تحریر و تریب: میثم عباس علی زئی 
(نوٹ:۔ بہ وجوہ یہ سلسلہ چوبیس ویں لیکچر کے بعد موقوف کیا گیا تھا، مگر قارئین کے بار بار اصرار پر اسے دوبارہ جاری کیا جا رہا ہے۔
’’فلسفہ کی تاریخ‘‘ دراصل ڈاکٹر کامریڈ تیمور رحمان کے مختلف لیکچروں کا ترجمہ ہے۔ یہ اس سلسلے کا پچیس واں لیکچر ہے ، مدیر)

٭ افلاطونی ڈیلوزم/ ثنویت (Plato’s Dualism):۔ افلاطون کہتا ہے کہ جو چیز ہم جانتے ہیں، یا جو ہماری روح کے حوالے سے سمجھ (Soul Understanding) ہے…… چوں کہ یونان کے لوگ اکثر ’’مائنڈ‘‘ (Mind) اور روح (Soul) کو ایک طرح سے دیکھتے تھے، یعنی جب وہ روح لکھتے تھے، تو اُس سے اُن کی مراد وہ روح بھی تھی کہ جس کو ہم آج جانتے اور پہچانتے ہیں، یا جس روح کا ذکر ہمیں مذہبی متون (Religious Texts) میں ملتا ہے، مگر یونانی جب روح کا لفظ استعمال کرتے تھے، تو اُس سے اُن کی مراد ذہن بھی ہوتا تھا۔
افلاطون کا یہ خیال تھا کہ ہماری پیدایش سے پہلے ہماری جو روح ہے، وہ تصوراتی دنیا کے اندر تھی اور روح، اُس تصوراتی دنیا کے اندر جو مختلف تصورات ہیں اُن کو نہ صرف جانتی تھی بلکہ اُن کو پہچانتی اور سمجھتی بھی تھی۔
افلاطون کے مطابق جب ہماری پیدایش ہوئی، تو ہماری روح وہ تمام تصورات بھول گئی اور جب ہم اِس دنیا کے اندر پیدا ہوئے اور ہم نے اِس کی کنکریٹ (Concrete) چیزیں دیکھیں، یعنی مادے کی بنی ہوئی چیزیں دیکھیں، اِن کی مختلف شکلیں دیکھیں، تو ہماری روح نے پہچان لیا کہ ہاں یہ چیز مَیں نے پچھلی زندگی یا تصوراتی دنیا میں دیکھی ہوئی ہیں…… یعنی علم جو ہے، وہ کوئی نئی چیز نہیں، جو ہمارے ذہن میں آتی ہے، بلکہ علم تو ایک قسم کی یاد دہانی اور ایک قسم کا دوبارہ سے یاد کرنا ہے کہ جو ہماری روح ہمارے پیدا ہونے سے پہلی جانتی تھی، مگر اَب بھول گئی ہے۔
٭ سقراطی مکالمے کی اہمیت (Importance of Socratic Dialectics):۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ علم بنیادی طور پہ ’’سقراطی مکالمے‘‘ (Socratic Dialects) کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے۔ ان معنوں میں کہ سقراطی مکالمے بنیادی طور پہ اُسی چیز کو نمایاں کرسکتے ہیں، اُسی راز کو دریافت اور کھول سکتے ہیں جو آپ کے اندر پہلے سے موجود ہیں۔ کیوں کہ اگر کوئی علم آپ کے اندر پہلے سے موجود ہی نہیں، تو جتنی مرضی کوئی آپ سے سوال پوچھے، جو نہیں معلوم، وہ نہیں معلوم!
مگر…… اگر علم یاد دہانی ہے، یا علم آپ کے ذہن میں پہلے سے موجود ہے، تو پھر سوال کرنے سے آپ اُس علم کو دوبارہ سے یاد کر سکتے ہیں۔ لہٰذا افلاطون کی یہ جو ’’ڈیولزم‘‘ کی تھیری تھی، اِس کی سقراطی طریقۂ کار (Socratic Method) کے ساتھ ہم آہنگی ہوجاتی ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
تاریخ دشمنی  
پاکستان میں سیاسی و انتخابی اتحادوں کی مختصر تاریخ 
تاریخ پر لیو ٹالسٹائی کے خیالات کی اہمیت  
ہندوؤں کی ستی رسم کی مختصر تاریخ 
٭ روح کی خواہش (Desire of the Soul):۔ مزید افلاطون یہ کہتا ہے کہ انسان کی روح کے اندر ایک طلب اور خواہش ہے کہ وہ اس تصوراتی دنیا میں واپس ان تصورات کے ساتھ دوبارہ سے جڑ جائے…… یعنی ہر انسان کو اُس چیز کی طلب ہے کہ اُس کی روح اُس تصوراتی دنیا سے دوبارہ جڑ جائے، بالخصوص فلاسفرز کی جو روح ہے، جیسے افلاطون کی روح یا سقراط کی جو روح ہے، اُس میں ایک طلب ہے کہ ہماری روح جو ہے وہ یہ چاہتی ہے کہ ہم علم کے ساتھ (یعنی اُس تصوراتی دنیا ) جُڑ جائیں۔
اس لیے کوئی چیز انسان کو اتنا خوش نہیں کرتی کہ جتنا ایک علم کو حاصل کرنا انسان کو خوش کرتا ہے ۔”Virtue is Knowledge.” یعنی روح کو خوش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ علم حاصل کیا جائے۔ کیوں کہ اس کے نتیجے میں روح جوکہ اِس تصوراتی دنیا سے علاحدہ ہوکر اِس مادی دنیا میں شامل ہوگئی ہے، لیکن روح کی یہ خواہش اور طلب ہے کہ مَیں اس تصوراتی دنیا میں واپس چلی جاؤں۔
اس لیے سقراط بھی موت کے سامنے اتنی بہادری کے ساتھ کھڑا ہوا۔ کیوں کہ اُس کو پتا تھا کہ اُس کی روح اَب اُس تصوراتی دنیا کے ساتھ دوبارہ سے جڑ جائے گی۔
٭ مادی دنیا بمقابلہ روحانی و تصوراتی دنیا
(World of Matter vs World of Forms):۔ افلاطون نے ایک انتہائی اہم مسئلے کا جواب بھی دیا کہ جو ’’پرمینیڈیز‘‘ اور ’’ہیراکلائٹس‘‘ کے درمیان تھا۔ ہیراکلائٹس کہتا تھا کہ پوری دنیا ہل رہی ہے اور حرکت میں ہے…… اور اس کے برعکس پرمینڈیز کا کہنا تھا کہ دنیا میں بالکل کسی قسم کی کوئی حرکت نہیں، اور یہ سب (حرکت) ایک دھوکا ہے۔
٭ افلاطون کا نقطۂ نظر:۔ افلاطون کا یہ کہنا تھا کہ جو دنیا ہل رہی ہے، یعنی ہلنے والی دنیا دراصل مادی دنیا ہے؛ یعنی "World of Matter (Body)”
دوسری طرف افلاطون کے مطابق جو ہیراکلائٹس والی دنیا (حرکت والی) وہ دراصل تصوراتی دنیا ہے: یعنی "World of Forms (Mind/Soul)”
اور افلاطون کے مطابق مادی دنیا کو ہم اپنی آنکھوں یا اپنے حسیات (Senses) سے محسوس کرتے ہیں اور جو روحانی یا تصوراتی دنیا ہے، اُس کو ہم علم اور روح کی طاقت سے سمجھتے ہیں۔
یعنی ہماری روح پہلے اِسی دنیا میں تھی اور تمام جو علم تھا، وہ اِس دنیا کے اندر ہماری روح پہچانتی تھی، لیکن ہماری روح اِس دنیا سے علاحدہ ہوکر مادی دنیا کے اندر داخل ہوئی اور اِس کی ہمیشہ یہ طلب رہی کہ وہ دوبارہ سے اُس روحانی دنیا اور اُس تصورتی دنیا کے ساتھ جڑ جائیں۔ علم حاصل کرنا روح کو دوبارہ یاد دلاتی ہے کہ وہ اُس تصوراتی دنیا میں کیا تھی، کیا کچھ جانتی تھی اور کیا کچھ پہچانتی تھی۔
"Socratic dialects help us remember knowledge that the soul has forgotten.”
یعنی سوال، جواب اور مکالمے کا سلسلہ ہی ہمیں اس تمام علم کے حوالے سے یاد دہانی کراتا ہے، جو کہ ہر انسان کے اندر پوشیدہ ہے…… اور ایک فلسفی کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اُس کی روح اُس تصوراتی و روحانی دنیا سے دوبارہ جڑ جائے۔
آخری نکتہ یہ کہ اِس مادی دنیا کے اندر جو مختلف تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو کہ ہم حسیات سے محسوس کررہے ہیں اور اُس کے نتیجے میں جو مختلف کنکریٹ (Concrete) چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں، مثلاً گھوڑے کی جو ہمیں مختلف شکلیں نظر آتی ہیں، اُن شکلوں کو ہم ایک کلی طور پر اور یونیورسل شکل میں اس لیے پہچانتے ہیں کہ اس کا تصوراتی اور روحانی دنیا میں ایک عالمگیر تصور موجود ہے، یعنی کہ ہر چیز کا تصوراتی دنیا میں ایک عالمگیر تصور پایا جاتا ہے اور جب ہم اس چیز کو انفرادی طور پر دیکھتے ہیں، جیسے اگر ہم ایک انفرادی گھوڑے کو دیکھتے ہیں، تو ہماری روح یا ہمارا ذہن دراصل اس انفرادی چیز کو اصل و تصوراتی دنیا سے ملا کر ہی پہچان کراتا ہے۔
افلاطون نے اس تھیری سے کئی مسائل حل کیں…… مثلاً:
٭ اخلاقیات کا مسئلہ۔
٭ سیاست کا مسئلہ۔
٭ تبدیلی کا مسئلہ۔
٭ حرکت و سکون کا مسئلہ۔
اور کئی ایسے مسائل کو افلاطون ایک ’’جامع فلسفہ‘‘ (Holistic Philosophy) تشکیل دے کر حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
باقی آیندہ!
چوبیس ویں لیکچر کا لنک نیچے دیا گیا ہے: 
https://lafzuna.com/history/s-33945/
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔