(یہ تحریر مختلف کتب اور مقالات سے منتخب شدہ اقتباسات پر مشتمل ہے، جن کی تفصیل تحریر کے آخر میں درج ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام)
سوات کی سحر آگیں اور پُر بہار وادی سیر و سیاحت کے لیے دنیا بھر میں غیر معمولی شہرت کی حامل ہے۔ قدرت نے اس پُر فسوں خِطہ کو حسن و دل کشی اور رعنائی و زیبائی کے اَن گنت رنگوں سے سجا دیا ہے۔ یہاں کی فضائیں عِطر بیز اور مناظر سحر انگیز ہیں۔ برف پوش چوٹیوں، گن گناتے آبشاروں ، نباتات سے پُر، قدرتی صاف و شفاف پانی کے چشموں، طلسماتی جھیلوں، پُر شور دریائے سوات اور گل و لالہ کی اس مہکتی وادی کا ہر رنگ اتنا دِل پذیر اور طراوت بخش ہے کہ یہاں آنے والا ہر شخص اس کی خوب صورتی اور رعنائی میں کھو جاتا ہے۔ دنیا کے حسین ترین خطوں میں شامل یہ علاقہ، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے شمال مشرق کی جانب 254 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جب کہ صوبائی دارالحکومت پشاور سے اس کا فاصلہ 170 کلومیٹر ہے۔ 1998ء کی مردم شماری و خانہ شماری کے مطابق ضلع سوات کی کل آبادی 12 لاکھ 57 ہزار 6 سو 2 ہے اور اس کا کل رقبہ 5337 مربع کلومیٹر پر پھیلاہوا ہے۔ اس کے شمال میں ضلع چترال، جنوب میں ضلع بونیر، مشرق میں ضلع شانگلہ، مغرب میں ضلع دیر اور ملاکنڈ ایجنسی کے علاقے اور جنوب مشرق میں سابق ریاستِ امب (دربند) کا خوب صورت علاقہ واقع ہے۔ (1)
احمد علی شاہ مشال کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ahmad/
وادئی سوات کی قدیم نسلی تاریخ:۔
سوات ہندوکش کے برف پوش پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک خوب صورت جادوئی وادی کا نام ہے۔ زمانہ قدیم سے وادئی سوات اپنی زرخیزی، فطری حسن اور جغرافیائی محل و قوع کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمانۂ قدیم سے یہ علاقے جنگ و جدل کا شکار ہیں۔ ایرانی، یونانی، پارتھین، سیتھین، کشان، سفید ہن، ترک، منگول، عرب اور پشتونوں نے یکے بعد دیگر یہاں حملے کیے اور اس زرخیز خوب صورت علاقے پر اپنا تسلط جمانے کی کوششیں کیں۔ قدیم تاریخ میں سوات کو سواستو، شیوتا اور اُدھیانہ کے ناموں یاد کیا گیا ہے۔ اطالوی ماہرِ آثار قدیمہ ڈاکٹر "Lucca Maria Olivier” کے بقول پہلی بار چوتھی صدی عیسوی میں چینی سیاح فاہیان نے سوات کو ادھیانہ کے نام سے یاد کیا ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ قدیم ادھیانہ میں آج کے پورے سوات سمیت دیر، باجوڑ، بونیر اور دیامر تک کے علاقے شامل تھے۔ آج کل اگرچہ اس زرخیز اور خوب صورت علاقے کے میدانوں میں پشتون اکثیریت میں آباد ہیں، لیکن قدیم تاریخ سے لے کر جدید تحقیق تک سوات کے اولین آبادکار ہند آریائی داردی زبانیں بولنے والے قبائل تھے، جنھیں مختلف حملہ آوروں نے مختلف وقتوں میں میدانی علاقوں سے بے دخل کیا۔ سوات اور دیر کے بالائی علاقوں میں آباد ہند آریائی توروالی اور گاؤری لوگ ان داردی اقوام کے بچے کچھے لوگ ہیں جو کبھی اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ سوات کے مختلف علاقوں سے ملنے والے آثارِ قدیمہ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ہند آریائی داردی قبائل یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔ موجودہ مینگورہ کے قریب واقع بت کڑہ سے اطالوی ماہرین کو کچھ انسانی ہڈیاں ملیں۔ ان میں سے ایک کھوپڑی کے سائنسی تجزیے کے بعد پتا چلا کہ یہ کسی توروالی شخص کی کھوپڑی ہے جو کسی زمانے میں یہاں رہتے تھے۔
توروالی ایک ہند آریائی داردی قوم ہے جو آج کل بالائی سوات یا تحصیل بحرین میں رہتی ہے۔ توروال کے مقامی لوک روایات بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ موجودہ علاقوں میں آنے سے پہلے یہ لوگ سوات کے زرخیز میدانوں میں آباد تھے۔
سوات کے علاقے (کاٹیلئی موجودہ نام آمان کوٹ)، گوگدرہ اور اوڈیگرام سمیت بریکوٹ، لوئے بنڑ وغیرہ سے جو پرانی قبریں اور دوسرے آثار ملے ہیں، ماہرین کے مطابق یہ ہند آریائی داردی لوگوں کے آثار ہیں جو کسی زمانے میں اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس قسم کی قبریں آج بھی دیر، سوات اور کوہستان سمیت چترال اور نورستان و کونڑ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان پرانی قبروں کو پروفیسر احسن دانی نے گندھارا گورستانی کلچر کا نام دیا ہے۔ (2)
ہندوستان کی تاریخ سے شغف رکھنے والے دوست پساچہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ ہندی اساطیر میں پساچہ کا مطلب کچا گوشت کھانے والوں کو کہا جاتا ہے۔ پساچہ یعنی دیو اور جن بھوت جو کچا گوشت کھاتے ہیں۔ یہ ایک قسم کا نیچ نام تھا جو میدانی علاقوں میں آباد ہند آریائی قبائل نے پہاڑی ہند آریائی قبائل کو دیا ہے۔پساچہ چوں کہ حقارت انگیز نام تھا، اس لیے بعد کے مورخین نے ان لوگوں کو مقامی قبائلی ناموں کے ساتھ ساتھ داردی نام سے یاد کیا ہے۔
دارد پشائی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی گھاٹیوں کے رہنے والے ہیں۔ پشائی ایک داردی زبان ہے جو آج کل افغانستان کے کئی علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ بعض محققین کے نزدیک پشائی قدیم پساچہ زبان کی ایک شکل ہے اور یہ تمام داردی زبانوں کی ماں ہے۔ یہاں اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بدھ عہد میں پشائی قبائل اس پورے علاقے میں پھیلے ہوئے تھے اور بدھ مت کی تعلیمات پشائی زبان میں ہی دی جاتی تھیں۔ پروفیسر توچی "Giuseppe Tucci” مشہور بدھ حکم ران آشوکا کے عہد اور گندھاری زبان پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:آشوکا کے تبدیلیِ مذہب کے بعد اس کے بدھ مذہبی مبلغین نے افغانستان کا رُخ کیا۔ وہاں ان کا مختلف نسلوں اور زبانوں اوربولیوں سے واسطہ پڑا۔ ان میں سے زیادہ تر ویدک روایات سے باہر تھیں، لیکن تھیں ہند آریائی ہی۔ جو بولیاں یہ لوگ بولتے تھے، وہ مرکزی ہندستانی سے مختلف تھیں۔ ہندوستانی ان بولیوں کو پساچہ پکارتے تھے۔ جس کو ابھی گندھاری یا شمال مغربی بولی بھی کہا جاتا ہے۔
آگے چل کر وہ ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: چینیوں کے نزدیک ادھیانہ میں لکھی گئی اکثر کتابیں پساچہ زبان میں لکھی گئی تھی۔ (3)
ہیروڈوٹس کی تاریخ سے ہمیں پتا چلتا ہے۔ ایخی مینی سلطنت (Achaemenian) کا ساتواں صوبہ چار مختلف قسم کی قوموں پر مشتمل تھا: ساتا گیدائی، گندھاریوئی، دادی کائی اور آپارتائی۔ مذکورہ دلائل کی روشنی میں ہم کَہ سکتے ہیں کہ "Achemenid” سلطنت کے وقت سوات گندھارا کا حصہ نہیں تھا بلکہ اس کی اپنی اہم حیثیت تھی جہاں دادیکائی قوم آباد تھی جو "Achaemenian” سلطنت کو خراج ادا کیا کرتی تھی اور ضرورت کے وقت فوجی دستے بھی مہیا کیے جاتے تھے۔ دادیکائی دارد ہیں جن کا ذکر پُرانا (Puranic) جیوگرافیکل لسٹ میں درادا کے نام سے ہوا ہے۔
دوسرے الفاظ میں ہم کَہ سکتے ہیں کہ "Achaemenian” کا ساتواں صوبہ چار مختلف نسلی اکائیوں پر مشتمل تھا جن میں دادی کائی آج کے داردی ہیں جو جنگ کے وقت سلطنت کو فوجی دستے مہیا کرتے تھے۔ ایک دوسری جگہ "The Histories of Herodotus” میں یروڈوٹس جس کا اُردو ترجمہ یاسر جواد نے کیا ہے، فارس کی لشکر کے بارے میں بتاتے ہوئے دادیکائی کے بارے میں لکھتا ہے:
پارتھیوں، کورا سمیوں، سوگدیوں، گنداریوں اور دادیکے کے پاس بالکل باکتریوں والے ہتھیار تھے۔ پارتھیوں اور کوراسمیوں کا سالار ارتابازس ابن فارناسیز تھا، سوگدیوں کا ازانیس ابن ارتیئس اور گنداریوں اور دادیکے کا ارتی فیئس ابن ارتا بانس تھا۔
ان سب دلائل کے باجود یہ کہنا کہ سوات میں صرف دارد النسل قبائل آباد تھے، غلط ہوگا۔ کیوں کہ یہ ایک مشہور اور زرخیز علاقہ تھا اور وقت کے ہر طاقت ور نے اس پر قبضہ جمانے کی کوششیں کیں۔ اس لیے یہ کہنا شائد ٹھیک ہوگا کہ سوات میں دارد النسل قبائل کے ساتھ دوسری چھوٹی نسلی اکائیاں بھی رہتی تھیں لیکن اکثریت داردی قبائل پر مشتمل تھیں جس کی شہادت سوات کی قدیم تاریخ اور آثارِ قدیمہ سے بھی ہوتی ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق سوات کے لوگ بدھ مت سے پہلے اپنے قدیم ہند آریائی مذاہب پر عمل کرتے تھے۔ بدھ مت کے آنے کے بعد قدیم مذاہب اور نیا مذہب ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ بعد میں جب بدھ مت زوال پذیر ہوا اور براہمن ازم کو عروج حاصل ہوا، تب بھی قدیم داردی مذاہب اور نئے مذہب کے ماننے والے ایک ہی گاؤں اور علاقے میں رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم سوات میں ہمیں ایک ساتھ کئی مذاہب کے ماننے والے نظر آتے ہیں۔ (5)
انگریز سکالر "S. H. Godfrey” جس نے 1912ء میں دیر کوہستان کا دورہ کیا تھا، اپنی تصنیف "A summer exploration in the Punjkora Kohistan” میں لکھتے ہیں:
چبوترا نما گاؤں کے اوپر ایک راستہ ڈھلوان پر موجود قلعے کی باقیات کی طرف جاتا ہے۔گاؤں والوں نے بتایا کہ ان کے جد امجد بیرا نے یہ قلعہ تعمیر کیا۔ بیرا غیر مسلم تھا، جب اس کے گاؤں کو 8 سو سال پہلے مسلمانوں نے تباہ کیا، تو وہ یہاں آکر آباد ہوا۔ اس کہانی کی تصدیق ان یوسف زئیوں کی روایات سے بھی ہوئی جنھوں نے بالائی سوات بریکوٹ پر قبضہ کیا تھا اور انھوں نے مجھے یہی کہانی سنائی جب مَیں نے بریکوٹ سوات کا دورہ کیا تھا۔ اس قدیم قلعے کے مقام جس کے آثار جو اَب بھی نمایاں ہیں بالکل اس طرح بنے ہیں جس طرح ملاکنڈ اور ڈگر پاسز میں تباہ شدہ گھروں اور قلعے بنے تھے۔ یہ گھر اور قلعے جن کے بارے میں سوات کے یوسف زی اب صرف اتنا کَہ سکتے ہیں کہ ان کو کافروں نے تعمیر کیا تھا۔ دیر کی وادیوں تالاش اور دش خیل میں کھنڈرات سے مماثل ہیں۔ اس میں اب بہت کم شک کی گنجایش رہ گئی ہے کہ کوہستانی زیریں سوات اور دیر کے قدیم باشندوں کی نسلوں سے ہیں۔ دش خیل کوہستانی اب بھی دش خیل وطن کو اپنی ملکیت مانتے ہیں۔ جو اب یوسف زیوں کے قبضے میں ہے۔ دش خیل ایک مشہور گاوری قبیلہ ہے جو ان حملوں کے وجہ سے دش خیل تالاش زیریں دیر سے بالائی کوہستان پناہ لینے آئے تھے۔ ماضیِ قریب تک یہ لوگ گاوری زبان کا ایک لہجہ بولتے تھے، جو دش خیل سے تعلق کی وجہ سے دشوا پکاری جاتی تھی۔ دشوا یعنی دش لوگوں کی زبان۔ بعد کے زمانے میں دشوا لوگ آس پاس پھیل گئے اور اپنی مادری زبان چھوڑ کر کہیں مین گاوری اپنائی، تو کہیں توروالی اور کہیں پشتو بولنے لگے۔ یوں دشوا زبان آہستہ آہستہ ختم ہوگئی۔
سوات کے آخری غیر مسلم راجہ گرا کے بارے میں اگرچہ ہمیں آج اتنا کچھ معلوم نہیں لیکن بالائی پنج کوڑہ اور سوات میں آباد توروالی اور گاؤری داردی اقوام ان کو اپنا ہم نسل اور جد امجد مانتے ہیں۔
محققین کے بقول غوریا خیل نے خاخی یا خشی کو شکست دی اور علاقے سے باہر نکال پھینکا۔ چناں چہ خاخی یا خشی قبائل جن میں یوسف زی، ترکلانی اور گگیانی وغیرہ قبائل شامل ہیں، نے نشیب کی طرف وادیِ کابل کا رُخ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس ہجرت میں اتمان خیل بھی ان کے ساتھ شامل ہوئے تھے ۔ کابل میں آباد ہونے کے بعد خاخی قبیلے کے تین گروپ بن گئے۔ یوسف زی، ترکلانی اور گگیانی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی طاقت میں اضافہ ہوا یہاں تک کہ انھوں نے کھلے عام مغل حکم ران الغ بیگ سے بغاوت کی۔ الغ بیگ نے دھوکے سے کام لیا اور کئی سو یوسف زی سرداروں کو قتل کرکے انھیں کابل سے بے دخل کیا۔ یوسف زی نے کابل سے نکلنے کے بعد وادیِ پشاور کا رُخ کیا۔ پشاور کے میدانوں میں اُس وقت دلہ زاک رہتے تھے۔ پشتون بزرگوں کے نزدیک دلہ زاک کرلانی پشتون ہیں۔ پشاور کے میدانوں میں اس وقت دلہ زاک آباد تھے۔ دلہ زاک نے یوسف زئیوں کو پناہ دی، لیکن کچھ عرصہ بعد دونوں کے درمیان جنگیں چھڑگئیں۔ یوسف زئیوں نے لگا تار لڑائیوں کے ذریعے دلہ زاک کو دریائے سندھ سے پرے دھکیلا اور خود پشاور پر قابض ہوئے۔ دلہ زاک پہلا پشتون قبیلہ ہے جو غزنوی لشکر کے ساتھ یہاں آیا اور آباد ہوا تھا۔ ان سے پہلے ان علاقوں میں پشتون نہیں تھے۔ پشاور کے میدانوں پر قبضہ کرنے کے بعد یوسف زئیوں نے سوات کے زرخیز علاقے پر نظریں گاڑ دیں۔
سوات اور باجوڑ پر اس وقت گبری سلاطین حکم ران تھے۔ گبری سلاطین کو کسی نے آتش پرست کہا ہے، تو کوئی اسے تاجک سمجھتا ہے، لیکن درحقیقت ان کا تعلق یہاں آباد قدیم داردی اقوام سے تھا۔ (5)
گبری سلاطین کی رعایا سوادی کہلاتی تھی۔ بعض پشتون گبری کے ساتھ ساتھ قدیم سواتیوں کو بھی پشتون لکھتے ہیں اور انھیں سواتی پھٹان کہتے ہیں لیکن جس طرح گبریوں کا پشتونوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، اُسی طرح قدیم سواتی کسی بھی لحاظ سے پشتون نہیں تھے۔ پشتون یہاں پہلی بار غزنوی لشکر کے ساتھ آئے اور ان میں سے بھی زیادہ تر واپس چلے گئے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت غزنوی مسجد ہے۔ کیوں کہ مسلمانوں کے جانے کے بعد مقامی لوگوں نے اپنے قدیم مذاہب پر دوبارہ عمل شروع کیا تھا اور پشتون اس وقت مسلمان تھے۔
تواریخ حافظ رحمت خانی کے بقول سوادی یا سواتیوں کو یہ نام یوسف زیوں نے دیا تھا۔ یوسف زئی جب یہاں آئے، تو سوات کے سلاطین گبری زبان بولتے تھے اور رعایا دری زبان بولتے تھے۔ تواریخ حافظ رحمت خانی لکھتا ہے:
اس زمانے میں سوات کے سلاطین اور جہانگیری گبری زبان بولتے تھے جب کہ رعایا دری زبان بولتے تھے۔ اس زمانے میں سوات کے لوگ انھی دو زبانوں میں بات کرتے تھے۔
مشہور محقق اور ماہر ہندوستانیات پروفیسر ٹوچی قدیم سواتیوں پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
سواتیوں کی زبان داردی تھی۔ ان کی الگ کوئی پہچان نہیں تھی لیکن یہ وہ دارد تھے جو وسیع رقبے پر پھیلے ہوئے تھے۔ (6)
قرآنِ کریم میں اللہ پاک نے زبانوں کو اپنی قدرت کی نشانیاں کہا ہے۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کی ایک وجہ زبان بھی ہے۔ زبان کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اس کا استاد خود خداوندِ کریم ہے۔
وطنِ عزیز پاکستان ایک کثیراللسان ملک ہے۔ پاکستان میں مختلف لہجوں سمیت 72 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ زبانوں کے لحاظ سے پاکستان کے شمالی حصے بہت زرخیز ہیں۔ ضلع سوات میں بنیادی طور پر چھے زبانیں بولی جا تی ہیں، یعنی ان زبانوں کے بولنے والے یہاں کے مستقل باشندے ہیں۔ ان میں ’’پشتو‘‘، ’’گوجری‘‘، ’’توروالی‘‘، ’’گاوری‘‘، ’’اوشوجو‘‘ اور’’ قشقاری‘‘ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ اَباسین کوہستان سے بھی بہت سارے لوگ یہاں آکر آباد ہوئے ہیں، اور وہ جو زبان بولتے ہیں، ماہرینِ لسانیات نے ان کو، ’’کوہستی‘‘، ’’خیلی‘‘، ’’مایوں‘‘، ’’میر‘‘ اور ’’شوتون‘‘ وغیرہ کے ناموں سے یاد کیا ہے۔ اس طرح سوات کوہستان کے لوگ اُردو بھی بولتے ہیں اور دفتری کارروائی انگریزی میں ہوتی ہے۔ (7)
یوسف زئیوں کی آمد کے بعد ہمیں سوات میں باقاعدہ طور پر پشتو زبان و اَدب کے آثار نظر آتے ہیں، اور اس طرح یہ زبان ریاستِ سوات میں خوب ترقی کر کے سر کاری زبان کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ جب سوات ایک باقاعدہ ریاست کی شکل اختیار کرگیا، تو اس وقت ’’فارسی‘‘ ریاست کی سرکاری زبان تھی۔ 1937ء سے پشتو باقاعدہ طور پر سرکاری زبان قرار دی گئی۔ اگرچہ میاں گل عبدالودود نے اپنی سوانح حیات میں لکھا ہے کہ ریاست کی باگ ڈور سنبھالتے ہی اس نے پشتو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا تھا، اور تمام رجسٹرات، اسٹامپ پیپر اور دیگر کاغذات پشتو میں چھاپے گئے، لیکن میاں گل عبدالودود نے ریاست کی باگ ڈور 1917ء میں سنبھالی ہے، اور ریاستِ سوات کا ریکارڈ دیکھنے سے پتا چلتا ہے کہ جون 1937ء سے جون 1947ء تک پشتو سوات کی سرکاری زبان رہی ہے۔ جون 1937ء سے پہلے کے رجسٹرات اور دیگر ریکارڈ فارسی زبان میں لکھا ہوا ملتا ہے، اور اس طرح جون 1974ء کے بعد کا ریکارڈ ’’اُردو‘‘ میں ہے۔ (8)
پشتو کے علاوہ یہاں کی دوسری اہم زبان ’’گوجری‘‘ ہے، جسے مقامی لوگ ’’گوجرو‘‘ بھی کہتے ہیں۔ گوجری زبان بولنے والے سوات میں تقریباً ہر جگہ موجود ہیں۔ اس قوم میں بعض لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں، اور خانہ بدوش ہوتے ہیں۔
تیسری اہم زبان ’’توروالی‘‘ ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند آریائی زبانوں کی ’’دردی‘‘ شاخ سے ہے۔ یہ زبان مدین سے شمال کی طرف ’’اسریت‘‘ اور ’’چیل‘‘ میں بولی جاتی ہے۔ بحرین اس کا مرکز ہے۔ 1987ء کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 60 ہزار لوگ یہ زبان بولتے ہیں۔ اس زبان پر فریڈرک بارتھ، جارج مورگنسٹرائن، جان بڈلف، گرئرسن اور کلوین رنچ وغیرہ محققین نے کام کیا ہے۔
سوات کی چوتھی اہم زبان ’’گاوری‘‘ ہے۔ اس کو ماہرینِ لسانیات نے ’’گاروی‘‘، ’’کالامی‘‘، ’’کالامی کوہستانی‘‘ وغیرہ کے ناموں سے یاد کیا ہے۔ یہ زبان بھی ہند آریائی زبانوں کی ذیلی شاخ ’’درد‘‘ سے تعلق رکھتی ہے۔ یہ زبان ’’کالام‘‘، ’’اوشو‘‘، ’’تھل لاموتی‘‘، ’’راجکوٹ‘‘ اور ’’دشوا‘‘ میں بولی جاتی ہے۔ ان مختلف علاقوں میں بولے جانے والے لہجوں میں 10 سے 25 فی صد تک فرق موجود ہے۔ اس کے علاوہ ’’گاوری‘‘ ایک علاحدہ لہجے کے ساتھ دیر کوہستان کے کلکوٹ کے علاقے میں بولی جاتی ہے، جو ’’کلکوٹی‘‘ کہلاتی ہے۔ کالام اور دیگر علاقوں کی زبان اور ’’کلکوٹی‘‘ میں تقریباً 31 فی صد لہجوں کا فرق پایا جا تا ہے۔ اس زبان پر بھی بہت سے مقامی اور غیر مقامی محققین نے کام کیا ہے۔ مقامی محققین میں ’’محمد زمان ساگر‘‘ نے اس زبان پر کافی کام کیا ہے۔
پانچویں اہم زبان ’’اوشوجو‘‘ ہے۔ یہ زبان وادئی چیل کے علاقے بشیگرام میں بولی جاتی تھی۔ 1992ء کے اعداد و شمار کے مطابق دو ہزار افراد یہ زبان بولتے تھے، لیکن ’’گاوری‘‘ زبان کے ماہر، کالام کے رہنے والے ’’محمد زمان ساگر‘‘ نے تین سال پہلے اسلام آباد میں ایک ورکشاپ کے دوران میں راقم کو بتایا تھا کہ اس زبان کے بولنے والوں میں صرف ایک عمر رسیدہ شخص با قی ہے، اور اس کے علاوہ دیگر تمام لوگوں نے ’’توروالی‘‘ زبان کو اپنا لیا ہے، اور اب وہ اپنی زبان کو مکمل طور پر فراموش کر چکے ہیں۔
یہ زبان ’’توروالی‘‘ زبان کے ساتھ 35 فی صد مشابہت رکھتی ہے۔
چھٹی اہم زبان ’’قشقاری‘‘ ہے۔ یہ زبان وادئی سوات کے ’’اوشو‘‘ کے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ اس زبان کا تعلق ہند آریائی زبانوں کے شمال مغربی ’’درد‘‘ شاخ سے ہے۔ اصل میں یہ ’’کھور‘‘ زبان کا ایک لہجہ ہے۔ (9)
وادیِ سوات جہاں حسن و دل کشی کا حسین مرقع ہے، وہاں تاریخی اعتبار سے بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ قدیم زمانے میں یہ اپنی خوب صورتی اور شادابی کی وجہ سے بہت سے حملہ آوروں کی شکار رہ چکی ہے۔ لیکن یہاں کے رہنے والوں نے ہر دور میں غلامی کی زندگی پر موت کو ترجیح دی ہے اور کسی بھی دور میں کسی کے زیرِ نگین رہنا قبول نہیں کیا۔ اس مردم خیز سرزمین نے بہت سی قابل اور تاریخ ساز شخصیات کو جنم دیا ہے۔ جنھوں نے اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے تاریخ کے اوراق میں خود کو زندہ و پائندہ کر دیا ہے۔
قدیمی کتب میں سوات کا ذکر مختلف ناموں سے آیا ہے۔ جن میں سواستوس، سواد، اساکینی اور اُودیانہ وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اُودیانہ(Udyana) سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں گلستان یا باغ۔ وادیِ سوات کی بے پناہ خوب صورتی اور اُس کے حسین مناظر اور دل کشی کے باعث اُس کا اودیانہ نام زیادہ خوب صورت اور موزوں نظر آتا ہے۔ کیوں کہ اس نام پر سوات کو باغ اور گلستان سے تشبیہ دی گئی ہے اور اُس کا یہ نام اسم بامُسمّٰی ہے۔ یونانی مورخین نے ، جو سکندرِ اعظم کے ساتھ یہاں آئے تھے، اپنی رسم کے مطابق اس علاقہ کا ذکر اس کے دریا کی نسبت سے کیا ہے۔ جواَب دریائے سوات اور اس عہدِ قدیم میں سواستو (Swastu) کہلاتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ سویتا (Sweta) سے مشتق ہے، جس کے معنی سپید کے ہیں۔ یقین کیا جاسکتا ہے کہ اس علاقے کے صاف و شفاف سپید پانی کے ندی نالوں اور دریا کی وجہ سے اُسے ’’سواستو‘‘ یا ’’سویتا‘‘ پکارا گیا ہوگا جو بعد میں چل کر سواد، جیسا کہ مغل بادشاہ بابر کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے ، اور پھر سوات بن گیا۔
چھٹی صدی (ق۔م) سے لے کر جب یہ علاقہ ایرانی شہنشاہوں کی عظیم سلطنت کا ایک حصہ تھا،موجودہ دور تک سوات نے بڑے اہم انقلابات دیکھے ہیں۔ ڈھائی ہزار (ق۔م) میں آریائی نسل کے لوگ جب برصغیر میں داخل ہوئے، تو وہ اسی وادی سے ہوکر گزرے تھے۔
326 (ق۔م) میں سکندرِ اعظم ایران کو فتح کرکے کابل کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہوا، تو وہ علاقہ کونڑ (Conar) کابل سے ہوتا ہوا وادیِ سوات میں داخل ہوا اور سوات کے بانڈئی نامی گاؤں کے قریب دریائے سوات کو عبور کر کے منگلور (سوات) تک پیش قدمی کی۔ سکندرِ اعظم اپنی فوج کے ہم راہ منگلور سے باہر ایک بڑے میدان میں مقیم ہوگیا۔ یہاں ایک زبردست معرکہ کے بعد جنگ بندی ہوئی اور سکندرِ اعظم اپنی من مانی شرائط منوا کر سوات میں مزید پیش قدمی کرتا ہوا آگے بڑھا اور دریائے سندھ کو عبور کرکے پنجاب میں داخل ہوا۔ سکندر کے زمانے میں سوات کا راجہ ارنس تھا، جسے سکندر نے شکست دی تھی۔ تاریخ میں مذکور ہے کہ سکندرِ اعظم کو اپنی فتوحات کے دوران صرف سوات میں سخت ترین مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس میں وہ زخمی بھی ہوا۔ اُس وقت یہاں کے لوگ بدھ مذہب کے پیروکار تھے۔
100ء میں سوات میں بدھ مت عروج پر تھا۔ اس وقت سوات سلطنت گندھارا کا ایک اہم حصہ تھا اور اس پر راجہ کنشک کی حکم رانی تھی، جس کا پایہ تخت پشاور تھا۔
403ء میں مشہور چینی سیاح اور بدھ مت کے مقدس مقامات کا زائر فاھیان سوات آیا۔ 519ء میں ایک اور مشہور چینی سیاح سنگ یون کافرستان سے ہوتا ہوا سوات میں داخل ہوا۔ 630ء میں چین کا ایک تیسرا معروف سیاح، بدھ مذہب کا عالم اور زائر ہیون سانگ کابل سے ہوتا ہوا سوات آیا۔ چینی سیاحوں میں آخری مشہور سیاح وکنگ تھا، جو 752ء میں سوات آیا۔ ان چینی سیاحوں نے اپنے اپنے سفرناموں میں سوات کے اس وقت کے مذہبی، معاشی، تہذیبی اور ثقافتی حالات کے متعلق تفصیلاً لکھا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سوات میں بدھ مت کا دور دورہ تھا اور یہاں کے لوگ کافی ترقی یافتہ اور خوش حال تھے۔
گیارھویں صدی عیسوی میں محمود غزنویؒ کی افواج باجوڑ کے راستے سوات میں داخل ہوئیں جنھوں نے اس وقت کے راجہ گیرا نامی حکم ران کو شکست دے کر سرزمینِ سوات کو اسلام کی ابدی قندیل سے روشن و تاباں کر دیا۔
1485ء میں کابل کے چغتائی ترک حکم ران الغ بیگ نے قبیلہ یوسف زئی کی سرکردہ شخصیتوں کو دھوکے سے قتل کر دیا۔ شیخ ملی اور ملک احمد خوش قسمتی سے اس قتل عام سے بچ کر اپنے بچے کھچے قبیلے کے ہم راہ پشاور میں داخل ہوئے اور ایک طویل لڑائی کے بعد یوسف زئی قبیلہ پشاور، مردان اور سوات پر قابض ہوگیا۔
1515ء میں سوات کے بادشاہ سلطان اویس کو تخت و تاج سے معزول کرکے سوات کے پُرانے باشندوں کو مانسہرہ، ہزارہ چلے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔ (10)
1516ء میں جب مغل بادشاہ بابر افغانستان سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی غرض سے جا رہا تھا، تو اُس نے سب سے پہلے سوات پر لشکر کشی کی، لیکن اُسے یہاں منھ کی کھانی پڑی۔ آخر یوسف زئی قبیلہ کے سردار شاہ منصور کی بیٹی سے مصلحتاً (ڈپلومیٹک) شادی کی اور یہاں کے یوسف زئی قبیلہ کے باشندوں سے صلح کر کے انھیں اپنے لشکر میں شامل کیا اور بعد میں ہندوستان کو فتح کرلیا۔
1530ء میں شیخ ملی نے ویش (زمینوں کی تقسیم) کا طریقہ رائج کیا اور یوسف زئی قبیلہ میں زمینوں کی باقاعدہ تقسیم عمل میں لائی گئی۔ بابر کے مرنے کے بعد اُس کے بیٹے ہمایوں نے سوات کو بزورِ شمشیر فتح کرنا چاہا، لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ اِسی طرح تاریخ کا یہ دور گزرتا ہوا اکبر بادشاہ تک آن پہنچتا ہے، جس نے 1586ء میں سوات پر حملہ کیا لیکن شکست کھا کر پسپا ہونے پر مجبور ہوا۔
1825ء میں سید احمد شہید نے ان علاقوں (پنجتار) میں سکونت اختیار کرلی اور اپنی سرکردگی میں بہت سے مجاہدوں کو سکھوں کے خلاف جہاد میں شامل کرلیا۔
1850ء تک سوات میں کوئی سیاسی تنظیم نہیں تھی۔ اس لیے اس علاقہ کی سالمیت کے لیے اس دور کے خوانین اور رؤسا کی مشاورت سے حضرت اخوند عبدالغفور (سیدو بابا) نے پیر بابا کی اولاد میں سے سید اکبر شاہ کو 1850ء میں سوات کی پہلی شرعی حکومت کا امیر منتخب کیا، لیکن 11 مئی 1857ء میں ان کی وفات کے بعد سوات پھر سیاسی افراتفری اور امنِ عامہ کی ابتری کا شکار ہوا۔
1863ء میں امبیلہ کے مقام پر انگریزوں کے ساتھ سخت جنگ ہوئی، لیکن یہاں کے باشندوں نے سخت مزاحمت کی جس کے باعث انگریز سوات فتح کرنے میں ناکام رہے۔
1876-77ء میں اخون صاحب (سیدو بابا) وفات پاگئے۔ اخون صاحب اور سید اکبر کی اولاد میں سوات کی بادشاہت کے لیے ایک طویل کش مکش شروع ہوگئی جو دیر اور باجوڑ کی سیاسی کش مکش میں ملوث ہونے کی وجہ سے اور بھی پیچیدہ صورت اختیار کرگئی۔
1881ء میں میاں گل عبدالودود ( جو بعد میں بانیِ سوات بنے اور بادشاہ صاحب کے نام سے مشہور ہوئے) اخون صاحب کے چھوٹے بیٹے میاں گل عبد الخالق کے ہاں پیدا ہوئے۔
1887ء میں میاں گل عبدالحنان اخون صاحب کے بڑے بیٹے ریاست بنانے میں ناکام ہوئے اور وفات پاگئے۔
1895ء اور 1897ء میں انگریزوں نے ملاکنڈ کے راستے سے سوات پر دو الگ الگ حملے کیے مگر سوات کے بہادر عوام نے اُن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ ان معرکوں میں دیر، باجوڑ، بونیر اور موجودہ ملاکنڈ ایجنسی کے لوگ بھی شامل تھے۔
1903-07ء میں میاں گل عبدالرزاق اور میاں گل عبد الواحد، جو اخوند صاحب کے بڑے فرزند کے بیٹے تھے، اپنے چچا زاد بھائی میاں گل عبدالودود کے ہاتھوں قتل ہوئے اور میاں گل عبدالودود اخون صاحب کی تمام روحانی اور مادی میراث کے واحد وارث قرار پائے۔ اسی طرح سیاسی اقتدار کے لیے سخت کش مکش ختم ہوگئی۔
سوات میں مچی مسلسل افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سید عبدالجبار شاہ نامی ایک شخص نے 1914ء میں دریائے سوات کے پار شمالی علاقوں میں اپنی حکومت قائم کی۔ بعد میں میاں گل عبدالودود (بادشاہ صاحب) جو سیدو بابا کے پوتے بھی تھے، نے عبدالجبار شاہ سے حکومت کی باگ ڈور چھین کر 1917ء میں اپنی باقاعدہ حکومت کی بنیاد ڈالی۔ 1917ء سے 1926ء تک اندرونی طور پر ریاست سوات کی تشکیل و تعمیر اور اختیارات کے استحکام کے لیے تیز کوششیں شروع کی گئیں۔ سڑکیں، ٹیلی فون اور قلعہ جات وغیرہ بنائے گئے۔ بیرونی طور پر مختلف جنگوں کے ذریعے اس نوزائیدہ ریاست کی حدود وسیع کی گئیں اور از سرِ نو ان کا تعین کیا گیا۔ برطانوی حکومت کی طرف سے رسمی طور پر ریاست سوات کو 1924ء میں تسلیم کیا گیا اور میاں گل عبدالودود کی حکم رانِ سوات کی حیثیت سے تخت نشینی عمل میں لائی گئی۔ 1947ء میں ریاست سوات کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا گیا۔
12 دسمبر 1949ء کو میاں گل عبدالودود نے عنانِ حکومت اپنے فرزند شہزادہ محمد عبدالحق جہان زیب (سوالیِ سوات) کو سونپ دیے۔ جنھوں نے سوات کو ایک جدید اور ترقی یافتہ ریاست بنانے کی پوری کوشش کی اور سوات کی تعمیر و ترقی میں ایک ناقابلِ فراموش اور زندۂ جاوید کردار ادا کیا۔
28 جولائی 1969ء میں ریاستِ سوات کو پاکستان میں ایک ضلع کی حیثیت سے ضم کر دیا گیا اور یہاں باقاعدہ طور پر ڈپٹی کمشنر اور دیگر انتظامی اہل کاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی۔ (11)
٭ سوات میں بدھ مت:۔
32 قبلِ مسیح سکندرِ اعظم ایران کے راستے افغانستان پہنچااور کابل کو فتح کرنے کے بعد کنڑ کے راستے سوات کا رُخ کیا۔ تب سوات میں بدھ مت رائج تھی۔ اس وقت کے بدھ حکمران راجہ آرنس نے تیس ہزار افراد کے ساتھ سکندر کی افواج کا مقابلہ کیا، لیکن شکست کھا گیا۔ سکندر نے ہندوستان کی دیگر فتوحات کے بعد سوات بونیر اور دیگر کئی شمالی علاقے راجہ چندر گپت کو دے دیے۔ 45ء میں یہ تمام علاقے راجہ کنشک کی حکمرانی میں تھے۔ راجہ کنشک کے دور میں بھی یہ علاقہ بدھ مت کا گڑھ تھا اور اس میں بدھ مت کے نہایت متبرک مقامات موجود تھے۔ یہاں بدھوں کے سیکڑوں خانقاہیں تھیں جن کی یاترا کے لیے ہندوستان بھر اور دیگر ممالک سے بدھ یاتری آتے تھے۔ 200ء میں سوات اور بونیر اور ملحقہ علاقہ جات راجا وراٹھ کے زیرِ تصرف رہے۔ اس کے بعد راجا بیٹی سوات کا حکمران بنا۔ راجا بیٹی کے بعد راجا ھوڈی نے سوات کا زمامِ اقتدار سنبھالا۔ ھوڈی کے نام پر آج بھی مینگورہ کے مغرب میں ایک گاؤں ھوڈی گرام موجود ہے جسے آج کل اوڈیگرام لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اس گاؤں میں اُس دور کے کئی اہم آثارِ قدیمہ کی دریافت ہوئی ہے۔ راجا ھوڈی کے دور میں بھی یہ علاقہ بدھ مت کے زیرِ اثر تھا۔ ھوڈی کے بعد بدھ مت کے آخری حکمران راجا گیرا کا دور آتا ہے جس کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی یہاں بدھ مت کی شمع گل ہوگئی۔ 403ء میں یہاں آنے والے ایک چینی سیاح فاہین نے لکھا ہے کہ اس وقت سوات میں بدھ مت کا راج ہے۔ اس کے بعد ایک اور چینی سیاح تسانگ ین آتے ہیں اور اپنے سفرنامے میں لکھتے ہیں کہ یہاں بدھ مت کا عروج ہے۔ دریائے سوٹو (سوات) کے کنارے سیکڑوں بدھ خانقاہیں ہیں جن میں ہزاروں بھکشو رہائش پذیر ہیں۔ اس سرسبز علاقے میں لوگوں کا گزران کھیتی باڑی کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور جب 635ء میں مشہور چینی سیاح ’’ہیون سانگ‘‘ آیا، تو اس نے اپنے مشاہدے میں لکھا کہ یہاں بدھ مت زوال پذیر ہے۔ یہاں تک کہ آٹھویں صدی عیسوی میں بدھ مت یہاں سے رخصت ہوکر افغانستان کے راستے سے چین جاپہنچا اور وہاں خوب ترقی کی۔ تاہم سوات میں اسلام کی آمد تک بدھ مت کسی نہ کسی شکل میں موجود رہی۔ بدھ مت سوات کو وہ درخشاں دور دِکھا چکا ہے جس میں امن وامان اور مذہبی اقدار کا عنصر نمایاں تھا۔ (12)
٭ سوات میں ہندو مت:۔
ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں بدھ مت کا زوال تیزی سے شروع ہوا۔ اس کی دیگر وجوہات کے علاوہ یہاں ہندو شاہیہ کا روز افزوں بڑھتا ہوا اثر ورسوخ بھی تھا۔ ہندوؤں نے یہاں آکر سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے دھرم کی تبلیغ کے لیے راہ ہم وار کی اور یوں وہ بدھ مت کو سوات سے دیس نکالا دینے میں کامیاب ہوگئے۔ ہندو شاہیہ کا آخری حکم ران ’’راجہ جے پال‘‘ تھا، جس کا پایے تخت سوات کا علاقہ بریکوٹ بتایا جاتا ہے۔ دسویں صدی عیسوی میں ہندومت نے اپنی راج دھانی کو وسعت دیتے ہوئے اسے کابل اور افغانستان تک پھیلادیا تھا۔ راجہ جے پال اس سلسلے کا آخری حکم ران تھا، جس نے گندھارا پر حکومت کی۔ بریکوٹ میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی میں ملنے والے ایک کتبے پر کندہ سنسکرت زبان کے یہ الفاظ ملے ہیں: ’’فرمان روائے اعلیٰ شان عظمیٰ بلند مرتبہ شاہ اور مختار اعلیٰ سری جے پا لادیوا۔‘‘
جے پا لادیوا سے مراد راجہ جے پال ہے۔ جے پال سے پہلے کون حکم ران تھا؟ اس بات سے تاریخ خاموش ہے۔ جے پال سے پہلے یا بعد میں کسی منظم ہندو حکومت کے بارے میں معلومات عنقا ہیں۔ ہندوشاہیہ کے اس آخری دور کا ایک اور حکم ران ’’راجاگیرا‘‘ جس کی راج دھانی ایک مختصر علاقے پر مشتمل تھی، کی حکومت سلطان محمود غزنویؒ کے ہاتھوں ختم ہوئی۔
٭ سوات میں اسلام کی آمد:۔
گیارہویں صدی عیسوی میں سلطان محمود غزنویؒ نے فتوحات کا جال ہندوستان تک وسیع کرنے کا ارادہ کیا۔ سلطان محمود غزنویؒ باجوڑ کے راستے سے سوات میں داخل ہوا۔ اس نے سوات میں راجا گیرا کے ساتھ ایک گھمسان کی جنگ کی۔ کہا جاتاہے کہ اس وقت سلطان کو منشائے الٰہی کے مطابق خواب میں بتایا گیا کہ اس جگہ کو اللہ تعالیٰ اس لشکر کے ایک بزگ فوجی کے ذریعے فتح کرے گا۔ سلطان نے تتبع و تلاش کیا، تو اسے اپنی فوج میں پیر خوشحال نامی سپاہی نظر آیا۔ سلطان نے فوراًا س مہم کی کمان پیر خوشحال کے ہاتھ میں دے دی۔ پیر خوشحال نے نہایت احسن تدبیر کے ساتھ اس علاقے کو فتح کیا۔ پیر خوشحال نے اس لڑائی میں جامِ شہادت نوش کیا۔ آپ کا مزار اوڈیگرام گاؤں میں مرجع خلائق ہے۔یہاں ایک داستان مشہور ہے کہ گیرا کی لڑکی نے راستہ دکھایا۔ ڈاکٹر سلطان روم کے مطابق سلطان محمود غزنوی کا بذات خود سوات آنا صحیح تاریخ سے ثابت نہیں۔ راجہ جے پال سلطان محمود غزنویؒ کے باپ کا دشمن تھا اور سلطان خود بھی اس سے اپنے لیے خطرہ محسوس کرتا تھا۔ چناں چہ اس نے جے پال کے خلاف سوات پر چڑھائی کی اور اسے شکستِ فاش سے دوچار کیا۔
سلطان محمود غزنوی کی آمد کے ساتھ سوات میں اسلام کی کرنیں پھیل گئیں اور یوں اس علاقے میں مسلمانوں کے عروج کا دور شروع ہوگیا۔ سلطان محمود غزنوی نے سوات میں ایک مسجد بھی تعمیر کی جس کو پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی سب سے پرانی مسجد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ (13)
٭ اسلام میں آثارِ قدیمہ کی حیثیت:۔ اسلام ایک پُرامن دین ہے ۔ اس دین میں جہاں پر مسلمانوں کے حقوق کی بات کی گئی ہے، وہاں غیرمسلموں کو بھی ان کے جائز حقوق دینے پر زور دیا گیا ہے۔ کسی بھی غیرمسلم کو بلاوجہ تنگ کرنا اور اس کے حقوق کی پامالی کرنے کی اسلام ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اسلامی فقہی لٹریچر میں باب الذمہ کے اندر اسلامی سلطنت کے اندر رہنے والے غیرمسلموں کے مفصل احکام بیان کردیے گئے ہیں اور بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا ہے، جب کہ حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ اُ ن کے ذاتی معاملات مثلاً عبادات اور شادی بیاہ وغیرہ جیسی رسومات میں مداخلت نہ کرے۔ بعینہٖ ان کے عبادت گاہوں اور خانقاہوں کی حفاظت بھی مسلم معاشرے اور حکومت کے فرائض میں شامل ہے۔ اسلام نے غیرمسلموں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے روکا ہے۔ (14)
اسلام نے تمام مذاہب کے احترام کا حکم دیا ہے۔ اسلام غیرمسلموں کی عبادت میں دخل اندازی نہیں کرتا۔ اسلام انھیں مذہبی رسومات ادا کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کی جان ومال کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب بیت المقدس کو فتح کیا، تو آپ نے وہاں کے غیر مسلم رعایا کے لیے ایک عہد نامہ لکھ کر دے دیا۔اس عہد نامے کے الفاظ تاریخ میں اس طرح درج ہیں:
’’بسم اللَّہ الرحمن الرحیم ھذا ما أعطی عبد اللَّہ عمر أمیر المؤمنین أھل إیلیاء من الأمان، أعطاھم أمانا لأنفسھم وأموالھم، ولکنائسھم وصلبانھم، وسقیمھا وبریئھا وسائر ملتھا، أنہ لا تسکن کنائسھم ولا تھدم، ولا ینتقص منھا ولا من حیزھا، ولا من صلیبھم، ولا من شیء من أموالھم، ولا یکرھون علی دینھم، ولا یضار أحد منھم، ولا یسکن بإیلیاء معھم أحد من الیھود، وعلی أھل إیلیاء أن یعطوا الجزیۃ کما یعطي أھل المدائن، وعلیھم أن یخرجوا منھا الروم واللصوت، فمن خرج منھم فإنہ آمن علی نفسہ ومالہ حتی یبلغوا مأمنھم، ومن أقام منھم فھو آمن، وعلیہ مثل ما علی أھل إیلیاء من الجزیۃ، ومن أحب من أھل إیلیاء أن یسیر بنفسہ ومالہ مع الروم ویخلي بِیَعھم وصلبھم فإنھم آمنون علی أنفسھم وعلی بیعھم وصلبھم، حتی یبلغوا مأمنھم، ومن کان بھا من أھل الأرض قبل مقتل فلان، فمن شاء منھم قعدوا علیہ مثل ما علی أھل إیلیاء من الجزیۃ، ومن شاء سار مع الروم، ومن شاء رجع إلی أھلہ فإنہ لا یؤخذ منھم شیء حتی یحصد حصادھم، وعلی ما في ھذا الکتاب عھد اللَّہ وذمۃ رسولہ وذمۃ الخلفاء وذمۃ المؤمنین إذا أعطوا الذي علیھم من الجزیۃ شھد علی ذلک خالد بْن الولید، وعمرو بْن العاص، وعبد الرحمن بْن عوف، ومعاویۃ بْن أبي سفیان وکتب وحضر سنۃ خمس عشرۃ‘‘۔
یعنی ’’امیر المؤمنین عمر بن الخطاب کی طرف سے اہلِ ایلیا کے جان مال، اُن کے کلیساؤں،صلیبوں اور ان کی ساری ملت کو امان دی گئی ہے۔ ان کے گرجوں کوبند کیا جائے گا اور نہ گرایا جائے گا۔ ان کے احاطوں میں کو ئی کمی نہیں کی جائے گی، نہ ان کے صلیبوں سے کوئی تعرض کیا جائے گا، نہ ان کے اموال میں سے کوئی چیز چھینی جائے گی۔ ان میں کسی کو اپنا دین بدل دینے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، نہ کسی کو کوئی تکلیف دی جائے گی۔ اہلِ ایلیا کے ساتھ جبراً کسی کو رہنے کے لیے نہیں ٹھہرایا جائے گا۔ ایلیا والوں پر یہ فرض ہے کہ وہ دیگر شہروں کی طرح جزیہ دیں گے اور یونانیوں اور چوروں کو نکال دیں گے۔ ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا، اس کی جان اور مال کو امن ہے۔ تا آنکہ وہ اپنی جائے پناہ میں پہنچ جائے اور جو ایلیا ہی میں رہنا اختیار کرے، اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہو گا۔ اور ایلیا والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے، تو ان کو اور ان کے گرجاؤں کو اور صلیبوں کو امن ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں اور جو کچھ اس تحریر میں ہے، اس پر خدا کا رسول خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ بشرط یہ کہ یہ لوگ جزیۂ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس تحریر پر خالد بن الولید اور عمرو العاص اور عبد الرحمان بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہم گواہ ہیں اور یہ 15 ہجری میں لکھا گیا۔‘‘
پروفیسر فلپ کے۔ ہٹی (Philip K. Hitti) حضرت عمرؓ کے اسی دور کے بارے میں لکھتے ہیں:
They (non-Muslims) were allowed the jurisdiction of their own canon laws as administered by the respective heads of their religious communities. This state of partial autonomy, recognized later by the Sultans of Turkey, has been retained by the Arab successor states.
’’غیرمسلموں کو اجازت تھی کہ وہ اپنی کمیونٹی نظام کے تحت اپنے سربراہوں کا حکم مانیں اور ان کی ہدایات کے مطابق اپنے مذہبی معاملات چلائیں۔ عرب جانشین ریاستوں نے جس جزوی خودمختاری کو برقرار رکھا تھا۔ بعد ازاں ترک سلاطین نے بھی اس کو تسلیم کیا تھا۔‘‘(15)
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کو محفوظ چھوڑدیا ہ۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کیا۔ علامہ ابن قیم ’’احکام اہل الذمۃ‘‘ میں فتح خیبر کے موقع پر حضور نبی اکرم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتحِ خیبر کے بعد وہاں کے غیر مسلموں کو اُن کی عبادت گاہوں پر برقرار رکھا اور ان کی عبادت گاہوں کو مسمار نہیں فرمایا۔ بعد ازاں جب دیگر علاقے سلطنتِ اسلامی میں شامل ہوئے، تو خلفاے راشدین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بھی اِتباعِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے ہوئے ان ملکوں میں موجود غیر مسلموں کی کسی عبادت گاہ کو مسمار نہیں کیا۔‘‘ (16)
٭ اسلام اور پرانے کھنڈرات:۔
اسلام میں پرانی اقوام کے آثار اور ان کی نشانیوں کو باقی رکھنے اور ان سے نصیحت حاصل کرنے کا حکم آیا ہے۔ پرانی ملتوں کے آثار اب بھی کچھ کچھ پائے جاتے ہیں جن میں بابل کے کھنڈرات، ٹیٹس کے محلات کے آثار، روم میں پائے جانے والے آثار، فارس کے بادشاہوں کے محلات، ایران کے آتش کدے، کسریٰ کا محل اور گندھارا تہذیب سمیت موئن جودڑو وغیرہ میں پائے جانے والے کھنڈرات شامل ہیں۔ ان آثار کے ذکر کا اصل مقصد تذکیر ہے جسے حضرت شاہ ولی اللہؒ نے التذکیر بایام اللہ کے عنوان سے ذکر کیا ہے۔ فوز الکبیر میں اس موضوع پہ حضرت شاہ ولی اللہ نے بحث کی ہے کہ اقوامِ ماضیہ کے آثار سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے۔( 17)
٭ نتائج البحث:۔
سوات میں آثارِ قدیمہ کثیر تعداد میں پایے جاتے ہیں۔ ان میں ہندومت، بدھ مت اور اسلام کے آثار نمایاں ہیں۔ یوسف زئی قوم کے چند سو سال پرانی روایات اور آثار بھی موجود ہیں جن میں مساجد اور حجرے شامل ہیں۔ سوات میں سادات بھی ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں جن کے بزرگوں کے مزارات، ان بزرگوں کے بقایا جات اور مخطوطات وغیرہ بھی محفوظ ہیں۔ سوات اپنی قدرتی خوب صورتی، مذہبی حیثیت اور تزویراتی وجوہات کی بنا پر پوری دنیا کی توجہ کا مرکز ہے۔ اس وقت سوات میں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد یہاں کے مذہبی آثار اور ثقافت کی زیارت کرنے آتی ہے۔ اس کے علاوہ تاریخ اور آثارِ قدیمہ پر تحقیق کرنے کے واسطے سکالرز کو بھی یہاں آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ حال ہی میں سوات کے ایک معروف لکھاری اور سوات کے آثار قدیمہ پر قابلِ قدر کام کرنے والے صحافی فضل خالق نے اپنی کتاب ’’ادھیانہ: سوات کی جنت گم گشتہ‘‘ میں سوات کی اہمیت کے گمنام گوشوں کو نمایاں کیا ہے۔ فضل خالق کے مطابق ایک جاپانی سکالر سوات میں اس واسطے میں مقیم تھا کہ وہ سوات میں ماضی میں ایک منک (بدھ مت کا عالم) کے گزرنے کے راستے پر تحقیق کررہا تھا۔ جاپانی سکالر کے مطابق اس منک کے یہاں قیام کرنے، یہاں تبلیغی مہم پر آنے اور اس کے آثار پر مزید تحقیق کی جاسکتی ہے۔
سوات کے آثارِ قدیمہ کو دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ خیبر پختونخوا کے آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے ریٹائرڈ ڈائریکٹر شاہ نذر کے مطابق اس خطے میں سوات ثقافتی ورثہ اور آرکیالوجی سب سے بہترین ہے۔ کیوں کہ اس میں بدھی نظریات کو فن اور فنِ تعمیر کے لحاظ سے بہترین کاریگری میں سموکر ہمیشہ کے لیے یادگار بنایا گیا ہے۔
سوات میں بنظرِ غائر دیکھا جائے، تو یہاں پرانے آثار کی بہتات ہے لیکن ان میں بت اور اشکال کے مقابلے میں سٹوپے اور دیگر مذہبی ورہایشی مقامات زیادہ ملتے ہیں۔ ان میں قلعہ نما عمارتیں اور عہد رفتہ کی یادگاریں قابل دید ہیں۔ ان یادگاروں کو مسمار کرنا اور اسی کے ذریعے ان کے ماننے والوں کی دل آزاری کرنا اسلام کا تقاضا ہرگز نہیں۔ اس لیے اہلِ علم کو چاہیے کہ عوام میں اس حوالے سے آگاہی پھیلائیں اور انھیں دیگر مذاہب کے جذبات کا خیال رکھنے کی نصیحت فرمائیں۔ (18)
٭ حوالہ جات:
1:۔ بزمی اُردو ڈاٹ کام، ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ از ’’فضل ربی راہی‘‘، 26 مئی 2014ء۔
2:۔ وی ماؤنٹین ڈاٹ کام، ’’وادئی سوات کی قدیم نسلی تاریخ‘‘ از ’’عمران خان آزاد ‘‘، 2021ء۔
3:۔ ایضاً
4:۔ ایضاً
5:۔ ایضاً
6:۔ ایضاً
7:۔ لفظونہ ڈاٹ کام، ’’سوات میں بولی جانے والی زبانیں‘‘، از ’’ڈاکٹر محمد علی دینا خیل‘‘، 31 جنوری 2020ء
8:۔ ایضاً
9:۔ ایضاً
10:۔ بزمی اردو ڈاٹ نیٹ، ’’سوات سیاحوں کی جنت‘‘ از ’’فضل ربی راہی‘‘، 26 مئی 2014ء۔
11:۔ ایضاً
12:۔ مارننگ پوسٹ ڈاٹ کام، ’’ضلع سوات کے آثارِ قدیمہ کا اسلامی احکام کی روشنی میں تحقیقی جائزہ‘‘، از ’’صلاح الدین‘‘، ’’محمد ریاض خان الازہری۔‘‘
13:۔ ایضاً
14:۔ ایضاً
15:۔ ایضاً
16:۔ ایضاً
17:۔ ایضاً
18:۔ ایضاً
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected]om پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔