سوسائٹی سے شایستگی اور رواداری اُٹھ گئی ہے۔ ہما شما قسم کے لوگ سیاست میں کیا آئے، شرافت کا جنازہ نکل گیا۔ اتنے چھچھورے لوگ لیڈر بن گئے ہیں، جو پہلے تو بہ وقتِ ضرورت آپ کو باپ بھائی اور دوست بنائیں گے…… اور منتخب ہونے کے بعد اُن کی گردنوں میں سریا لگ جاتا ہے۔ پولنگ سٹاف اکثر تشدد، تمسخر اور اہانت کا نشانہ بنتا ہے۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
پہلے کبھی ایسا دیکھا نہ سنا۔اس کی بڑی وجہ کمی کمین قسم کے لوگوں کا پیسے کے بل پر سیاست میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا ہے۔
آج (جس دِن یہ سطور تحریر کر رہا ہوں) جب مَیں صبح کوئی 9 بجے ووٹ پول کرنے گیا، تو ڈیوٹی پر موجود پولیس انچارج نے مجھے بازو سے پکڑا اور سیدھا اندر پولنگ سٹاف کے سامنے کھڑا کیا۔ اُن کو بتایا کہ یہ بزرگ ہیں۔ اس کو جلدی ووٹ ایشو کردو۔
دوستو! مَیں نے کتنے ہی جنرل الیکشن پریزائڈنگ آفیسر کے طور پر بھگتائے ہیں۔ 1971ء کے الیکشن میں، مَیں سخرہ سکول کے اندر ہونے والے انتخابات میں پریزائڈنگ آفیسر تھا۔ اُس الیکشن میں اصل مقابلہ افضل خان لالہ اور سید محمدعلی شاہ کے درمیان تھا۔ اُن دنوں اے این پی نہیں بلکہ این اے پی یا نیپ اس پارٹی کا نام تھا اور اس کا انتخابی نشان جھونپڑی تھا۔ اُن انتخابات میں افضل خان لالہ منتخب ہوئے تھے اور صوبے میں مفتی محمود گورنمنٹ میں زراعت کے وزیر تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
سوات کا مقدمہ 
سوات: ایک تنقیدی جائزہ  
سوات ہوٹل (تاریخ)  
سوات کے 1975 کے ایک رقت انگیز مشاعرے کی روداد
ریاستِ سوات کے خاتمے کا مروڑ  
دوستو! مقامی لوگوں نے ہمیں کھانے کو پوچھا اور نہ اُن خوانین نے۔ ہم اپنے ساتھ مینگورہ سے کھانے کا سب سامان لے گئے تھے۔ سیدو شریف کے صحبت نامی ہمکار کو کھانا پکانے کے لیے ساتھ لے گئے تھے۔ میرے ساتھ سٹاف میں میرے دوبھائی سلطان اور فضل معبود تھے۔ ایک ظفر بھائی اور ایک گوگدرہ کے اظہارالحق تھے۔ پولنگ کے روز (مرحوم) یعقوب خان درشخیلہ سے تیار کھانا لائے تھے، مگر مَیں نے منع کیا،جس پر صحبت ماما بہت غصہ ہوئے…… تو مَیں نے کہا، ٹھیک ہے مگر گنتی کے بعد کھائیں گے۔
افضل خان لالہ خود بھی تشریف لائے، جب وہ سکول کی حدود میں کنونسنگ کرنے لگے، تو مَیں اُن کے پاس گیا اور اُن سے درخواست کی کہ ’’سر! یہ جو آپ کررہے ہیں، یہ خلافِ قانون ہے۔ پولنگ سٹیشن کے 500 گز دائرے میں آپ ایسا نہیں کرسکتے۔‘‘ اُنھوں نے فوراً خطاب بند کیا اور مجھ سے کہا: ’’جوان! مجھ سے غلطی ہوگئی!‘‘
خان لالہ کچھ وقت کے لیے ہم کو جہانزیب کالج میں پڑھا چکے تھے۔ مَیں اُن کامنھ چڑھا قسم کا شاگرد تھا۔ اس کے بعد بھی کئی بار اُن سے ملنے کا موقع ملا۔ ہر بار پیار سے ’’جوان‘‘ کَہ کر بلاتے۔ خدا اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔