تحریر: احمد نعیم 
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی چار منکوحہ بیویاں اور متعدد لونڈیاں تھیں۔
1837ء میں جب وہ رسمی طور پر بادشاہ بنا، تو اُس کی باقاعدہ ایک ہی بیوی تھی، جس کانام تاج محل بیگم تھا اور وہ دربار کے ایک موسیقار کی بیٹی تھی۔ یہی وہ بیوی تھی جو بہادر شاہ کی تخت نشینی کے وقت ہونے والی تقریبات میں اُس کے ہم راہ موجود رہی تھی…… لیکن وہ زیادہ عرصے تک اپنی یہ حیثیت برقرار نہ رکھ سکی۔ تین سال بعد بہادر شاہ ظفر نے 64 سال کی عمر میں 19 سالہ زینت محل سے شادی کرلی۔
یہ زینت محل ہی تھی جس نے تاج محل بیگم کو قبل ازیں حاصل حیثیت اور اہمیت سے محروم کردیا۔یہ زینت محل ہی تھی جس کو بہادر شاہ ظفر کی موت تک اُس کی پسندیدہ بیوی کا درجہ حاصل رہا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
مولا بخش، بہادر شاہ ظفر کا ہاتھی  
تاج محل اور لال قلعے کا مالک بچہ 
وضع داریاں (دیوان سنگھ مفتون)  
زینت محل سے محبت کے دعوؤں اور اس کی بادشاہ کے زنان خانہ میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہونے کا یہ مطلب قطعاً نہیں تھا کہ بادشاہ نے مزید شادیاں کرنی بند کردی تھیں…… بلکہ اُس نے زینت محل سے شادی کے بعد مزید چار شادیاں کیں اور ڈھیر ساری عورتوں کو اپنے حرم میں داخل کیا تھا۔
1853ء میں کم از کم پانچ ایسی عورتیں تھیں جو بادشاہ کی خواب گاہ سے ہمہ وقت منسلک رہتی تھیں۔
بہادر شاہ ظفر کا حرم اُس کی عمر کی آٹھویں دہائی تک بہت متحرک تھا۔ بادشاہ 16 بیٹوں اور 31 بیٹیوں کا باپ تھا اور ایک بیٹے مرزا عباس کی ماں جب حاملہ ہوئی، تو بہادر شاہ ظفر کی عمر 70 سال تھی۔
(زیر مطالعہ: دی لاسٹ مغل از ولیم ڈل رمپل)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔