قرائین سے پتا چلتا ہے کہ باچا صاحب میاں گل عبدالودود کے عہد میں بعض محکموں کے واضح خدوخال نہیں تھے۔ فوج ابتدا ہی سے تعمیری سرگرمیوں میں مصروفِ عمل تھی۔ مثال کے طور پر قلعوں کی تعمیر، سڑکوں کی توسیع، پلوں وغیرہ کی تعمیر میں فوج ہی سے لیبر کا کام لیا جاتا تھا۔ یہی صورتِ حال کم وبیش عہدِ جہانزیبی کے ابتدائی سالوں میں بھی رہی، مگر اسی دوران میں ارتقائی عمل بھی تیز ہوتا گیا۔ تعمیرات کا شعبہ فوجی تنظیم کا ایک ذیلی شعبہ رہا۔ والیِ سوات کے بعض فرامین جو اس دور میں جاری ہوئے، اس امر کا ثبوت ہیں۔ مثلاً: ایک فرمان میں تحصیل داروں اور حاکمِ علاقہ کو اس امر کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ اپنی عمل داری میں جاری ترقیاتی سکیموں کا تواتر سے معائنہ کرتے رہیں اور وہ اُن منصوبوں کی کوالٹی کے اُتنے ہی ذمے دار ہوں گے جس طرح کہ نائب سالار اور ’’ناخود کپتان‘‘ بہ لحاظِ عہدہ ذمے دار ہیں۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
اس سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ناخود کپتان نئے تشکیل شدہ محکمے کا پہلا سربراہ ہے۔ دراصل موصوف اُس مستقل نیم مسلح لیبر فورس کے سربراہ تھے، جو سیدو شریف میں مختلف تعمیری سرگرمیوں میں ہمہ وقت مصروف رہتی تھی۔ اُس فورس کو ’’دہ خواریٔ نوکران‘‘ یا محنت کش دستے کا نام دیا گیا تھا۔ اُس میں بھی سپاہی، حوالدار، جمعدار، صوبے دار اور کپتان کے رینک تھے۔ اُن میں قابلِ ذکر فورس کے سربراہ ناخود کپتان تھے، جو براہِ راست والی صاحب کو جواب دہ تھے۔ صوبے داروں میں غلام رسول اور عبدالواحد تھے۔
اس فورس میں ترکھان محمداللہ اور محمد، پلمبروں میں حبیب گل، الیکٹریشنوں میں محمد رسول اور محمد زمان استاد کے نام مجھے اس وقت یاد ہیں۔
ناخود کپتان کی فنی اِعانت کے لیے روڈ کے شعبے میں حبیب اللہ نام کے ایک پنجابی بابو تھے، جو چیف سیکریٹری کے بھائی تھے۔اُن سے پہلے تعمیرات کے لیے ’’دستخط مستری‘‘ کے نام سے مشہور ایک نابغہ روزگار شخض عمارات کے شعبے میں محیرالعقول کارنامے سر انجام دیا کرتے تھے۔اُن کے فن کے شاہکار جہانزیب کالج اور سیدو ہاسٹل اور کالج کالونی کے رہایشی بنگلے ہیں۔
1950ء کی دہائی میں تعمیرات کے محکمے میں انقلابی تبدیلیاں بہ تدریج عمل میں لائی جاتی رہیں۔ 1960ء تک اس کی صورت گری مکمل ہوگئی۔ جب ریاست کے محکمۂ تعمیرات کی مکمل تشکیل ہوگئی، تو اُسے دو شعبوں ’’روڈ سیکشن‘‘ اور ’’بلڈنگ سیکشن‘‘ میں تقسیم کیا گیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ریاستِ سوات کے تعلیمی وظائف  
ریاستِ سوات اور سیاحت  
ریاستِ سوات کا خفیہ فنڈ  
ریاستِ سوات کے خاتمے کا مروڑ  
ریاستِ سوات کا تاریخی چرڑو سنیما 
روڈ سیکشن کے پہلے ہیڈ حبیب اللہ چوہان کو روڈ انجینئر کا عہدہ ملا اور عمارات کے شعبے کی سربراہی جناب محمد کریم صاحب کو ملی۔ دونوں افسروں کی اِعانت کے لیے بابوؤں پر مشتمل عملہ مختص کیا گیا۔ ان کے علاوہ 20، 25 کے قریب ترکھان، پلمبر اور الیکٹریشن بھرتی کیے گئے۔
ریاستِ سوات کا پی ڈبلیو ڈی سٹور بدستور ناخود کپتان صاحب کے چارج میں رہا، جس میں ہروقت کثیر تعداد میں عمارتی سامان از قسم سیمنٹ، سریا، تارکول، شیشہ، جستی چادریں اور سینیٹری فٹنگز موجود رہتیں۔ ہر چیز صرف والی صاحب کے دستخط سے ایشو ہوتی۔ سٹیٹ پی ڈبلیو ڈی کے اپنے "Specifications اور "Shedule of Rates” تھے، جو نہایت عرق ریزی سے تیار کیے گئے تھے اور حکم ران کے دستخطوں سے نافذالعمل کیے گئے تھے۔
باقاعدہ ٹینڈر کے بعد کسی منصوبے کا ٹھیکا دیا جاتا تھا، لیکن یہ بھی تھا کہ حکم رانِ سوات اپنی صواب دید پر کسی ایک ٹھیکے دار کو کوئی "Assignment” یا منصوبے کے لیے نام زد کردیں۔
ٹھیکے دار کے ساتھ باقاعدہ ایگریمنٹ تحریر کیا جاتا اور والئی سوات اس اقرارنامے پر اپنے دستخط ثبت کرکے منظوری دیتے۔ ٹھیکے دار کو کام چلانے کے لیے وقتاً فوقتاً پیشگی ادائی کی جاتی، جو فائنل بل میں وضع کی جاتی تھی۔
والئی سوات نے ساٹھ کی دہائی میں محکمۂ تعمیرات کی تنظیمِ نو کی۔ کچھ سٹاف ممبروں کو اوورسیئرز (Overseers) کی پوسٹ پر ترقی دی، جن کے نام بالترتیب یوں ہیں:سلیم خان سینئر اوورسیئر، فضل رازق اوورسیئر، محمد اسماعیل اوور سیئر، عبدالمنان اوورسیئر، عبدالرؤف اوور سیئر اور عبدالقیوم اوور سیئر۔
اس طرح تعمیرات کے شعبے کے سربراہ محمد کریم صاحب کو سینئر ایس ڈی اُو کا رینک دیا گیا۔ شاہرات کے سربراہ کو روڈ انجینئر بنایا گیا۔
قارئین! اگر زندگی نے وفا کی اور آپ کی طرف سے حوصلہ افزا ریسپانس ملا، تو مزید معلومات شیئر کی جائیں گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔