اکبر کی حرم سرا میں ایک کنیز تھی، نام نادرہ تھا۔ اکبر نے ایک دفعہ اُسے ’’انار کلی‘‘ کَہ کر پکارا۔ اُس وقت سے وہ اِسی نام سے موسوم ہوگئی۔ سلیم سے اُسے محبت ہوگئی۔ اس بات کا پتا اکبر کو لگ گیا۔ پتا یوں لگا کہ ایک روز محفلِ رقص و سرود گرم تھی۔ اکبر بھی موجود تھا اور سلیم بھی۔ انار کلی نے گانا شروع کیا، جب مندرجہ ذیل شعر پر پہنچی:
من تُو شدم، تُو من شدی، من تن شدم تُو جاں شدی
تا کس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری
[یعنی مَیں تُو ہوگیا، تُو مَیں ہوگیا۔ مَیں تن ہوگیا، تو جاں ہوگیا۔ تاکہ اس کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ مَیں (کوئی) اور ہوں اور تُو (کوئی) اور ہے]
تو ضبط نہ ہوسکا اور دامنِ احتیاط ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اکبر نے یہ منظر دیکھا اور معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا۔ انار کلی معتوب ہوئی۔ سلیم عتاب سے اُسے گلو خلاصی نہ دلوا سکا۔ اسی حالت میں انار کلی نے اپنی جاں جانِ آفریں کے سپرد کی۔
اس واقعے کو مدت گزر گئی۔ سلیم اب جہانگیر ہوچکا ہے اور انار کلی کو بھول چکا ہے۔ ایک روز اُسے ایک باغ میں ٹہلنے کا اتفاق ہوا۔ کلیوں سے لدے ہوئے انار کے ایک درخت کے نیچے ایک قبر نظر آئی۔ مالی سے دریافت کیا: ’’کس کی قبر ہے؟‘‘ مالی نے جواب دیا: ’’انار کلی بیگم کی!‘‘
گذشتہ واقعات اُس کے سامنے آگئے۔ دوسرے روز منتظمِ تعمیرات کو حکم دیا کہ انار کلی بیگم کی قبر پر ایک خوب صورت مقبرہ تعمیر کر دیا جائے۔ تعویذِ قبر پر یہ شعر لکھوا یا گیا:
تاقیامت شکر گویم کردگارِ خویش را
آہ گر یک بار بینم روئے یارِ خویش را
(مَیں تاقیامت اپنے اللہ کا شکر ادا کرتا رہوں۔ آہ، اگر ایک بار اپنے یار کا چہرہ دیکھ پاؤں۔)
(ماہ نامہ ’’اُردو ڈائجسٹ‘‘، ماہِ دسمبر 2022ء، صفحہ نمبر 54 سے انتخاب)