مینگورہ شہر میں 90ء کی دہائی میں جی ٹی روڈ پر گلشن چوک اور سہراب چوک میں تین جگہیں ایسی تھیں، جنھیں اُس وقت کے مذہبی لوگ اور ہمارے بڑے بوڑھے اچھی جگہیں تصور نہیں کرتے تھے۔ مذکورہ جگہوں میں اول نمبر پر ملک مارکیٹ تھی۔ دوسرے نمبر پر احسان مارکیٹ جب کہ تیسرے نمبر پر شاہ روم مارکیٹ تھی۔ ملک اور احسان نامی مارکیٹیں وی سی آر اور فلم کیسٹ کے لیے مشہور تھیں، جب کہ شاہ روم مارکیٹ ’’جانس گیم‘‘ اور ’’منی سنیما گھروں‘‘ کے لیے۔
امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/sahaab/
احسان مارکیٹ میں بالعموم اور ملک مارکیٹ میں بالخصوص ہم جیسے ’’گناہ گاروں‘‘ کے لیے زبردست قسم کی دل کشی تھی۔ ’’شالیمار‘‘، ’’فنٹاسیہ‘‘، ’’اوپیرا‘‘، ’’کنگز ویڈیو‘‘، ’’ایگل ویڈیو سنٹر‘‘، ’’ڈان ویڈیو سنٹر‘‘، ’’جان ویڈیو سنٹر‘‘، ’’دوحہ ویڈیو سنٹر‘‘، ’’ببّی ویڈیو سنٹر‘‘، ’’شاہ ویڈیو سنٹر‘‘، ’’ویڈیو ہوم‘‘، ’’شیکو سٹوڈیو‘‘ اور ’’مسافر گل‘‘ کی وی سی آر کی دکان سے شاید ہی 90ء کی دہائی کے لڑکے اور نوجوان واقف نہ ہوں۔ اُس دور میں فلم ریلیز کرنے والے ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنے جاتے تھے۔ اُس دور کے ہمارے جیسے گناہ گاروں کے بقول فلم ریلیز کرنے کا بیڑا (غالباً) ’’ہیرا ویڈیو، مکان باغ‘‘ پنجاب سے آنے والے ایک شخص نے اُٹھایا تھا، جس کا بڑا بیٹا ’’شہباز‘‘ گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر 4 (ملا بابا) میں ادنا جماعت سے پانچویں تک میرا ہم جماعت تھا۔ اس کے ساتھ ’’شالیمار‘‘ والے بھی فلم ریلیز کیا کرتے تھے۔ آخر میں یہ بیڑا ’’شاہ ویڈیو سنٹر‘‘ کے مسرت شاہ نے اُٹھایا جو ایک عرصہ تک ہمارے ساتھ گراسی کرکٹ گراونڈ میں ہر نمازِ عصر کے بعد کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔
جتنا مجھے یاد پڑتا ہے، اُن دنوں مینگورہ شہر میں وی سی آر اور کیسٹیں کرایہ پر دینے کی سب سے بڑی مارکیٹ ’’ملک مارکیٹ‘‘ ہی تھی۔ اس کے بعد ’’احسان مارکیٹ‘‘ کی باری آتی تھی۔ محلہ وزیرِ مال میں ہماری بیٹھک ایسی تھی جس میں شبِ جمعہ کو تِل دھرنے کی جگہ نہ ہوتی تھی۔ مَیں اپنے ذہن پر زور دیتا ہوں، تو سنہ 85ء یا 86ء کی یادیں کسی فلمی ریل کی طرح ذہن کے پردے پر دوڑتی محسوس ہوتی ہیں۔ ہر شبِ جمعہ کو ہماری بیٹھک میں یا تو والد (مرحوم) فضل رحمان المعروف علی رحمان کے احباب کی منڈلی سجتی یا پھر تایا علی خان (مرحوم) کے دوستوں کی بیٹھک ہوتی۔ ان کے بعد چچاؤں (پُردل شمال، رسول خان یا ایوب خان) کی باری آتی۔ ہم یا ہمارے خاندان کے جتنے چھوٹے بچے تھے، اُن میں سے بلوغت سے پہلے کسی بھی بچے کو بڑوں کی بیٹھک میں بیٹھنے کی بالکل اجازت نہیں ہوتی تھی۔
نوابِ دیر پر قرضوں کی بارش کیوں؟:
https://lafzuna.com/history/s-30279/
وقت آہستہ آہستہ گزرتا گیا۔ یہی کوئی 95 یا 96ء میں جب ہم نویں اور دسویں جماعت کے طالب علم بنے، تو ہمیں دوستوں کے ساتھ اپنی بیٹھک میں وی سی آر لانے اور دیکھنے کی اجازت مل گئی۔ اُن دنوں ہم تمام دوست 70 یا 80 روپے جمع کرکے وی سی آر لاتے۔ دلچسپ بات یہ ہوتی کہ وی سی آر لاتے وقت تمام چھے سات دوست اکھٹے جاتے۔ دوستوں کی ٹولی میں مضبوط تن و توش والے کو ٹی وی یا وی سی آر بہ حفاظت پہنچانے کی ذمے داری سونپی جاتی اور ہم جیسے لاغر و نحیف دو دو کیسٹیں بغل میں دابے لمبے لمبے ڈَگ بھرتے بیٹھک کا رُخ کرتے۔ جاڑے کی لمبی رات خوب مزے لے لے کر فلمیں دیکھتے اور جیسے ہی صبح کی اذان کا وقت ہوتا، تو عموماً آخری فلم چل رہی ہوتی۔ اس کے بعد سب گھوڑے بیچ کے سو جاتے۔ کوئی گیارہ ساڑھے گیارہ بجے گھر کی طرف کھلنے والا دروازہ کھٹکھٹایا جاتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ ٹی وی، وی سی آر وغیرہ واپس دے کر نمازِ جمعہ کی تیاری کی جائے۔
سب سے مضحکہ خیز وقت ٹی وی، وی سی آر اور کیسٹیں واپس دینے کا ہوتا۔ لاتے وقت سات سات، آٹھ آٹھ دوست، ہر کوئی اپنی پسندیدہ فلم کی فرمایش کرتا، فلموں کے البم پر البم اُلٹائے جاتے۔ بڑی مشکل سے سات آٹھ فلمیں پسند آتیں۔ پھر اُس کے بعد ایک شانِ بے نیازی سے بیٹھک کا رُخ کیا جاتا۔ اپنے ہم عمر دوستوں کو للچایا جاتا۔ اہلِ محلہ کو پیغام دیا جاتا کہ اب ہم بچے نہیں رہے۔ میرے ان جذبات کا احاطہ 90ء کی دہائی کے لڑکوں کے علاوہ شاید ہی کوئی کر پائے۔ بقولِ نشور واحدی:
بڑی حسرت سے انساں بچپنے کو یاد کرتا ہے
یہ پھل پک کر دوبارہ چاہتا ہے خام ہوجائے
ملکہ الزبتھ دوم کا دورۂ سوات:
https://lafzuna.com/history/s-29653/
واپسی کے وقت ہم اکثر رکشے والے کو بُلا لاتے اور ایک دوست کو ذمے دار ٹھہرا، مذکورہ اشیا رکشے میں ڈال، اُسے ’’ٹاٹا، بائے بائے‘‘ کہتے اور خود غسل کرکے نمازِ جمعہ کی تیاری میں لگ جاتے۔ ہمارے محلے کے مولوی صاحب کا رویہ بڑا سخت ہوتا۔ ہر جمعہ وہ محلے کے تمام گناہ گاروں کو فرداً فرداً لتاڑنے کے بعد آخر میں ہم فلموں کے شایقین کی طرف رُخ کرتے۔ان کا پہلا جملہ گویا کسی نشتر کی طرح چبھتا، فرماتے: ’’ابے اُو ایمان سے ہاتھ دھونے والو! ڈرو اُس دن سے جب تمھیں دہکتی آگ میں غوطے دیے جائیں گے۔ جب پگھلتا سیسہ تم گناہ گاروں کی آنکھوں اور کانوں میں ڈالا جائے گا۔‘‘ اور مولوی صاحب کی بیان کردہ دہکتی آگ کو تصور میں لا لا کر سردی میں ہمارے پسینے چھوٹ جاتے، مگر اگلی شبِ جمعہ کو پشتو کہاوت ’’ھاغہ زوڑ ملا او ھاغہ زڑے تراوے‘‘ کے مصداق بیٹھک میں رَنگ جمتا۔
90ء کی دہائی میں ہمارے محلے وزیرِمال کے مولوی صاحب کی طرح دیگر مولوی بھی ہم جیسے گناہ گاروں کو فلم بینی سے ڈرانے کی خاطر کہتے کہ جو بھی شخص ایک فلم دیکھتا ہے، تو وہ چالیس روز کے لیے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ ہمارا اکثر پورا ہفتہ یہ بات سوچتے سوچتے گزرتا کہ جب ایک فلم کی وجہ سے بندے میں 40 روز کے لیے ایمان باقی نہیں رہتا، تو کیا ایک شب 8 فلمیں دیکھنے کے بعد پورے سال کے لیے ایمان سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں؟ اس کے علاوہ ہماری چھوٹی سی کھوپڑیاں یہ مسئلہ حل کرنے میں بھی ناکام رہتیں کہ ایمان کی تجدید کے لیے کون سا کلمہ پڑھنا پڑے گا، کلمۂ طیبہ یا کلمۂ شہادت……؟
اب تھوڑا سا ذکر تیسری جگہ ’’شاہ روم مارکیٹ‘‘ کا ہوجائے، جس کے ساتھ ہماری ایک تلخ یاد بھی وابستہ ہے۔
ہندو معاشرے کی شادیاں:
https://lafzuna.com/history/s-29286/
شاہ روم مارکیٹ میں ظفر فوٹو سٹوڈیو، جانس گیم اور منی سنیما گھر قابلِ ذکر دُکانیں تھیں۔ اُن دنوں جوبھی نئی ہندوستانی فلم ریلیز ہوتی۔ ’’کنگز ویڈیو سنٹر‘‘ والے ’’بابو‘‘ جن کا نام غالباً دلاور خان اور ان کے بھائی کا نام نصرت تھا، شو کا انعقاد کرتے۔ اُس وقت پانچ روپے ٹکٹ کے طور پر دینا پڑتے۔ فلم کے لیے شرط تھی کہ کم از کم 10 بندے جمع ہوں، تو فلم چلائی جائے گی۔ ایک ایک شو میں دکان کی چھوٹی سی گیلری میں دس تا بیس بندوں کو ٹھونس ٹھانس کر بٹھایا جاتا۔ ڈھائی تین گھنٹے میں فلم ختم ہوجایا کرتی۔ یہ ہم جیسے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے بچوں کی سستی ترین تفریح تھی۔ کیوں کہ سنیما میں فلم دیکھنے کی رقم اُس وقت تیس تا چالیس روپے بلکہ بعض اوقات بچاس روپے ادا کی جاتی۔ یوں اکثر دونوں سنیما گھروں (سوات سنیما اور پلوشہ سنیما) کی جانب سے تھانے میں مذکورہ منی سنیما گھروں کے خلاف پرچہ کاٹا جاتا۔ یہ منی سنیما گھر اُس وقت ایک طرح سے غیر قانونی تھے۔
ایسے ہی ایک شو میں ہم بھی بیٹھے تھے۔ فلم کا نام ’’فتح‘‘ تھا، جسے یہ سطور تحریر کرتے وقت گوگل (Google) کیا، تو پتا چلا کہ یہ 1991ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ رمضان کا مہینا تھا۔ مینہ برس رہا تھا۔ بدقسمتی سے ہم پر چھاپا پڑا۔ سب کو پکڑ کر تھانے لے جایا گیا۔ اُن دنوں غالباً کلام خان (کالام خان) ایس ایچ اُو تھے۔ جس وقت ہماری ضمانت کی جا رہی تھی، تو پتا چلا کہ ہم سب پر ’’بلیو پرنٹ‘‘ دیکھنے کا پرچہ کاٹا گیا تھا۔ یوں ہم رمضان کے مہینے میں پولیس کی چار سو بیسی کا شکار ہوگئے۔ وہ تو شکر ہے کہ اُس وقت ہمارا شناختی کارڈ نہیں بنا تھا، ورنہ دامن سے یہ داغ کبھی نہ دھلتا۔
کیا تاریخ فایدہ مند ہے؟:
https://lafzuna.com/history/s-29262/
کچھ لوگوں کو وی سی آر کی محبت میں ہم سے بھی زیادہ سزا ملی۔ ڈاکٹر عدنان (فتح خان خیل) کے بقول، چارباغ کا ایک شخص وی سی آر گھر لے جا رہا تھا۔ اُسے مینگورہ میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ ٹی وی، وی سی آر اور چھے سات عدد کیسٹوں کے بدلے وہ ایک تولہ سونا دکان دار کے ساتھ گروی رکھ گیا۔ وہ وی سی آر موٹرسائیکل پر رکھ کر لے جا رہا تھا کہ راستے ہی میں موٹرسائیکل بے قابو ہوکر نیچے دریا میں گرگئی۔ مینگورہ شہر میں ایک شور اُٹھا۔ کافی لے دے ہوئی۔ آخر میں جرگے کے ذریعے فیصلہ ہوا کہ گروی رکھا گیا سونا دکان دار نقصان کے اِزالے کے طور پر رکھ لے۔ تب کہیں جاکے اس کی جان چھوٹی۔
بقولِ میرؔ
پھرتے ہیں میرؔ خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزتِ سادات بھی گئی
باقی آیندہ…… اِن شاء اللہ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔