ہمارے افسر آباد میں اکثر پڑوسی بدلتے رہے، مگر ایک ہم تھے کہ آخری حویلی کی مسماری تک وہیں پر رہے۔ اُس کے بعد بھی افسر آباد سے نہ نکل سکے۔ وہیں پر سڑک کنارے جدید طرز کے 4 بنگلوں کے بلاک میں سے ایک میں شفٹ ہوگئے۔ اُسی میں 14 سال مزید گزارے اور 1980ء کے اختتام پر گاؤں (ابوہا) آگئے۔ اس طرح سیدو شریف میں ہمارا 45 سالہ طویل قیام ختم ہوا۔
ایک مختصر مدت کے لیے ہمارے پڑوس میں ’’اخوندزادہ بابو صاحب‘‘ کی عرفیت سے ایک صاحب رہایش پذیر تھے، جو ریاستی ریسٹ ہاؤسز اور سیدو شریف مہمان خانے کے منتظم تھے۔ اُن کے ایک بھائی شہزادہ تھے، جو ریاستی موٹر خانے میں ڈرائیور تھے۔ اخوند زادہ بابو صاحب کا اصل نام عبدالصمد تھا۔ اُن سے ہماری گاڑھی چنتی تھی۔ عشا کی نماز کے بعد مَیں اپنے والد صاحب کے ساتھ نائب سالار عمرا خان کے بنگلے پر جاتا، تو وہاں تاش بھی کھیل لیتے۔ مَیں نائب سالار صاحب کا پارٹنر ہوا کرتا تھا، جب کہ مخالف پارٹی میرے والد اور اخوندزادہ بابو صاحب پر مشتمل ہوتی۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
جب ہم محکمۂ تعمیرات سوات کی سرکاری پک اَپ گاڑی میں دوررے پر جاتے، تو بابو صاحب بھی ہمارے ساتھ ریسٹ ہاؤسز کے انسپیکشن کے لیے جاتے۔
اخوند زادہ بابو صاحب کے 3 بیٹے تھے: شمس الدین، ضیاء الدین اور نظام الدین۔ جب کے اُن کے بھائی شہزادہ کے بیٹے ظہیر الدین استاد صاحب، جلال الدین، امان الدین، علاؤالدین اور منہاج الدین تھے۔
یہ بات دراصل مَیں نے اس لیے شروع کی کہ اُس زمانے میں چچا زاد بھائیوں کے درمیان بہت محبت ہوا کرتی تھی۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ کون اپنا حقیقی بھائی ہے اور کون چچازاد……!
علاؤالدین کو شاید میٹرک میں تپ دق ہوگیا۔ اُسے بہتر علاج معالجے کے لیے ڈھاڈر سینی ٹوریئم کوئٹہ میں لے جایا گیا۔ وہاں طویل علاج کے باوجود انتقال کرگیا۔ مرحوم کا اپنے کزن شمس الدین سے بہت گہرا تعلق تھا۔ دونوں میں بے مثال محبت تھی۔ایک دن مَیں نے دیکھا کہ شمس الدین ایک خط پڑھ رہا ہے اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ مَیں نے اُس سے وجہ پوچھی، تو اُس نے خط مجھے تھماتے ہوئے کہا کہ خود پڑھ لو۔ یہ علاؤ الدین کا خط تھا، جو اس نے ڈھاڈر سے بھیجا تھا۔ لکھا تھا: ’’شمس بھائی! میری حالت بہت بگڑ گئی ہے۔ جسم گھل کر ڈھانچا بن گیا ہے۔ آج مَیں نے ایک پسلی خود باہر کھینچ کر نکالی۔‘‘
مَیں جتنی بھی شمس کی ڈھارس بندھاتا، اُس کا رونا مزید طول پکڑتا۔ مجھے اُن کزنز کی محبت پر رشک آنے لگا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
بزوگر حاجی صاحب  
امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)  
فلائنگ کوچ مولوی صیب  
محمد افضل خان لالا کی یاد میں  
سوات میں کسی خان یا پختون کو بادشاہ کیوں نہیں بنوایا گیا؟
اب ماں کی محبت کا تھوڑا ذکر ہوجائے۔
ماں کی محبت کا کوئی زوال ہے نہ مثال۔ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جو خالق نے اپنی صفات کا ایک ذرّہ عورت کے دل میں ڈالا ہے۔ پاگل سے پاگل عورت بھی عالمِ دیوانگی میں اپنی اولاد سے محبت کرتی ہے، بلکہ ہر مادہ مخلوق چرند ، درند اور پرند بھی فطرتاً اولاد کے لیے سراپا رحم ہوتی ہیں۔
مَیں ایک خاتون کے بارے میں جانتا ہوں۔ اگرچہ یہ باتیں میری پیدایش سے قبل کی ہیں۔ اُس خاتون کو زچگی کے دوران میں ایک حادثہ پیش آیا کہ بچہ اُلٹی طرف سے دنیا میں آنے لگا تھا۔ اب یہ تو ایک سرجیکل کیس تھا، مگر اُن دنوں آج کل کی طرح نہ پرائیویٹ زچہ بچہ مراکز تھے، نہ ہسپتال میں لے جانے کا کوئی انتظام ہی تھا۔ بچہ مردہ تھا، اس لیے مقامی دائی نے اُسے کاٹ کاٹ کر نکال دیا۔بس اسی ’’شاک‘‘ (Shock) سے وہ خاتون دماغی توزن کھو بیٹھی۔ شوہر نے بھی منھ موڑ لیا۔بے چاری در در کی ٹھوکریں کھانے لگی۔ اُس کی دو بہنیں اور تھیں۔ ایک تو قریب ہی رہتی تھی اور دوسری کی شادی موضع تھانہ میں ایک موچی کے ساتھ ہوئی تھی۔دونوں بیوہ ہوچکی تھیں۔
اب اُس خاتوں کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا تو میری چچی اُسے اپنے گھر لے آئی۔ جب اُس پر پاگل پن کے دورے پڑتے، تو میرے چچا اُسے چارپائی سے باندھ لیتے۔
ایک دن میرے چچا کے چند ماہ کے بچے کو پنگھوڑے سے اُٹھا کر بھاگ گئی اور ایک مکان کی چھت سے دوسری، تیسری اور آگے کئی چھتوں سے ہوتی ہوئی دوڑتی چلی گئی۔ چچی کو شدید پریشانی کا سامنا تھا کہ کہیں وہ بچے کو پھینک نہ دے۔ آخر بڑی منتوں سے اُسے نیچے اتارا گیا۔
وہ خاتون اپنے چھوٹے بیٹوں کے نام لے کر اکثر گایا کرتی۔
یہ…… کا جھنڈا ہے
یہ…… کا جھنڈا ہے
جب قدرے دماغی حالت درست ہوگئی، تو دونوں بچوں کو لے کر سیدو شریف چلی گئی اور کسی طرح والئی سوات کی والدہ کے محل سرا میں پناہ حاصل کی، جن کو عام و خاص ’’بی بی ابئی‘‘ کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اُسی نیم پاگل خاتون نے جس طرح اپنے بچوں کو پالا پوسا، وہ ایک ماں ہی کرسکتی ہے۔
اُس کی تھانے والی بہن کا ایک ہی بیٹا تھا۔اُسے عالمِ جوانی میں تپ دق کی بیماری لگ گئی تو وہ اُسے لے کر سیدو آگئی۔
ہم نے اُس کو اپنے گاؤں کی نسبت ہونے کے کارن خوش آمدید کہا۔ویسے بھی اُن دنوں گاؤں کے بیمار ہوں یا کوئی طالب علم، ہم حتی الوسع اُن کی خدمت کرتے۔
اُس مریض کو ہسپتال میں داخل کروایا۔ وہ بہت کم زور اور سوکھ کر کانٹا ہوگیا تھا۔ اُس کی والدہ ایک دو سالہ بچے کی طرح اُس کو رکھتی تھی۔ حوائجِ ضروریہ ہوں، کھانا کھلانا ہو، کپڑے تبدیل کروانا ہو، ماں آخر ماں ہے۔ اولاد جیسی بھی ہو، جس عمر کی بھی ہو، ماں کا دل نہیں اوبتا، ماں تھکتی ہے، گلہ کرتی ہے اور نہ شکوہ شکایت اور بددعا ہی دیتی ہے۔
ماں تجھے سلام!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔