تاریخ کے علم کو قوموں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ تاریخ کے وہ واقعات جن سے ان کی تہذیبی عظمت ظاہر ہوتی ہے۔ ان کو مبالغہ آمیزی کے ساتھ پیش کیا ہے اور اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انھوں نے تہذیبی طور پر دوسروں سے یا تو بالکل نہیں سیکھا اور یا بہت کم ان کی ساری ترقی ان کی اپنی ذہانت اور لیاقت پر مبنی تھی۔ تاریخ کے اس نقطۂ نظر کو بیان کرتے ہوئے ان واقعات کو حذف کردیا جاتا ہے جو ان پر اثر انداز ہوئے۔ ان کی ایک مثال یونانی تہذیب کی ہے۔ اس تہذیب کا ارتقا اور ترقی بحرِ روم کے علاقے میں ہوئی، جب کہ یورپ کے ممالک غیر مہذب اور غیر متمدن حالت میں تھے۔ رینے ساں (Renaissance) کے عہد میں جب اطالوی اسکولرز نے چرچ کی بالادستی سے نجات حاصل کرنے کے لیے یونانی تہذیب کو نئے سرے سے زندگی دی، تو وہ خاص طور سے ولیم جونز (William Johns, d. 1794) کے انڈو یوروپین (Indo- European) نظریے سے متاثر ہوئے اور یونانی تہذیب جو بحرِ روم سے متعلق تھی میسو پوٹامیہ، فونیقی اور مصری تہذیب سے ان کے خیالات کو لے کر تشکیل ہوئی تھی، اس سے انکار کرکے یونانی تہذیب کو خالص یورپی بنا دیا اور یورپ نے اپنے تہذیبی رشتوں کو ان سے منسوب کرکے ایشیائی رابطوں سے انکار کردیا۔
یورپ کے مورخوں کی نظر میں افریقہ تاریک براعظم رہا ہے جس کی اپنی نہ کوئی تاریخ تھی اور نہ کوئی تہذیب، لہٰذا اس صورتِ حال میں افریقی ممالک سے سیکھنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔ جب تاریخی واقعات کو یک طرفہ طور پر لکھا جائے اور ان کی تشہیر بھی کی جائے، تو یہ ذہنیت کا حصہ ہوجاتے ہیں۔ جب اس روایتی نقطۂ نظر کو چیلنج کیا جائے، تو اس کو قبول کرنے میں بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔
مارٹن برنال (Martin Bernal) نے اپنی کتاب "Black Athena” جو تین جلدوں میں شایع ہوئی ہے۔ پہلی جلد 1987ء دوسری جلد 1991ء اور تیسری جلد 2006ء میں چھپی۔ اس میں اس نے آثارِ قدیمہ، زبان، Myths، کہانیوں اور داستانوں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کی محو سے مکمل حوالہ جات کے ساتھ جن میں نئی تحقیق بھی شامل ہے، یہ ثابت کیا ہے کہ یونان کی قدیم تہذیب جسے یورپی مورخوں نے نظر انداز کیا ہے، اس کی تشکیل میں میسو پوٹامیہ، موسیقی اور مصری تہذیبوں کا دخل تھا۔ مصری تہذیب کے اثر کو "Herodotus” نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اور ایونیا کے نیچرل فلاسفر بھی مصری تہذیب کے اثرات کے قایل تھے، لیکن بعد کے یونانی مورخوں نے اس سے پہلو تہی کی ہے ۔
مارٹن برنال کی دلیل کے تحت جس کے اس نے شواہد دیے ہیں۔ مصری تہذیب کا اثر سب سے پہلے جزیرہ کریٹ پر ہوا۔ یہ کانسی کا زمانہ تھا جب مصر اور کریٹ کے درمیان تجارت کے ساتھ ساتھ تہذیبی نظریات کو بھی وہاں فروغ ملا۔ اس کا ثبوت کریٹ میں تعمیر کردہ "Aksos” کے محلات سے ہے۔ ان محلات میں گودام بھی ہوتے تھے جہاں سے عوام کو غلہ تقسیم کیا جاتا تھا۔ اس کے دو رسم الخط لینیر- 1اور لینیر 2(Linear A and Linear B) کہلاتے ہیں۔ یہاں پر خاص طور سے بیل (Bull) کی عبادت ہوتی تھی اور یہ عقیدہ مصر سے آیا تھا جہاں مصری سراپس (Serapis) بیل کی پرستش کرتے تھے۔ مصری اور کریٹ کے درمیان تجارتی شواہد ملے ہیں۔ مصری اور کریٹ کی تہذیب کے یہ اثرات قدیم یونان میں میسینا (Mesina) کے علاقے میں پہنچے۔ جس کی نشان دہی آثارِ قدیمہ کے آثاروں سے ہوتی ہے۔
مصر پر جب "Hyksos” قبایل 1650 BC حملہ آور ہوئے اور وہاں اپنی حکومت قایم کی، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق سامی (Semitic) نسل سے تھا۔ یہ مصر میں سب سے پہلے اپنے ساتھ گھوڑے بھی لائے تھے۔ ان کو 1532 BC کو مصر سے نکال دیا گیا تھا، تو یہ یونان میں جاکر آباد ہوئے اور ان کی تہذیب پر اثر انداز ہوئے۔ یونان میں ان کی موجودگی کے شواہد آثارِ قدیمہ سے ملتے ہیں۔
مارٹن برنال (Martin Bernal) نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ یونان کے دیوی دیوتا بھی مصری اساطیر (Egyptian Mythology) کے تحت نئی شکل میں ابھرے تھے۔ مثلاً ہرکولیس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ہیرا دیوی سے اس کا تعلق تھا۔ اس سے لفظ ’’ہیرو‘‘ نکلا ہے اور عربی میں ’’حر‘‘ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔
مارٹن برنال نے یونانی تہذیب کی تشکیل میں فونیقی (Phoenician) کے کردار کو ابھارا ہے۔ یہ فونیقی سمندری سفر میں ماہر تھے اور ان کا تعلق تجارت سے تھا۔ ان کے تجارتی مراکز شمالی افریقہ، اسپین اور جنوبی فرانس کی بندگاہوں سے تھے۔ فونیقیوں نے ہی یونانی زبان کو حروف تہجی دیے اور ان کو تجارتی طور پر بحرِ روم کے علاقوں سے متعارف کرایا۔
یونان کی قدیم تاریخ کا وہ حصہ جو مشرقی تہذیب کے زیرِ اثر تشکیل پایا، اسے گھٹا دیا گیا اور بقول Bernal کے اٹھارویں اور انیسویں صدیوں میں جب یورپی ممالک میں ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کو اپنی کالونی بنایا، تو ان میں نسل پرستی کے جذبات پیدا ہوئے اور رنگ کی بنیاد پر دوسری اقوام کو کم تہذیبی درجہ دے دیا۔ اس کے علاوہ یورپ نے جب خود کو یونانی تہذیب سے منسلک کیا، تو اس تاریخ میں سکندر کو ایک عظیم ہیرو بنا کر اس کی فتوحات کو اس نقطۂ نظر سے پیش کیا کہ اس نے "Hellenistic” تہذیب کے ذریعے ایشیا کو مہذب بنایا۔ یورپی مورخوں نے اٹھارہویں اور انیسویں صدیوں میں یورپ میں جو سائنسی اور ٹیکنالوجی کی ترقیاں ہوتی تھیں اور اپنی کالونیز کے جن ذرائع کو لوٹا تھا، ان کی بنیاد پر ترقی کا نظریہ پیش کیا…… جس کا مطلب تھا کہ یورپی تہذیب اس قدر طاقت ور اور توانا ہے کہ یہ بغیر کسی رکاوٹ کے برابر آگے کی جانب بڑھ رہی ہے۔
چوں کہ برنال کی کتاب نے روایتی تاریخ کے نظریے کو چیلنج کیا ہے، اس لیے اس پر کئی مورخوں نے اعتراضات بھی کیے ہیں، لیکن برنال کا قابلِ قدر کام یہ ہے کہ اس نے محنت اور تحقیق کے بعد تاریخ کے گھلے ہوئے اور نظر انداز واقعات کو زندہ کرکے دنیا کے سامنے لایا اور ان کی اہمیت سے لوگوں کو واقف کرایا، جس نے تاریخ کے علم کو ایک نئی زندگی دی۔
(’’تاریخ کے نشیب و فراز‘‘ از ’’ڈاکٹر مبارک علی‘‘، سنہ اشاعت 2021ء، مطبوعہ ’’فکشن ہاؤس، لاہور‘‘)
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔