سوات پارٹی سی پیٹری کونسل (SPC) یا ’’سوات شرکتی کونسل‘‘ سوات میں ایک غیر سرکاری تنظیم یا این جی اُو ہے۔ اس این جی اُو نے ’’پرنس کلاؤس فنڈ ‘‘کی مدد سے سوات کے گاؤں سپل بانڈیٔ میں ایک مسجد اور شموزو کے گاؤں چونگیٔ میں ایک دیرہ کی بحالی اور محفوظ کرنے کا کام کرکے اس بارے میں ایک کتاب انگریزی اور اُردو زبانوں میں 2015ء میں انتہائی دیدہ زیب شکل میں شائع کیا۔ انگریزی حصے پر انگریزی میں اس کا نام "Cherishing Poetry in Wood & Stone: The Conservation of a Traditional Swat Valley Mosque” جب کہ اُردو میں ’’لکڑی اور پتھر میں شاعری: ایک روایتی سواتی مسجد کو محفوظ کرنے کا منصوبہ‘‘ ہے۔ کتاب اگرچہ دیدہ زیب ہے، لیکن اس کا انگریزی میں لکھا ہوا حصہ بہ حیثیتِ مجموعی زبان کی حد تک تو معیار کا حامل ہے، لیکن اُردو حصے میں غلطیوں کے ساتھ ساتھ اس کا متن انگریزی والے حصے سے زیادہ میل بھی نہیں کھاتا۔
ڈاکٹر سلطانِ روم کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/dr-sultan-e-rome/
ان دونوں منصوبوں کے ذریعے ان کے سب شراکت داروں نے ایک طرف کمائی کی، تو دوسری طرف دیدہ زیب شکل میں شائع کردہ اس کتاب کے ذریعے شہرت کے حصول کی کاوش بھی کی۔ اس کے مندرجات بہ حیثیتِ مجموعی کتاب کے نہیں بلکہ ذاتی تشہیر کی تحاریر اور تصاویر پر مبنی ہیں۔ اس کتاب میں بعض ایسی باتیں تحریر کی گئی ہیں جس نے بہت سے مغالطوں اور مبالغوں کو جنم دیا اور میڈیا پر اس حوالے سے رپورٹس اور ڈاکومینٹریوں میں کافی مرچ مسالے کے ساتھ انھیں خوب ہوا دی گئی اور اس طرح ڈھیر ساری غلط باتیں دنیا بھر میں پھیلائی گئیں۔
مثال کے طور پر سپل بانڈیٔ کے باشندوں کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ "The residents of the village still identify with the lineage of the towering spiritual figure Akhund Darveza Baba.” یعنی اس گاؤں کے باشندے اب بھی اپنا رشتہ عظیم روحانی شخصیت اخوند درویزہ باباسے جوڑتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو کتاب کا صفحہ 28۔)
اس بات کو لیتے ہوئے، دوسروں کے علاوہ، برخوردار امجد علی سحابؔ نے اپنی تحریر بہ عنوان ’’گاؤں سپل بانڈئی، جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے‘‘، 2 اگست 2017ء کو ویب سائٹ لفظونہ ڈاٹ کام پرشائع شدہ، کے شروع میں لکھا ہے کہ ’’یہ پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔‘‘ اپنی تحریر کو آگے بڑھاتے ہوئے، سحابؔ نے شوکت شرارؔ کی تحریرکی بنیاد پر لکھا ہے کہ ’’اس تحقیق کی روشنی میں اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ سپل بانڈئی پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے۔ گاؤں کے ایک بزرگ ’امیر مشال‘ گاؤں کے شجرہ نسب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں کہ’گاؤں سپل بانڈی میں تین خاندانوں پر مشتمل لوگ رہتے ہیں۔ پورا گاؤں ’اخوند درویزہ باباؒ‘ کی اولاد ہے۔ تینوں خاندان ’بر ٹل میاں گان‘، ’کوز ہ خونہ میاں گان‘ اور’ بنڑ میاں گان‘ کے ناموں سے مشہور ہیں۔‘‘
کتابِ مذکورہ اور محولہ بالا تحریر میں کیے گئے درجِ بالا دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ پہلی بات یہ کہ پورے پاکستان کے کس سروے کی بنیاد پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’’سپل بانڈئی پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں ایک ہی دادا کی اولاد رہتی ہے‘‘ اور اِس وجہ سے ’’اس تحقیق کی روشنی میں اس بات سے انکار ممکن نہیں‘‘؟ پورے پاکستان کا یہ سروے کس ادارے یا فرد وغیرہ نے کیا ہے اور کہاں دست یاب ہے؟ کتابِ مذکورہ میں جو کچھ شوکت شرارؔ نے لکھا ہے، وہ اُس کی تحریر ہے، لیکن نہ یہ تحقیق کے زمرے میں آتا ہے اور نہ اس کی پشت پر کوئی حقیقی تحقیق ہی ہے۔
سپل بانڈیٔ کی پوری آبادی ایک ہی دادا کی اولاد ہرگز نہیں۔ سپل بانڈیٔ کے زیادہ تر باشندے تو ایک جدِ امجد یا دادا یعنی میاں دولت کی اولاد ہوں گے، لیکن سارے کے سارے نہیں۔
اس بابت، جب راقم نے سپل بانڈیٔ کے باشندے، اور کتاب کے اس حصے کے لکھنے والے، شوکت علی شرارؔ سے 21 جولائی 2019ء کو باقاعدہ طور پر گل بانڈیٔ میں سوالات پوچھے، تو اُس کا کہنا تھا کہ سپل بانڈیٔ کل چوبیس برخے دوتر ہے۔ ان میں چھے برخے باہر کے افراد نے خریدے ہیں۔ اُن میں سے بعض رستم اور کچھ گورتئی کے افراد ہیں۔ رستم والوں نے دو برخے خریدے ہیں اور گورتئی کے میاں گان چاربرخے خرید چکے ہیں۔ علاوہ ازیں، بنجوٹ اور شاہ پور کے پختونوں کا ایک ایک کنبہ بھی بہ طورِ جَلا وطن یہاں آکر آباد ہوئے اور یہاں پر ملا (ملان) بن گئے ہیں۔ ان کی اولاد اب یہاں رہتی ہے اور کافی زور آور یا بارسوخ ہیں۔ سپل بانڈیٔ میں پرانے سواتی بھی آباد ہیں اور ہر قسم کے پیشہ ور (کسب گر) بھی اس گاؤں میں موجود ہیں۔ تو سپل بانڈیٔ میں سب ایک دادا کی اولاد نہیں رہتی۔ یہ ایک بے سر و پا بات ہے کہ اس گاؤں میں ایک دادا کی اولاد رہایش پذیر ہے۔
اس طرح شوکت شرارؔ نے ثبوتوں اور دلائل کے ساتھ کتاب میں تحریر اپنی بات اور مذکورہ بالا برخوردار کے دعووؤں کی تردید کی۔
سپل بانڈیٔ کی مسجد کے بارے میں سحابؔ اس حوالے سے اپنی محولہ بالا تحریر میں لکھتا ہے کہ ’’سوات کے دیگر گاوؤں یا علاقوں میں ایک ایک محلے میں دو دو، تین تین مساجد ہوتی ہیں۔ بالفاظ دیگر ہر قبیلے یا خیل کی اپنی ایک الگ مسجد ہوتی ہے۔ اس حوالے سے سپل بانڈئی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پورے پاکستان میں یہ واحد گاؤں ہے جہاں سات ہزار کی آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔یہ بات ایک طرح سے اہل سپل بانڈئی کی یکسانیت اور مذہبی اعتدال کی بھی غماز ہے۔‘‘
اگلے پیراگراف میں سحابؔ رقم طراز ہے کہ اس ’’مسجد کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ تین سو سال پرانی ہے۔ یہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ایک حصہ تین ساڑھے تین سو سال پرانا جبکہ دوسرا عصر حاضر کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے۔یہ مسجد ایک طرح سے قدیم و جدید دور کا حسین امتزاج ہے۔‘‘ اور ’’گاؤں کے ایک سفید ریش عزیز خان‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے، سحابؔ لکھتا ہے کہ ’’چوں کہ پورے گاؤں کی یہ واحد مسجد ہے، اس لیے پچھلے تین سو پندرہ سالوں سے اس گاؤں کے اتفاق و اتحاد اور یگانگت پر آج تک آنچ بھی نہیں آئی ہے۔‘‘
جب کہ ایک دوسرے برخوردار نے اپنی ڈاکومینٹری بہ عنوان ’’سپل بانڈیٔ کی تاریخی مسجد‘‘ میں، 3 اگست2017ء کو ویب سائٹ لفظونہ ڈاٹ کام پر، ایک سٹوری مشتہر کی جس میں وہ بتاتا ہے کہ ’’گاؤں سپل بانڈیٔ سوات کی تاریخی مسجد قریباً ساڑھے تین سو سال پرانی ہے۔‘‘ یہ کہ ’’مسجد کا ایک حصہ ساڑھے تین سو سال پرانا جب کہ دوسرا حالیہ تعمیر کیا گیا ہے۔‘‘ اور یہ کہ ’’غیر حکومتی تنظیم (ایس پی سی) نے اسے اپنی شکل میں بحال کیا ہے۔‘‘ مزید یہ کہ ’’یہ مسجد قدیم و جدید دور کا حسین امتزاج ہے۔‘‘ اور یہ کہ’’سپل بانڈیٔ پورے پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں آٹھ ہزار آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔‘‘
گاؤں سپل بانڈیٔ کی مسجد کے بارے میں دونوں برخورداروں کو بتائی گئی یہ باتیں عجیب سی ہیں۔ ایک طرف مسجد ہٰذا ’’قریباً ساڑھے تین سو سال‘‘ پرانی، دوسری طرف اس کا ’’ایک حصہ تین ساڑھے تین سو سال پرانا‘‘، تیسری طرف ’’پچھلے تین سو پندرہ سالوں سے اس گاؤں کے اتفاق و اتحاد اور یگانگت‘‘ کی علامت ہونے کا مطلب یہ کہ یہ ’’تین سو پندرہ‘‘ سال پرانی ہے۔ علاوہ ازیں اس کا ٹھوس ثبوت کیاہے کہ یہ مسجدتین ساڑھے تین سو سال پرانی ہے؟ جب کہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسجد کا ایک حصہ ساڑھے تین سو سال پرانا ہے جب کہ دوسرا حصہ حالیہ تعمیر کردہ ہے۔ جب مسجد کا ایک حصہ حالیہ تعمیر کردہ ہے تو ’’سوات شرکتی کونسل‘‘ یا "SPC” نے اِسے اپنی شکل میں کیسے بحال کیا؟ اپنی شکل میں اس مسجد کی بحالی کی تردید، خود اس فقرے سے ہی ہوتی ہے کہ یہ قدیم و جدید دور کا حسین امتزاج ہے۔
سپل بانڈیٔ گاؤں میں اتنا ’’اتفاق و اتحاد اور یگانگت‘‘ بھی نہیں رہی ہے، جیسا کہ سفید ریش عزیز خان کے بیان میں دعوا کیا گیا ہے۔ بہ طورِ مثال، ضلعی محافظ خانہ (گل کدہ، سوات) میں ’’کتاب فیصلہ جات والی صاحب‘‘، از 16 دسمبر 1950ء تا 18 ستمبر 1965ء، میں 3 ستمبر 1951ء کو پشتو میں مندرج ایک اقرار نامہ کا اُردو میں مطلب کچھ یوں ہے کہ ہم سپل بانڈیٔ کے شیبر اور قاسم جان اقرار کرتے ہیں کہ سپل بانڈیٔ کے میاں سید قمر، شیر باچا، نوشیروان، بوستان اور خچن کے پاس بلا لائسنس بندوقیں تھیں۔ ہم نے اِس پر اُن کے خلاف رپورٹ کی تھی، جس کی بنیاد پر اُن سے فی نفر مبلغ دس روپے جرمانہ لیا گیا ہے۔ اُن سے وصول کردہ مبلغ پچاس روپے جرمانہ میں، ہمیں مبلغ دس روپے انعام دیا گیا۔ ہم نے وہ دس روپے وصول کیے۔ اِسے تحریر کیا گیا، تاکہ سند رہے۔ فقط۔
سحابؔ کی تحریر کے مطابق ’’اس حوالے سے سپل بانڈئی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پورے پاکستان میں یہ واحد گاؤں ہے جہاں سات ہزار کی آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔‘‘ جب کہ دوسرے برخوردار کی ڈاکومینٹری کے مطابق ’’سپل بانڈیٔ پورے پاکستان کا وہ واحد گاؤں ہے جہاں آٹھ ہزار آبادی ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔‘‘
معلوم نہیں کہ کس باوثوق ذریعے یا کون سی مصدقہ معلومات کی بنیاد پر یہ لکھا کیا گیا ہے کہ ’’پورے پاکستان میں یہ واحد گاؤں ہے‘‘ جہاں ایک کی تحریر کے مطابق ’’سات ہزار کی آبادی‘‘، جب کہ دوسرے کی تحریر کے مطابق ’’آٹھ ہزار آبادی‘‘، ’’ایک ہی مسجد میں نماز باجماعت ادا کرتی ہے۔‘‘ کیا سپل بانڈیٔ کی ساری آبادی (مع بچے اور عورتیں) اس مسجد میں نمازِ باجماعت ادا کرتی ہے؟ کیا سپل بانڈیٔ کی اس مسجد میں سات یا آٹھ ہزار افراد کی بہ یک وقت نماز ادا کرنے کی گنجایش ہے؟
جب راقم نے محولہ بالا انٹرویو میں، شوکت شرارؔ سے اس مسجد کی قدامت کے بارے میں سوال کیا، تو اُس کا جواب تھا کہ یہ مسجد پرانے سواتیوں (یعنی سوات کے وہ باشندے جو یوسف زئیوں کے سوات پر قبضہ کرنے سے پہلے یہاں آباد تھے) کے دور کی ہے لیکن اس میں بعد میں کام کیا گیا ہے۔ اس کے ستون اور شہتیر پرانے ہیں لیکن شہتیروں پر رکھی گئی کڑیاں 1970 ء کی دہائی میں بدل دی گئی ہیں یعنی یہ 1970ء کی دہائی کی ہیں۔
شوکت شرارؔ کی ان باتوں سے جو نتیجہ اخذ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر یہ مسجد پرانے سواتیوں کے دور کی ہے، تو یہ ساڑھے تین سو سال پرانی نہیں بلکہ اُس سے بھی قدیم ہے، یعنی 500 سال سے زیادہ قدیم ہے۔ اس لیے کہ یوسف زئیوں کی اس جگہ کو فتح اور قبضہ کے تقریباً 500 سال پورے ہونے والے ہیں۔ جب یہ مسجد پرانے سواتیوں کے دور کی ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے اِسے لازماً آج سے قریباً 500 سال قبل یوسف زئیوں کی آمد اور اس جگہ کو قبضہ کرنے سے قبل تعمیر کی ہوگی۔ اور جب اس مسجد میں بعد میں کام کیا گیا ہے، تو اس کی آبادی وہ پرانی والی یا وہ قدیم ہی نہیں رہی۔ لہٰذا ’’پرنس کلاؤس فنڈ‘‘ کی مدد یا اشتراک سے ’’سوات شرکتی کونسل‘‘ یا "SPC” کا اس کی بحالی کو اس کی اپنی اصل شکل میں بحالی ہر گز گردانا نہیں جاسکتا۔
کتاب کا دوسرا اہم جز علاقہ شموزی کے گاؤں چونگیٔ کے ایک ’’دیرہ‘‘ اور اس کی مرمت اور تذئینِ نو کے حوالے سے ہے۔ اس حوالے سے کراچی سے تعلق رکھنے والی سمیطہ احمد نے، شاید ’’سوات شرکتی کونسل‘‘ یا "SPC” یا کسی اور کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر، کتاب میں جو کچھ تحریر کیا ہے، اُس کے بڑے اور اہم حصے کی حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ مثال کے طور پر اُس نے زیرِبحث عمارت گاؤں ’’چونگی زرخیل‘‘ کا روایتی حجرہ قرار دینے کے علاوہ، اِسے ’’شموزئی حجرہ‘‘ لکھا ہے۔ اُس نے اِسے شموزئی کے عوام کا حجرہ قرار دینے کے علاوہ اِسے 150 سال سے زیادہ کا پرانا بھی قرار دیا ہے اور یہ بھی دعوا کیا ہے کہ یہ حجرہ ابھی تک روایتی انداز ہی میں عوام کی مشترکہ ملکیت ہے۔ (ملاحظہ ہو، محولہ بالا کتاب کا صفحہ 31۔)
سمیطہ احمد اور کچھ دوسرے افراد کی بے بنیاد باتوں اور مبالغوں کو بھی مقامی صحافتی حلقوں نے مرچ مسالے کے ساتھ نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر خوب پھیلایا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکومینٹری رپورٹ میں یہاں تک دعوا کیا گیا ہے کہ افغانستان کا بادشاہ بھی یہاں قیام کیا کرتا تھا۔
جیو ٹی وی، فیس بک اور ٹویٹر پر مشتہر کی گئی ایک تحریر میں درج ہے کہ ’’حجرہ اس عمارت کو کہا جاتا ہے جہاں معاشرتی بیٹھک ہوا کرتی تھی۔ اس بیٹھک میں علاقے کے بچے اور بوڑھے سب ہی باقاعدگی سے شرکت کیا کرتے تھے۔‘‘ اور یہ کہ ’’خیبر پختونخواہ [پختون خوا] کی خوبصورت وادی سوات میں قدیم دور کا حجرہ آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ اسے آج سے ڈیڑھ سو سال قبل، یعنی پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے تعمیر کیا گیا تھا۔ اس لئے اسے خیبر پختونخواہ [پختون خوا] کے قدیم ترین حجروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ اس حجرہ کو پوری وادی سوات میں ’شموزئی حجرہ‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔‘‘
مزید یہ کہ ’’شموزئی حجرے کی 150 سالہ تاریخ اپنے سینے میں تین ادوار کی تلخ و شیریں یادیں دفنائے ہوئے ہے۔ پہلا دور قدیم پختو (پشتو) دور کہلاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں کئی اہم پشتون رہنما یہاں قیام بھی کرتے اور اپنے باہمی تنازعات اور مسائل بھی حل کرتے تھے……‘‘
اسی طرح 10 جولائی 2019ء کو ویب سائٹ ’’باخبر سوات ڈاٹ کام‘‘ پر شائع شدہ رپورٹ، بہ عنوان ’’سوات میں موجود 150 سالہ پرانا ’شموزئی حجرہ‘‘، میں دوسری باتوں کے علاوہ اس طرح کی باتیں درج ہیں کہ’’شموزئی کے رہنے والے سابق ڈپٹی کمشنر جمیل احمد نے باخبر سوات کو بتایا کہ یہ حجرہ ’پشتو دور‘ جب سوات پر یوسف زئی حکمران تھے،میں تعمیر کیا گیا تھا۔اس کا شمار خیبر پختونخواہ [پختون خوا] کے قدیم ترین حجروں میں کیا جاتا ہے۔ اس کو ’شموزئی حجرہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔‘‘ اور یہ کہ اس’’حجرہ میں بزرگوں اور نوجوانوں کے لیے الگ الگ کمرے مخصوص ہیں۔ حجرہ میں صبح سے لے کر رات گئے تک علاقہ کے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں۔‘‘
مزید یہ کہ ’’حجرہ میں موجود 60 سالہ محمد رزاق نے باخبر سوات کو بتایا کہ حجرہ کی تعمیر کے بعد علاقہ کے لوگوں کے درمیان تنازعات کے حل کے فیصلے اس حجرہ میں ہوتے تھے۔ آج 150 سال بعد بھی تنازعات کی صورت میں علاقہ کے لوگوں کے فیصلے اس حجرہ میں جرگہ کے ذریعے کئے جاتے ہیں۔‘‘ علاوہ ازیں، ’’شموزئی حجرہ نے 150 سال میں تین ادوار اور ان کے لوگ دیکھے۔ 150 سال پہلے جب سوات میں پشتو دور تھا، ’یوسفزئیوں کی حکم رانی‘ تھی، تو اس وقت بھی یہ حجرہ جرگوں اور فیصلوں کے لئے استعمال میں آتا تھا۔ ریاستِ سوات دور کے آغاز کے بعد ریاست کے پہلے بادشاہ میاں گل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب نے بھی اس حجرہ میں جرگوں اور فیصلوں کا اختیار دیا تھا۔ پھر والئی سوات کے دور میں بھی اس حجرہ کی یہی اہمیت رہی۔‘‘
علاوہ ازیں، یہ بات کہ یہاں پر ایک کمرا ریاستِ سوات کے آخری حکم ران والی صاحب کے لیے ’’مخصوص کیا گیا تھا‘‘ اور جب وہ ’’شموزئی جاتے تھے، تو اس کمرے میں قیام کرتے تھے اور جب دیر، پشاور یا دوسرے علاقوں کا سفر کرتے تو آتے جاتے وقت اس حجرہ کے اس مخصوص کمرہ میں کچھ دیر آرام کرتے اور کھانا پینا بھی یہاں کرتے تھے۔ والئی سوات کے لئے مخصوص کمرہ میں کسی اور کو رہنے کی اجازت علاقہ کے لوگوں کی جانب سے نہیں تھی۔‘‘
علاقہ شموزی کے گاؤں ’’چونگیٔ‘‘ کے ایک ’’دیرہ‘‘ کے ضمن میں جو مبالغے، مغالطے اور غلط باتیں، مذکورہ بالا کتاب، ڈاکومینٹریوں اور تحریروں کے ذریعے پیش کی گئی اور پھیلائی گئی ہیں، یہاں ان کی حقیقت درجِ بالا اقتباسات کے تنقیدی پرکھ کے ذریعے واضح کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ شاید یہ بعض افراد پر شاق گزرے، تاہم سچ نہ صرف سچ ہوتا ہے بلکہ مقدس بھی۔
پہلی بات یہ کہ چونگیٔ زرخیلہ اگرچہ سوات کے کئی ایک گاوؤں کی طرح ایک ساتھ بولا جاتا، جیسا کہ گاڈی ڈاگے، بانڈیٔ نینگولیٔ، بانڈیٔ ڈھیریٔ، ٹال دردیال، علی گرامہ ہزارہ، کوٹہ ابوہہ، مانیار غالیگے، وڈی گرام بلوگرام، پارڑیٔ ڈڈہرہ، سیر تلیگرام، جامبیل کوکاری ٔوغیرہ، لیکن یہ ایک گاؤں نہیں۔ چونگیٔ علاحدہ گاؤں ہے اور زرخیلہ علاحدہ۔ علاوہ ازیں اسے پورے سوات میں کبھی ’’شموزئی حجرہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور نہ پہچانا جاتا ہے۔ اس لیے کے شموزو کے علاقے میں دوسرے حجرے بھی موجود ہیں، جو اپنے اپنے ناموں سے یاد کیے اور جانے جاتے ہیں، جیسا کہ گاؤں ’’خزانہ‘‘ میں ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ یا گاؤں ’’گڑھیٔ‘‘ میں ’’دَ اریا خیلو برہ حجرہ‘‘ وغیرہ۔ علاوہ ازیں علاقے کا صحیح نام ’’شموزی‘‘ ہے نہ کہ ’’شموزئی‘‘۔
آگے بڑھنے سے قبل اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ ’’حجرہ‘‘ اور ’’دیرہ‘‘ میں بنیادی فرق ہے۔ حجرہ کسی ایک فرد یا گھرانے کا نہیں بلکہ متعلقہ دوتر زمین کے مالکوں یا حصہ داروں کی مشترکہ ملکیت ہی ہوتا ہے، اور اُن میں سے ہر ایک اپنے حصے کے حساب سے اس میں ملکیت کا خاوند ہوتا ہے اور اس وجہ سے کوئی بھی اُسے اُس حجرے میں آنے، اُس میں تصرف اور استعمال سے نہیں روک سکتا۔ تاہم اگر کوئی اپنی مرضی سے اُس حجرے میں نہ آنا، اُس میں تصرف نہ کرنا اور اُسے استعمال نہ کرنا چاہے، تو اُسے یہ اختیار حاصل ہوتا ہے، لیکن اس صورت میں اُسے اپنے حقِ ملکیت سے دست بردار ہونا پڑسکتا ہے۔ جب کہ ’’دیرہ‘‘ کسی ایک فرد یا گھرانے کی ذاتی ملکیت ہوتا ہے اور کوئی دوسرا اُس میں ملکیت کا دعوا کرسکتا ہے اور نہ تصرف کا۔ تاہم اگر اُسے اُس کے مالکوں کی مرضی سے استعمال کرنا چاہے، تو ایسا اس صورت میں کیا جاسکتا ہے۔ پرانے وقتوں میں عام طور پر حجرے دوتر کے مالک پختونوں کے ہوتے تھے اور دیرے آستانہ داروں یا ستانہ داروں کے۔ اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ حجروں کا رواج ختم ہونے لگا اور اُن کی جگہ دیروں نے لے لی، لیکن اب بھی سوات میں چند ایک حجرے اُس طرح کے مالکانہ حقوق کے ساتھ موجود ہیں جیسا کہ گاؤں خزانہ میں ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ اور گاؤں گڑھیٔ میں ’’دَ اریا خیلو برہ حجرہ‘‘۔
اس سیاق و سباق میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ جسے ’’شموزئی حجرہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، یہ واقعی حجرہ ہی ہے؟ اس حوالے سے راقم کے 20 جولائی 2019ء کے فیلڈ ورک، یا متعلقہ جگہوں پر جاکر تحقیق، کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ متعلقہ جگہوں پر تحقیق سے جو حقائق سامنے آئے، اُن کے مطابق کامران مَلَک یا کامران خان (اگر چہ عام طور پر اُسے کامران خان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن سرکاری دستاویزات میں اُسے کامران مَلَک کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے، اس لیے اس تحریر میں اُس کے لیے ’’مَلَک‘‘ اور’’ خان‘‘ دونوں کے القاب استعمال کیے گئے ہیں) ریاستِ سوات کے حکم ران میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب کا ریاستِ سوات میں ’’گرزندہ ویش‘‘، جس میں مالکانِ دوتر اراضی چند سال بعد ایک گاؤں سے دوسرے کو منتقل ہوتے تھے، کو 1925ء تا 1929ء میں ختم کرنے اور ’’مستقل ویش‘‘ یا ’’توریوران ویش‘‘ یا ’’توریران ویش‘‘ یا ’’عمری ویش ‘‘کے وقت کامران مَلَک یا خان گاؤں ’’خزانہ‘‘ میں تھا اور جسے اب ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ کہا جاتا ہے، یہی اُس کا اور دوسرے متعلقہ مالکانِ دوتر کا حجرہ تھا۔
جب 1926ء میں انگریز حکومت نے باچا صاحب کے ساتھ ذاتی معاہدہ کرکے اُسے ذاتی حیثیت میں ریاستِ سوات کا حکم ران تسلیم کیا، تو اس کے بعد سوات میں ٹیلی فون کی سہولت مہیا کی گئی۔ اُس وقت کامران مَلَک یا خان کی کلویغی، یا رہایش، گاؤں ’’خزانہ‘‘ میں تھا۔ لہٰذااُسے ٹیلی فون کی سہولت اسی گاؤں اور اس حجرہ میں، جسے اب ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ کہا جاتا ہے، میں مہیا کی گئی۔ اس کے بعد، جیسا کہ ذکر ہو چکا، ’’گرزندہ ویش‘‘ کا خاتمہ کیا گیا اور نئی مستقل ویش میں کامران مَلَک یا خان گاؤں ’’خزانہ‘‘ سے گاؤں ’’چونگیٔ‘‘ منتقل ہوا۔
چونگیٔ منتقل ہونے کے بعد کامران مَلَک یا خان نے، اُس کے 40 سالہ پڑپوتے محمد بابر خان کے بہ قول، یہاں پر اپنی ذاتی دوتر یا جائیداد پر، ذاتی خرچہ سے، ذاتی حیثیت میں یہ ذاتی دیرہ تعمیر کیا، جیسا کہ سوات کے دوسرے خوانین اور مَلَکوں کی اکثریت نے بھی کیا۔ لہٰذا جسے مذکورہ لکھاری اور صحافی حضرات ’’شموزئی حجرہ‘‘ گردان رہے ہیں یہ حجرہ نہیں بلکہ ذاتی ’’دیرہ‘‘ ہے۔ اس کی ملکیت پہلی کامران مَلَک یا خان اور اس کے بھائی رحم دَل مَلَک کی مشترکہ تھی لیکن جب دونوں بھائیوں نے جائیداد آپس میں تقسیم کی، تو یہ دیرہ رحم دَل مَلَک کے حصے میں آیا اور کامران مَلَک یا خان ’’مَلَک آباد‘‘ منتقل ہوا اور وہاں پراپنے لیے نیا دیرہ تعمیر کیا۔ لہٰذا مزعومہ ’’شموزئی حجرہ‘‘ پہلے رحم دَل مَلَک اور اب اس کی اولاد کی ذاتی ملکیت اور دیرہ ہے نہ کہ دوسرے مالکانِ دوتر یا عوام یا خیل کے ساتھ مشترکہ جائیداد اور حجرہ۔
دوسرا اہم جواب طلب سوال یہ ہے کہ واقعی یہ دیرہ 150 سال یا اس سے زیادہ پرانا ہے؟ اس سوال کے جواب سے باقی سب مبالغوں اور مغالطوں کی حقیقت واضح ہوجائے گی۔ 20 جولائی 2019ء کو، کامران مَلَک یا خان کے پڑپوتے محمد بابر خان کے بہ قول کامران مَلَک یا خان کا انتقال 1948ء میں 70، 75 سال کی عمر میں ہوا۔ اگر اس دیرہ کی تاریخِ تعمیر 1929ء ہی مانی جائے (یاد رہے کہ 1929ء سے قبل’’ گرزندہ ویش ‘‘کی وجہ سے سوات میں پختونوں کا اس طرح کے بڑے حجرے تعمیر کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا) تو 2015ء میں یہ اندازاً 86 یا 87 سال پرانا تھا نہ کہ 150 سال کا، یا اس سے بھی پرانا۔ اگر 2015ء میں یہ دیرہ 150 سال پرانا تھا، تو اس کا مطلب ہے کہ 1948ء میں کامران مَلَک یا خان کی وفات کے وقت یہ اندازاً 67 یا 68 سال پرانا تھا۔ اس صورت میں اگر کامران مَلَک یا خان کی عمر، وفات کے وقت 70 سال یا اس سے زیادہ تھی، تو اس کا مطلب ہے کہ یہ دیرہ اُس نے اپنی پیدایش سے قبل تعمیر کیا تھا جو کہ ناممکنات میں سے ہے۔
قرائن بتا رہے ہیں کہ سوات میں اس طرح کے دیرے اور آبادیاں، سوات میں ’’توریوران‘‘ یا ’’توریران‘‘ یا ’’عمری‘‘ یا ’’مستقل‘‘ ویش کے بعد، 1930ء کی دہائی میں ہوئی ہیں۔ اس وجہ سے اگر چونگیٔ کے اس ’’دیرہ‘‘ کی تعمیر کی تکمیل کا سال 1935ء لیا جائے، تو سال 2015 ء میں یہ اندازاً 80 یا 81 سال پرانا تھا۔ یہ اس لیے بھی زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ اگر کامران مَلَک یا خان کا 1948ء میں انتقال 70 یا 75 کی عمر میں ہوا تھا، تو انتقال کے وقت اُس کی عمر 70 سال ہونے کی صورت میں اُس نے یہ دیرہ اندازاً 57 یا 58 سال کی عمر میں اور اُس کی عمر 75 سال ہونے کی صورت میں اندازاً 62 یا 63 سال کی عمر میں تعمیر کیا تھا۔ ریاستِ سوات کے ضمن میں کامران مَلَک یا خان کی دوسری سرگرمیوں اور کردار کو مدِنظر رکھتے ہوئے گاؤں چونگیٔ میں تعمیر کردہ اس ’’دیرہ‘‘ کے ضمن میں اس پیراگراف میں دیے گئے سال منطقی لحاظ سے زیادہ صحیح ہیں، جب کہ اس سے پہلے والے پیراگراف میں دیے گئے سال منطقی لحاظ سے حقائق سے میل نہیں کھاتے اور جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ وہ ناممکنات میں سے ہے۔
ذاتی اغراض و مقاصد کی خاطر اس دیرے کی عمر یا تعمیر کے سال کو ایسا ہی گتھی یا معما بنایا گیا جیسا کہ اوڈی گرام کے مقام پر پرانی مسجد کی تعمیر کو محمود غزنوی سے منسوب کیا جاتا ہے اور اُسے محمود غزنوی مسجد کہا جاتا ہے۔ اُس مقام سے برآمد شدہ کتبہ کے مطابق اس مسجد کی بنیاد 440 ہجری یا 1048 – 1049ء میں رکھی گئی تھی، جب کہ محمود غزنوی 1030ء میں وفات پاگیا تھا۔ تو کیا اپنی وفات کے تقریباً 18 سال بعد محمود غزنوی نے اس مسجد کو تعمیر کیا تھا؟ کتبے کی بنیاد پر اس مسجد کو غزنوی مسجد یعنی ایسی مسجد گردانا جاسکتا ہے جو غزنوی خاندان کے دورِ حکم رانی میں تعمیر کی گئی ہے، لیکن یہ محمود غزنوی کی کسی بھی صورت میں تعمیر کی گئی نہیں، اس لیے کہ اُس کی وفات کے اتنے سال بعد اُس کا اِس مسجد کو تعمیر کرنا ناممکنات میں سے ہے۔
درجِ بالا وضاحت کی روشنی میں، گاؤں چونگیٔ کی مذکورہ عمارت ’’حجرہ‘‘ نہیں بلکہ ’’دیرہ‘‘ ہے۔ یہ روایتی انداز ہی میں عوام کی مشترکہ ملکیت ہرگز نہیں۔ یہ خیبر پختونخوا کیا، سوات کے قدیم ترین حجروں یا دیروں میں سے بھی نہیں۔ اس لیے کہ اس سے پرانے حجرے شموزی ہی میں ’’خزانہ‘‘ اور ’’گڑھیٔ‘‘ گاوؤں ہی میں موجود ہیں۔ اس حجرہ یا دیرہ نے تین ادوار (ریاستِ سوات سے پہلے کا دور، ریاستِ سوات کا دور اور ریاست کے بعد کا دور) بھی نہیں دیکھے، اس لیے کہ یہ ریاست کے دور میں تعمیر ہوا۔ لہٰذا اس کی ریاست سے پہلے کا دور دیکھنے کی بات ہی ختم ہوجاتی ہے۔ اور اس بنا پر قدیم پختو (پشتو) دور میں کئی اہم پشتون راہ نماؤں کا یہاں قیام اور اپنے باہمی تنازعات اور مسائل حل کرنا بھی انہونی یا ناممکنات میں سے تھا۔
جہاں تک اس دعوے کا تعلق ہے کہ افغانستان کا بادشاہ بھی یہاں قیام کرچکا ہے، یا کرتا تھا، تو یہ بھی ایک واہمہ ہے۔ افغانستان کا کون سا یا کون سے بادشاہ یہاں تشریف لائے ہیں؟ اگر اُس یا اُن کے نام ہی بتائے جاتے، تو کتنا بہتر ہوتا۔
علاوہ ازیں، یہ بات بھی زیادہ وزن نہیں رکھتی کہ یہاں پر ایک کمرا ریاستِ سوات کے آخری حکم ران والی صاحب کے لیے مخصوص تھا اور جب وہ ’’شموزئی جاتے تھے، تو اس کمرے میں قیام کرتے تھے اور جب دیر، پشاور یا دوسرے علاقوں کا سفر کرتے، تو آتے جاتے وقت اس حجرہ کے اس مخصوص کمرہ میں کچھ دیر آرام کرتے اور کھانا پینا بھی یہاں کرتے تھے۔ والئی سوات کے لیے مخصوص کمرے میں کسی اور کو رہنے کی اجازت علاقہ کے لوگوں کی جانب سے نہیں تھی۔‘‘
والی صاحب نے اگر کبھی شموزی کے دورے یا شکار کرنے کے موقع پر یہاں آرام کیا ہو، تو اس کی کچھ گنجایش بن سکتی ہے، لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ والی صاحب ’’دیر، پشاور یا دوسرے علاقوں کا سفر کرتے، تو آتے جاتے وقت اس حجرہ کے اس مخصوص کمرہ میں کچھ دیر آرام کرتے اور کھانا پینا بھی یہاں کرتے تھے‘‘ میں کوئی وزن نظر نہیں آرہا۔ دیر اور سوات کی ریاستوں کے حکم رانوں کے تعلقات کشیدہ رہنے کی وجہ سے والی صاحب دیر نہیں جایا کرتا تھا۔
جہاں تک پشاور یا دوسرے علاقوں کے سفر کے وقت اِس دیرہ کے اِس مخصوص کمرے میں آرام اور قیام و طعام کا تعلق ہے، تو یہ بعید از قیاس ہے۔ اس لیے کہ اس صورت میں والی صاحب کا گزر شموزی کے علاقے سے نہیں بلکہ دریا پار لنڈاکے والی سڑک سے ہوتا تھا۔ اس صورت میں چونگیٔ جانے کے لیے اُسے چکدرہ کی طرف سے آنا پڑتا تھا جو کہ نوابِ دیر کی ریاست میں شامل علاقہ تھا اور جیسا کہ بتایا گیا کہ والی صاحب، نوابِ دیر کے ریاستی علاقے میں جانے سے اجتناب برتتا تھا۔ دوسری صورت میں ایسا کرنے کے لیے اُسے بریکوٹ کے قریب پل کو پار کرکے دریائے سوات کی دوسری جانب والی سڑک پر واپس چونگیٔ کی طرف جانا پڑتا تھا۔ اس صورت میں، والی صاحب چونگیٔ کے مقابلے میں سیدو شریف بہ آسانی سے پہنچ سکتا تھا۔ تو کیوں وہ آرام اور کھانا کھانے کی خاطر، اپنے گھر کی بجائے چونگیٔ جاکر اپنا وقت ضائع کرتا؟ اس لیے کہ چونگیٔ سے واپس سیدو شریف آنے کے لیے اُسے مزید وقت صرف کرنا پڑتا تھا۔ والی صاحب کے قریبی افسروں سے زبانی طور پر حاصل کردہ معلومات کے مطابق، والی صاحب وقت کی پابندی اور مصرف کے حوالے سے بہت حساس تھا۔ وہ وقت کا ویسے ہی بے جا گزارنے اور ضائع کرنے کا قائل نہیں تھا۔
مزید یہ کہ جب یہ مشترکہ ملکیت والا حجرہ نہیں بلکہ ذاتی ملکیت والا دیرہ تھا، تو اہلِ علاقہ کی جانب سے کسی اور کو والی صاحب کے لیے مخصوص کمرے میں اجازت نہ ہونے کی کیا تُک بنتی ہے اور علاقہ کے لوگ کیسے اور کیوں کر ایک با اثر فرد کی ذاتی ملکیت میں اس طرح کا تصرف کرسکتے تھے؟
رہا یہ دعوا کہ اس میں ’’صبح سے لے کر رات گئے تک علاقہ کے لوگ اکھٹے ہوتے ہیں‘‘، تو 20 جولائی 2019ء کو جب مَیں اور اس گاؤں سے تعلق رکھنے والا سمیع الحق صاحب عصر اور مغرب کی نماز کے بیچ والے وقت گئے، تو وہاں ایک بھی بندہ موجود نہیں تھا۔ ہاں ایک فرد چھت سے گرائے گئے ملبے کو ٹرالی میں ڈال رہا تھا اور بعد میں ایک بچی چائے جوش اور پیالی لے کر اُس کے لیے چائے لائی۔ مَیں نے کیمرے کے ذریعے سے اس دیرے کی تفصیلی تصاویر لیں جن میں بھی کوئی بھی بندہ بشر نظر نہیں آرہا، سوائے اُس مزدور اور بچی کے۔ یہ تصاویر لینے میں کافی وقت لگا۔ حتیٰ کہ مغرب کی اذان کا وقت آیا لیکن کوئی بھی بندہ بشر وہاں موجود تھا اور نہ آیا کہ مَیں اُس سے اِس حوالے سے معلومات لیتا۔
مذکورہ پس منظر میں ہم وہاں سے نکلے اور سڑک کنارے ایک میڈیکل سٹور میں موجود افراد سے اس دیرے کے بارے میں جاننے کی کوشش کی، تو اُن میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ ان کو سچ نہیں بتانا۔ اس لیے کہ اس پر وائس آف امریکہ کے ڈیوہ ریڈیو اور دوسرے اداروں کے لیے ڈاکومینٹریاں بنائی گئی ہیں اور وہ ساری دنیا میں پھیل چکی ہیں۔ لہٰذا اِس سے اُن کی تردید اور بدنامی ہوگی۔ یہ کَہ کر، یہ کہتے ہوئے کہ مغرب کی اذان ہوچکی نماز کے لیے چلیں، وہ سٹور چھوڑ کر چلے گئے۔ لیکن اللہ کی کرنی دیکھیں کہ اُس وقت وہاں پر محمد بابر خان سے ملاقات ہوئی اور اُس نے وہ سچ بتایا جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے، جن کی باقی ڈاکومینٹریوں اور میڈیا پر پھیلائی گئی رپورٹوں کے لکھنے والوں کو بتانے سے احتراز کیا گیا تھا اور میڈیکل سٹور میں موجود اُن تعلیم یافتہ افرادنے مجھے بھی بتانے سے انکار کیا تھا۔
یہاں پر اس کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ 5 اپریل 2019 ء کو ایک رپورٹ، بہ عنوان ’’سوات کا تین سو سالہ قدیم حجرہ‘‘ میں برخوردار فیاض ظفر نے گاؤں ’’خزانہ‘‘ کے ضمن میں جو تفصیل دی ہے، اُن سے بھی ’’چونگیٔ‘‘ کے دیرہ کے بارے میں پھیلائے گئے مبالغوں اور مغالطوں کی تردید ہوتی ہے۔ یہ حجرہ مَیں نے بھی 20 جولائی 2019 ء کو دیکھا اور اس کا ذکر پہلے ہی گاؤں ’’خزانہ‘‘ کے ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ کے نام سے کیا ہے۔ تاہم اس ضمن میں دو باتوں کی تصریح ضروری ہے۔ وہ یہ کہ یہ حجرہ نہ تو 300 سال پرانا ہے اور نہ اپنے اصل حالت میں قائم ہے۔
اس حجرے کے دونوں کمروں کی دیواریں کسی حد تک گرچکی تھیں اور اس وجہ سے وہ ناقابلِ استعمال تھے۔ اس کا برآمدہ بھی خستہ حالت میں تھا۔ اگرچہ مذکورہ رپورٹ کی خاطر کافی لوگ، فضل خالق کی لی گئیں اور رپورٹ کے ساتھ دی گئیں، تصاویر میں اس برآمدے میں چارپائیوں میں بیٹھے ہوئے نظر آرہے ہیں، لیکن یہ اجتماع اس موقع کے لیے بنایا گیا ہے، جیسا کہ چونگیٔ کے دیرہ میں اُن ڈاکومینٹریوں کے لیے کیا گیا ہے۔ عام حالت میں یہ برآمدہ استعمال کے لیے خطرناک ہے۔ اس لیے کہ اس کے ستون ایک طرف جھک گئے ہیں، جیسا کہ فیاض ظفر کی لکھی گئی رپورٹ میں دی گئی فضل خالق کی لی گئی تصویر میں بھی نظر آرہے ہیں۔ البتہ اس کا صحن قابلِ استعمال ہے اور اُسے استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اس حجرہ کی تعمیر کب ہوئی؟ یہ کسی کو صحیح طور پر یاد نہیں۔ تاہم 75 سالہ شاہ تیکان نے مجھے بتایا کہ اگرچہ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہ حجرہ کب تعمیر کیا گیا ہے، تاہم یہ اندازاً 150 سے 160 سال پرانا ہوگا۔
مَیں نے 20 جولائی 2019ء کو گاؤں گڑھیٔ میں بھی ایک حجرہ دیکھا جو مکمل طور پر قابلِ استعمال حالت میں تھا، یعنی اس کے کمرے، برآمدہ اور صحن سب کے سب۔ اُ س کی دیوار بھی باہر سے بالکل سالم حالت میں ایک شاہکارسی نظر آتی ہے۔ اس کو ’’د اَریاخیلو برہ حجرہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس حجرے کی صحیح عمر بھی کسی کو یاد نہیں۔ تاہم 53 سالہ محمد قریش نے بتایا کہ یہ اندازاً 120 اور 150 سالوں کے بیچ کی عمر کا ہے۔
آخر میں یہ وضاحت بے جا نہیں ہوگی کہ گاؤں ’’خزانہ‘‘ کے ’’دَ ظریف خیلو حجرہ‘‘ اور گاؤں ’’گڑھیٔ‘‘ کے ’’د اَریا خیلو برہ حجرہ‘‘ کے ناموں سے موسوم حجروں کے عمر کے متعلق شاہ تیکان اور محمد قریش کے بتائے ہوئے سال اندازوں پر مبنی ہیں۔ لہٰذا دوسرے ٹھوس شواہد کی غیر موجودگی میں ان کو اُن حجروں کی صحیح عمریں نہیں گردانا جاسکتا۔ تاہم یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کے عمریں سو سال سے زیادہ ہیں اور یہ گاؤں ’’چونگیٔ‘‘ کے مذکورہ بالا ’’دیرہ‘‘ سے کافی پر انییا قدیم ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔