تحریر: جیا علی
بھری گرمیوں کا دن تھا، دو متحارب بادشاہوں کی فوجیں آپس میں برسرِ پیکار تھیں۔ اس دن سیکڑوں لاشیں گرچکی تھیں۔ یہ دونوں فوجیں پچھلے پندرہ سالوں سے آپس میں خون کی ندیاں بہا رہی تھیں۔ کبھی جنگ رک جاتی تھی اور کبھی خون آشام تلواریں ہزاروں جوانوں کو موت کی ابدی نیند سلا دیتی تھیں۔ پچھلے پانچ سالوں سے تو بغیر کسی وقفے سے جنگ اور موت کے دیوتا ہی ان کی پرستشوں کے محور تھے کہ یکایک آسمان نے اپنا رنگ بدلنا شروع کیا۔ ایک عفریت تھا کہ سورج دیوتا کو نگلے جا رہی تھا۔ روزِ روشن، آہستہ آہستہ تاریکی میں بدلنا شروع ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ عفریت مکمل طور پر سورج دیوتا کو نگل گیا، لوگوں کو دن دیہاڑے ستارے نظر آنے لگے اور بھری دوپہر میں یوں محسوس ہونے لگا کہ آدھی رات ہے۔ ان متحارب لشکروں نے اپنے سورج دیوتا کا یہ حشر ہوتے دیکھا، تو تلواریں، نیزے، بھالے پھینک، سجدے میں گرگئے اور مناجات پڑھنے لگے۔ سورج دیوتا کو آہستہ، آہستہ اس عفریت سے رہائی ملی اور وہ دوبارہ اپنی کرنوں سے دنیا کو ضیا پاش کرنے لگا…… لیکن اب دونوں لشکروں کے دل بدل چکے تھے۔ انھوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ دیوتا ان کی خوں ریزیوں کی وجہ سے ان سے ناراض ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے سورج دیوتا کو یہ سزا ملی۔ لہٰذا یہ موت کا کھیل بند کر کے امن سے رہنا چاہیے۔ جب پیادے ہی لڑنے کو تیار نہ تھے، تو شاہ اور وزیر بھلا کیا کرتے! سو ان دونوں بادشاہوں نے آپس میں امن کا معاہدہ کیا اور عوام ہنسی خوشی رہنے لگے۔
یہ کوئی دیومالائی کہانی نہیں، بلکہ قدیم تاریخ کا ایک ایسا منفرد واقعہ ہے جس کا انتہائی صداقت سے تعین ہوچکا ہے۔ یہ ہمارے مروجہ اور مستعمل کیلنڈر کے مطابق 28 مئی 585 قبلِ مسیح کا دن تھا کہ جس دن سورج گرہن لگا اور یہ دونوں فوجیں قدیم سلطنتوں لیڈیا اور میڈیا کی تھیں…… موجودہ دور میں یہ دونوں علاقے، بالترتیب ترکی اور ایران کے حصے بنتے ہیں کہ جو ازمنۂ قدیم ہی سے آپس میں برسرِ پیکار رہے ہیں۔
یہ تو شاید مظاہرِ فطرت کا پہلا واقعہ تھا جس نے ان لوگوں کی پُرخون دنیا میں امن پیدا کر دیا، لیکن اس واقعے کی اہمیت ایک اور وجہ سے اس بھی زیادہ اہم ہے۔ جس وقت یہ جنگ سورج گرہن کی وجہ سے رُکی، اسی وقت لوگوں نے میدانِ جنگ سے ملحقہ ایک شہر میں ایک آدمی کو گھیرے ہوا تھا اور حیران و پریشان تھے کہ اس شخص کو اس سورج گرہن کا کیسے پتا چل گیا کہ یہ دیوتا بھی نہیں اور اس نے کافی عرصے پہلے اس سورج گرہن کی پیشین گوئی کر دی تھی۔ ناسا کے سائنس دانوں نے نہ صرف اس سورج گرہن والے واقعے کی تاریخ پر مہرِ تصدیق ثبت کردی ہے، بلکہ اس بات کو بھی مانا ہے کہ ایشیائے کُوچک کے ان علاقوں میں جہاں پر یہ لڑائی جاری تھی، یہ ایک مکمل سورج گرہن تھا۔ یہ پیشین گوئی کرنے والا شخص ’’تھے لیز‘‘ (Thales of Miletus)تھا جو متفقہ طور پر دنیا میں پہلا فلسفی مانا جاتا ہے۔
علمِ نجوم جو بعد میں ترقی کرکے علمِ ہیت بنا، دنیا کے قدیم ترین علموں میں سے ہے۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے اس کے عالم تھے۔ اس کی ابتدا تو شاید اس وقت ہوئی ہوگی جب انسان نے اپنی تاریک راتوں میں سفر کرنے کے لیے ستاروں کی طرف دیکھا ہوگا اور سیکڑوں، ہزاروں سالوں کے مشاہدے نے اسے سکھلا دیا کہ آسمان میں کچھ ستارے ایسے بھی ہیں، جو ہمیشہ ایک ہی سمت کا تعین کرتے ہیں اور ان سے دوسری سمتوں کا تعین بآسانی ہوسکتا ہے، لیکن اس علم کو ترقی اس وقت ملی جب یہ معبدوں کے پروہتوں کے ہاتھ میں آیا۔ اس زمانے کے لوگ اور بہت سارے مظاہرِ فطرت کے ساتھ چاند، سورج اور ستاروں کی بھی پرستش کرتے تھے اور پروہت چوں کہ دیوتاؤں کے نایب پوتے تھے اور ان کی بات ہی دیوتاؤں کی بات ہوتی تھی، لہٰذا یہ ان پروہتوں کی مجبوری تھی کہ وہ اپنے آپ کو اپنے دیوتاؤں کے حالات سے با خبر رکھیں۔ بابل اور مصر کے لوگ آج سے ہزاروں سال پہلے علمِ نجوم میں کافی ترقی یافتہ تھے۔ ان پروہتوں نے جب اتنہائی بلند و بالا معبدوں کے اُنچے اُنچے چبوتروں پر بیٹھ کر تاریک راتوں میں آسمان کے ستاروں کا سیکڑوں سالوں تک مشاہدہ کیا اور ان کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا، تو زائچے بن گئے۔ انھوں نے نہ صرف ستاروں کی گردش اور مختلف موسموں میں ان کی آسمان میں پوزیشن کو نوٹ کیا، بلکہ وہ اس بات پر بھی قادر ہوگئے کہ ستاروں کی پوزیشن کے متعلق پیشین گوئیاں کرسکیں اور اسی سے وہ پروہت سورج گرہن اور چاند گرہن کے متعلق پیشین گوئیاں کیا کرتے تھے۔ یہ ایک انتہائی سائنٹفک علم تھا، جو مشاہدہ پر مشتمل تھا…… لیکن ان پروہتوں نے اس پر طلسم و اسرار کے دبیز پردے ڈالے ہوئے تھے۔ وہ عوام کو گرہنوں کی پیشین گوئی کرکے نہ صرف مرعوب کرتے تھے، بلکہ ان کو یہ کَہ کر کہ دیوتا ان سے ناراض ہو گئے ہیں، قربانیوں اور مناجات پر مجبور بھی کردیتے تھے۔
’’تھے لیز‘‘ ایشیائے کوچک کے بحیرۂ روم کے ساحل پر ایک یونانی نوآبادی آئیونیا کے شہر مائیلیٹس کا باشندہ تھا۔ اس کے نسل کے بارے میں مورخ آج تک متفق نہیں ہوسکے۔ بہت سارے مورخین کا کہنا ہے کہ وہ یونانی الاصل تھا، لیکن قدیم اور نام ور یونانی مورخ ہیروڈوٹس کا کہنا ہے کہ وہ فونیشی الاصل یعنی ایشیائی تھا۔ ’’تھے لیز‘‘ 624 قبل مسیح میں مائیلیٹس میں پیدا ہوا اور 546 قبل مسیح میں وہیں وفات پا گیا۔
اس کا عہد تاریخ کا ایک انتہائی اہم دور ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب علم کا مرکز ایشیا سے مغرب کی طرف منتقل ہو رہا تھا۔ قدیم اور عظیم مصری تہذیب اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی اور میسوپوٹیمیا کی تہذیب، ایرانی فاتحین کے ہاتھوں تخت و تاراج ہو رہی تھی۔ گو ابھی دم خم باقی تھا۔ آئیونیا کی شہری ریاستوں کے مصر اور بابل کے ساتھ دوستانہ اور تجارتی روابط تھے اور انہی خوش گوار تعلقات کی وجہ سے ’’تھے لیز‘‘ کو اپنی جوانی میں ان علاقوں کے سفر کے مواقع ملے۔ بابل کے سفر کے دوران میں اس نے وہاں سے علمِ نجوم یا علمِ ہیت سیکھا تھا۔ اس کا مصر کا سفر بہت یادگار ہے۔ مصر کی تہذیب ہزاروں سال پرانی ہے اور جب اس نے اہرامِ مصر دیکھے، تو ان کو تعمیر ہوئے بھی تقریباً دو ہزار سال ہوچکے تھے۔ مصر میں اس نے جیومیڑی اور ریاضی کا علم حاصل کیا۔ مصر میں اس کا ایک واقعہ تو بہت ہی مشہور ہے۔وہاں قیام کے دوران میں اس کے علم کا شہرہ ہوچکا تھا۔ اہلِ مصر نے اس سے پوچھا کہ تم بتاؤ، ہمارے اہرام کی اونچائی کتنی ہے کہ یہ بات ان کے لیے ایک چیستان تھی۔ اس نے کہا یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ۔ اس نے ان سے کہا کہ ریگستان میں ایک چھڑی گاڑ دو۔ جب چھڑی کا سایہ اس کی اصل لمبائی کے برابر ہو گیا، تو تھے لیز نے کہا، اب اہرام کا سایہ ماپ لو۔ وہ بھی یقینا ان کی اصل اونچائی کے برابر ہوگا۔ یہ بظاہر سامنے کی بات نظر آتی ہے لیکن اس نے یہ بات کرکے یقینا اہلِ مصر کو ششدر کر دیا ہوگا۔ مصر میں قیام کے دوران میں اس کی دریائے نیل کی طغیانی، کہ جس پر مصر کا دارومدار آج بھی ہے، کے بارے میں تحقیقات بھی کافی مشہور ہیں۔
تھے لیز کی کوئی تحریر باقی نہیں اور بعض مورخین کے نزدیک اس نے کوئی کتاب لکھی بھی نہیں تھی۔ اس بات پر بہرحال مورخین و فلاسفہ کا اختلاف ہے۔ تھے لیز کے فلسفے کو دوام ارسطو نے اپنی مختلف کتب میں بیان کرکے بخشا ہے۔ ارسطو نے نہ صرف اس کے فلسفے پر بحث کی ہے بلکہ اس کے حالاتِ زندگی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اپنی کتاب سیاسیات میں ارسطو نے اس کے علمِ نجوم میں مہارت کا قصہ بیان کیا ہے۔ ہوا یوں کہ لوگ اس کو غربت کا طعنہ مارا کرتے تھے کہ یوں تو بڑے عالم فاضل بنے پھرتے ہو اور بھوکوں مر رہے ہو۔ اس نے کہا، اچھا اگر یہ بات ہے، تو پھر دیکھنا۔ اس نے علمِ ہیت میں اپنی مہارت سے اندازہ لگایا کہ اس سال گرما میں موسم کچھ اس طرح کا ہوگا کہ زیتون کی فصل بہت اچھی ہوگی۔ لہذا اس سنے مائیلیٹس اور اس کے ملحقہ علاقوں کے زیتون کا تیل نکالنے والے تمام کارخانے اپنے نام بک کروالیے ۔ یہ سردیوں کا موسم تھا۔ کارخانے بند پڑے تھے اور اس کے مقابل کوئی بولی لگانے والا بھی نہیں تھا۔ لہٰذا اسے بڑے مناسب داموں پر یہ کارخانے مل گئے۔ جب موسمِ گرما میں زیتون کی فصل آئی، تو وہ واقعی بہت شان دار تھی۔ اب ہر کسی کو تیل نکالنے کے لیے کارخانے درکار تھے۔ اس نے اپنی من مرضی کے نرخوں پر وہ کارخانے چلائے اور کثیر سرمایہ کمایا اور لوگوں سے کہا کہ دیکھو اگر فلسفی اور علما دولت کمانا چاہیں، تو بہت کماسکتے ہیں، لیکن ان کے مقاصد اور طرح کے ہوتے ہیں۔
یہ تو ارسطو کی بیان کردہ کہانی تھی۔ اس واقعہ پر ایک ستم ظریف فلسفی نے یہ اضافہ کیا کہ اس تمام قصے میں نہ تو علمِ نجوم میں مہارت درکار تھی اور نہ زیتون کی بہت اچھی فصل، بلکہ یہ تو سیدھا سادھا تاجرانہ اجارہ داری کا واقعہ ہے۔
اُس کا ایک اور واقعہ بھی مشہور ہے۔ ایک دفعہ شام کو وہ کہیں جا رہا تھا اور چلتے چلتے آسمان میں ستاروں کا مشاہدہ بھی کر رہا تھا کہ ایک گڑھے میں گر گیا۔ اس پر وہاں پر موجود لڑکیوں نے اس کی خوب سبکی کی کہ آسمانوں کی خبر تو رکھتا ہے اور پاؤں کی خبر نہیں۔
تھے لیز کو دنیا میں متفقہ طور پر پہلا فلسفی اور سائنس دان مانا جاتا ہے اور اس کے ساتھ، فزکس، جیومیٹری اور ریاضی کا موجد بھی۔ جیومیٹری کو مصریوں نے بہت پہلے ترقی دی تھی اور ’’تھے لیز‘‘ نے یہ علم انھی سے سیکھا تھا، لیکن اس وقت تک یہ علم بغیر کسی قواعد و ضوابط کے تھا۔ اس نے سائنسی بنیادوں پر جیومیٹری کے قواعد و ضوابط منظم کیے اور تھیورم پیش کیے جو بعد میں اقلیدس نے بیان کیے اور آج تک ساری دنیا میں پڑھائے جاتے ہیں۔ فلسفے اور سائنس کا بانی اس لحاظ سے کہ وہ پہلا آدمی تھا جس نے اس کائنات کے وجود میں آنے کی وجوہات کی علمی اور عقلی توجیہات بیان کیں۔ اس سے پہلے جب بھی کوئی سوال پوچھتا تھا کہ دنیا کیسے وجود میں آئی، تو ہر طرف سے یہی جواب ملتا تھا کہ اس کو دیوی دیوتاؤں نے بنایا ہے۔ اس نے آفرینشِ کائنات کے بارے میں مادی اسباب کا فلسفہ بیان کیا اور کہا کہ دنیا پانی سے وجود میں آئی ہے۔ اس نے اور بھی نظریات پیش کیے جو آج کی دنیا کو بچکانہ معلوم ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ زمین چپٹی ہے اور پانی کی سطح پر تیر رہی ہے اور کائنات دیوی دیوتاؤں سے بھری ہوئی ہے۔ لیکن ’’تھے لیز‘‘ کا تاریخِ انسانیت میں یہ کارنامہ نہیں کہ اس نے پانی کو بنیاد مانا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے علوم کو خرافاتی پردوں کی دبیز تہوں سے نکال کر خرد کی بات کی اور انسان کو یکایک خرافات اور اسطوریات کی دنیا سے نکال کر خرد افروز تحریک کی بنیاد رکھی۔ بقولِ غالب
مَیں چمن میں کیا گیا گویا دبستان کھل گیا
تھے لیز کے بعد یکے بعد دیگرے بہت سارے فلسفی آسمانِ علم و عقل پر نمودار ہوئے اور اپنے اپنے نظریات پیش کیے۔ جن میں سب سے پہلے اس کا شاگردِ رشید ’’اناکسی مینڈر‘‘ تھا۔ اس نے کہا کہ یہ کائنات پانی سے نہیں بنی بلکہ ایک لامحدود زندہ شے ہے۔ یہی اناکسی مینڈر تھا جس نے ڈارون سے دو ہزار سال پہلے نظریہِ ارتقا پیش کیا اور اس کی ایک دلیل یہ دی کہ انسان کا بچہ پیدا ہوتے ہی دوسرے حیوانات کی طرح اپنی خوراک تلاش نہیں کرسکتا اور اس کا دودھ پینے کا عرصہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر انسان شروع ہی سے ایسا ہوتا، تو کبھی زندہ نہ رہ سکتا تھا۔ لہٰذا وہ حیوانوں ہی کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ اس کے بعد اناکسی منیس نے کہا کہ گو کائنات کا اصول مادی ہے، لیکن یہ ہوا سے بنی ہے۔ ہیریقلیتس نے کہا، نہیں یہ کائنات آگ سے بنی ہے۔ ایمپے دکلیس نے عناصرِ اربعہ کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ کائنات آگ، ہوا، مٹی اور پانی سے مل کر بنی ہے۔ یہی عناصرِ اربعہ کا نظریہ آج تک مسلم صوفیوں میں مقبول ہے۔
ایک مفکر، سائنس دان، ریاضی دان، ماہر علمِ نجوم اور جیومیڑی ہونے کے ساتھ ساتھ ’’تھے لیز‘‘ انجینئر اور سیاست دان بھی تھا۔ اُن دنوں مائیلیٹس ایک بہت بڑا تجارتی شہر تھا اور وہاں غلاموں کی بہت بڑی آبادی موجود تھی۔امیر و غریب طبقے کی کشمکش عروج پر تھی۔ پہلے عوام نے شہر پر قبضہ کیا اور طبقۂ اشرافیہ کے بیوی بچوں کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد اشرافیہ نے شہر کو فتح کیا اور غلاموں کو زندہ جلا دیا۔ اسی طرح کے حالات ایشیائے کوچک کی دیگر یونانی شہری ریاستوں کے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ایرانیوں نے میسوپوٹیمیا کے علاقے فتح کرنے کے بعد اپنا رُخ مغرب کی طرف کیا ہوا تھا اور شہری ریاستیں ان کی مستقل زد میں تھیں۔ انھی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اُس نے شہری ریاستوں کی ایک فیڈریشن کا نظریہ پیش کیا جس کو پذیرائی نہ ملی۔
نظریے کو پذیرائی ملی ہو یا نہ، لیکن ’’تھے لیز‘‘ کو اپنی زندگی میں ہی بہت پذیرائی مل گئی تھی۔ عمر کے آخری حصے میں اُسے عوام کی جانب سے سوفوس یا فلسفی اور حکیم کا خطاب مل چکا تھا۔ قدیم یونانیوں نے سقراط سے پہلے کہ سات دانش ور آدمیوں کی فہرست میں اسے نمبر ایک کے درجے پر رکھا ہوا تھا۔
’’تھے لیز‘‘ کے ڈھیر سارے مقولے بھی مشہور ہیں۔ جیسے کسی نے اس سے پوچھا کہ خدا کیا ہے؟ اس نے کہا، جس کی ابتدا ہے نہ انتہا۔ لوگوں نے پوچھا، انسان امن و سکون اور انصاف کے ساتھ کیسے رہ سکتا ہے؟اُس نے کہا، اس طرح کہ ہم ہر وہ کام چھوڑ دیں جس کا دوسروں کو الزام دیتے ہیں۔ کسی نے پوچھا، سب سے مشکل کام کیا ہے؟ اس نے کہا، اپنے آپ کو جاننا۔ ’’اور سب سے زیادہ آسان کام؟‘‘ کسی نے فوراً پوچھا،’مشورہ دینا‘ اس نے جواب دیا۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔