تحریر: عبدالمعین انصاری
برصغیر میں انگریزوں کے دور تک ہندوؤں میں رسم تھی کہ کسی شخص کے مرنے پر اس کی بیویاں بھی اس کی چتا کے ساتھ جل جاتی تھیں۔ یہ رسم ستی کہلاتی تھی۔ یہ نہیں معلوم ہوسکا کہ اس رسم کا کب رواج ہوا؟ ویدوں میں اس رسم کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ اگرچہ بعض ہندوؤں کا خیال ہے کہ رگ وید میں ستی کا جوالہ ہے۔ منو نے بیواؤں کے چال چلن، ان کی زندگی گزارنے کے طور طریقے لکھے ہیں، لیکن ستی کی رسم کا ذکر نہیں کیا۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ منو کے زمانے تک عورتیں ستی نہیں ہوتی تھیں۔
یہ روایت کب سے جاری ہوئی؟ اس کے بارے کچھ پتا نہیں چلتا۔ یونانیوں نے بھی اس رسم کا ذکر نہیں کیا۔ البتہ مسلمان سیاحوں نے اس رسم کا ذکر کیا ہے۔ تاہم اندازہ ہے کہ یہ رسم ساتویں صدی سے شروع ہوئی جب کہ راجپوتوں کا دور شروع ہوا ۔ ’’جیمز ٹاڈ‘‘ کا کہنا ہے کہ یہ رسم راجپوت عورتوں میں اس لیے شروع ہوئی کہ انھیں فاتح کی لونڈیاں منظور نہیں تھا۔
ایک روایت کے مطابق مہا بھارت کی جنگ میں کوروں کو شکست ہوئی اور وہ قتل ہوئے اور ان کا اندھا باپ دہر تراشتر نے راج پانڈوؤں کے حوالے کیا اور خود اپنی بیوی کے ساتھ ہمالیہ چلا گیا۔ وہاں آگ میں جل کر مرگیا۔ اس کے ساتھ بیوی بھی ساتھ ہی جل گئی تھی۔ اس کے بعد عورتوں میں یہ رسم شروع ہوئی کہ شوہر کی موت کے بعد بیوی یا بیویاں شوہر کی چتا میں ساتھ جلنے لگیں۔ اس لیے ہندوؤں کے جن طبقات میں ستی کا دستور تھا، وہاں عورتوں میں خیال پیدا ہوگیا تھا کہ ہمیں کسی قسم کی پوجا کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ اپنے شوہروں کی اطاعت کرنا اور اس کے ساتھ ہی چتا میں جل کر مر جانا ہماری نجات کے لیے کافی ہے۔
کسی عورت کو ستی ہوتے ہوئے دیکھنا طبیعت پر سخت گراں گزرتا۔ دیکھنے والوں کے دل پر گہرا صدمہ کے ساتھ ستی ہونے والی عورت کی عظمت اور عورت کے استقلال اور تحمل پر حیرت ہوتی تھی۔ ستی کے وقت عورت اپنی ذاتی اشیا اپنے عزیزوں میں تقسیم کرنے اور آس پاس کے لوگوں سے الوداعی سلام و دعا اور لوگوں کا اس کی تعظیم و احترام کرنے کا منظر دیدنی ہوتا۔ اُس وقت ستی ہونے والی عورت کی باتیں سن کر، اُس کا طرار پن دیکھ کر دیکھنے والوں کی عجیب حالت ہوجاتی تھی کہ ایک نرم مزاج عورت ایک فرسودہ رسم کی بدولت اپنی جان جس طرح دیتی ہے، اس سے بڑے بڑے حب الوطن لڑائیوں میں مرنے والے بھی ہیچ ہیں۔
نوابِ دیر پر قرضوں کی بارش کیوں؟:
https://lafzuna.com/history/s-30279/
انگریزوں کا کہنا ہے کہ شوہر کی موت کے بعد اس کی بیوہ کو جو ذلت کی زندگی گزارنی پڑتی تھی، اسی وجہ سے عورتیں ستی ہونا پسند کرتی تھیں۔ اس کے علاوہ عورتوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھائی جاتی تھی کہ ان کے ستی ہونے سے شوہر کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور وہ سورگ (جنت) میں شوہر کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزارے گی۔ اس امید پر کہ اُس کے ساتھ اُس کے شوہر کو بھی سورگ کی لذتین عیش و آرام نصیب ہوگا، خوشی خوشی جل جاتی تھی۔
بنگال میں ایک ستی کے موقع پر ایک عورت ڈر کر بھاگی، تو لوگ اسے پکڑ کر چتا میں ڈالنے لگے، تو تماشا دیکھنے والے ایک انگریز نے اسے دوبارہ چتا میں نہیں ڈالنے دیا۔ یوں اس کی جان بچ گئی، لیکن دوسرے دن اس عورت نے آکر اس انگریز کو سخت برا بھلا کہا کہ تم نے مجھے ذلیل کر دیا۔ اگر جل جانے دیا ہوتا، تو آج بیکٹھ (جنت) میں شوہر کے ساتھ عیش کر رہی ہوتی ۔ اب میرے لواحقین مجھے برا بھلا اور بدعائیں دیتے ہیں ۔
مشہور یہ بھی ہے کہ مرنے والے کے رشتہ دار بیوی کو ستی ہونے کے لیے اس لیے بھی مجبور کرتے تھے کہ اس کی مال اور دولت اس کے ہاتھ لگ جائے، مگر ہندو مذہب میں عورت کو اس طرح کا استقاق نہیں حاصل ہوتا تھا کہ وہ مال و دولت اپنے پاس رکھے یا آزادانہ زندگی بسر کرے۔ منو کے قانون کے مطابق اُسے شادی سے پہلے باپ اور بھائیوں اور شادی کے بعد شوہر اور بیٹوں کی محتاج ہوتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت سی عورتیں شوہر سے محبت کے اظہار میں جوش و جذبات سے ستی ہوتی تھیں۔
اگر متوفی کی کئی بیویاں ہوں، تو اُن میں میں جو عمر میں بڑی ہوتی، اسے ستی ہونے کا پہلا حق ہوتا تھا۔ اس طرح حاملہ عورت بچے کے پیدا ہونے کے بعد بھی ستی کرلیتی تھی۔ بہت سی عورتیں ستی کے لیے راضی نہیں بھی ہوتی تھیں اور انھیں زبردستی مجبور کیا جاتا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے بیٹے کھرک سنگھ کی موت کے بعد اس کی بیوہ ’’ایسر کور‘‘ نے ستی ہونے سے انکار کر دیا تھا، مگر راجہ دہیان سنگھ سے اُسے زبردستی کھرک سنگھ کی چتا کے ساتھ جلا دیا ۔
ستی ہونے کے ہر جگہ مختلف طریقے رایج تھے۔ مثلاً: بنگال میں بیوہ کو مردے کے ساتھ چتا میں رسیوں اور بانسوں سے باندھ دیا جاتا تھا کہ عورت اُٹھ کر بھاگ نہ سکے اور پھر چتا کو آگ لگا دی جاتی تھی۔ اڑیسہ میں ایک گڑھا کھود کر اس میں مردے کو آگ دکھاتے تھے اور جب شعلے بلند ہوتے، تو اس کی بیوہ اس میں کود پڑتی تھی یا دھکا دے دیا جاتا تھا۔ دکن میں ستی کا دستور اس طرح تھا کہ چتا میں عورت مردہ شوہر کا سر زانو پر لے بیٹھ جاتی تھی اور چتا کے چاروں طرف لکڑیاں لگا اوپر چھت بناکر اندر مردے اور عورت کے پاس لکڑیاں چن دی جاتی تھیں اور چتا کی چھت کو آگ لگا دی جاتی تھی ۔ عورت یا تو دھویں سے دم گھٹنے سے مرجاتی تھی یا چتا کی چھت اس پر گر جاتی تھی۔
غیر پشتون علاقوں میں ویش نظام:
https://lafzuna.com/history/s-30085/
ستی ہونے والی عورتیں عموماً ستی کے لیے مختلف رسومات، برد باری اور صبر و استقلال سے ادا کرتی تھیں کہ ظاہر نہیں ہوتا تھا کہ وہ موت کو گلے لگا رہی ہیں۔ اکثر یہ دیکھا گیا کہ ستی ہونے والی عورت شعلوں کے درمیان سر کو جھکا کر دونوں ہاتھ جوڑ کر دعائیں مانگتی مانگتی جل گئی۔ یہ بھی ہوتا تھا کہ چتا کو آگ دِکھائی، تو عورت ڈر کر بھاگی اور لوگوں نے اسے پکڑ کر دوبارہ چتا میں ڈالا اور اس کے اوپر لکڑی کے بھاری تنے ڈال دیے کہ وہ دوبارہ نکل نہ سکے۔ بعض اوقات یا بعض مقامات پر ستی ہونے والی عورتوں کو نشہ آور دوا دے دی جاتی تھی کہاسیہوش نہ رہے۔ مثلاً: گجرات میں ستی ہونے والی عورتوں کو عموماً افیون کھلا دی جاتی، یوں وہ مدہوش ہوجاتیں ۔
ستی ہونے کا دستور پورے ہندوستان میں نہیں تھا۔ جنوب میں دریائے کشنا کی جنوبی جانب عورتیں ستی نہیں ہوتی تھیں۔ دکن، گجرات، بمبئی، سندھ اور پنجاب میں ستی ہونے والوں کی تعداد کم ہوتی، مگر وسطِ ہند، مشرقی ہند، راجپوتانہ اور بنگال میں یہ رسم عام تھی اور انگریزوں نے اس کی سیکڑوں تعداد رپورٹ کی ہے۔
مسلمان حکم رانوں نے اپنے دورِ حکومت میں اس رسم کو ختم کرنے کی کوشش کی، تو ہندوؤں نے احتجاج کیا کہ یہ رسم وید کے حکم پر ہے اور اسے بند کرنا ہمارے مذہب میں دخل اندازی ہے۔ اکبر نے اسے ختم کرنے کی کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوا اور اس نے حکم دیا تھا کہ کسی عورت کو زبردستی ستی نہیں کیا جائے۔ اس طرح 1819ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس رسم کے خلاف قانون کا اجرا کیا جس میں سختی سے اسے روکنے کا حکم دیا ۔ شروع میں چھپ کر ستی کے کچھ واقعات ہوئے، مگر برطانوی حکومت نے سختی سے اس رسم میں مددگاروں کو سخت اور کڑی سزائیں دیں۔یہاں تک اس رسم کا سدباب ہوگیا۔انگریزی علاقوں میں تو یہ رسم ختم ہوگئی، مگر دیسی ریاستوں میں بدستور جاری رہی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی 1839ء میں آرتھی پر اس کی ایک بیوی مہتاب دیوی اور تین لونڈیاں ستی ہوئیں تھیں، مگر اس کے بعد انگریز حکومت نے دیسی ریاستوں میں بھی ستی کی رسم ختم کرنے کا حکم جاری کیا اور آخری ستی پنجاب میں 1845ء میں ہوئی تھی۔ آج جب کہ ہندوؤں میں یہ رسم ختم ہوچکی ہے اور وہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بہیمانہ اور وحشانہ رسم تھی۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔