(نوٹ:۔ اِس مضمون کے لکھنے کا مقصد کم الفاظ اور مختصر تحریر میں تاریخ اور تاریخ کے مضمون کی اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ اور اس واہمے کو دور کرنے کی کوشش بھی ہے کہ تاریخ خالی خولی پرانے قصے کہانیاں ہیں اور موجودہ وقت اور دور میں اِس کی کوئی علمی اور عملی اہمیت و اِفادیت نہیں۔ علاوہ ازیں اِس بات کی نشان دہی کرنا بھی ہے کہ آج کے دور میں بھی تاریخ کے علم اور فہم کے بغیر موجودہ دور کے نئے علوم سے صحیح معنوں میں اِستفادہ کرنا اور فائدہ اُٹھانا ممکن نہیں۔ اِس لیے پاکستان اور خاص کر خیبر پختونخوا کی حکومت کو تاریخ کے مضمون کو وہ مقام دینا چاہیے، جو اِس کو آج کی ترقی یافتہ دنیا میں دیا جاتا ہے اور اِس کو وہاں پر حاصل ہے۔ اِس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا کی تمام یونی ورسٹیوں میں تاریخ کے شعبوں کا قیام اور تمام کالجوں میں بی ایس تاریخ شروع کرنا لازمی ہے۔ اور یہ کام بغیر کسی لیت و لعل کے فوری طور پر اور جلد از جلد کرنا چاہیے۔)
ڈاکٹر سلطانِ روم کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/dr-sultan-e-rome/
ہیروڈوٹس کہتا ہے کہ’’ تاریخ سے مراد تلاشِ حق ہے اور یہی اس کا دائرۂ کارہے۔‘‘
کالنگ ووڈ کے مطابق: ’’تاریخ تحقیق و تفتیش کا نام ہے۔‘‘
ای ایچ کار کے مطابق: ’’مطالعۂ تاریخ وجوہات کے مطالعہ کا نام ہے۔‘‘ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ تاریخ واقعات اور اقدامات وغیرہ کے ’’علت اور معلول‘‘ یا اسباب اور اثرات کا مطالعہ ہے۔
’’ٹائن بی تاریخ کو تہذیب و تمدن کے عروج و زوال کی کہانی بیان کرتا ہے‘‘ جو کہ ’’اُصولِ للکار (Challenge) اور جوابِ للکار (Response) کے بتدریج عملِ ارتقا کے مطابق جاری ہے۔‘‘
ابنِ خلدون کہتا ہے کہ ’’تاریخ اُن واقعات کا نام ہے جو کسی قوم کے [لیے] انوکھے اور ملک کے لیے عجیب ہوں۔‘‘
ابنِ مسکویہ نے تاریخ کو ’’کسی عہد کے معاشرے کی سیاسی و اقتصادی ہیئت کا آئینہ قرار ‘‘ دیا ہے۔ (تاریخ سے متعلق اِنھی اور اِسی طرح کے دوسرے افراد کی تعریفات اور خیالات کے لیے ملاحظہ ہو، ایم نذیر احمد تشنہ، فلسفۂ تاریخ، الفیصل ناشران، لاہور، 2012ء، صفحات 18 – 22؛ صادق علی گِل، فنِ تاریخ نویسی: ھومر سے ٹائن بی تک، پبلشرز ایمپوریم، لاہور، 2002ء، صفحات 2 – 18؛ صادق علی گِل، سرگزشت تاریخ، عزیز بک ڈپو، لاہور، 1992ء، صفحات 18 – 20۔)
بی ایچ لیڈل ہارٹ کے مطابق تاریخ فرد کے آگے بڑھنے کے قدموں اور ٹھوکروں (Steps and slips) کی دستاویز یا روداد ہے۔ (ملاحظہ ہو، بی ایچ لیڈل ہارٹ، وائی ڈونٹ وی لرن فرام ہسٹری؟، جارج ایلن اینڈ انون لمیٹیڈ، لندن، 1972ء، صفحہ 16۔)
اِس کہاوت کے مصداق کہ ’’جتنے منھ اُتنی باتیں‘‘، ہر کسی نے تاریخ کی تعریف اپنے فہم و ادراک کے مطابق کی ہے۔ اِس بنا تاریخ کی اتنی تعریفات کی گئی ہیں کہ تمام کا ذکر اور اِحاطہ کرنا یہاں مشکل بھی ہے اور غیر ضروری بھی…… تاہم اگر اِن تمام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مختصر الفاظ میں یہ کہا جائے کہ تاریخ مستقبل کی راہ نمائی کے لیے، حال کی روشنی میں، ماضی کا مطالعہ ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔
اقوام کے لیے تاریخ کی اہمیت کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ کسی فرد کے لیے حافظہ یا یادداشت اہم ہے۔ جس فرد کا حافظہ یا یادداشت کام کرنا چھوڑ دیتی ہے، تو پھر وہ یہ نہیں سمجھ پاتا اور یہ ادراک نہیں رکھتا کہ مَیں کون ہوں، کہاں سے آیا ہوں، کیا کر رہا ہوں، کہاں جا رہا ہوں؟ وغیرہ۔ یہی حال اُن لوگوں کا ہوتا ہے، جو اپنی تاریخ کھو دیتے ہیں یا اُن کو اپنی تاریخ کا کوئی پتا نہیں ہوتا۔
تاریخ نہ صرف علم کا منبع ہے، بلکہ تمام علوم و فنون کی ماں بھی گردانی جاتی ہے۔ اگر تاریخ کو بیچ سے ہٹایا جائے، یا یہ بیچ سے نکال دی جائے، تو سب علوم و فنون کا سورج غروب ہوجائے گا اور سب کے سب تاریکی میں ڈوب جائیں گے۔ اور انسانوں کے تمام تجربات اور مشاہدات فنا ہو جائیں گے۔ انسان کو کسی حال میں بھی ماضی سے فرار ممکن نہیں۔ حال کے مسائل کی تفہیم، اُن پر بحث و مباحثے اور اُن کے حل اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے تاریخ کے علم و فہم کے بغیر دوسری کوئی راہ نہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ کی کمک کے بغیردین اور مذاہب کو پوری اور صحیح طور جاننا بھی مشکل ہے۔
مذہبی نکتۂ نظر سے، اُن لوگوں کے لیے جو مذاہب کو مانتے ہیں، تاریخ کی اہمیت کا اندازہ اِس سے باآسانی سے لگایا جا سکتا ہے کہ تمام مقدس مذہبی کتابوں میں تاریخ اور تاریخی واقعات کا ذکر بہ کثرت موجود ہے۔ اور اسلام کے نکتۂ نظر سے تاریخ کی اہمیت کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآنِ مجید میں ڈھیر سارے تاریخی واقعات اور باتیں موجود ہیں۔ اور قرآنِ مجید بھی پچھلے زمانوں اور تاریخ سے سیکھنے پر زور دیتا ہے۔ قرآنِ مجید میں تاریخی باتوں کے ذکر کی وجہ سے اِس سے انکار کرنے والے ایک بات یہ بھی کیا کرتے تھے کہ یہ آیات تو گزرے ہوئے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ (ملاحظہ ہو، قرآنِ مجید، سورۃ المطففین، آیت 13۔)
تاریخ کی اہمیت کے ضمن میں اِن مختصر باتوں کے بعد اِس کا ذکر بے جا نہیں ہوگا کہ کہا جاتا ہے کہ تاریخ انسان کو فہیم بناتی ہے اور اُسے کمال تک پہنچاتی ہے۔ اور یہ کہ جو لوگ اپنی تاریخ کو بھلا دیتے ہیں، اُن کا جغرافیہ اُن کو بھلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنی ریاست اور انفرادیت کھو دیتے ہیں۔
اِن ذکر شدہ اور اِس طرح کی ڈھیر ساری دوسری باتوں اور فوائد کے علاوہ تاریخ کی اہمیت اور اِفادیت نوکریوں کے حوالے سے بھی کسی سے کم نہیں۔ مثال کے طور پر تاریخ کے ذریعے پاکستان کے سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے امتحانات میں کامیابی حاصل کی جاتی ہے۔ اِس طرح یہ دوسری سرکاری اور غیر سرکاری نوکریوں جیسا کہ اسکولوں میں معلمی، ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں سبجیکٹ سپیشلسٹی، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں پروفیسری، مختلف قسم کے پراجیکٹوں میں کاموں، غیر سرکاری تنظیموں میں کاموں، قومی اور بین الاقوامی تنظیموں میں کاموں اور نوکریوں وغیرہ میں بھی کسی بھی دوسرے مضمون سے کم نہیں۔
اِس حوالے سے پبلک ہسٹری یا تاریخ بھی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ پبلک ہسٹری یا تاریخ، تاریخ کی عمومی روش یا حالات، خیالات، اور پسند کے ماہرین کی عملی زندگی کی مختلف جہتوں میں کمک اور دی گئی چیزوں کا اِحاطہ کرتی ہے۔ یہ مختلف النوع کام ہے جو زندگی کے ڈھیر سارے معاملات اور مشکلات کو توجہ دیتا ہے۔ یہ ایک متنوع فہم ہے جو کہ مختلف قسم کے پیشہ ور یا کام کرنے والے پیدا کرتی ہے۔ پبلک تاریخ کے ماہرین ہم کاری کی اپنی مضبوط لڑیاں اور کڑیاں بھی رکھتے ہیں اور اِس حوالے سے ڈھیر سارا علمی مواد بھی موجود ہے۔ پبلک ہسٹری، تاریخ کے مضمون سے قریبی تعلق رکھتی ہے۔ آسانی کی خاطر، یہ کَہ دیتے ہیں کہ یہ تاریخ کا ایک شعبہ ہے۔ تاریخ کی بہتر تفہیم، بہتر پبلک مؤرخین بناتی ہے۔ پبلک مؤرخین درس و تدریس سے باہر دوسرے میدانوں میں کام کرتے ہیں۔ اِس طرح یہ تاریخی ماہرانہ رائے دینے والوں، دستاویزات کے محافظ خانوں کے نگرانوں، آثارِ قدیمہ کے مراکز اور محافظ خانوں کے ماہرین، تہذیبی ورثہ کے منتظمین، سیاحوں کے راہ نماؤں، پالیسیوں کے مشیروں، ذرائع ابلاغ میں کام کرنے والوں اور آثارِ قدیمہ اور ماحول وغیرہ کے تحفظ کے حامیوں اور مبلغین کا کام بہ طورِ پیشہ کرتے ہیں اور سماج کو اپنے حصے کا فائدہ پہنچاتے ہیں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
پاکستانی عدالتی نظام کا تاریخی پس منظر  
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور تاریخ کی دُرستی  
پاکستان میں سیاسی و انتخابی اتحادوں کی مختصر تاریخ  
تاریخی ودودیہ سکول کے اولین طلبہ
تاریخ پر لیو ٹالسٹائی کے خیالات کی اہمیت  
لیکن افسوس کہ اِن ذکر شدہ اور اِس طرح کی دوسری باتوں اور اِس کے باوجود کہ تاریخ سب سے پرانے مضامین اور علوم میں سے ہے، پاکستان میں ریاستی پالیسی اور مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے کردار کی وجہ سے اِ س کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اِس کا حق ہے۔ خاص طور پر صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومتی سطح پر تاریخ سے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا گیا ہے۔
یہاں مطالعۂ پاکستان اور پولی ٹیکل سائنس کو تو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن تاریخ کو نہیں۔ اِس صوبے میں قریباً سارے عام یا جنرل یونی ورسٹیوں اور بی ایس کالجوں میں مطالعۂ پاکستان اور پولی ٹیکل سائنس کے شعبے تو کھل گئے ہیں اور کھولے جارہے ہیں، لیکن تاریخ کے نہیں۔ اِ س صوبے میں صرف پشاور یونی ورسٹی اور شہید بینظیر بھٹو وومِن یونی ورسٹی پشاور میں تاریخ کے شعبہ جات ہیں، دوسری کسی بھی یونی ورسٹی میں نہیں۔ اور کالجوں میں توتاریخ کے بی ایس کے شعبہ جات کی تعداد اِن مذکورہ دوسرے دونوں مضامین کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ کیوں…… یعنی اِس کی وجوہات کیا ہیں اور اِس کے ذمے دار کون ہیں؟ اِس کا جواب تلخ بھی ہے اور تکلیف دہ بھی۔ اس کا ایک اہم سبب تو تاریخ کے، بہ طورِ ایک مضمون کے حوالے سے ریاست اور مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جو کہ یہ نہیں چاہتیں کہ لوگوں میں وہ شعور و فہم پیدا ہو جو بہ حیثیتِ مجموعی تاریخ کا مضمون دیتا ہے۔ اس لیے کہ جو حقائق تاریخ نکال کر آشکارا کرتی ہے اور جو فہم و فراست تاریخ دیتی ہے، وہ اُن کے مفادات کے خلاف جاتی ہے۔
اس حوالے سے دوسرا اہم سبب خود تاریخ کے پروفیسروں اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں سبجیکٹ سپیشلسٹوں (ماہرینِ مضمون) کا کردار ہے۔ تاریخ کے پروفیسر، اگرچہ سب کے سب نہیں لیکن زیادہ تر، اپنے مضمون کو وہ توجہ اور اہمیت نہیں دیتے جس کا دینا اُن کی ذمے داری ہے۔ اِس حوالے سے خاص طور پر اِس صوبے کے کالجوں کے مرد و خواتین دونوں قسم کے پروفیسر ذمے دار اور ملامت کے مستحق ہیں۔ وہ یہ کوشش نہیں کرتے کہ اپنے کالجوں میں بی ایس تاریخ شروع کریں۔ یہ اِس لیے کہ اگر وہ ایسا کریں گے اور ایسا ہوجائے، تو پھر اُن کو زیادہ کام اور محنت کرنا پڑے گی۔ وہ یا صرف گیارھویں اور بارھویں جماعتوں کو تاریخ پڑھاتے ہیں اور یا اُس کے ساتھ دوسرے مضامین جیسا کہ پولی ٹیکل سائنس، اُردو اور مطالعۂ پاکستان وغیرہ میں پہلو کے کورس (مائنر کورسز) جیسا کہ ’’تاریخِ اسلام‘‘ اور ’’انٹروڈکشن ٹو ہسٹری‘‘ وغیرہ پڑھاتے ہیں۔ اِس طرح وہ صرف نوکری کرتے ہیں اور تنخواہیں وصول کرتے ہیں اور اِس پر خوش ہیں کہ ہمارا کام آسان بھی ہے اور جاری بھی۔
لیکن ایسے افراد کی مثال زمین کے اپنے مالکوں کی نہیں بلکہ دہقانوں اور یا اَشر گرندوں (ایسے لوگ جو مل کے اُجرت لیے بغیر امداد کے طور پر کسی کام کے کرنے میں کسی کا ہاتھ بٹاتے ہیں) کی ہے۔ زمین کے مالک جب اپنی زمین میں خود کاشت کاری کرتے ہیں، توزمین کے مالک بھی ہوتے ہیں اور پوری کی پوری پیداوار بھی اپنے گھروں کو لے جاتے ہیں، لیکن دہقان کام تو کھیت میں مالکوں کے برابر کرتے ہیں، لیکن نہ وہ اُن زمینوں کی ملکیت کا دعوا کرسکتے ہیں اور نہ ساری کی ساری پیداواریا اناج وغیرہ اپنے گھروں کو لے جاسکتے ہیں۔ اِسی طرح اُن اَشر گرندوں ،جو اپنی زمین کی ملکیت نہیں رکھتے اور دوسروں کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے لیے کام کرتے ہیں، کا زمین کے مالک (جن کے ساتھ وہ ہاتھ بٹاتے ہیں) کام کے وقت چائے روٹی سے تواضع تو کرتے ہیں، لیکن زمین کی پیداوار مالکانِ زمین ہی اپنے گھروں کو لے جاتے ہیں۔ تو اپنا بی ایس تاریخ شروع نہ کرنے والے اور نہ چلانے والے تاریخ کے اِن مرد و خواتین پروفیسروں کی مثال بھی اِن دہقانوں اور اَشر گرندوں جیسی ہے۔ دوسرے شعبوں میں دوسرے مضامین والوں کے ساتھ کلاسیں تو لیتے ہیں، لیکن یہ دعوا نہیں کرسکتے کہ ہم نے بی ایس تاریخ کے اتنے افراد پیدا کیے یا ہمارے اتنے شاگردوں نے بی ایس تاریخ کی ڈگریاں یا سندات حاصل کیں اور اب اِن اِن میدانوں میں اِن اِن عہدوں پر فرائض سرانجام دیتے ہیں۔
تاریخ کے یہ مذکورہ قسم کے مرد و خواتین پروفیسر،کم ہوں یا زیادہ، کام تو کرتے ہیں، لیکن اُن کے شاگرد دوسرے مضامین میں ڈگریاں یا سندات حاصل کرتے ہیں۔ اور اِن میں سے بعض تو دوسرے شعبوں کی سربراہی کی ذمے داریاں بھی نبھاتے ہیں۔ اِس طرح ذمے داری کا سارا بوجھ بھی اِن کے کاندھوں پر اور پیداوار اپنے مضمون کی نہیں، بلکہ دوسرے مضامین کی کرتے ہیں۔
اِسی طرح ہائیر سیکنڈری اسکولوں میں مرد و خواتین سبجیکٹ سپیشلسٹ تو ’’ہسٹری کم سوکس‘‘ کے ہوتے ہیں، لیکن وہ اپنے طلبہ و طالبات کو تاریخ کا مضمون نہیں پڑھاتے۔ اِس لیے کہ کہتے ہیں کہ یہ مشکل ہے۔ اور تاریخ کے بجائے اُن کو ’’سوکس‘‘ پڑھاتے ہیں، جو بڑے افسوس کی بات بھی ہے اور ایسے لوگوں کے کردار اور کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
اِس حوالے سے دوسرا منفی کردار یونی ورسٹیوں کے وائس چانسلروں کا ہے، جن میں شہید بینظیر بھٹو وومِن یونی ورسٹی پشاور کی سابقہ وائس چانسلر ’’ڈاکٹر رضیہ سلطانہ‘‘ کے علاوہ کسی ایک بھی فرد نے کسی بھی یونی ورسٹی میں تاریخ کا شعبہ قائم نہیں کیا۔ (یاد رہے کہ پشاور یونی ورسٹی میں تاریخ کا شعبہ ابتدا سے قائم کیا گیا تھا، یعنی اُس وقت جب یہ یونی ورسٹی قیوم خان کے دورِ حکومت میں قائم کی گئی تھی۔) یہاں تک کہ گومل یونی ورسٹی (جو کہ اِس صوبے کی دوسری پرانی یونی ورسٹی ہے) میں بھی شعبۂ تاریخ ابھی تک قائم نہیں کیا گیا ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) والے یہ شکوہ کرتے ہیں کہ تحریکِ آزادی میں خدائی خدمتگار وں کا بڑا حصہ ہے، لیکن اُس کا ذکر پاکستان کی نصابی کتب میں نہیں۔ تو پاکستان کی نصابی کتب میں تو تحریکِ پاکستان پڑھائی جاتی ہے، تحریکِ آزادی نہیں۔ تحریکِ آزادی تو تاریخ میں پڑھائی جاتی ہے اور اُس میں خدائی خدمتگار تحریک کا ذکر بھی آتا ہے۔ لیکن افسوس کہ اُن کے دورِ حکومت میں جو یونی ورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، اُن میں تو اُنھوں نے انواع و اقسام کے شعبے اور سنٹر قائم کیے ہیں، لیکن تاریخ کا شعبہ ایک بھی یونی ورسٹی میں نہیں کھولا۔ یہاں تک کہ اُن کے مقرر کردہ وائس چانسلروں، جن میں سماجی علوم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر بھی تھے، کو تاریخ کے شعبوں کے قیام سے چڑ تھی۔ اور اِسی وجہ سے اُن میں سے کسی ایک نے بھی یہ کام نہیں کیا۔ اُن میں سے ایک، جو یونی ورسٹی آف سوات کا وائس چانسلر تھا، نے مجھے یہ بتایا تھا کہ اِسی طرح کا شعبہ یا سنٹر اِسی یونی ورسٹی میں کھولنا چاہتا ہے، لیکن اُس کے نام میں تاریخ کا لفظ نہ ہو۔ کتنی افسوس کی بات ہے کہ سماجی علوم سے تعلق رکھنے والا پروفیسر ہی اِیسی بات کرے۔
ہر کوئی کہتا ہے کہ تاریخ کسی کو معاف نہیں کرتی اور یہ کہ تاریخ ایک نہ ایک دن سچ سامنے لائے گی۔ تو تاریخ کے مضمون کے حوالے سے بھی تاریخ کسی کو معاف نہیں کرے گی۔ اِس حوالے سے بھی سچ آہستہ آہستہ اِس طرح سامنے آئے گا اور ہر کسی کا کردار، خواہ منفی ہو یا مثبت، بھی سامنے لائے گا اور دنیا پر آشکارا کرے گا۔ کوئی اِس پر خوش ہوتا ہو یا ناخوش، لیکن تاریخ اپنا یہ مقدمہ خود ہی دنیا کے سامنے پیش کرے گی۔
اِس حوالے سے خیبر پختونخوا کی حکومت اور اِس کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ نہ خالی خولی قصے کہانیاں ہے اور نہ صرف جنگوں کی روداد۔ یہ ایک بہت ہی متنوع اور وسیع مضمون ہے اور بہت کچھ اپنے دامن میں سموئے ہوئے اور گود میں رکھنے والا مضمون ہے۔ اگر اِس کا پتا اِن کو نہ ہو، تو یہ تاریخ کی نہیں بلکہ اِن کی لاعلمی اور قصور ہے۔
یہ بات کوئی وزن نہیں رکھتی کہ تاریخ جنگوں کی کہانیاں ہے، تو اِن کہانیوں کا کیا فائدہ ہے؟ یہ بات جو کوئی بھی کرتا ہے، چاہے وہ کوئی بھی ہو، تو یہ اُس کے فہم کی نہیں بلکہ کم علمی اور کم فہمی کی نشانی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے ’’قصص‘‘ کا بہت زیادہ ذکر کیا ہے، بلکہ ایک سورت کا نام بھی ’’القصص‘‘ رکھا ہے۔ تو یہ پرانے قصے کہانیاں اگر غیر اہم ہوتیں، تو ساری مقدس مذہبی کتابوں اور قرآنِ مجید میں اِن کا اتنا زیادہ ذکر موجود نہ ہوتا۔ غیر مذہبی نکتۂ نظر سے تاریخ کی اہمیت کی باتوں کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔
ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ تاریخ کا دامن اب بہت وسیع ہوچکا ہے۔ اِس میں صرف جنگوں کے قصے اور رودادیں نہیں، اور نہ صرف شخصیات کی اور سیاسی باتیں ہی ہیں۔ تاریخ کی اب بے شمار شاخیں ہیں اور یہ صرف انسانی زندگی کا نہیں بلکہ دوسری ڈھیر ساری چیزوں اور جہتوں کا اِحاطہ کرتی ہے۔ مثال کے طور پر سوانحی تاریخ، سیاسی تاریخ، معاشی تاریخ، سماجی تاریخ، ثقافتی تاریخ، عوامی تاریخ، مذہبی تاریخ، سائنسی تاریخ، حکومتی نظاموں کی تاریخ، تاریخِ مذاہب، فوجی تاریخ، تاریخِ افکار، مسلمانوں کی تاریخ، تاریخِ یورپ، تاریخِ برصغیر، تاریخِ امریکہ، تاریخِ نسواں، تاریخِ فلسفہ، تاریخِ سفارت کاری، تاریخِ فنون، سائنس کی تاریخ، تاریخِ طب، تیسری دنیا کی تاریخ، علاقائی تاریخ، تاریخِ عالم، ثقافتی ورثہ کی تاریخ اور اس طرح دیگر ڈھیر ساری اقسام۔
اِس کا ذکر بے جا نہیں ہوگا کہ اب تو اِس میں استقبالی تاریخ یا مستقبل کی تاریخ (فیوچر ہسٹری) نے بہت اہمیت حاصل کی ہے۔ یاد رہے کہ استقبالی تاریخ ماضی کی تاریخ کی روشنی میں حال میں لکھی جاتی ہے۔ اِس میں مستقبل یا آنے والے وقت اور زمانے میں ہونے والے واقعات کا مفروضتاً ذکر ہوتا ہے۔ اِس کی بنیادپر ریاستیں اور ادارے وغیرہ اپنی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں اور اسی وجہ سے استقبالی تاریخ، واقعات کی سَمت یا رُخ موڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مقدس مذہبی کتب میں بھی استقبالی تاریخ کے ضمن میں بہت کچھ موجود ہے۔
حکومتِ خیبر پختونخوا اور اِس کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کو معلوم ہونا چاہیے کہ تاریخ کے حوالے سے تعلیمی لحاظ سے ترقی یافتہ دنیا اور ممالک میں کیا صورتِ حال ہے؟ ترقی یافتہ ممالک نے صرف سائنسی مضا مین (وہ مضامین جنھیں عام لوگ سائنس کہتے اور تصور کرتے ہیں) میں آگے نہیں گئے ہیں اور ترقی نہیں کرگئے ہیں، بلکہ تاریخ میں اِن دوسرے مضامین سے پہلے آگے گئے ہیں اور پھر اِسی بنیاد پر دوسرے میدانوں میں ترقی کرگئے ہیں۔ وہاں پر اَب بھی تاریخ کے مضمون کی اہمیت کسی بھی دوسرے مضمون سے کم نہیں۔
تو خیبر پختونخوا کی حکومت اور اِس کے محکمہ ہائیر ایجوکیشن کو چاہیے کہ تاریخ کے مضمون کے حوالے سے اپنے مؤقف اور سوچ پر از سرِ نو غور کریں، حقیقت پسندی سے کام لیں اور تمام عام یا جنرل یونی ورسٹیوں اور بی ایس کالجوں میں تاریخ کے مضمون کی مسلمہ اہمیت کو تسلیم کریں اور اِن سب میں تاریخ کے شعبوں کے قیام اور کھولنے کا فوری حکم صادر فرمائیں۔ ورنہ تاریخ اِن کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے، تو پھر اِس کے لیے بھی تیار رہیں کہ جو لوگ اپنی تاریخ کو بھلا دیتے ہیں، تو اُن کا جغرافیہ اُن کو بھلا دیتا ہے، یعنی وہ اپنی ریاست اور اِنفرادیت کھو دیتے ہیں۔
یہاں اِس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ 19ویں صدی اور 20 ویں صدی کے پہلے عشروں میں برطانیہ میں جو انتظامی افسر سرکاری عہدوں کے لیے منتخب کیے جاتے تھے، تو اُن کو برطانیہ میں (جن کے لیے بعد میں ہندوستان میں بھی دو کالج قائم کیے گئے) علم کی تحصیل کی مخصوص یونیورسٹیوں میں تعلیم دی جاتی تھی۔ ایسا ایک کالج ھیلیبری کے نام سے 1806ء سے 1858ء تک کام کرتا رہا۔ اوکسفرڈ اور کیمبریج یونی ورسٹیوں کے نام تو اِنڈین سول سروس کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے بے حد مقبول تھے۔ اِن نوکریوں اور افسریوں کے خواہش مندوں کے لیے علم کے دوسرے مضامین کے علاوہ تاریخ، جغرافیہ اور دوسری قدیم چیزوں کے علم کا حصول اِن اہم نوکریوں یا افسریوں کے نکتۂ نظر سے بنیادی طور پر اہم تھا۔ رومی سلطنت کی تاریخ اور انتظامِ سلطنت کا پورا اِحاطہ کیا جاتا تھا۔ اور اِسی طرح یونانی اور کلاسیکی مواد کا اِحاطہ بھی کیا جاتا تھا۔ لیکن اِس پورے پروگرام کی توجہ کا زیادہ مرکز ہندوستان تھا۔ سکندرمقدونی کی مہم کافی مقبول تھی۔ اِسی طرح امتحان کے پرچوں میں ہندوستان کے قدیم ایام کے حوالے سے طرح طرح کے سوالات امتحان کا حصہ ہوتے تھے۔ اِس سب کا مقصد اِنڈین سول سروس کا، حکومت اور انتظامِ حکومت کے چلانے کے لیے، تاریخ کی روشنی میں تیار کرنا تھا۔ اور یہی مٹھی بھر یا قلیل تعداد میں خواہش رکھنے والے افراد مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں اہم منصبوں پر فائز تھے اور حکم رانی کرتے رہے۔ خیبر پختونخوا کی ساری افسر شاہی، بشمول اولف کیرو، بھی اِسی پس منظر کے افراد تھے۔
اِ س تناظر میں بھی یہ عجیب اور غور طلب ہے کہ پاکستان کی فوج میں ترقی کے لیے افسروں کے امتحانات میں تو تاریخ کا مضمون اور اِس کا پاس کرنا لازمی ہے، لیکن پاکستان اور صوبہ خیبر پختونخوا کے نظامِ تعلیم میں اور اِس کے دوسرے محکموں میں افسروں کی ترقی کے لیے ایسا نہیں ہے۔ یہ کیوں ہے اور طویل مدت میں اِس کے منفی اثرات کیا ہوں گے؟ یہ (فوج میں ترقی کے امتحانات میں تاریخ کا لازمی ہونا لیکن سول اداروں میں اس کا لازمی نہ ہونا) اِس بات اور نکتہ پر ٹھنڈے دماغ اور گہری نظر سے غور کرنے کا متقاضی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔