ڈھیر سارے لوگ پیدا ہونے کے بعد زندگی ’’گزارتے‘‘ ہیں اور تھوڑے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زندگی ’’جیتے‘‘ ہیں۔ بڑے کارنامے آخرالذکر ہی انجام دیتے ہیں کہ جیون کا حق موڑنے والے یہی ہوتے ہیں۔ جو زندگی ’’جیتے‘‘ ہیں زمانہ اُنھیں مرنے نہیں دیتا۔ وہ اپنے کارناموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں…… دلوں میں بھی اور دماغوں میں بھی۔ تاریخ کے اوراق میں ایسے لوگ امر ہو جاتے ہیں کہ ہمارے درمیان نہ رہ کر بھی وہ ہمارا موضوعِ گفت گو بنے رہتے ہیں۔
قوم کی قابلِ فخر بیٹی ارفع کریم بھی انھی نابغہ روزگار ہستیوں میں سے ایک تھی جو اپنے کارناموں کی بدولت نہ صرف خود امر ہو جاتے ہیں، بلکہ ملک و قوم کا سر بھی فخر سے بلند کرتے ہیں۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
ارفع کریم نے مختصر عمر پائی لیکن ایسے ایسے کارنامے انجام دے گئی جن کارناموں کے طویل عمر پانے والے خواب ہی دیکھتے ہیں اور اکثر تو محض سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں۔ شاید اسے جانے کی بہت جلدی تھی کہ محض 17 سال کی عمر میں اُس نے 70 برس جتنا کام انجام دے ڈالا۔ اُس نے اپنے عزم، حوصلے، عمل اور جذبے سے پوری دنیا کو باور کرا دیا کہ اگر مناسب مواقع میسر ہوں، تو پاکستانی خواتین دنیا میں کسی سے پیچھے نہیں۔ وہ صرف چولھے اور ہانڈی کی ماہر نہیں۔ اُنھیں مواقع دیے جائیں، تو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
علم و ذہانت کا خوب صورت شاہکار ارفع کریم نے 2 فروری 1995ء کو فیصل آباد کے ایک گاؤں چک نمبر 4 ج ب رام دیوالی کے ایک چھوٹے سے گھر میں آنکھ کھولی۔ اُس کے والد امجد عبدالکریم رندھاوا ایک آرمی آفیسر تھے۔ والد نے اپنی بیٹی کی آنکھوں میں ذہانت کی چمک دیکھتے ہی اُس کو کامیاب مستقبل دینے کا عزم کر لیا۔ تین سال کی عمر میں ارفع نے سکول جانا شروع کر دیا تھا، جب کہ اس کی ہم عمر بچیاں ابھی فیڈر سے چپکی ہوئی تھیں۔ اُسے کمپیوٹر میں خصوصی دلچسپی تھی۔ والد نے اُس کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جس کی بدولت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اُس کی دلچسپی بڑھتی گئی اور 2004ء میں صرف 9 سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل کا امتحان پاس کرکے اُس نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔ وہ دنیا کی کم عمر ترین مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل کے اعزاز کی مستحق بن کر اپنا ہی نہیں، پاکستان کا نام روشن کرنے کا بھی سبب بن گئی۔ بل گیٹس کی قائم کردہ مائیکرو سافٹ کارپوریشن کی خصوصی دعوت پر 2005ء میں ارفع کریم اپنے والد کے ہم راہ امریکہ پہنچی، جہاں آئی ٹی کے بے تاج بادشاہ بل گیٹس سے اُس نے مائیکرو سافٹ سرٹیفائڈ پروفیشنل کی سند حاصل کی۔ بل گیٹس کے سامنے ارفع کا اعتماد دیدنی تھا۔ یہ ایسی صورتِ حال تھی کہ جس کا سامنا کرتے ہوئے بڑے بڑے کوالیفائڈ لوگوں کی زبانیں لکنت زدہ ہوجاتی ہیں، مگر اس دس سالہ بچی نے مختلف پوائنٹس پر بل گیٹس سے اس قدر بھرپور انداز میں گفت گو کی کہ وہ مبہوت ہو کر اُسے دیکھتا رہ گیا۔
قبل ازیں پاکستان کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہاں عورتوں کو تعلیم کے زیادہ مواقع میسر نہیں۔ اس دورے میں ارفع کریم کو پاکستان کے دوسرے چہرے کا نام دیا گیا۔
ارفع کو اُس کے بعد دو ہفتے کے لیے دوبئی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے مدعو کیا گیا، جہاں اُنھیں مختلف تمغا جات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ دوبئی میں ہی ایک فلائنگ کلب میں ارفع نے صرف دس سال کی عمر میں ایک طیارہ کامیابی سے اُڑا کر پائلٹ کا لائسنس حاصل کیا۔
2005ء ہی میں ایک اور اعزاز ارفع کا منتظر تھا، ایسا اعزاز کہ جس کے حصول کے لیے لوگ پوری زندگی وقف کر دیتے ہیں، مگر محض چند لوگ ہی اس اعزاز کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ اسے ’’صدارتی تمغا برائے حسنِ کارکردگی‘‘ (پرائڈ آف پرفارمنس) سے نوازا گیا۔ صدرِ مملکت جناب پرویز مشرف نے اُسے یہ ایوارڈ عطا کیا۔ ارفع کو ’’مادرِ ملت فاطمہ جناح‘‘ طلائی تمغا بھی حکومت کی طرف سے ملا اور ’’سلام پاکستان یوتھ ایوارڈ‘‘ سے بھی نوازا گیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
کچھ مثالی بچی ارفع کریم کے بارے میں  
2 فروری، ارفع کریم کا یومِ پیدایش
14 جنوری، ارفع کریم کا یومِ انتقال
مائیکروسافٹ نے 2006ء میں بارسلونا میں تکنیکی ڈویلپرز کانفرنس منعقد کی جس کا موضوع تھا ’’دنیا سے دو قدم آگے۔‘‘ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین نے شرکت کی۔ پاکستان سے صرف ارفع کریم کو اس کانفرنس میں شرکت کا اعزاز ملا۔ اُسے رول ماڈل کے طور پر مدعو کیا گیا تھا، جو بجائے خود ایک بڑا اعزاز تھا۔
بلا شبہ ارفع کریم اپنی عمر سے بڑھ کر کام کرنے والوں میں سب سے آگے، سب سے نمایاں تھی۔ اُس کے بعد انٹر نیشنل سطح پر بہت سے ادارے ارفع کو اپنے ہاں مدعو کرتے رہے، جہاں وہ اپنے ملک کی بھرپور نمائندگی کرتی رہی۔ اُسے بیرونِ ملک سے بہت سی آفرز ملیں کہ اُن کے ہاں اپنی تعلیم مکمل کرے، مگر جس مٹی سے اُس کا خمیر اُٹھا تھا اور جس وطن سے اُسے عزت ملی تھی، اُسے چھوڑنا ارفع کے لیے ممکن نہ تھا۔ اُس نے تمام آفرز کو شکریے کے ساتھ واپس کر دیا۔
وہ مختصر سے وقت میں نوجوانوں کی آئیڈیل اور ہیرو بن گئی تھی۔ ہر دم مستعد، باحوصلہ اور ہمہ وقت مصروف رہنے والی ارفع کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ بہت جلد اپنے پیارے پاکستانیوں کو روتا چھوڑ جائے گی۔ 21 دسمبر 2011ء کی ایک سرد رات کو اُس نے سر درد کی شکایت کی، تو ماں نے حد سے زیادہ پڑھائی اور کمپیوٹر استعمال کرنے پر ڈانٹتے ہوئے دوائی دے کر آرام کرنے کے لیے لِٹا دیا، مگر کسے خبر تھی کہ اُس کے بعد وہ کبھی اُٹھ نہیں سکے گی۔ اگلی صبح ہارٹ اٹیک اور برین ہیمرج کے باعث اُسے جلدی سے سی ایم ایچ لاہور پہنچا دیا گیا، جہاں وہ 22 روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہی۔ پاکستان کے ہر گھر میں اُس کے لیے دعائیں کی جا رہی تھیں۔ بل گیٹس نے بھی اُس کی حالت کے پیشِ نظر نہ صرف اُس کے لیے بہترین معالجین کا بندوبست کیا، جو ویڈیو لنک کے ذریعے پاکستانی ڈاکٹروں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے بلکہ علاج کے تمام اخراجات کا ذمہ بھی لیا…… مگر علاج بیماری کا ہوتا ہے، موت کا کوئی علاج نہیں۔ 14 جنوری کی رات ارفع کریم ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئی۔
ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ارفع کا دماغ شدید متاثر ہوا تھا…… جس کا علاج ممکن نہ تھا۔ کم از کم پاکستان میں تو بالکل ہی نہ تھا، مگر وہ ننھی پری تو آئی ہی مختصر عرصے کے لیے تھی۔ اس مختصر عرصے میں بڑے بڑے کارنامے انجام دے کر وہ پریوں کے دیس سدھار گئی۔
حکومت نے بعد ازمرگ لاہور کے ایک آئی ٹی پارک اور کراچی کے آئی ٹی سنٹر کو ارفع کریم کے نام سے منسوب کیا۔ اُس کے گاؤں کو بھی ارفع کریم کا نام دیا گیا جب کہ وزیرِ اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے 2012ء میں ارفع کریم کے نام پر ڈاک کا یادگاری ٹکٹ جاری کرنے کی منظوری دی۔
واقعی اکثر لوگ محض زندگی گزارتے ہیں، جب کہ ارفع کریم جیسے چند لوگ زندگی جیتے ہیں…… اور یہی لوگ تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔