اس مضمون سے منسلک دو تصاویر میں مجسمے والی تصویر لندن کے برٹش میوزیم میں رکھی ہوئی ہے اور اس کے نیچے لکھا ہے: ’’مقدونیہ کا لڑکا۔‘‘ جس نے ’’کوزیا‘‘ (Kausia) نامی ٹوپی پہنی ہے۔ اس کا تعلق یونان کے قدیم شہر ایتھنز سے ہے اور وہ 300 ماقبل مسیح کا ہے۔
پکول کو آج کل پاکستان اور افغانستان کی سرحدی علاقوں اور ہندوکش، قراقرم اور پامیر کی وادیوں میں کثرت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پکول کے بارے میں علمی و تحقیقی حلقوں میں بحث اس وقت زیادہ شدت سے اُبھری جب مغربی میڈیا نے طالبان اور ان سے پہلے مجاہدین کو اپنی ٹی وی سکرینوں پر پکول پہنے دیکھا۔
پکول، جسے اب کئی لوگ چترالی، افغانی یا داردی ٹوپی بھی کہتے ہیں، کافی دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ یونان کے شہر ایتھنز سے اس کے تعلق کو کئی ماہرین سکندرِ اعظم سے جوڑتے ہیں، جنھوں نے موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقوں کو 326 ماقبل مسیح میں فتح کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ سکندرِ اعظم اور اس کی فوج نے اس ٹوپی کو یہاں سے یونان پہنچا دیا اور یوں وہاں یہ ’’کوزیا‘‘ (Kausia) کے نام سے مشہور ہوئی۔ اُن کے مطابق یونان میں اس کا پہلا تذکرہ 11 ماقبل مسیح میں ہوا تھا۔
یہ لنک بھی متعلقہ ہے:
https://lafzuna.com/history/s-4126/

قدیم تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے ان ماہرین کا خیال ہے کہ یونان میں لباس اور دوسری اشیا کو سکندرِ اعظم کی مہمات نے بہت متاثر کیا تھا۔ اس لیے ہندوکش کا یہ پکول یونان میں ’’کوزیا‘‘ بن گیا۔
محققین کا ایک دوسرا حلقہ کہتا ہے کہ پکول کو اس خطے میں سکندرِ اعظم اور اس کی افواج نے رایج کیا…… یعنی پکول اصلاً یونانی ہے، تاہم اس سلسلے میں کم شواہد موجود ہیں۔ پکول اصل میں ایسی ہم وار ٹوپیوں میں سے ایک ہے جن کے گول پلندہ دار کنارے (Rolled Rims) ہوتے تھے اور جنھیں چین، ہندوستان اور وسطی ایشیا کی سرحدات پر پہنا جاتا تھا۔ یہ علاقے واضح طور پر داردستان (شمالی پاکستان، شمال مشرقی افغانستان، کشمیر اور بلتستان کے علاقے ) ہیں۔
کئی داردی زبانوں جیسے شینا، توروالی، گاؤری وغیرہ میں پکول کے اصل نام کھوئی، کھو، کھہ وغیرہ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ یونانی لفظ ’’کوزیا‘‘ (Kausia) اور ان الفاظ کا اصل ایک ہی ہے۔
حوالاجات:
B. M. Kingsley, The cap that survived Alexander, AJA 8 5(1981), 39-46
"The ‘Chitrali’, a Macedonian import to the West”, Afghanistan Journal 8(1981), 39-46
"The kausia Diadematophoros”, AJA 8 8(1984), 66-88
"Alexander’s ‘kausia’ and Macedonian Tradition’, Classical Antiquity 10, (1991), 59-76
E. A. Fredricksmeyer. "Alexander the Great and Macedonian kausia”, TAPHA 11 6(1986), 215-227
"The kausia: Macedonian or Indian?” in I. Worthington (ed.), Ventures into Greek History (Oxford, 1994), 135-158
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔