تحریر: حمزہ نگار 
کولونیل ازم (Colonialism) کی ابتدا یورپ سے ہوئی، جب پرتگالی سمندری رستوں کی تلاش میں نکل گئے۔ شروعات میں یہ منڈیوں تک رسائی نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی دریافت تھی، جو بعد میں اُن کے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی۔ عثمانیوں کے زمینی رستے بند کرنے کا نقصان مشرق ہی کو اُٹھانا پڑا۔ کیوں کہ مشرق کے جتنے سلطنتیں تھیں، اُن کے پاس سمندری فوج نہیں تھی۔ یہی کم زوری یورپی طاقتوں کا ہتھیار بنی۔ شروعات میں پرتگال اور سپین نے غیر یورپی طاقتوں پہ قبضہ کرنا شروع کیا اور بعد میں برطانیہ اور فرانس نے۔ اس کے بعد کچھ کولونیز بلجیم اور ڈچ کے حصے میں آئیں۔
برصغیر میں پرتگال سب سے پہلے پہنچا اور گوا پر قبضہ کیا۔ اس کے بعد برطانیہ اور فرانس کے حصے میں جنوبی ہندوستان کا پونڈیچیری (Pondicherry) آیا۔
18ویں صدی کے آخر میں یونان اور ترکی کے بیچ ایک فرضی لکیر کھینچی گئی، جس کے ایک طرف مشرق اور دوسری طرف مغرب تھا۔ ایک جانب مہذب اور دوسرے جانب غیر مہذب دنیا۔ ایک طرف سفید نسل اور دوسری جانب کالی نسل۔ یوں سفید نسل نے باقی دنیا کو ’’مہذب‘‘ بنانے کا بیڑا اُٹھا لیا۔
تاریخ میں تمام تہذیبیں مشرق میں ملتی ہیں۔ ہندوستان میں انڈس، مہر گڑھ، گندھارا اور گنگا جمنا کی تہذیبیں آباد تھیں۔ عراق میں بابل کی تہذیب اور لاطینی امریکہ میں "Maya”, "Incas”اور "Aztecs” کی تہذیبیں تھیں۔
دوسری طرف چین میں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا اثر تھا۔ فرانس ان ممالک کو تہذیب سکھانے میں پیش پیش تھا، جن کو وہ "la mission Civilisatrice” کہتے تھے۔ امریکہ کے کئی فن کار اور ادیب "White Man’s Burden” کو مانتے تھے، جن میں مارک ٹوین اور کپلنگ سرِفہرست تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
جنگ اور اس کے اثرات  
تہذیبوں کا تصادم اور مکالمہ  
فلسفہ کی تاریخ  
آذربائیجان کا عجائب خانہ ادب  
اس کے علاوہ یورپی طاقتوں پر "Social Darwinism” کا بھی اثر تھا، جو کولونیل ازم کی بنیاد بنا۔ "Malthus” نے یورپ کو اُن کی بڑھتی آبادی سے خبردار کیا، تو یورپی طاقتوں نے دنیا کے کئی حصوں میں آبادکاری کی، جن میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ آتے ہیں۔ آکلینڈ اور ملبورن کے شہر بھی کولونیل آفیسرز کے نام سے منسوب ہیں۔
صرف برطانیہ نے نہیں، بلکہ ہر یورپی طاقت نے اپنی کولونیز میں انسانوں کا قتلِ عام کیا۔ آسٹریلیا نے 1901ء میں ’’وائٹ آسٹریلیا پالیسی‘‘ اپنائی اور مقامی "Tasmanians” کا قتلِ عام کیا۔
بلجیم کے زیرِ انتظام کنگ لیو پولوڈ نے 10 لاکھ مزدوروں کو مارا۔ اٹلی نے 1911ء میں لیبیا پہ فضائی بمباری کی۔ خود برٹش پولیس چیف جو کینیا میں مقیم تھے، نے اپنی کتاب ’’مین ہنٹ اِن کینیا‘‘ میں اعتراف کیا ہے کہ کس طرح لوگوں کو مارا گیا۔
’’الیکس ہیلی‘‘ کا ناول "Roots” کولونیل مظالم کی عکاسی کرتا ہے۔
امریکی صدر ’’تھیوڈر رووز ویلٹ‘‘ نے کولونیل ازم کے بارے میں کہا تھا کہ کولونیل ازم کا مطلب جنگ ہوتا ہے۔ ان ممالک سے دولت لے لو اور بدلے میں کچھ نہ دو۔
صنعتی انقلاب کے بعد برطانیہ کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے منڈیوں کی تلاش تھی۔ پہلے ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں 90 سال تک ہندوستان تاجِ برطانیہ کے زیرِ انتظام رہا۔
مارکسی دانشور ’’اُٹسہ پٹنایک‘‘ کے مطابق 300 سالوں میں ہندوستان سے تقریباً 45 ٹریلین ڈالر کی دولت برطانیہ نے حاصل کی۔ برطانیہ کے آنے سے پہلے دنیا کی کُل دولت کا 23 فی صد ہندوستان کے پاس تھا، جو اُن کے جانے کے بعد 2 فی صد سے بھی کم رہ گیا۔ کوہِ نور ہیرا بھی ملکۂ برطانیہ کی تاج کی زینت بنا، جس کے بارے میں بابر نے کہا تھا کہ اس کی قیمت پوری دنیا کی ڈھائی دن کی خوراک کے برابر ہے۔
کولونیل ازم صرف دولت لوٹنے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ ہر طرح سے استحصال تھا۔ ہندو کی مقدس جگہ ’’متھرا‘‘ کا نام ’’مُتر‘‘ لکھا جانے لگا۔ مسلمانوں کو ’’محمڈن‘‘ لکھا گیا جو کہ "Theologically” غلط تھا۔ گاندھی کو ونسٹن چرچل ’’ننگا فقیر‘‘ کہتا تھا۔ جب ونسٹن چرچل سے پوچھا گیا کہ بہار میں قحط کیوں آیا؟ تو اُس نے کہا یہ خرگوشوں کی طرح بس بچے ہی پیدا کرتے ہیں اس لیے ۔
کولونیل ازم کا کلچر پہ بہت بُرا اثر پڑا۔ ہندوستان میں ہزاروں برس سے قہوے پینے کا رواج تھا، لیکن کولونیل لارڈز نے اس کو بھی سبوتاج کیا۔ وہ کہتے تھے کہ دودھ کے بغیر چائے غیر مہذب ہے۔
کولونیز کی لوٹ مار میں یورپی طاقتیں ایک دوسرے سے بھی لڑتی رہیں۔ پہلی جنگِ عظیم چِڑھنے کی بھی یہی وجہ تھی، لیکن اس سے برطانیہ پہ فرق نہیں پڑا۔ جنگِ عظیم کے بعد تین بڑی سلطنتیں یعنی سلطنتِ عثمانیہ، آسٹرو ہنگرین اور رشین ایمپایر ٹوٹ گئیں۔ اس جنگ کا مشرق پہ کوئی اثر نہیں پڑا، لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپی طاقتیں کم زور پڑ گئیں اور آزادی کی تحریکوں کی وجہ سے کولونیز سے پیچھے ہونا پڑا۔
’’ڈی کولونایزیشن‘‘ کو امریکہ کی حمایت حاصل تھی۔ بالا آخر وہ سامراج جس کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا، وہ ختم ہوگیا، لیکن اس کے بعد سامراج کا سورج مغرب کے کسی اور کونے سے نمودار ہوا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔