ٹائم تو مَیں نے نہیں دیکھا، مگر شام سے تھوڑی دیر پہلے کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میرا پوتا مزمل باہر گیا اور واپس آکر بتایا کہ ’’پروفیسر خواجہ عثمان علی صاحب آئے ہیں۔‘‘
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
یقین کیجیے مَیں تھوڑا سا بدحواس ہوگیا۔ زندگی میں پہلی بار اُس شخصیت سے رو بہ رو ملنا تھا، جن سے غائبانہ تعلق کئی سالوں سے تھا۔ باہر نکلا، تو اُن کو گلے لگایا اور اُن کو کہا کہ چلیں، بیٹھک میں بیٹھتے ہیں۔میرا بیٹا ہمایوں بھی اُن سے ملا، مگر اُنھوں نے وہیں کھڑے کھڑے رہنا پسند کیا۔ وقت مختصر اور باتیں دنیا بھر کی۔
یہ بہ ظاہر دبلے پتلے انسان علم کا عظیم ذخیرہ اور ’’سواتھیالوجی‘‘ کے مکمل انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ مجھ سے عمر میں بارہ سال چھوٹے ہیں۔ ایک اولولعزم انسان جو زندگی کی ہر سانس کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہمت ہارتے ہیں، نہ مایوس اور کم زور ہی ہوتے ہیں۔
مجھے کہتے ہیں: ’’یار، ہنستے رہا کرو۔ مجھے دیکھو…… مَیں کیسے مسائل کے بیچ زندگی کے ہر لمحے کا لطف اُٹھا رہا ہوں۔‘‘
موصوف نے سوات کے بارے میں ہزاروں تصویریں اپنے پیج "Swatnama” پر اَپ لوڈ کی ہوئی ہیں۔ آپ سوات کے بارے میں کوئی بھی سوال کریں، جواب اُن کے ہاں سے ملے گا۔
عجیب سخی داتا ہیں۔ ہماری آج کی پہلی ملاقات سے بھی پہلے مجھ سے غائبانہ محبت کرتے تھے۔ ایک بار مَیں نے ویسے ہی تفریحاً ’’دیروجی چاقو‘‘ کی خواہش ظاہر کی، تو اگلے روز مجھے ایک برخوردار کے ہاتھوں بجھوا دیا۔ آج اُن کو میرا گھر تلاش کرنے میں کچھ مسئلہ ضرور ہوا کہ میرے گاؤں کے لوگ اس نام سے مجھے نہیں جانتے، جو فیس بک یا دوسری ویب سائٹس پر چل رہا ہے۔ بہ ہرحال ایک خان صاحب نے اُن کو دروازے تک پہنچا دیا۔
خواجہ، آپ زبردست انسان ہیں۔ مَیں آپ سے ویسے بھی متاثر تھا۔ اس ملاقات نے تو مسحور کرکے رکھ دیا۔
اللہ آپ کو صحت دے۔ زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوں۔ یقین کریں، مَیں نے آپ جیسا باہمت انسان نہیں دیکھا، جو ایسی صورتِ حال میں بھی ہنس کر دوسروں کو خوش رہنے کی، ہنستے رہنے کی تلقین کرتا ہے اور خود بھی خوش و خرم رہتا ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
بزوگر حاجی صاحب 
محمد افضل خان لالا کی یاد میں  
فلائنگ کوچ مولوی صیب  
سوات ہوٹل (تاریخ)  
سوات میں کسی خان یا پختون کو بادشاہ کیوں نہیں بنوایا گیا؟  
اب کچھ باتیں سیدو شریف کی ہوجائیں، جو مکمل طور پر تبدیل ہوگیا ہے۔ وہ سارے پرانے گھر، کھلیان اور گلی کوچے قصۂ پارینہ بن چکے ہیں۔ آج کل جس حویلی میں جناب عقل مند خان (مرحوم) کے صاحب زادے رہتے ہیں۔ اس کے بالمقابل ایک تنگ سی گلی ہواکرتی تھی، جو نیچے کی طرف اُترتی ہوئی ایک کھلی جگہ میں واقع دومنزلہ عمارت کی قریب ختم ہوجاتی تھی۔ شاید اب بھی ویسا ہی ہو۔ یہ عمارت بڑے وزیر کا دفتر ہوا کرتی تھی۔ اس کے قریب ہی تین کمروں اور ایک لمبے برآمدے پر مشتمل خزانے کی عمارت تھی۔ برآمدے میں عموما دو تین چارپائیاں نظر آتی تھیں، جن پر رات کے وقت خزانے کے حفاظت پر معمور فوجی سپاہی باری باری آرام کرتے تھے۔ خزانے میں ہمیشہ کیش رقم اور ریاستی سٹامپ پیپر کے بنڈل پڑے رہتے تھے، جو مختلف مالیت کی درخواستوں، اقرار ناموں اور تمسکات پر مشتمل ہوتے تھے۔ ریاست کی دولت بینک کے بجائے خزانے میں پڑی رہتی۔
اسی تنگ گلی کے ایک سرے پر تو ایک مکان ایسا بھی تھا جس میں، مَیں کبھی کبھی اپنے والد کی ایک خالہ کو ہاتھ سے پکڑے لے جاتا تھا، جو نابینا تھیں اور حافظِ قرآن تھیں۔ اُس مکان میں ہمارے ہی علاقے کے ایک خان رہتے تھے۔ ان کا نام پروفیسر سلطان خان تھا۔ کوٹہ گاؤں کے تھے اور جہانزیب کالج میں فارسی پڑھاتے تھے۔
اُسی گھر کے دوسری جانب ایک کمرا اور برآمدے پر مشتمل ایک مختصر سی عمارت تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ نظرے حاجی صاحب کی ملکیت ہے۔ اس برآمدے میں چمڑے کے بنے ہوئے بڑے بڑے سیاہ رنگ کے مٹکے پڑے رہتے، جس میں سرسوں کا تیل ذخیرہ کیا جاتا تھا۔ یہ مٹکے دیکھ کر مجھے علی بابا کی کہانی یاد آتی اور مَیں تصور میں مرجینا کو اُن مٹکوں میں چھپے ہوئے چوروں کے اوپر گرم تیل ڈالتے دیکھتا رہتا۔
نظرے حاجی صاحب کے مکان کے ارد گرد تقریباً سبھی اسی خاندان کے لوگ رہتے تھے، جن میں کچھ کے نام مجھے یاد ہیں: زردولہ ماما، حبیب اللہ جمع دار، عبدالمولیٰ جن کی کپڑوں کی دُکان تھی۔ نظرے حاجی صاحب بھی کپڑے کا کاروبار کرتے تھے۔
اسی خاندان کے افراد زیادہ تر تعلیم یافتہ اور سرکار دربار میں اثر و رسوخ رکھنے والے تھے۔سیدو شریف کا یہ مخصوص حصہ تنگ گلیوں پر مشتمل تھا اور ایک پیچ در پیچ گلی سیدو بابا کی مسجد کے پہلو میں گزرتی ہوئی بازار میں جاکر کھل جاتی تھی۔ مجھے حاجی صاحب کے اُن پُر اَسرار مٹکوں کے بارے میں مزید جاننے کی خواہش ہے۔ لگتا تو ایسا ہے کہ یہ بڑے مویشیوں، مثلاً بھینس کے چمڑے سے بنائے جاتے ہوں گے۔
اس حوالے سے قارئین کا کیا خیال ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔