استادِ گرامی عمران صاحب سے افلاطون کے حوالے سے ایک گفت گو ہورہی تھی۔ میرا سوال اُن سے یہ تھا کہ ایسے تمام مفکر جو الٰہیات کے گرد اپنی فکر کا تانا بانا بنتے ہیں، یا مادے سے ماورا کسی غیر مرئی شے کو مطلق مان کر اپنا فکری نظام تشکیل دیتے ہیں، کیا اُن کو فلسفیوں کی فہرست سے خارج کردینا چاہیے؟ مشکل یہ پیش آتی ہے کہ افلاطون جیسا مفکر بھی فلسفیوں کی فہرست سے خارج ہوجاتا ہے۔
ابو جون رضا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/raza/
استادِ گرامی کا کہنا یہ تھا کہ افلاطون کے اعیان کے حوالے سے یہ کہنا بہت حد تک درست ہے اور افلاطون کے آئیڈیا میں سے مسیحیت کی خیالی جنت کا تصور باہر آتا ہے، جیسا کہ برٹینڈ رسل نے لکھا ہے کہ یہودیت میں ایسی خیالی دنیا کا کوئی خاص تصور موجود نہیں تھا۔
مذہب کی کلید انسان ہے۔ خدا کے روپ میں انسان نے اعلا ترین انسانی صفات کی صورت گری کی ہے۔
افلاطون کے اعیان نے الہامی مذاہب کے مشارحین کو جواز فراہم کیے کہ وہ دنیا سے لاتعلقی کے نظریات کو اس کے تعقلات کی روشنی میں ڈھونڈیں اور دنیا کی تغیر پذیری کے مقابل میں آسمان میں قائم پائیدار جنت کو متبادل کے طور پر پیش کریں۔
اسی وجہ سے 13ویں صدی تک مسیحی دینیات اور فلسفہ پر افلاطون کا اثر غالب رہا۔ مسیحیت نے افلاطون کی غار کی تمثیل سے حیاتِ جاودانی اور باطنی روح جیسے افکار اخذ کیے اور پھر ان کو تقدیس کے درجے پر پہنچا دیا ۔
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمایش سراب کی سی ہے
چشمِ دل کھول اس بھی عالم پر
یاں کی اوقات خواب کی سی ہے
ہیگل کے خیال میں مسیحیت کو عقلی نظم دینے میں بھی افلاطون کا بڑا ہاتھ ہے۔
کیرن آرم اسٹرانگ کے مطابق خدائے واحد کا نظریہ بھی مسیحیت نے افلاطون سے حاصل کیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
دو دوست، ابنِ رشد اور ابنِ طفیل 
فلسفہ کیا ہے؟ 
ارسطو، دنیا کا پہلا فلسفی 
کیا تاریخ فائدہ مند ہے؟ 
افلاطون نے ریپبلک میں بادشاہ کے لیے فلسفی ہونا تجویز کیا ہے، لیکن ’’اسٹیٹس مین‘‘ اور ’’لاز‘‘ میں وہ ایک احتسابی ادارے کی بات کرتا ہے، جس کا دایرۂ کار اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ اخلاقیات بھی اس کے تابع ہوجاتی ہے۔
افلاطون کا نظریہ یہ تھا کہ ریاست کو مذہب کا نظام سنبھالنا چاہیے اور اس کی مرضی کے بغیر کسی کو عبادت کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہاں وہ ’’پاپائیت‘‘ یا ’’تھیوروکریسی‘‘ کی راہ ہم وار کرتا نظر آتا ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ اولین ’’مکالمات‘‘ میں وہ سقراط کے خیالات پیش کررہا ہے، تو پھر ’’نظریۂ اعیان‘‘ سقراط سے منسوب ہوجاتا ہے، جب کہ ’’اسٹیٹس مین‘‘ اور ’’لاز‘‘ میں افلاطون کے نظریات موجود ہیں۔
افلاطون کے خیال میں الحاد ممنوع ہے اور وہ اس کے مرتکب لوگوں کے لیے سزائے موت تجویز کرتا ہے۔
افلاطون، پروٹو گورس کے اس نظریے سے اختلاف کرتا ہے کہ ’’ہر چیز کا پیمانہ انسان ہے۔‘‘ اس کے مطابق ’’ہر چیز کا پیمانہ خدا ہے۔‘‘ وہ اس دنیا میں موجود اشیا کے علم کو ناقص قرار دے کر عقل کو پیمانہ بنا کر ’’عین مطلق‘‘ تک پہنچتا ہے، جو الٰہیات میں خدا کے مترادف ہے۔ افلاطون کا سفر یہاں پر نہیں رُکتا، بلکہ وہ تناسخ اور حیاتِ ابدی کے تصور کو بھی عالمِ بالا سے منسلک کردیتا ہے۔
اس بنا پر میری طالب علمانہ رائے میں افلاطون کی فکر ایسی ماورائیت سے لب ریز ہے، جو فلسفہ کے دایرۂ کار میں نہیں آتی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔