سوات پی ڈبلیو ڈی کے کچھ امتیازی پہلو یہ بھی ہیں کہ اس کی سپریم اتھارٹی والئی سوات خود تھے۔محکمے کے سربراہ محمد کریم صاحب اور حکم ران کے درمیان براہِ راست رابطہ رہتا تھا۔ والئی سوات اس محکمے کو ’’اپنا محکمہ‘‘ کہتے تھے۔ محمد کریم صاحب، ڈائریکٹر تعلیم سید یوسف علی شاہ اور ڈائریکٹر صحت ڈاکٹر نجیب اللہ خان تقریباً روزانہ والئی سوات سے اُن کے دفتر میں ملتے تھے۔ کبھی کبھی محمد کریم صاحب، والی صاحب کے ساتھ شام کے ڈرائیو میں بھی ساتھ رہتے تھے، جو ایک منفرد اعزاز کی بات ہے۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 1965ء کے لگ بھگ لندن میں منعقدہ "Common Wealth Engineering Exhibition” میں اسے سرکاری طور پر شرکت کی دعوت مل گئی۔ محکمے کے سربراہ کے طور پر محمد کریم صاحب نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے نمایندوں کے ساتھ لندن جاکر اس نمایش میں شرکت کی۔
ہمارے محکمے کا طریقۂ کار بہت سادہ اور عام فہم تھا۔ٹھیکے داروں کی رجسٹریشن اگر چہ نہیں تھی، مگر پھر بھی مخصوص لوگ اس شعبے میں زیادہ فعال تھے۔ ٹھیکے یا تو "Open Competition” پر ملتے، یا والئی سوات اپنے "Descritionary Powers” استعمال کرکے کسی ایک شخص کو ٹھیکا تفویض کرتے۔ ٹھیکے دار کے ساتھ باقاعدہ ایگریمنٹ تحریر کیا جاتا، جس میں متعلقہ منصوبہ کی پوری تفصیل، "Specifications” ,”Capacity”اور رقم درج ہوتی۔ ایگریمنٹ پر والئی سوات اپنی مہر اور دسخط ثبت کرتے تھے۔
ٹھیکے دار کو زیرِ تعمیر منصوبے کے مختلف مدارج میں پیشگی ادائی کی جاتی اور یہ تمام قسطیں منصوبہ کی تکمیل پر "Final Settlement of Account” کے وقت وضع کی جاتی۔
اُس وقت کے مشہور ٹھیکے داروں میں منگورہ کے حاجی شیرزادہ، شاہجہان، خانے قصاب، حاجی اعتبار، امان اللہ خان، سعید الرحمان، محمد رحیم، لالا رحیم شاہ، محمد علی شاہ، جان عالم بجلو والا، محمد ایوب غالیگے، شیرداد سیدو شریف، زرد اللہ خان سیدو شریف، عبدالکریم، محمد پرویش، باز جمع دار صاحب اور غلام نبی سیدو شریف شامل تھے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ریاست کے ادغام کے بعد اہلِ سوات ہاتھ ملیں گے، ولی خان 
پختون رسالہ اور ریاستِ سوات  
وادیِ چغرزئی کا ریاستِ سوات میں ادغام  
ملکہ برطانیہ ریاستِ سوات میں 
دوسری جنگِ عظیم میں ریاستِ سوات کا کردار  
اب تھوڑا بہت ذکر "Specifications” کا بھی ہوجائے۔ ریاست کے پاس چوں کہ میٹریل ٹیسٹنگ کی سہولت نہ تھی اور نہ علاقائی زمینی خصوصیات اس کی متقاضی ہی تھی۔ کیوں کہ زمین کی اپنی "Bearing Capacity” مناسب اور موزوں تھی۔ لہٰذا عام طور پر آبادی کے لیے 4 فٹ گہری بنیادیں کھودی جاتیں۔ جہانزیب کالج اور سیدو ہاسٹل کی بنیادیں 6 فٹ چوڑی اور 8 فٹ گہری کھودی گئی تھیں۔
ہم "Foundation” میں سیمنٹ بجری کی بجائے چونا بجری کی ایک فٹ موٹی "Layer” ڈالتے، جو ایک "Anti- termite” کا کام بھی کرتا تھا۔
روڑی چونا کے اُوپر پتھر کی چنائی کرتے۔ زمیں کی سطح سے محلِ وقوع کے تناسب سے اونچی رکھ کر اس کے اوپر "Damp Proof Course” ڈالتے، جس میں دو سریے اور 1: 2: 4 کے تناسب سے کنکریٹ ڈالتے۔ دیواروں میں 1: 6 کے تناسب سے مارٹر استعمال کرتے۔
دروازوں اور کھڑکیوں میں دیار کی لکڑی اور چھت کی کڑیاں شہ تیر "trusses” اور "Rafts” کے لیے پیوچ کی لکڑی استعمال کرتے۔ ٹین کی چادریں 24 گیج کی اکثر جاپان سے منگوائی جاتیں۔
کنکریٹ والی چھتوں میں بیم کے علاوہ آدھ انچ کا سریا 9×9 انچ میں لگاتے اور سریوں کے بیچ "Brick on Edge” رکھ کر کنکریٹ ڈالتے۔ جس کا تناسب 3: 1/ 1/ 2 ہوا کرتا تھا۔ پلستر 4:1 کا ہوتا۔ ریاست کا سرکاری رنگ بیرونی طرف زرد رنگ کی مٹی کا ہوا کرتا تھا۔ والئی سوات خود "Floors” کی چیکنگ بہت سختی سے کرتے۔ اُن کی گاڑی میں لکڑی کا ایک ہتھوڑا ہوا کرتا تھا، جس سے وہ فرش ٹھونک کر کھوکھلے پن کا جائزہ لیتے۔
باقی آیندہ، اِن شاء اللہ!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔