تحریر و ترتیب: میثم عباس علی زئی
(’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا چھبیس واں لیکچر ہے، مدیر)
٭ کلیات کا مسئلہ (Problem of Universals):۔ افلاطون نے اتنے مختلف موضوعات پر لکھا کہ ہم کہیں سے بھی اُس کے فلسفے کو بیان کرنا شروع کرسکتے ہیں۔ سائیکالوجی پہ لکھا، ریاضی پہ لکھا، اخلاقیات پہ لکھا، سیاست پہ لکھا…… مگر وہ دریافت جس کا کہ سب سے زیادہ اثر ہوا، وہ ہے افلاطون کا علمیاتی نظریہ یا معرفت شناسی (Epistemology)، یعنی کس طرح سے وہ علم کو دیکھتا ہے۔
پچھلی اقساط میں ہم ایک بحث پڑھ چکے ہیں جو کہ انتہائی اہم ہے، جس نے افلاطون کو بھی متاثر کیا۔ وہ بحث (Debate) تھی ’’ہیراکلائٹس‘‘ اور ’’پرمینڈیز‘‘ کے درمیان۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہیراکلائٹس کا یہ ماننا تھا کہ ہماری ارد گرد جو تمام دنیا ہے، وہ مسلسل تبدیلی کے عمل میں ہے یعنی ہم کسی بھی چیز کو دیکھیں، تو ہر چیز جو ہمیں نظر آتی ہے، وہ تبدیلی کے عمل میں ہے۔ حتیٰ کہ پہاڑ بھی ہو جو کہ ہمیں ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بالکل ساکن اور ثابت ہے، لیکن اگر ہم تھوڑا سا وقت اُس کو دیکھیں، تو ہمیں محسوس ہوجائے گا کہ پہاڑ بھی مسلسل تبدیل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ دریا اپنا راستہ تبدیل کرتا ہے، وادیاں تبدیل ہوتی ہیں اور انسان زندہ ہوتا ہے، پھر مرجاتا ہے…… تو اگر ہر چیز تبدیلی میں ہے، تو پھر بڑا اور اہم مسئلہ یہ آتا ہے کہ پھر ہم کیسے کسی چیز کی تعریف (Definition) کریں، کسی چیز کو کیسے کلی طور پر سمجھیں، کس طرح کسی چیز کے بارے میں اعتماد اور وثوق سے اس کو شناخت کریں؟
مثلاً: اگر مَیں یہ کہوں کہ آج میری شرٹ (Shirt) نیلی ہے، تو آپ اس پہ بھی سوال اُٹھا سکتے ہیں کہ جی اس لمحے تو نیلی ہے، مگر مسلسل اس کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ سفید ہو رہی ہو، اُس کی جو رنگت ہے، وہ کم ہو رہی ہو یا بڑھ رہی ہو…… تو لہٰذا اُس کے بارے میں یہ کہا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ نیلی ہے۔ کیوں کہ وہ تو مسلسل تبدیلی کے عمل میں ہے۔
اس کے علاوہ یہی اپروچ کسی بھی چیز پہ لاگو کیا جاسکتا ہے…… یعنی کہ ہم ہیراکلائٹس سے ایک ایسا نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ جس کو ہم ’’سبجیکٹو ریلٹوزم‘‘ (Subjective Relativism) کہیں گے۔ چوں کہ ہر چیز تبدیلی کے عمل میں ہے، تو نہ تو کوئی مسلم سچ ہے، نہ کوئی مسلم جھوٹ۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
فلسفہ کیا ہے؟  
فلسفہ، سائنس اور پاپولر کلچر 
وو ـ وی کا فلسفہ 
سقراط، جس نے فلسفہ کو ایک نئی شکل دی  
زندگی بارے کنفیوشس کا فلسفہ 
ہیراکلائٹس نے خود تو شاید اس قسم کی اپروچ اخذ نہیں کی، مگر لوگوں نے، بالخصوص ’’سوفسٹس‘‘ (Sophists) نے، اس قسم کی اپروچ کی بنیاد ڈالی۔ اس کے برعکس ’’پرمینڈیز‘‘ کا یہ خیال تھا کہ تبدیلی جو ہے، وہ ہے ہی نہیں…… یعنی جو اس دنیا کے اندر تبدیلی ہے، یہ دراصل ایک خواب اور دھوکا ہے اور یہ مکمل طور پہ ہماری ’’حسیات‘‘ (Senses) کا دھوکا ہے، اور وہ یہ کہتا تھا کہ تبدیلی جو ہے اس چیز کا نام ہے کہ جو چیز ہے، وہ اُس چیز میں تبدیل ہو جائے گی، جو چیز نہیں ہے۔ اور کیوں کہ جو چیز نہیں ہے، اُس کے بارے میں ہم سوچ سکتے ہیں نہ اس کی کوئی صفت ہے، نہ اُس کے بارے میں کوئی اُس کی حقیقت ہے۔ کیوں کہ وہ ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اُس کو تو آپ نکال لیں، تو صرف جو چیز بچ جاتی ہے، وہ ہے کہ جو ہے۔ لہٰذا تبدیلی نام کی کوئی چیز نہیں۔
’’پرمینڈیز‘‘ کی تھیری (Theory) ہمارے ذہن کو درست نہیں محسوس ہوتی۔ کیوں کہ ہمیں پتا ہے کہ خلا جو ہے وہ "Exist” کرسکتا ہے۔ بہ ہرحال پرمینڈیز ایک اہم بات ضرور کررہا ہے اور وہ یہ کہ جو چیز ساکن ہوگی، اُسی کی تعریف (Definition) کی جاسکے گی اور افلاطون بھی اس کے ساتھ اس بات پہ متفق ہے…… یعنی کہ جو چیز قائم ہے، یا جو تبدیلی کے عمل میں نہیں، اُسی کو سمجھ سکتے ہیں اور اسی کو ہم "Define” کرسکتے ہیں۔
مگر دوسری طرف پرمینڈیز کا مسئلہ یہ تھا کہ اِرد گرد دُنیا کے اندر ہم جو تبدیلی دیکھ رہے ہیں، اُس کو کس طرح ہم صرف یہ کَہ کر کہ یہ تو فقط خواب ہے، دھوکا ہے، جھٹلا سکتے ہیں…… یعنی پھر ہم اس کی وضاحت کیسے کریں گے……؟ اس کو فلسفے کی زبان میں ’’کلیات کا مسئلہ‘‘ (Problem of Universals) کہیں گے۔
اس کا مطب یہ ہے کہ دنیا کے اندر ہم کئی قسم کے درخت دیکھتے ہیں اور کوئی بھی ایک درخت بالکل 100 فی صد دوسرے درخت کی طرح نہیں۔ کوئی بھی ایک انسان بالکل دوسرے انسان کی طرح نہیں۔ کوئی بھی ایک پھل دوسرے پھل کی طرح نہیں…… یعنی کہیں نہ کہیں اس کی شکل و صورت میں کوئی نہ کوئی چیز مختلف ہے۔ تو پھر کس طرح سے ہم اس نتیجے پہ پہنچتے ہیں…… جب ہم دو جیسے دو انسانوں کو دیکھتے ہیں۔ ہم دونوں کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ دونوں انسان ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی ان دونوں کے درمیان ہمیں مشترکہ خصوصیت نظر آئی، یا مثال کے طور پر کہ یہ سب جو ہیں گھوڑے ہیں…… حالاں کہ ہر انفرادی گھوڑا جو ہے، وہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر رنگ دوسرے سے مختلف ہے۔ ہر انفرادی انسان دوسرے سے مختلف ہے۔ تو یہ ’’یونیورسل‘‘ (Universal) جو ہم مقولات (Categories) بناتے ہیں، انسان، آدمی، عورت، درخت، کالا، سفید وغیرہ۔
مزید پھر اس میں بھی ایک چیز اور شامل کر دیں کہ جس چیز کو ہم "Define” کر رہے ہیں، وہ تو ازخود مسلسل حرکت اور تبدیلی کے عمل میں ہے۔ پھر تو معاملہ اور بھی اُلجھ جاتا ہے کہ اگر تمام دنیا میں جتنی چیزیں ہم دیکھتے ہیں، اُن میں ہر انفرادی چیز ایک دوسرے سے مختلف ہے، اور ہر انفرادی چیز مسلسل تبدیلی کے عمل میں بھی ہے، اور کوئی ایک چیز دوسری چیز کے ساتھ مکمل طور پہ کبھی میچ بھی نہیں کرتی۔ تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ذہنی طور پہ یہ یونیورسل مقولات (Universal categories) بناتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں جو ہیں یہ انسان ہیں، یہ تمام چیزیں مثلاً بلیاں ہیں، فُلاں رنگ کو ہم کالا کہیں گے اور فُلاں کو ہم لال کہیں گے وغیرہ۔
تو یہ کیسے ممکن ہے……؟ یہ ایک ایسا سوال تھا اور ہے، جس کو کہ افلاطون کے علاوہ بھی، قدیم فلسفہ سے لے کر ماڈرن فلسفہ تک، یعنی آج تک سارے مختلف فلاسفرز نے اس پر بات چیت کی، مگر بہ ہرحال یہ سوال ابھی تک جاری ہے یعنی ’’کلیات کا مسئلہ‘‘ (Problem of Universals)۔
افلاطون نے اس مسئلے کو اس طرح حل کیا کہ اُس نے اپنے استاد سقراط کے فلسفے پر واپسی کی۔
اگرچہ سقراط نے قدرتی دنیا پہ کچھ نہیں لکھا تھا، کم سے کم سقراط کا کام اور سقراط کی اپروچ ہمارے تک پہنچی ہے، وہ اخلاقیات ہے…… مگر سقراط کا چیزوں کو سمجھنے کا جو طریقۂ کار ہے، اُس میں کچھ بڑی بنیادی اور مزیدار قسم کی بات ہے۔ وہ یہ کہ سقراط کی ہمیشہ کوشش یہ تھی کہ وہ ’’یونیورسل ڈیفنیشن‘‘ (Universal Definition) پہ پہنچے۔ مثال کے طور پہ ہم نے پچھلے مکالمے (Dialogue) میں پڑھا کہ بہادری کیا چیز ہے؟ اُس کو وہ کھولنا شروع کرتا ہے بہادری کے کانسپٹ کو۔ اس کی ڈیفنیشن کو کھولتا رہتا ہے، توڑتا رہتا ہے، توڑتا رہتا ہے کہ اچھائی کیا ہے، بہادری کیا ہے، سچ کیا ہے، علم کیا ہے؟ وغیرہ۔ اور اسی کے ذریعے وہ گفت گو میں موجود تضاد کو آشکار کرتا تھا۔
سقراط کی اپنی زندگی میں جو کوشش تھی، وہ ہمیشہ یہ تھی کہ ’’سوفیسٹس‘‘ کا جو ’’ریلیٹو ازم‘‘ ہے یا ’’سبجیکٹو ازم‘‘ ہے، اُس کو رَد کیا جائے۔ کیوں کہ سوفسٹس یہ کہتے تھے کہ کوئی مطلق اور معروضی سچائی نہیں، اور نہ کوئی چیز ہی ایسی ہے جو مکمل طور پہ سچ ہوسکے۔
دوسرے الفاظ میں ہر چیز جو ہے، وہ ’’سبجیکٹو‘‘ (Subjective) ہے، وہ ’’ریلیٹو‘‘ (Relative) ہے، یعنی کوئی مطلق و معروضی سچ و جھوٹ اور حق و باطل نہیں۔
لیکن سقراط اس اپروچ کے بالکل اُلٹ تھا۔ سقراط اُن کو شدید رد کرتے ہوئے کہتا تھا کہ ’’نہیں، یا تو چیز سچ ہے، یا جھوٹ۔ یہ ناممکن چیز ہے کہ آپ یہ کہیں کہ آپ کے لیے سچ ہے اور میرے لیے جھوٹ…… یہ ناممکن ہے۔‘‘
تو سقراط اخلاقیات میں بھی معروضی، عالمگیر اور مطلق حقائق کی تلاش کرتا تھا۔
باقی آیندہ!
گذشتہ لیکچر کا لنک ذیل میں دیا جاتا ہے: 
https://lafzuna.com/history/s-35464/
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔