تحریر: حمزہ نگار
’’لینن‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں سامراج کو سرمایہ داری کی انتہائی منزل قرار دیا تھا۔
لینن کے اس تجزیے کو حتمی نہیں کہا جاسکتا۔ کیوں کہ سامراجیت سرمایہ داری کی انتہائی منزل تو ہوسکتی ہے، لیکن آخری نہیں۔ "Ghana” کے مشہور انقلابی لیڈر ’’کوامے نکروما‘‘ (Kwame Nkrumah) کی کتاب ’’نیو کولونیل ازم: سامراج کی آخری منزل‘‘ میں سامراجی استعمار کو ایک اور طرح سے پیش کیا گیا ہے، جس میں کئی نئے زاویے پیش کیے گئے ہیں۔ 19ویں صدی میں سرمایہ داری کو پھیلانے کے لیے یورپی ممالک خاص طور پہ برطانیہ نے ایک سامراجی سٹرکچر تعمیر کیا، جس میں ممالک پر قبضہ کرکے دراصل اُن کے وسائل پر قبضہ کرنا تھا۔ اُن ممالک کا خام مال یورپی صنعتوں میں استعمال ہوا۔ خام مال کی کمی اور ٹیکس کی وجہ سے مقامی لوگ کی پیداواری صلاحیت ختم کردی گئی۔
’’نیو کولونیل ازم‘‘ یا ’’جدید نو آبادیات‘‘ کی اصطلاح 1960ء میں سامنے آئی، جب امریکہ ایک سامراجی طاقت کے طور پہ سامنے آیا۔ امریکہ نے پہلے جنگ زدہ یورپ میں تعمیرِ نو کے نام پہ سرمایہ دار ممالک کو اپنا حامی بنایا۔ اُن ممالک میں برطانیہ، فرانس اور مغربی جرمنی سرِفہرست تھے۔ پھر تیسری دنیا میں نئے آزادی پا نے والے ممالک آتے ہیں جن کو مالی اور فوجی امداد درکار تھی۔ یہ پالیسی امریکہ کی سیاسی طاقت کا سبب بنی۔
امریکہ دوسری جنگِ عظیم سے پہلے بھی سامراجی ذہنیت رکھتا تھا۔ سپینش-امریکن وار کے بعد امریکہ نے لاطینی امریکہ کے بہت سے ممالک پر طاقت کا استعمال کرکے اُن کو ایک طرح سے محکوم بنایا۔ ’’پیرٹو ریکو‘‘ (Puerto Rico)، ’’کیوبا‘‘ اور ’’فلپائن‘‘ 20 ملین ڈالر کے عوض سپین سے ہتھیائے گئے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
کولونیل ازم کیا ہے؟  
جدید سوشل ازم کا بانی، کارل مارکس 
مارکس ازم حرفِ آخر نہیں، حرفِ ابتدا ہے 
ولادیمیر لینن 
نیو امپیریل ازم سے کیا مراد ہے؟  
سیکولرز ازم اور اس کا پس منظر  
پشتون نیشنل ازم  
امریکہ صدر ’’میکنلی‘‘ (McKinley) نے فلپائن کو امریکی کولونی بنانے پر کہا تھا کہ ’’یہ مجھے خدا نے کرنے کو کہا تھا۔‘‘ 1 لاکھ سے زاید آرمی بھیج کر فلپائن کی مزاحمتی تحریک کو کرش کردیا گیا۔ ’’مورو‘‘ (فلپائنی مسلمان کمیونٹی) کو بے دردی سے مارا گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں فلپائنیوں کو جولو کے جزیرے میں واقع "Volcanic Centres” میں رکھا گیا۔ اس سفاکانہ قتلِ عام پہ امریکی صدر ’’تھیوڈر رووز ویلٹ‘‘ نے آپریشن لیڈ کرنے والے جرنیل کو شاباشی دی تھی۔
اس کے علاوہ امریکہ نے اپنی برآمدات بڑھانے اور فلپائن کے ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے 1 ڈالر کو 2 فلپینی کرنسی کے برابر کر دیا۔
امریکہ نے جمہوریت کے نام پہ دنیا کے اُن ممالک کے خلاف کارروائی کی، جہاں پر لبرل جمہوری طرزِ حکم رانی نہیں تھی، یا وہاں سوشلسٹ طرزِ حکومت تھی…… لیکن اُن ممالک کے ڈکٹیٹروں کو سرپرستی حاصل تھی جو امریکہ کے اتحادی تھے۔ جن میں کیوبا کے ’’بٹیسٹا‘‘ (Batista)، پورتگال کے ’’سالازر‘‘ (Salazar) اور نکاراگوا کے ’’سموزا‘‘ (Samoza) شامل ہیں۔ آج کے دور میں جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹنے والا مصری صدر ’’سیسی‘‘ امریکی اتحادی ہے۔
پوری دنیا میں امن کا پرچار کرنے والا امریکہ اپنی تاریخ کے 248 سالوں میں سے 222 سال جنگ میں رہا ہے۔ ’’ویت نام وار‘‘ کے بارے میں برٹرینڈ رسل نے کہا تھا کہ امریکہ نے ویت نام پہ اتنی بمباری کی ہے کہ ہر ویت نامی کے حصے میں 5 ٹن بم آیا ہے۔
امریکی سامراج کو بڑھانے کے لیے قوم پرست اور سوشلسٹ لیڈروں کا دھڑن تختہ کیا گیا۔ 1950ء کی دہائی میں ایرانی صدر محمد مصدق جنھوں نے ایرانی آئل کو قومیانے کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اُن کو ہٹایا گیا۔ چلی کے مشہور لیڈر ’’سیلوا ڈور ایلنڈے‘‘ جو بائیں بازو کا استعارہ تھا، کو ہٹانے کے لیے سی آئی اے نے 8 ملین ڈالر بانٹے تھے۔ اس سے پہلے ’’سینٹوس زیلایا‘‘ (Santos Zelaya) جس نے امریکن یونین آف سنٹرل امریکہ کی بات کی تھی، اُن کو بھی مداخلت کرکے ہٹایا گیا تھا۔ ایک سکالر نے کہا تھا کہ امریکہ میں اس لیے "Coup” نہیں ہوتے کہ وہاں امریکی ایمبیسی نہیں۔
’’بنانا رپبلک‘‘ (Banana Republic) کی اصطلاح بھی امریکہ کی وجہ سے آئی اور کہیں نا کہیں تیسری دنیا کی اقوام کو ’’بنانا رپبلک‘‘ بنانے میں امریکہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔ 1954ء میں گوئٹے مالا کے صدر ’’اندرے گوزمان‘‘ نے زمین نیشنلائزڈ کی، تو اُن کو بھی اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ گوئٹے مالا کی زمین پر اس سے پہلے امریکی کمپنی ’’یونائٹیڈ فروٹ کمپنی‘‘ کی اجارہ داری تھی۔
امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کرنے والے انقلابی لیڈروں کو مارا گیا، جن میں ’’پیٹرس لممبا‘‘، مراکش کا ’’مہدی بن برکہ‘‘، برکینا فاسو کا ’’تھامس سانکارا‘‘ اور ’’چی گویرا‘‘ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ فیڈرل کاسترو پر سی آئی اے 8 قاتلانہ حملے کرچکا ہے۔
حملوں کے علاوہ 25 ممالک میں امریکہ براہِ راست مداخلت کرچکا ہے، جن کا مقصد سامراجی اجارہ داریوں کا تحفظ ہے۔
ریاستی تصور ختم کرکے کارپوریشن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو ترقی کا راز بتایا جاتا ہے۔ نیو لبرلائزیشن، ڈی ریگولیشن کو مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے…… لیکن حقیقت بالکل مختلف ہے۔ دُنیا بھر میں بڑے منصوبے ریاست کرتی ہے۔ چاہے وہ نیل آرمسٹرانگ کا چاند پہ جانا ہو یا روسی یوری گارگرین کا خلا میں جانا ہو…… لیکن یہ سب اس لیے بتایا جاتا ہے کہ ریاست تو کچھ ہوتی نہیں۔ یہ غلط ہے اس کا مقصد بڑی ریاست کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے۔
امریکہ تیسری دنیا کے ممالک کے سیاسی استحصال میں سب سے آگے ہے۔ پوری دنیا میں نیو لبرل اکنامکس کو ہی آگے بڑھنے اور ترقی کا راز بتایا جاتا ہے۔ تیسری دنیا کی ڈھیر ساری اقوام میں یہ پالیسی ناکام ہوچکی ہے، جس کی ایک مثال 1980ء کی دہائی کا ہندوستان ہے۔ 1984ء میں راجیو گاندھی کی قیادت میں ہندوستان نے معیشت کو نیو لبرلائزڈ کرنے کا فیصلہ کیا، جو قرضوں کے حصول کے لیے ’’آئی ایم ایف‘‘ کی ایک شرط تھی۔ انڈین اکانومی کو اوپن کرنے کا نقصان ہندوستانی کسان کو اُٹھانا پڑا۔ 1990ء کے بعد تقریباً 2 لاکھ کسانوں نے خودکُشی کی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔