ء کو پشاور کے معروف سیاسی اور کاروباری شخصیت بلور دین کے ہاں پیدا ہوئے، جن کے آبا و اجداد باجوڑ ایجنسی کی تحصیلِ ’’مامون‘‘ کے علاقے کنکوٹ سے پشاور منتقل ہوگئے تھے اور یہاں کاروبار شروع کیا تھا۔ شہید نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ایڈورز کالج پشاور سے بی اے کیا، جس کے بعد پشاور یونی ورسٹی سے ’’ایل ایل بی‘‘ یعنی قانون کی ڈگری حاصل کی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ پشاور ہائی کورٹ بار کے ممبر بھی تھے۔ موصوف 1969ء میں رشتۂ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ 1970ء میں ہارون بشیر بلور (شہید) اور 1971ء میں عثمان بلور (مرحوم) کی ولادت ہوئی۔
قارئین، شہید کے والد بلور دین پہلے ہی خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک سے وابستہ تھے۔ تاہم 1970ء میں اُن کا خاندان باقاعدہ طور پر ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ (نیپ) میں شامل ہوا۔ اُس کے بعد تسلسل کے ساتھ باچا خان، خان عبد الولی خان اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ وابستہ رہا۔
قارئین، صوبائی دارالحکومت پشاور میں اے این پی کو منظم کرنے میں بلور خاندان کا ایک اہم کردار رہا ہے، جس میں بالخصوص شہید بشیر احمد بلور پیش پیش رہے ہیں۔ پارٹی قائدین اس بات کا بھی اعتراف کرتے ہیں کہ پارٹی میں کئی مواقع پر اختلافات بھی پیدا ہوئے، لیکن بلور خاندان نے اے این پی سے اپنی مخلصی اور تعلق پر کوئی آنچ نہیں آنے دیا، جس کی وجہ سے 1975ء کو شہید سمیت چاروں بھائیوں کو پابندِ سلاسل بھی کیا گیا۔ جب کہ بلور ہاؤس پر ’’فرنٹیئر کانسٹیبلری‘‘ (ایف سی) نے قبضہ کرکے اس کا سٹور بھی لوٹ لیا۔
معروف قوم پرست ادیب اور کالم نگار اجمل خٹک کشر (مرحوم) کے بقول: ’’یوں تو ہندکو بولنے والے اور بھی بہت سارے پختون راہ نما حضرت باچا خان بابا کے معتقد ہیں…… لیکن ابتلا کے ہر دور میں جس طرح بلور خاندان نے استقامت پائی، اس کی مثالیں کم کم ہی مل پاتی ہیں۔ جب بھی پختون قومی تحریک پر کڑا وقت آیا، تو بلور برادران نے قربانی کے لیے خود کو سب سے پہلے پیش کیا۔ باچا خان، ان کی تحریک (خدائی خدمت گار)، نیپ، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) اور اے این پی پر کئی نشیب و فراز آئے ۔ ایسے عالم میں جب بڑے بڑے تذبذب سے دوچار ہوتے، یہ بلور خاندان ہی ہوتا تھا، جو ابہام و ہیجان کے ایسے عالم میں کھل کر اور سامنے آ کر ولی باغ سے اپنی غیر متزلزل وفا داری کا اعلان کر لیتا تھا۔ مجروح سلطان پوری ایسے قیس و منصور کی کیا خوب بے باکی بیان کرتے ہیں:
ہم تو پائے جاناں پر کر بھی آئے اِک سجدہ
سوچتی رہی دنیا، کفر ہے کہ ایماں ہے‘‘
قارئین، شہید بشیر بلور نے ایک فعال سیاسی زندگی گزاری۔ وہ اور اُن کا خانوادہ سر تا پا، باچا خان اور ولی خان کے افکار و نظریات کا عکس ثابت ہوئے۔ کیوں کہ موصوف جامِ شہادت تک ولی باغ کی نظریاتی سحر کے اسیر رہے۔
کہ می دیدن لہ خدایا غواڑی
چرتہ غورزنگ د پختون گورہ زہ بہ یمہ
قارئین، شہید بشیر احمد بلور 1976ء میں پہلی مرتبہ عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی نائب صدر منتخب ہوئے۔ 1977ء میں صوبائی سیکرٹری جنرل اور جب 1979ء میں افضل خان لالا نے پارٹی کو خیر باد کہا، تو شہید پہلی مرتبہ صوبائی صدر منتخب ہوئے ۔ بعد ازاں وہ بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ سینئر نائب صدر بھی رہے۔
شہید نے 1988ء میں پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور اُس کے بعد ہر الیکشن میں ممبر صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) کے طور پر منتخب ہوتے رہے۔ اُنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ 1990ء سے 2008ء تک مسلسل پانچ مرتبہ اپنے حلقے سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں۔
2002ء میں جب مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ (ایم ایم اے) نے پشاور سمیت پورے صوبہ بھر میں انتخابات میں غیر معمولی کام یابی حاصل کی، جس میں اے این پی کے کئی اہم راہ نما اپنی نشستیں ہارے گئے تھے۔ اس الیکشن میں بھی شہید بشیر احمد بلور اپنی نشست جیتنے میں کام یاب رہے تھے۔
شہید تین مرتبہ صوبائی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اُن کے پاس سینئر وزیر، لوکل باڈیز اور کمیونی کیشن کے قلم دان رہے ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
عوامی نیشنل پارٹی تاریخ کے آئینہ میں  
عبدالصمد خان اچکزئی شہید اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی  
اے این پی وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کرے  
کامریڈ ڈاکٹر نجیب (شہید) کی زندگی پر اِک نظر  
کچھ شہید ہارون بلور کے بارے میں  
قارئین، نواز شریف کے دورِ حکومت میں غلام احمد بلور وفاقی وزیر اور شہید بشیر احمد بلورصوبائی وزیر بنے۔ اس دوران میں جب ولی خان کراچی کے دورے پر گئے، تو ایک کارکن نے شکوہ کیا کہ خان صاحب، حاجی بلور اور بشیر بلور یعنی دونوں بھائیوں کو وزیر بنا دیا گیا ہے۔ جس پر ولی خان نے جواب دیا کہ ’’بیٹے، اس کا فیصلہ مَیں نے نہیں بلکہ پارٹی کے اُس فورم نے کیا ہے، جس کا اختیار آپ نے اُسے دیا ہے۔ ہاں! مَیں ذاتی رائے گوش گزار کر دوں کہ ہم تو اقتدار پرست لوگ ویسے بھی نہیں ہیں۔ آج نہیں تو کل، مشکل وقت تو آئے گا۔ پھر جیل بھی یہ دونوں بھائی ہی جائیں گے۔‘‘
تاریخ یہ ہے کہ مزاحمتی جماعت ہونے اور جمہوری تحریکوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرنے کے باوصف ولی خان کے ساتھی اکثر جیلوں میں ہوتے تھے۔ چوں کہ یہ دونوں بھائی بھی صفِ اول میں ہوتے تھے، اس لیے جیل سمیت اکثر صعوبتیں بھی دونوں بھائیوں کے حصے ہی میں آ جاتی تھیں۔ پھر بشیر بلور نے تو باچا خان کی سیاست کا ایسا دم بھرا تھا کہ رہتی دنیا تک ان کا نام زندہ رہے گا۔ ایسے دور میں جب بڑے بڑے اور لا و لشکر والے سر چھپاتے پھر رہے تھے، عدم تشدد کے پرچارک باچا خان کے اس مجاہد نے نہتے میدان میں آکر خون کے سوداگروں کو لاجواب کر دیا۔ بہ قولِ شاعر
جفا کی تیغ سے گردن وفا شعاروں کی
کٹی ہے برسرِ میداں، مگر جھکی تو نہیں
ہاں! بے حسی، موقع پرستی، قول و فعل کے تضاد اور مفاد پرستی کی سیاست میں ایک حادثہ یہ ہوا کہ شہید بشیر بلور کے جاتے ہی جیسے چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ کیوں کہ 2013ء کے عام انتخابات میں نام نہاد پختونوں نے شہید کے مقدس خون پر بے ہنگم ’’جنون‘‘ کو مقدم رکھا۔
قاتل میرا نشان مٹانے پہ ہے بہ ضد
مَیں بھی سناں کی نوک پہ سر چھوڑ جاؤں گا
لشکر کرے گی میری دلیری کے تبصرے
مر کر بھی زندگی کی خبر چھوڑ جاؤں گا
قارئین، محسن نقوی (مرحوم) کے محولہ بالا اشعار کی روشنی میں اگر دیکھا جائے، تو شہید بشیر احمد بلور نے نہ صرف ہمارے لیے زندگی کی خبر چھوڑی ہے، بلکہ جرات، بہادری، جواں مردی اور دہشت گردی کے خلاف ایک پوری کتاب بھی چھوڑ رکھی ہے۔ شہید کے مخالفین یہاں تک کہ اُن کے جانی دُشمن بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ حقیقی معنوں میں ایک مردِ جری تھے۔ جس کا اقرار پارٹی قائدین، کارکنان، صحافی اور سیکورٹی کا عملہ بھی کر رہے ہیں۔ لوگ اُن کی سیاسی زندگی کے رواں معمول کو خطر ناک قرار دیتے تھے، مگر وہ ہمیشہ مسکرا کر ایک ہی نعرہ بلند کرتے تھے کہ ’’چی کمہ شپہ پہ گور ئی ھغہ پہ کور نہ ئی!‘‘ یعنی جو رات قبر میں لکھی ہے، وہ گھر میں نہیں بِتائی جاسکتی۔
بلور ہوں کہ کانچ ہوں، پتھر سے پوچھ لے
میں وہ سخت جاں ہوں دمِ خنجر سے پوچھ لے
موصوف جس طرح ہر فورم اور میڈیا میں کھل کر طالبان کی مخالفت کرتے تھے اور ان کو ’’ملک دشمن اور دہشت گردوں‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے، اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ یقینا شدت پسندوں کے ہِٹ لِسٹ پر ہوں گے۔
قارئین، 2009ء میں جب سوات میں طالبان اور حکومت کے مابین آخری امن معاہدہ ٹوٹ گیا، تو عوامی نیشنل پارٹی نے ہر فورم پر کھل کر طالبان کی مخالفت شروع کردی۔ اس مخالفت میں شہید بشیر احمد بلور اور صوبائی وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین پیش پیش رہے۔ ان دونوں وزرا نے اس بات کو اپنی اولین ذمے داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا، تو یہ دونوں وزرا منٹوں میں لپک کر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے ہوئے طالبان حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے تھے ۔
قارئین، بشیر احمد بلور کی اس ادا پر اُنھیں اُس وقت کی وفاقی حکومت نے ’’ستارۂ جرات‘‘ سے بھی نوازا تھا۔ اُن کی دلیری اور بہادری کی سب سے بڑی مثال یہ تھی کہ جہاں بھی دھماکا ہوتا، اُس کے فوراً بعد وہ سب سے پہلے پہنچتے تھے۔ وہ دیگر سیاست دانوں سے بالکل مختلف تھے ۔ کیوں کہ اُن کے سینے میں جو دل دھڑکتا تھا، اُس میں خوف نامی چیز کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
شہید کو جب ایک دفعہ سیکورٹی تھریٹ کا معاملہ پیش آیا، تو اُنھوں نے اسمبلی فلور پر کھڑے ہو کر واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ
مَیں جھکا نہیں مَیں بکا نہیں کہیں چھپ چھپا کے کھڑا نہیں
جو ڈٹے ہوئے ہیں محاذ پر، مجھے اُن صفوں میں تلاش کر
سیکورٹی اداروں کی جانب سے ایک بار پھر مجھے متنبہ کیا گیا ہے کہ مجھے سنگین قسم کا کظرہ ہے۔ ان ہتھکنڈوں سے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مَیں چھپ ہو جاؤں گا، تو یہ اُس کی بھول ہے۔ میرا بیانیہ میرا نہیں بلکہ میرے اکابرین اور قوم کا ہے۔ اس سے کوئی خوش ہوتا ہو، یا کسی کو برا لگتا ہو، میرا بیانیہ یہی رہے گا۔
میرے قافلے میں شامل کوئی کم نظر نہیں ہے
جو نہ کٹ سکے وطن پر میرا ہم سفر نہیں ہے
درِ غیر پر ہمیشہ انھیں سجدہ ریز دیکھا
کوئی ایسا داغِ سجدہ میرے نام پر نہیں ہے
اس بات کا اعتراف عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی سیکرٹری جنرل سردار حسین بابک بھی کرتے ہیں۔ اُن کے بہ قول: ’’شہادت سے کچھ دن قبل اُنھیں (شہید بشیر بلور) بتایا گیا تھا کہ اُن پر حملہ کی منصوبہ بندی کرلی گئی ہے۔ تاہم اُنھوں نے حلقے کے عوام سے ناتا توڑنے سے صاف انکار کر دیا۔ اُن پر پشاور ہی کے مختلف مقامات پر تین حملے عوامی رابطہ مہم کے دوران میں ہوچکے تھے…… مگر وہ ڈرنے والے تھے اور نہ جھکنے والے۔
شہید بشیر احمد بلور بلا کے مقرر تھے۔ اُن کی شعلہ بیانی اے این پی کے کارکنوں میں جوش اور ولولہ پیدا کر دیتی تھی۔ اسی سٹائل کا نتیجہ تھا کہ وہ اپنے حلقے سے مسلسل پانچ مرتبہ ممبر صوبائی اسمبلی کے طور پر کام یاب ہوئے تھے۔ وہ دو مرتبہ پارٹی کے صوبائی صدر اور کئی مرتبہ صوبائی وزیر بھی رہ چکے تھے اور شہادت کے وقت بھی اُن کے پاس صوبائی سینئر وزارت کا قلم دان تھا۔‘‘
قارئین، شہید بشیر احمد بلور کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ گفتار کی بہ جائے کردار کے غازی تھے اور اُن کی شہادت بھی اس بات کا بین ثبوت ہے۔ اُن کی یہ بات بھی آج سچ ثابت ہو رہی ہے کہ بالآخر دہشت گردوں کو منھ کی کھانی پڑے گی۔ دہشت گردوں کی جیکٹس ختم ہو جائیں گی پَر ہمارے سینے نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وہ دہشت گردی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور بڑی دلیری کے ساتھ جامِ شہادت نوش کرنے والے دیگر لوگوں کے لیے ایک علامت، مثال اور استعارہ بن چکے ہیں۔
اُن کی شہادت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لوگ کس طرح اپنی دھرتی پر قربان ہو سکتے ہیں کہ یہ دھرتی ہمارے آباؤ اجداد اور خدائی خدمت گاروں کی بیش بہا قربانیوں اور جد و جہد کے طفیل آزاد ہوئی ہے ۔ لہٰذا ہر مشکل کا جواں مردی سے مقابلہ کرنے والے اور اپنی قوم اور دھرتی کی حفاظت کے لیے ہمیں شہید بشیر احمد بلور جیسے نڈر، جرات مند اور بہادر لوگوں کی ضرورت ہے۔
سردار حسین بابک کے بہ قول: ’’ویسے تو بشیر احمد بلور کی کمی پوری پارٹی محسوس کرتی ہے اور کرتی رہے گی، تاہم ذاتی طور پر جس دن بھی اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے اور دورانِ اجلاس کوئی سیاسی، قانونی، آئینی اور پارلیمانی مسئلہ سامنے آجاتا ہے، تو مجھے فوراً اپنا سینئر پارلیمنٹرین اور راہ نما شہید بشیر احمد بلور یاد آجاتا ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب وہ اپنی نشست سے کھڑے ہو کر اپنے مخصوص انداز میں اس مسئلے پر اپنی تقریر شروع کر دیں گے۔‘‘
قارئین، عزم و ہمت کے اس مینار پر 22 دسمبر 2012ء کو عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی کے دوران میں خودکش حملہ ہوا…… جس میں موصوف کے علاوہ اُن کے سیکرٹری اور ایک اعلا پولیس اہل کار بھی جامِ شہادت نوش کرگئے۔
شہید بشیر احمد بلور کی نمازِ جنازہ کرنل شیر خان شہید سٹیڈیم پشاور میں ادا کی گئی، جس میں عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان، اُس وقت کے وزیرِ اعلا خیبر پختون خوا امیر حیدر خان ہوتی اور سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔
جاتے جاتے اس مرثیے پر اجازت طلب کرنا چاہوں گا جو اختر گل نے بشیر احمد بلور شہید کی وفات پر لکھا تھا:
دا زہ یوازی نہ ٹولہ دنیا درپسی جاڑی
شہید بشیر بلورہ پختون خوا درپسی جاڑی
تہ لاڑلے شہید شوے مونگ دی ٹول تیمانان کڑو
جڑیگو پہ سرو سترگو وس اختہ پہ ویر د زان شو
بچی دی ٹول خفہ ھم تا لہ خدایا غواڑی
شہید بشیر بلورہ پختون خوا درپسی جاڑی
پہ اوخکو باندی لون د ہر پختون رور می گریوان و
پہ مونگ باندے راغلے د اللہ لوئے امتحان و
ہر چا بہ ورکولے لہ خفگانہ یو بل لہ غاڑی
شہید بشیر بلورہ پختون خوا درپسی جاڑی
پہ قبر دی وریگی د اللہ لوئے رحمتونہ
ہر چا درتہ نیولی پہ دعا دواڑہ لاسونہ
و لاری کوی د پی ایف پی درپسی جاڑی
شہید بشیر بلورہ پختون خوا درپسی جاڑی
تر قبرہ پوری تاسرہ و ستا ملگرے اختر گل
چی تہ ئی لحد تہ کوز کڑے ما پہ سرو سترگو جڑل
نو خفہ و اختر گل وس درنہ زی کڈہ انغاڑی
شہید بشیر بلورہ پختون خوا درپسی جاڑی
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔