تحریر: عبدالمعین انصاری
ابتدا میں انسان نے جب ہوش سنبھالا، تو جلد ہی وہ ارتقا کے اُس مرحلے پر پہنچ گیا کہ زبانیں وجود میں آگئیں۔ اُس نے اپنے احسات اور جذبات کے اظہار کے لیے چٹانوں اور غاروں کی دیواروں پر مختلف طریقوں سے تصویریں بنائیں اور اس کے ذریعے اُس نے اپنے جذبات، واقعات اور حالات کی منظر کشی کی۔ آج بھی اس قدیم مصوری کے بہت شاہ کار یورپ، ایشیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں محفوظ ہیں۔ پاکستان میں یہ آثار چیلاس کے علاقے میں دریائے سندھ کے کنارے ملتے ہیں۔
قدیم انسان نے گو اس طرح اپنے جذبات، ماحول اور حالات کا اظہار کیا، مگر اس میں قباحت یہ تھی کہ اس کے ذریعے تفصیلات نہیں دے سکتا تھا۔ اس کے لیے بڑے پتھروں اور دیواروں کا ہونا ضروری تھا اور ضروری نہیں تھا ۔ اس میں سب سے پہلے مصریوں نے پیش قدمی کی۔ اُنھوں نے 3 ہزار قبلِ مسیح یعنی پہلے خاندان کی حکومت کے آغاز میں اس تصویری فن کو ترقی دی اور ابتدا میں تحریر کی بنیاد تصویروں پر رکھی۔ مثلاً کسی مکان کو بتانا ہوتا تھا، تو ایک مستطیل شکل مکان کے لیے مخصوص کر دی گئی۔ مکان کو مصری زبان میں ’’فرو‘‘ (Fero) کہتے تھے۔ اس طرح اُنھوں نے کچھ اور تصویریں بنائیں، جو مفہوم کو واضح کرتی تھیں۔ مثلاً: شیر کے اگلے پاؤں سے مراد برتری اور عظمت تھا۔ اس طرح بعض ایسے نقوش بنائے گئے، جو دو اشیا یا مفہوموں کو بتاتے تھے۔ مثلاً: مصری زبان میں ’’ نیفر‘‘ بربط کو کہتے تھے اور’’نوفر‘‘ کے معنی اچھے کہتے ہیں۔ اب بربط کی شکل بنادی گئی اور اس سے دونوں مفہوم ’’ نیفر‘‘ اور ’’نوفر‘‘ یعنی بربط اور اچھا ادا ہونے لگے۔
کچھ عرصہ کے بعد مزید ترقی کی۔ مثلاً: فرو نے کچھ عرصہ بعد ’’ف‘‘ ، ’’ر‘‘ حروف کی صورت اختیار کرلی اور اس سے ایک سے زیادہ آوازیں ’’فَر‘‘ ، ’’فِر‘‘، ’’فُر‘‘ پھر ’’فا‘‘، ’’فے‘‘، ’’فو‘‘ بنائے جانے لگیں۔ اس طرح بربط سے ’’ن‘‘، ’’ف‘‘، ’’ر‘‘ کی آوازیں نکالیں۔ اس طرح مصریوں نے 24 نشانات یا تصاویر ایجاد کرلیں۔ ان سے ہر ایک مخصوص آواز کے لیے استعال ہونے لگا۔ چوں کہ یہ نشانات تصویر نما ہوتے تھے، اس لیے ان تحریروں کو تصویر نما ہیرو گرافگ تحریر کہتے ہیں۔ نیز وہ نشانات حروفِ تہجی کو نہیں بلکہ مخصوص آواز کو بتاتے تھے۔ اس رسم الخط کو صوتی رسم کرسیو الخط کے نام سے موسوم کیا گیا۔
اہلِ مصر نے اس فن کو ایجاد کرنے کے بعد اس کو بڑی ترقی دی اور اس میں جدتیں پیدا کیں۔ اسے رفتہ رفتہ اس قابل کرلیا کہ یہ تحریر کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے لگا۔ اس میں تمام اور ہر قسم کی تحریریں لکھنے لگے۔ اس میں بادشاہوں کے حکم نامے، ان کے کارنامے، تجارتی معاہدے، حسابات، مذہبی مناجاتیں اور دوسری تحریریں شامل تھیں۔
اس فنِ تحریر کو مزید ترقی فنیقیوں نے دی۔ وہ تاجر پیشہ تھے اور تاجرہونے کی وجہ سے اُنھیں تحریر کی شدید ضرورت تھی۔ اس لیے کاروباری ضرورت کی وجہ سے اُنھوں نے پہلے مصریوں کی تصویر نما علامات کو اختیار کیا اور اسے اپنی تحریروں میں استعمال کرنے لگے، مگر مصری علامات حروف کو نہیں بلکہ اشیا کو ظاہر کرتی تھیں۔ اس لیے اُن میں تحریر کرنا سخت دشوار تھا۔ اس لیے فنیقیوں نے ان علامات کو حروف میں تبدیل کر دیا، یعنی ان علامات سے بجائے اشیا کے حروف مراد لیے جانے لگے۔ مثلاً: مصری تحریر میں بیل کے سر کی جو شکل تھی، اُس کو اُنھوں نے ’’الف‘‘ اور مکان کی جو شکل تھی اس کو ’’ب‘‘ قرار دیا ۔ اس طرح اُنھوں نے 26 حروف ایجاد کرلیے۔ اس کے بعد اُنھوں نے فنِ تحریر کو اتنی ترقی دی کہ وہ اس میدان میں تمام قوموں کے رہنما بن گئے۔ یونانیوں نے فنیقیوں سے اس تحریر کو حاصل کرکے ’’الف‘‘ کو ’’الفہ‘‘ اور ’’ب‘‘ کو ’’بیٹا‘‘ کا نام دیا اور اسے پورے یورپ میں رائج کیا۔ انگریزی کا ’’الفہ بیٹ‘‘ اسی کا مرکب ہے، جس سے مراد حروفِ تہجی لیے جاتے ہیں۔ یوں قدیم تاریخ میں فنِ تحریر اور علمی ترقی میں فنیقیوں کا بڑا حصہ ہے۔
آرامی بھی تاجر تھے۔ اُنھوں نے بھی کاروباری ضرورت کے تحت شام میں فنیقیوں سے حروفِ تہجی لیے اور ضرورت کے تحت اس میں ترمیم کرکے ’’آرامی رسم الخط‘‘ ایجاد کیا اور دوسرے شہروں میں پہنچایا۔ اس سے جہاں فنِ تحریر کو ترقی حاصل ہوئی، وہاں آرامی زبان کو بھی عروج حاصل ہوا۔
پھر آشوریوں، کلدانیوں اور ایرانیوں نے آرامیوں سے اسے براہِ راست حاصل کرکے اپنے دفاتر میں رائج کیا۔ ایرانی فتوحات نے اس زبان کو پھیلا دیا اور آرامی زبان اور رسم الخط مصر سے لے کر سندھ تک پھیل گیا۔
چھٹی اور چوتھی قبل مسیح کے دوران میں عبرانیوں نے اسے حاصل کیا اور اس میں ترمیم کرکے ایک نیا عبرانی رسم الخط جاری کیا، جس میں بائبل لکھی گئی۔ حضرت عیسیٰ کی زبان آرامی ہی تھی۔ شمالی عربوں نے نبطیوں سے جنھوں نے آرامیوں سے حاصل کیا تھا، اس رسم الخط کو لیا اور اس میں تبدیلی کرکے اسے عربی رسم الخط میں ڈھالا۔ یہاں تک کہ یہ موجودہ رسم الخط بن گیا۔
آرامی رسم الخط ایرانیوں سے ہندوستان نے لیا اور اس میں ترمیم کرکے اس سے خروشتی رسم الخط بنایا گیا، جو کہ افغانستان اور پنجاب میں رائج تھا۔ اس خروشتی رسم الخط میں ترمیم کرکے اسے براہمی رسم الخط بنایا گیا۔ براہمی میں ترمیم کرکے سنسکرت اور دوسرے رسم الخط بنائے گئے۔ پھر بدھوؤں کے ذریعے اس رسم الخط نے چین اور کوریا تک رسائی حاصل کی۔ اس طرح فنیقی حروف تہجی اگر ایک طرف آرامیوں کے ذریعے مشرقی بعید تک پہنچے، تو دوسری طرف یونانیوں کے توسط سے یورپ اور پھر امریکہ میں داخل ہوئے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔