ایک زمانہ تھا جب لڑکے، لڑکی کا نکاح والدین کی مرضی سے ہوتا تھا۔ لڑکے اور لڑکی کی مرضی معلوم کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا۔
اب جدید دور کے لوگ اس قسم کے نکاح کو جبری نکاح کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ زمانے میں ارتقائی عمل کے ساتھ اب محبت یا مرضی کے نکاح کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے۔ والدین کی مرضی کا نکاح جیسے بھی ہوتا تھا، بہت کم ناکام دیکھنے میں آیا، جب کہ مقابلتاً مرضی یا محبت کے نکاح کو ناکام ہوتے ہوئے ضرور دیکھا۔
فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/
پاکستانی سیاست میں مرضی کے نکاح کا رواج کم جب کہ جبری نکاح کا عام ہے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو نے جبری سیاسی نکاح سے انکار کیا، تو اُنھیں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا اور 11 سال تک جنرل ضیاء الحق ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنا رہا۔ جنرل ضیا نے محمد خان جونیجو کا نکاح اپنی مرضی سے طے کیا، تو جب تک محمد خان جونیجو اس جبری سیاسی نکاح کی پاس داری کرتا رہا، اُس کا اقتدار قائم رہا…… اور جب اس نے تھوڑی سی سرتابی کی، تو اسے اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اس طرح اسٹیبلشمنٹ نے جب بے نظیر بھٹو کو جبری سیاسی نکاح پر مجبور کیا، تو پھر جب تک بے نظیر بھٹو اس کی شرایط پر عمل درآمد کرتی رہی، اس کا اقتدار قایم رہا اور جب اس نے دائرے سے نکلنا چاہا، تو آئینی شق 58 (ٹو بی) کے تحت اُس کی حکومت تحلیل کر دی گئی۔
اگلی باری میاں محمد نواز شریف کی آئی، لیکن وہ بھی جبری سیاسی نکاح کی شرایط پورے نہ کرنے میں اقتدار سے محروم کردیے گئے اور ایک بار پھر بے نظیر بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ نے جبری سیاسی نکاح پر راضی کرلیا۔ اور جب تک بے نظیر بھٹو پاس داری کرتی رہیں، تو اُس کی حکومت قائم رہی…… لیکن جبری سیاسی نکاح کی شرایط کو نظر انداز کرتے ہی اقتدار سے محروم کردی گئی۔
قارئین! اقتدار کے بھوکے سیاسی عمائدین اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں کھیل کر اپنے آپ کو بے توقیر کرنے میں لطف محسوس کرتے رہے۔ پاکستان کی چھوٹی چھوٹی سیاسی پارٹیاں تو دور، بڑی پارٹیاں بھی جبری سیاسی نکاح کرنے میں عار محسوس نہیں کرتیں۔
نادیدہ قوتوں نے میاں محمد نواز شریف کو ایک بار پھر جبری سیاسی نکاح پر راضی کیا، لیکن اِن نادیدہ قوتوں سے پنگا لینے پر اقتدار سے محرومی کے ساتھ جَلا وطنی کے دن بھی دیکھنا پڑے۔ نتیجتاً جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
جنرل مشرف نے مسلم لیگ قاف کے بڑوں کو جبری سیاسی نکاح کرنے پر راضی کیا اور وہ نکاح کی شرایط پر پورا اترتے ہوئے پانچ سال تک اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔
میاں محمد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے جبری سیاسی نکاح پر مجبور ہوکر لندن میں آپس میں میثاقِ جمہوریت کے علاوہ جنرل مشرف کے ساتھ این آر اُو پر دستخط کر بیٹھے جس کے نتیجے میں دونوں کو وطن واپس آنے کی اجازت مل گئی۔
جبری سیاسی نکاح کی صورت میں دونوں سیاسی پارٹیوں کی لوٹ مار اور تمام غیرقانونی کام معاف کردیے گئے۔ دوسری طرف جنرل مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو آئینی اقرار دیا گیا۔ دونوں پارٹیوں میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کو 2008ء میں جبری سیاسی نکاح کا اقتدار ملا، جب کہ پاکستان مسلم لیگ نون کو 2013ء میں اقتدار کی باری ملی…… لیکن دونوں پارٹیوں کو جبری سیاسی نکاح کی بعض شرایط پر پورا نہ اترنے کی پاداش میں ایک، ایک وزیرِ اعظم سے ہاتھ دھونا پڑا۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان 22 سال ایوانِ اقتدار تک پہنچنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے۔ نادیدہ قوتوں نے سرگوشی میں اُنہیں جبری سیاسی نکاح کے فواید گنوائے۔ جب عمران خان جبری سیاسی نکاح پر بلا جبر و اکراہ تیار ہوگئے، تو 2018ء کے قومی الیکشن میں انھیں ایوانِ اقتدار تک پہنچا دیا گیا۔
پھر جب عمران خان نے دوسروں سے زیادہ جبری سیاسی نکاح کی شرایط سے روگردانی شروع کی، تو اُن کے ساتھ جبری سیاسی نکاح میں شامل متحدہ قومی موومنٹ، بلوچستان عوامی پارٹی اور دیگر حکومتی اتحادیوں کو عمران خان سے خلع کرنے پر مجبور کیا گیا…… اور عمران خان کو آئینی طریقے سے اقتدار سے ہٹایا گیا۔
تحریکِ انصاف کے منحرف ارکانِ قومی اسمبلی، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی (باپ) کو پی ڈی ایم کے پہلے سے جبری سیاسی نکاح کے پراجیکٹ میں شامل کیا گیا اور یوں پی ڈی ایم کو اقتدار دلائی گئی۔
طرفہ تماشا دیکھیے کہ کل تک ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، کرپٹ، قاتل لیگ، پنجاب کا بڑا ڈاکو، ہندوستانی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹ، بیرونی ایجنسیوں کے ہرکارے (وغیرہ) کے ناموں سے پکارنے والے اور دوسرے کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے والوں نے اقتدار کی خاطر آپس میں جبری سیاسی نکاح کیا اور اب اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہیں۔
قارئین! اب جوں جوں قومی الیکشن کے دن قریب آتے جا رہے ہیں، تو ملکی سیاسی نقشا اس تیزی کے ساتھ بدل رہا ہے کہ کل کیا ہوگا، اس کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اس لیے آج یہ سیاسی پارٹیاں اقتدار کی خاطر ایک بار پھر جبری سیاسی نکاح کے لیے پر تول رہی ہیں جب کہ بعض سیاسی لیڈر انفرادی طور پر ’’خلائی مخلوق‘‘ کی پسندیدہ پارٹی کے ساتھ جبری سیاسی نکاح کے لیے بے تاب ہیں۔
اتحادی حکومت کے حکم ران پریشان نظر آرہے ہیں کہ اُن کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ پریشانی کے اس عالم میں حکم ران ایسے اقدامات کررہے ہیں جو آنے والے قومی الیکشن میں اُن کے لیے نقصان دِہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس طرح حکم ران اتحاد کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انھیں یہ تک معلوم نہیں کہ ’’نادیدہ قوتیں‘‘ اتحاد میں شامل کون سی سیاسی جماعت کے جبری سیاسی نکاح کا اہتمام کرنے جا رہی ہیں؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔