تحریر: عبدالمعین انصاری 
قدیم زمانے سے قومیں وسطِ ایشیا برصغیر پر حملہ کرنے کے لیے افغانستان کے راستے سے آتی رہی ہیں۔ اُن قوموں کا نام اب صرف تاریخ کے صفحوں پر رہ گیا ہے۔ اُن حملہ آور قوموں میں کچھ لوگ افغانستان اور پاکستان کے شمال مغربی علاقہ میں بھی ٹھہرے۔ ان کی باقیات بظاہر نیست و نابود ہوگئی ہیں، مگر حقیقت میں یہ نت نئے ناموں کے ساتھ وجود میں آگئی ہیں۔ اگرچہ وقت کے فاصلوں نے ان کے نام ہی نہیں بلکہ ان کی مذہبی اور لسانی صورتیں بھی بدل دی ہیں۔ کیوں کہ مختلف نسلی اور لسانی گروہ کسی جغرافیائی خطہ میں آباد ہوئے، تو ان کے مفادات بھی مشترک ہوگئے۔ اس طرح ان کے صدیوں کے میل جول سے یک نسلی اور لسانی قوم وجود میں آگئی۔ ان کے نسلی تعلق کے لیے مختلف فسانے گھڑے گئے اور ان کی نسلی برتری کے لیے مختلف دعوے کیے گئے۔
یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ صدیوں کے تغیرات سے ایسے انقلابات وجود میں آتے ہیں۔ بلاشبہ یہی اقوام موجودہ پٹھانوں اور افغانوں کے اسلاف ہیں۔ یہ قومیں مختلف ادوار میں وسطِ ایشیا سے آئیں اور اس علاقے میں آباد ہوئیں۔
پشتونوں یا افغانوں کے اسلاف دراصل وہ روایتی یا افسانوی نام ہیں جو اپنے شجرۂ نسب میں انہیں مورث تسلیم کرتے ہیں۔ ان شخصیات کو برصغیر اور وسطِ ایشیا کی اکثر اقوام بھی کسی نہ کسی حوالے سے اپنا مورث مانتی ہیں۔ اس طرح یہ نام حقیقت میں افسانوی نہیں۔ حقیقت میں یہ نام مختلف قبایل اور قوموں کے ہیں جن کی شکلیں اب مسخ ہوچکی ہیں۔
دوسرے الفاظ میں ان ناموں کو اپنانے والے قبایل کا تعلق ماضی میں ان اقوام سے ہے۔ اس طرح یہ افغانوں کے اسلاف ہیں اور افغان مسلمان ہونے کے بعد اس حقیقت کو بھول گئے ہیں۔ اگرچہ یہ نام ان کی روایتوں میں زندہ رہے اور شجرۂ نسب ترتیب دیتے ہوئے پشتونوں نے اپنے شجرۂ نسب میں انہیں مورث تسلیم کرتے ہوئے جگہ دی۔ مثلاً ’’یادو‘‘ کی نسبت سے خود کو یہود النسل کہا، ’’تور‘‘ کی نسبت سے ان کا گمان طالوت کی جانب گیا، ’’کش‘‘ سے قیس ، ’’سور‘‘ سے سرابند…… اس طرح کی ڈھیر ساری مثالیں ہم پیش کرسکتے ہیں ۔
عربوں کے حملے کے وقت یہاں بت پرست آباد تھے اور چوتھی صدی ہجری تک یہاں اسلام نہیں پھیلا تھا۔ محمودِ غزنوی کے دور میں یہاں اسلام پھیلنا شروع ہوا اور یہ عمل غوریوں کے عہد تک جاری رہا۔ اس کا حوالہ ہم ’’غوری‘‘ میں دے چکے ہیں۔ افغانستان کے علاقے میں اسلام پھیلنے سے جہاں مذہب میں تبدیلی واقع ہوئی، وہاں جغرافیائی حد بندیوں کی بدولت لسانی اور رسوم و رواج میں بھی قدرتی طور پر تبدیلیاں واقع ہوئیں اور مسلمانوں کے زیرِ اثر افغانستان اور برصغیر کے شمالی علاقوں سے ہندی ثقافت کو نقلِ مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ اس طرح ان علاقوں میں رہایش پذیر مختلف اقوام کے لوگ مشترک مذہبی اور لسانی ثقافت کے تحت یکجا ہوگئے۔
یہ اقوام افغانستان سے برصغیر تک پھیل گئی تھیں۔ اس طرح افغانستان سے لے کر برصغیر کے باشندوں تک مشترک نسلی سرچشمہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ عہدِ قدیم میں ان کا مذہب اور ان کی زبانیں تقریباً ایک تھیں…… لیکن افغانستان میں آباد ہونے والی یہ اقوام مسلمان ہوگئیں، جب کہ برصغیر میں آباد ہونے والے گروہ بت پرست ہونے کی وجہ سے باآسانی مقامی اقوام میں جذب ہوگئے اور جلد ہی وہ بھی مقامی مذہبی اساطیر کا حصہ بن گئے۔ اس کے باوجود برصغیر کی قوموں کی روایات افغانوں کی روایات سے ملتی ہیں۔ ان سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں آباد اور برصغیر کی حملہ آور قوموں کا نسلی سرچشمہ ایک ہی ہے۔ اس طرح ہم کَہ سکتے ہیں کہ ایران، افغانستان اور برصغیر کی اکثر اقوام کا تعلق مشترک نسلی سرچشمہ سے ہے جو کہ اب ایک علاحدہ نسلی تشخص کے دعوے دار ہیں ۔
12ویں صدی میں منگولوں کا حملہ قدرتی طور پر تبدیلوں کا سبب بنا۔ کیوں کہ اس حملے کی بدولت جہاں سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں، وہاں یہ افغان یا پٹھان قومیت کی تشکیل کا پیش خیمہ بنا۔ کیوں کہ منگولوں کے حملے کے باعث مقامی حکومتیں ختم ہوگئیں، مختلف نسلی گروہ منتشر ہوگئے اور وہ آپس میں اختلاف رکھنے کے باوجود قومی اور مقامی سطح پر اتحاد کے لیے مجبور ہوگئے۔ وہاں کے مختلف نسلی گروہوں نے جو مسلمان ہوچکے تھے، متحد ہوکر منگولوں کے خلاف مزاحمت کی۔ اس طرح قدرتی طور پر منگولوں کا حملہ افغانوں کی قومیت کی تشکیل کا سبب بنا اورمختلف نسلی و لسانی گروہ جن کی روایات اور شناخت مختلف تھی، اس اتحاد کی بدولت مشترک ہوگئے اور انہوں نے رفتہ رفتہ یک جدی یا یک نسلی ہونے کا روپ دھار لیا، جو کہ اب پشتون یا افغان نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ان کے نسلی تعلق کے لیے مختلف افسانے گھڑے گئے اور ان کی نسلی برتری کے لیے مختلف دعوے کیے گئے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔