٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔
میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی یہ ذمے داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ طوطا تو اس بڑے لیول کے ذمے داری کبھی نہ اُٹھا سکے ہوں گے، مگر ہمارے تمام تر تفریحی پروگرام، پکنک، دعوتیں، افسران کی الوداعی پارٹیاں جس لیول اور جس تعداد کی بھی ہوں سب کچھ طوطا پر چھوڑو، اور بے فکر ہوجاؤ۔
فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/
ریاست کے دور میں ہم اکثر ’’ڈڈہ ھرہ‘‘ کے چشموں کے قریب پکنک مناتے۔سب لوگ یا تو دریا میں نہا رہے ہیں، یا تاش کھیل رہے ہیں…… مگر طوطا دنبوں کے کوٹس اُتار رہا ہے۔ مختلف طریقوں سے گوشت بھون رہا ہے۔ ملازمین مچھلیاں صاف کر رہے ہیں اور طوطا مختلف مصالحہ جات کا آمیزہ تیار کروارہا ہے۔ لذتِ کام ودہن کی ساری ذمے داری وہ سنبھالے ہوئے ہے۔
بچپن سے وہ ایسے ہی رہا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ہم یہی کوئی 8 یا 9 سال کے بچے تھے۔ طوطا اور میرا بھائی فضل وہاب 12 سال اور 14 سال کے درمیان تھے۔ ہم پیدل ہائیک پر مرغزار روانہ ہوگئے۔ ایک پارٹی طوطا کی قیادت میں آگے تھی، جو سڑک کے کنارے چاک سے مختلف نشانات بنا کر ہماری رہنمائی کر رہی تھی۔ ایک جگہ لکھا تھا:’’ہم کوکڑئی کے باغیچے میں!‘‘ تو ہم سڑک سے اُتر کر خوڑ کے کنارے چلے گئے، جہاں طوطا ایک بڑی سی مرغی ہانڈی میں ڈالے پکا رہا تھا۔ اُس میں پانی زیادہ تھا، مگر طوطا نے اُسی ابلتے ہوئے شوربے میں چاول ڈالا۔ چاول گھل گیا، مگر پانی کم نہ ہوسکا۔ ہم چلو بھر بھر کر اس سے چاول نکال کر ’’پی‘‘ رہے تھے۔ بہت سا آمیزہ بچ گیا۔ طوطا نے وہیں کھیت میں کام کرتے ایک کسان کو آواز دی: ’’ماما راشہ وروجے اوخورہ!‘‘ وہ اپنے بیٹے کو لے کر آگیا اور باقی ملغوبہ ان دونوں نے صاف کیا۔
ادغامِ ریاست کے بعد تو ہمارے یار طوطا کی ذمے داری اور بڑھ گئی۔ اگر کسی افسر کا سوات ٹرانسفر ہوجاتا، تو جو بالکل ناواقف تھے، اُن کو بہت فکر لگتی تھی کہ نئی جگہ ہے، نہ جانے سٹاف کیسا ہوگا، گھر کیسے چلے گا، جو پہلے یہاں رہ چکے تھے، وہ نئے آنے والے کو بتاتے: ’’یار! فکر نہ کرو۔ وہاں طوطا کا پوچھ لو۔ ہے تو سب انجینئر مگر کمال کا آدمی ہے۔ بس سب کچھ اس پر چھوڑو اور مزے کرو۔‘‘
ایسا ہی ایک نووارد جب سوات آیا تو بے چارا طوطا کا نام بھول گیا تھا۔ کیوں کہ اس کی پہچان اس نام سے اتنی پھیل گئی تھی کہ ہم کو خود عبدالروف سن کر اچنبھا سا ہوتا۔ وہ افسر پہلے سامان بنگلے میں رکھوا رہا تھا۔ وہاں ایک شخص سے پوچھا: ’’یار یہاں ایک سب انجینئر ہے۔ مجھے اُس کی اشد ضرورت ہے۔‘‘ اُس شخص نے پوچھا، سرکیا نام ہے ان کا؟ تو اس نے ٹوٹی پھوٹی پشتو میں کہا: ’’مرغی مرغی شان نام دے!‘‘یعنی کچھ پرندوں جیسا نام ہے۔کسی نے بتایا، اچھا! آپ طوطا کے بارے میں پوچھ رہے ہیں! وہ چلا کر بولے: ’’ہاں، وہی ہیں!‘‘
ہم اور طوطا نے زندگی کا زیادہ حصہ اکھٹے گزارا۔ وہ مئی 2018ء میں انتقال کرگیا۔ مَیں اُس سے کوئی دو مہینے پہلے اُس کے گھر پر ملا تھا۔ بہت کم زور دکھائی دے رہے تھے، لیکن مزاج کی شگفتگی اب بھی دل آویز تھی۔ طوطا خوش رہو، اللہ کی رحمتوں کے سائے میں،جنت الفردوس کی فضاؤں میں۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
ریاستِ سوات کے تعلیمی وظائف  
ریاستِ سوات کا خفیہ فنڈ  
تاریخِ ریاستِ سوات (تبصرہ) 
ریاستِ سوات کے خاتمے کا مروڑ؟ 
دوسری جنگِ عظیم میں ریاستِ سوات کا کردار 
٭ ہمارے بچپن میں "Patent” ادویہ کا وجود نہیں تھا۔سیدو ہسپتال ہو، سینٹرل ہو یا ڈگر، کروڑہ اور مدین کے بڑے ہسپتال ہوں، یا ڈسپنسریاں…… ریاست کی طرف سے سب کو ٹنکچرز اور سیرپس کی وافر مقدار مہیا کی جاتی تھی۔ گولیوں میں زیادہ تر کونین کی گولیاں،قبض کی بھورے رنگ کی ٹیبلٹس اور سلفونامائڈ ہوتی تھیں۔ انجکشن اینٹی بائیوٹک پنسلین مارفین اور پیتھاڈین وغیرہ تھیں۔ زخموں کے لئے ٹینکچر آیوڈین، آنکھوں اور کانوں کے ڈراپس، گلے کی خراش کے لیے تھروٹ ساور اور گلیسرین، مرہم کے بڑے بڑے کنستر، میڈیکل کاٹنز اتنی نرم سفید جسے ریشم…… ڈرسنگ کے لیے وافر اور بہترین کوالٹی کا کپڑا۔
صبح سویرے ہسپتال کے دواخانے کا عملہ آتا، تو پہلے فارماکوپیا میں درج شدہ تناسب کے لحاظ سے مختلف سیریپس اور ٹنکچر ملا کر مکسچر بناتے۔ پھر اُس میں پانی ملا کر شیشے کے بڑے بڑے بوتلوں میں بھر دیتے۔ہر دوا کا ایک نمبر تھا۔ ہمیں صرف اِس وقت دو نمبر یاد ہیں۔ ہاضمے کے لیے نمبر5 اور کھانسی کے لیے نمبر 16۔
ڈاکٹر نجیب صاحب تو بعد میں آئے تھے۔ اُن سے پہلے مجھے صرف غلام محمد یاد ہیں۔ ایک اور شخص جو بعد میں بہت مشہور ہوا، محبوب الرحمان نام کا ایک کمپاؤنڈر تھا،جو ابھی نوعمر لڑکا لگتا تھا۔ مَیں نے اُس کو سیدو ہسپتال میں مختلف مکسچرز تیار کرتے دیکھا تھا۔ وہ ایک خوش شکل نوجوان تھا، جو کئی سال بعد مشہور سیاسی لیڈر اور وفاقی وزیر بنا۔
ڈاکٹر ہوں یا کمپاؤنڈر اتنی تن دہی سے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے تھے کہ سب اپنے اپنے سے لگتے تھے ۔
اس وقت ایک مثال یاد آرہی ہے۔ میرے چہرے پر ایک پھوڑا سا نکل آیا تھا، جس کی وجہ سے مجھے بہت تکلیف ہورہی تھی۔ اُس پر کئی قسم کے "Potions” لگائے، مگر کچھ اِفاقہ نہ ہوا۔
کالج میں ایک دن خواجہ اشرف صاحب پرنسپل نے مجھے کہا، اس کا آپریشن کرواؤ،تاکہ اس کا مواد نکل جائے۔ مَیں ہسپتال گیا اور سیدھا ڈاکٹر نجیب کے کمرے میں گھس گیا، جہاں وہ مریضوں کا معائنہ کر رہے تھے۔ اُنھوں نے جلدی سے اُن دو مریضوں کو فارغ کروایا اور ایک اٹینڈنٹ سے کہا کہ آپریشن تھیٹر سے سرجری کے اوزار یہاں لاؤ۔ اس طرح وہیں پر اُس پھوڑے کو چیر دیا اور خود ہی صاف کرتے رہے۔ پھر اس میں ’’سٹرلائزڈ‘‘ کپڑے کے پلگ دے کر ڈرسنگ کردی۔
دو تین دن اُنھوں نے ڈرسنگ چینج کروادی۔سب کچھ خود ہی کرتے رہے،کسی اوٹی ٹیکنیشن کی مدد کے بغیر۔
آج کل کے ڈاکٹر حضرات کو اُن سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اسی لیے تو لوگ آج بھی ڈاکٹر نجیب، ڈاکٹر سرجن محمد عالم اور ڈاکٹر غلام محمد کا نام احترام سے لیتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔