ریاستی دور کی ملازمت بھی ایک ایڈونچر سے کم نہیں تھی۔ صبح شیو کرنے کے بعد موسم کی مناسبت سے مغربی لباس پہننا، ٹائی یا بو لگانا، صاف ستھرا نظر آنے کا اہتمام کرنا اور اگر حضور کے دفتر میں پیشی کا موقع ملا ہے، تو دعائیں مانگنا اس پر مستزاد۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
یہ میری ملازمت کے ابتدائی برسوں کی بات ہے…… یعنی 1961ء سے شروع کرکے غالباً1966ء میں لباس میں مکمل آزادی مل گئی۔ چاہے شلوار قمیص پہنو، چاہے سوٹ وغیرہ۔ ٹوپی سے بھی نجات مل گئی۔ ننگے سر رہنا شروع ہوا۔ ہاں، اگر بالوں کا مسئلہ ہو، تو بیری کیپ پہن لیا جاتا۔
ہمارے ایک ساتھی تھے (مرحوم) عبدالقیوم…… وہ دن رات نہایت قیمتی قراقل ٹوپی پہنتے تھے۔ چاہے گرمی ہو یا سردی……کبھی کسی نے اُن کو دفتر میں یا بازار میں ننگے سر نہیں دیکھا تھا۔ ایک دن ہم اورسیئرز کے لیے مخصوص کمرے میں بیٹھے تھے۔ عبدالروف طوطا کے ہاتھ میں لکڑی کا بنا ہوا فٹا تھا۔ اُس نے مذاق میں عبدالقیوم کے سر پر اُس فٹے سے وار کیا۔ اُس کی قراقل ٹوپی دور جاگری، تو پہلی بار اُس کے سر کا دیدارِ عام ہوگیا۔ نہایت چمک دار سرخ کھوپڑی…… بالوں سے مکمل خالی۔ صرف گردن پر چند بالوں کی جھالر تھی۔ جواباً جو کچھ عبدالقیوم نے کہا، وہ بتانے والی بات نہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ریاست سوات کی سرکاری زبان بارے ایک ضروری وضاحت 
ریاستی دور کا سوات سنیما  
تاریخ دشمنی 
صنوبر استاد صاحب 
ہمارے تو مزے تھے۔ دوسرے تیسرے دن لمبی ڈرائیو…… کبھی نئے سکول کا، کبھی ہسپتال کا کبھی نئے تحصیل ہیڈکوارٹرز کے عمارات کا "Lay out” کرنا، کبھی زیرِ تعمیر سکولوں وغیرہ کا معائنہ کرنا اور مقامی حکام یا معززینِ علاقہ کے ہاں پُرتکلف ضیافتوں کا لطف اُٹھانا۔
اور تنخواہ……؟ تو وہ کم بلکہ بہت ہی کم تھی۔ میری تنخواہ آغازِ ملازمت کے وقت (یعنی جولائی 1961ء میں صرف 60 روپیا تھی۔ پھر بھی دلی سکون تھا۔ ضمیر مطمئن تھا۔ میلوں پیدل چلتے ہوئے پہاڑی رستوں پر کبھی تھکن کا یا بے زاری کا احساس تک نہیں ہوا۔
ہم ہمہ وقت مصروف رہتے۔ ہمارے سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے سربراہ نفسیاتی ماہر بھی تھے۔اُنھیں فوراً پتا چلتا کہ کون کارکن بے زاری محسوس کر رہا ہے؟ تو اُسے شام کے کھانے پر اپنے بنگلے بلاتا۔ وہ یوروپ کے دورے سے واپسی پر ایک پروجیکٹر ساتھ لائے تھے، تو اُسی پر ڈاکیومنٹری فلمیں چلاتے۔ اُن کے گھر کا کھانا خصوصاً چاول بہت لذیذ ہوا کرتا تھا ۔ ہمیں اکثر انتظار رہتا کہ کب ہمیں بلاتے ہیں۔ سردیوں کے دنوں میں وہ اپنے ملازم کو مینگورہ بھیج کر خانے قصاب سے کوالٹی کباب تیار کرواکر لاتے۔
گرمیوں میں ہمیں دوسرے تیسرے اتوار محمد کریم صاحب پکنک پر لے جاتے۔ دُنبے ذبیح ہوتے۔ عبدالروف طوطا مختلف انداز میں گوشت بھونتے۔ آم کثرت سے موجود ہوتے۔ ٹھنڈے پانی میں مختلف مشروبات کی بوتلیں رکھی جاتیں۔
یہ تو ہمیں مرجر کے بعد اپنی اوقات کا پتا چلا۔ علاقے میں گھوم رہے ہیں اور کوئی چائے پانی تک کو نہیں پوچھتا۔ تھک ہار کر شام کو ٹھکانے پر آتے، تو نوکر دال یا گوبھی میز پر رکھتا اور ہم زہر مار کرتے۔
ہفتے کے روز سواڑئی (بونیر) میں ایک ٹرک گوبھی لا کر چوک میں ڈال کر چلا جاتا، تو ہم اگلے ہفتے تک وہی گوبھی کھاتے رہتے۔ یوں ہمارے وہ شہزادوں والے دن خواب بن کر رہ گئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔