تحریر: عبدالمعین انصاری
کچھ قبایل جو کہ برصغیر میں خاص کر راجپوتوں میں پائے جاتے ہیں، ان کا نہایت مختصر سا ذکر کیا ہے۔ اگرچہ یہ ایک طویل بحث ہے، تاہم مَیں نے ان کو نہایت اختصار سے بیان کیا ہے۔ کیوں کہ بہت سے لوگوں کی خواہش تھی کہ پٹھانوں کے بارے میں تفصیل بیان کی جائے اور کچھ سوالات اٹھائے تھے…… مگر کالم کی تنگ دامنی آڑے آجاتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یہاں تفصیل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے اعتراض اور سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ میری اُن سے گزارش ہے کہ وہ میری دوسری تحاریر جو راجپوت اور پٹھانوں کے بارے میں ہیں، وہ اسی سے مربوط ہے۔ اس لیے یہ مضمون بھی اس کا تسلسل ہے۔ لہٰذا انہیں بھی اس کے ساتھ پڑھیں۔ اس طرح ان پر واضح ہوگا کہ پٹھان آریاؤں اور ترکوں کی باقیات ہیں۔ (راقم)
٭ ہوت:۔ سکندرِ اعظم جب بلوچستان سے گزرا، تو یونانی لشکر کو مقامی قبیلوں سے واسطہ پڑا۔ ان میں اورتائی قبیلہ شامل تھا، جس نے یونانیوں کو مسلسل تنگ کرکے رکھا تھا۔ یہ بلاشبہ موجودہ ہوت قبیلہ ہے اور یہ غالباً جاٹ ہیں۔ میر جلال خان کے چار لڑکوں میں ایک لڑکے کا نام ہوت تھا اور یہ کلمہ افغانوں کے شجرہ میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے۔ ہوتک نام کا قبیلہ بلوچستان میں آباد ہے۔ مثلاً ہوتی، ہوتک وغیرہ۔ یہ قبایل اور اول الذکر قبایل ایک ہی نسلی گروہ غالباًسیتھی نسل ہیں جو کہ جاٹوں کے اخلاف تھے اور اب یہ مختلف قبایل میں شامل ہیں۔
٭ عمر:۔ افغانوں کے بہت سے قبایل کے ناموں میں کلمہ ’’عمر‘‘ شامل ہے جو کہ ’’اڑمڑ‘‘ کا معرب قبیلہ ہے۔ راجپوت قبیلہ اومڑ ہے۔ اس کی مثلاً اڑمر، مر، مڑ، سرمڑی، میر، مروہ، مروت وغیرہ اس کی شکلیں ہیں ۔
٭ سلار:۔ یہ کلمہ افغان قبایل میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے۔ مثلاً سالار، سلاح اور سلاج وغیرہ۔ یہ کلمہ برصغیر کی اقواموں میں بھی ملتا ہے۔ راجپوتوں کا ایک قبیلہ سلار ہے جو کہ چھتیس راج کلی میں شامل ہے۔
٭ جانورں کے نام:۔ افغانوں کے بہت سے قبایل کے نام جانوروں کے ناموں پر ہیں۔ ان میں اسپو، اسپ، اشو (گھوڑا)، خر، الو، کتا، ورک (بھیڑیا)، باز، ماہی (مچھلی)، طاؤس (مور)، خوک (سور)، پلنگ (چیتا)، مرغی، توتی وغیرہ ہیں۔ قدیم آریائی جاٹ قبایل کی خصوصیت تھی کہ وہ اپنا انتساب کسی خاص جانور سے کرتے تھے۔ یہ ان جانوروں کی پوجا کے علاوہ اسے اپنا جدِ امجد بھی تصور کرتے تھے۔ ان جانوروں میں گوسفند (بھیڑ) سانپ یا ناگ، مور، ہنومان (بندر)، گنیش (ہاتھی)، مرغ، ورک (بھیڑیا)، کورم (کچھوا)، مگر (مگر مچھ)، گاؤ (گائے)، اسپ، اشو (گھوڑا)، خر (گدھا) وغیرہ شامل ہیں۔
٭ سنگر:۔ یہ کلمہ افغانوں کے شجرۂ نسب میں کئی صورتوں میں ملتا ہے۔ مثلاً سنگ اور سنگہ۔ راجپوتوں کا ایک قبیلہ سنگر ہے۔ مشرقی پنجاب میں سنگر نام کا ایک شہر ہے۔ ایک بلوچ قبیلہ سنگر نام کا ہے۔ مذکورہ بالا کلمہ آریائی ہے۔
٭ پال:۔ افغانوں کے شجرۂ نسب میں بہت سے قبایل کے ناموں میں کلمہ پال شامل ہے۔ مثلاً ہری پال، دی پال، سہپال، سری پال وغیرہ کے علاوہ پلاری کی شکل میں بھی ملتا ہے۔ برصغیر کے شمال مشرقی حصہ اور افغانستان کے جنوب مشرقی حصہ پر ہندو شاہی یا برہمن شاہی خاندان کی حکومت تھی۔ اس خاندان کے ناموں میں بھی پال کا کلمہ شامل ہوتا تھا۔ بنگال میں بھی پال خاندان کی حکومت رہی ہے۔ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں ایک قوم راج پال شامل تھی جس کے معنی شاہی گڈریے کے ہیں۔ بلوچوں کی ایک قوم پالاری جو اس کلمہ کی ایک شکل ہے۔
٭ ہند آریائی نام کے قبایل:۔ افغانوں کے شجرۂ نسب میں بہت سے قبایل کے نام ہند آریائی ہیں۔ مثلاً الک، برہم، باہی، پال، پانڈو، تری، ترونی، تولا، تول، جدرام، جام، جگی، جوگئی، جونا، جوت، چندر، چندرا، چندن، دیو، دیا، دیر، دہت، راجڑ، رانی، ڑانی، مند، میرا، مانک، مکتی، میٹر، ناہر، لو، لونا، ہیر، ہیرت، ہری، ہڑیہ، ہندو، ہریت، سری، سندر، شوی، ککی، کرم، گوپی، ارگند، گند، گنڈا وغیرہ ملتے ہیں۔ یہ ہندآریائی نام برصغیر میں عام ملتے ہیں۔ ان میں کچھ قوموں کے علاوہ شخصیتوں کے نام ہیں جو مختلف عناصرِ فطرت، جانوروں اور دیوی یا دیوتاؤں کے نام ہیں۔
٭ اسپو:۔ افغانوں کے شجرۂ نسب میں اسپو، اشو اور اسپ نام کے قبایل ملتے ہیں، یعنی گھوڑا۔ قدیم زمانے میں ایران میں خاص کر باختریہ کے لوگوں کے ناموں میں اسپ استعمال ہوتا تھا۔ راجپوت بھی قدیم زمانے میں گھوڑے کی پوجا کرتے تھے اور یہ گھوڑے کو اشو کہتے ہیں۔ پشتو میں بھی گھوڑے کو اشپا کہتے ہیں۔ دیکھے پشتو زبان دریائے کنارا اور دریائے باجور کی وادی میں اسپاسی قوم آباد تھی اور اسپ اس قبیلے کا ٹوٹم تھا۔ سوات میں بھی ایک قوم تھی، اس کو اسوکا کہتے تھے۔ یہ کلمہ آریائی ہے، اسے استعمال کرنے والے آریائی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
٭ ماتا:۔ افغانوں میں بہت سے قبیلے ایسے ہیں جن کے ناموں میں ماتا کا کلمہ مختلف شکلوں میں آیا ہے۔ مثلاً ماتا، متہ، امی، ممی وغیرہ۔ قدیم زمانے میں یہ قدیم زمانے سے ہند آریائی دیویوں کو ماتا کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ کلمات بھی اس وقت کی یادگار ہیں جب یہاں ہند آریائی مذہب رایج تھا اور یہاں اسلام کے آنے سے ہند آریائی مذہب کو نقلِ مکانی کرنی پڑی اور اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کلمات کو استعمال کرنے سے پہلے ہندو یا ہندآریائی مذہب تھے۔
٭ جام:۔ افغانوں کے بہت قبایل کے ناموں میں جام مختلف شکلوں میں آیا ہے۔ یہ کلمہ آریائی کلمہ ہے اور افغانستان سے لے کر برصغیر تک کے علاقوں میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے۔ اس کلمہ کا ابتدائی لفظ ’’جم‘‘ جمشید آریاؤں کے مشہور ہیرو کا نام ہے۔ جم اس کا اصل نام تھا اور جمشید کے اور بمعنی چاند شید بمعنی شعائیں۔ کرشن کی ایک رانی کا نام جمبوتی تھا۔ اس طرح جاموٹ کی شکل میں بھی آیا ہے، جسے جریجاہ یا چندر بنسی اپنے سرداروں اور معزز افراد کے لیے بطورِ لاحقہ لگاتے ہیں۔ اب جایجاہ قبایل اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا جدِ امجد جمشید سے بتانے لگے ہیں۔ یہ کلمہ جم کی شکلیں ہیں، اسے آریائی قوموں نے استعمال کیا ہے۔ اس کو شخصیتوں کے علاوہ شہروں اور قبیلوں کے نام رکھے گئے ہیں۔
٭ سہاک:۔ افغانوں کے بہت سے قبایل کے ناموں میں سہاک، ساک، اسحاق اور ساکا کے کلمات آتے ہیں۔ ان کلمات کی اصل سکہا ہے۔ یہ آریائی قبیلے تھے جو سستان کے علاقے میں پھیل گئے اور رہنے لگے اور پھر یہ سرزمین سگستان کہلائی…… جس کا معرب سجستان ہے۔ اس کلمہ کا ایک تلفظ ضحاک ہے۔ درانیوں کا مشہور سگزئی ہے۔ پہلے اس کو سہاکزئی اور سکزئی کہتے تھے۔ یہ لوگ قندھار اور سیستان کے درمیان رہتے ہیں۔ ان کا تعلق یقینا سہاکا اور سکزئی کہتے تھے۔ امتدادِ زمانہ سے یہ اسحاق زئی مشہور ہوگئے۔
٭ سپین:۔ جس کے پشتو میں معنی سفید کے ہیں اور یہ کلمہ افغان قبایل میں کئی شکلوں میں آیا ہے۔ مثلاً اسپنہ اور سپین۔ یہ کلمہ پہلوی میں سپید اور موجودہ فارسی میں اسپید ہے۔ جب کہ اسپین اس کا پشتو تلفظ ہے۔ آریاؤں میں رواج تھا کہ وہ مناظرِفطرت پر اپنے نام رکھتے تھے اور اس طرح افغانوں میں بھی اس کا رواج ہے۔
٭ سین:۔ سین کے معنی پشتو میں معنی دریا کے ہیں اور افغانوں کے قبایل میں کئی شکلوں میں ملتا ہے۔ یہ سکائی کلمہ ہے اور یہ سین کے علاوہ برصغیر میں بہت سی شکلوں میں دریاؤں کے ناموں میں آیا ہے مثلاً سون، سرند، سندھ وغیرہ۔
٭ لنڈ:۔ جس کے معنی دم کے ہیں اور یہ ہند آریائی کلمہ ہے اور افغانوں کے علاوہ بلوچوں میں بھی آیا ہے۔ راجپوتوں میں ایک قبیلہ جٹوا یا جیٹوکماری ہے۔ ان کا دعوا ہے کہ وہ ہنومان کی اولاد ہیں اور ان کے راج کماروں کی دم ہوتی ہے، اس لیے یہ لنڈ کہلاتے ہیں۔
٭ ہندو:۔ یہ کلمہ افغانوں کے قبایل میں کئی شکلوں میں ملتا ہے اور یہ ہند آریائی لہجہ کے علاوہ ایرانی لہجہ میں انڈن، انڈس، اندور، اندر اور انڈر کی شکلوں میں ملتا ہے۔ راجپوتوں میں ایک قوم اندوائی نام کی ہے جس کے نام سے ایک شہر اندوائی مشہور ہے۔
٭ سدو:۔ سدو کے علاوہ یہ کلمہ سیدو، سیّد، شادی اور سادی کی شکل میں بھی ملتا ہے اور صدو اس کا معرب ہے۔ احمد شاہ ابدالی کے اسلاف میں ایک کا نام سیدو بتایا جاتا ہے جس سے صدو یا سدو خیل قبیلہ نکلا ہے اور اس کا اصل نام سعد بتایا جاتا ہے اور سدو اس کی عرفیت بتائی جاتی ہے…… مگر تاویلات بعدکی پیداوار ہے۔ اس علاقہ میں یہ کلمہ قدیم زمانے سے رایج ہے اور اس کلمہ کی اصل سدی ہے جو کہ قدیم زمانے میں ایک سیتھی قبیلہ تھا۔ اس لیے بعض اوقات مورخین نے سیتھیوں سدی بھی لکھا ہے۔
٭ پاؤ:۔ افغانوں کے شجرۂ نسب میں بہت سے ایسے قبیلے ایسے ہیں جن ناموں میں کلمہ پاؤ شامل ہے۔ یہ کلمہ ’’پاؤ‘‘ کے علاوہ پائی، پایو، پانو کی شکل میں ملتا ہے۔ بلوچستان کا ایک قبیلہ سیہ پاؤ ہے۔ یہ ترکیب خالص آریائی ہے اور اس کو استعمال کرنے والے خالص آریائی ہیں۔
٭ پلار:۔ افغانوں کے شجرۂ نسب میں ایسے قبایل کے نام ملتے ہیں جن کے ناموں میں پلار یا پلاری آیا ہے۔ یہ غالباً قدیم پارتھین قبایل کے باقیات ہیں…… جنہیں برصغیر میں پلہو یا پلوہ کہا جاتا تھا اور یہ کلمہ پلار اسی سے مشتق ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ کلمہ پال کا معرب ہو۔
٭ ککہ:۔ یہ کلمہ افغانوں کی شجرہ نسب میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے مثلاً کیکی، ککہ، ککت، ککا، ککو اور کیکل وغیرہ۔ رامائن میں پنجاب میں آباد ککیہ قبیلے کا ذکر ملتا ہے۔ ککیہ جو کہ آریائی قبیلہ تھا اور مذکورہ قبایل سے غالباً نسلی تعلق رکھتے ہیں اور ان ہی کی باقیات ہیں ۔
٭ رجڑ:۔ یہ کلمہ افغانوں کے شجرۂ نسب میں رجڑ اور رچڑ کی شکل میں ملتا ہے۔ آریا جب ابتدا میں یہاں آئے، تو ان کی تنظیم گاؤں یا بستیوں کی سطح پر تھی، جس کے سربراہ کو راجن کہا جاتا تھا۔ اس کلمہ سے ہی راج نکلا ہے جس کے معنی حکومت کرنے والے کے ہیں اور راجپوت اسی نسبت سے مشہور ہوئے، یعنی راجہ کی اولاد۔ اس طرح راول، رائے، راجہ کے کلمات جو مختلف قوموں نے اپنائے وہ اسی کلمہ راجن کا مترادف ہیں اور راجڑ اور رچڑ اسی کی مختلف شکل ہیں۔ سندھ میں آباد ایک قبیلہ راجر ہے۔
٭ سکر:۔ پٹھانوں کے بہت سے قبایل سکر یا شکر سے بنے ہیں۔ راجپوتوں کے چھتیس راج کلی میں ایک قبیلہ سکر وال ہے۔ غالباً یہ ہم نسل ہیں۔
٭ پانڈے:۔ پٹھان خانہ بدوش قبایل پونڈے کہلاتے ہیں اور یہ کلمہ برصغیر میں پانڈے آیا ہے۔ مہا بھارت کے پانچ بھائی غالباً در بہ در پھر نے کی وجہ سے پاندے یا پانڈو کہلاتے تھے۔ پانچ پانڈوں کے نام سے خیبر پختون خوا میں کئی مقامات کے نام ہیں۔
٭ غور:۔ پٹھانوں اور راجپوتوں کے بہت سے قبیلے اس کلمہ سے بنے ہیں۔ غرہ، غڑسین، غورنی وغیرہ اس کی شکلیں ہی ۔ راجپوت گور مشہور ہیں اور بنگال کو اس کے نام سے گور مشہور ہوا۔ یہ غالباً ہم نسل ہیں۔ غور، پشتو لہجے میں ہے اور گوڑ ہند آریائی لہجہ ہے۔
٭ چندر:۔ پٹھانوں کے ڈھیر سارے قبیلے ایسے ہیں جو اس کلمہ سے بنے ہیں، مثلاً چندن، جندر، جنڈا اور جھنڈ وغیرہ۔ قدیم زمانے میں یہاں اندو سیتھک یا چندر بنسی آباد تھے، جو یادو یا جادو کہلاتے تھے، اور بہت سے افغان قبایل کی اصل اندو سیتھک ہے اور وہ قبولِ اسلام کے بعد اس حقیقت کو بھول گئے اور یہ کلمات اسی کی باقیات ہیں ۔
٭ ڈور یا دود:۔ اس افغان قبیلہ کے علاوہ راجپوتوں کا ایک قبیلہ ہے اور ڈور نام کا سندھ میں نواب شاہ کے علاقہ میں ہے۔ یہاں ڈور قبیلہ آباد ہے۔
٭ جوگزئی:۔ یہ کاکڑوں کا قبیلہ ہے۔ ہندوؤں کا فلسفہ یوگ جوگ ہے۔ اس کے پیر و کار جوگی کہلاتے اور انہیں مذہبی تقدس حاصل ہے جوگزیوں کو بھی تقدس حاصل ہے۔
٭ زمرئے:۔ جس کے معنی شیر کے ہیں۔ پٹھانوں اور بلوچوں میں بہت سے قبیلے اس کلمے سے بنے ہیں۔ مثلاً زمرے اور مزاری۔ برصغیر میں شیر مقدس اور کالی کی سواری ہے اور اس کی پوجا کی جاتی ہے۔
٭ سلم: ۔ یہ شاہنامہ میں افریدون کا لڑکا تھا…… مگر حقیقت میں یہ سھتی نسل قبیلہ ہے اور بہت پٹھان قبایل اس کلمے سے بنے ہیں اور سلیمان خیل غلزئیوں کا قبیلہ کوہ سلمان جو کیسا غر بھی کہلاتی ہے، اسی کلمہ کا معرب ۔
٭ برکی:۔ ارمڑ جو پٹھان قبیلہ ہے اور برکی کے نام سے مشہور ہیں۔ دکن میں برکی قوم عنبر سے ناراض ہوگئی جس کی وجہ اسے شکست ہوئی ۔
٭ توخی:۔ توخی غل زئیوں کا قبیلہ ہے۔ سیتھیوں کے حکم ران تخار کہلاتے تھے اور افغانستان میں ایک علاقہ قدیم زمانے میں تخارستان کہلاتا تھا اور مسلم مورخوں نے اس کا ذکر کیا ہے۔ غالباً توخی ان ہی کی باقیات ہیں۔
٭ خوک:۔ افغانوں کے بہت سے قبایل کے نام خوک (سور) سے بنے ہیں۔ بابر کا کہنا ہے، ’’یہاں سور پالتے تھے۔ مَیں نے ممانعت کروادی۔‘‘ برصغیر میں بھی خوک مندر ہیں اور اب بھی اس کی پوجا کی جاتی ۔
٭ کیرل:۔ اس نام سے پٹھان اور بلوچوں میں ایک قبیلہ ہے، جسے تقدس حاصل اور اب انہوں نے سید ہونے کا دعوا کیا ہے۔ راجپوتوں میں ایک سورج بنسی قبیلہ جو کہ چھتیس راج کلی میں شامل ہے۔
٭ یادو:۔ رگ وید میں یادو قبیلے کا ذکر آیا ہے۔ یادو کرشن کا خطاب ہے اور یادو قبایل کا مورثِ ۱علا کشن چند ہے۔ قدیم زمانے میں یہ قبیلہ برصغیر سے افغانستان میں آباد اور اسی کی نسبت سے پٹھانوں کو اپنے یہود النسل ہونے کا گمان ہے۔
٭ بھٹی:۔ یہ یادو کی شاخ ہیں اور ان کی روایات کے مطابق پہلے گجنی (غزنی) و زابل پر حکومت کرتے تھے۔ یہ کلمہ بٹ اور بھٹ کے علاوہ بھٹی، بھاٹیا، بھٹو چھٹہ اور بھٹہ وغیرہ کی شکل میں ملتا ہے اور یہ تمام قبایل آریا نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔
٭ تور:۔ اس نام سے بہت سے پٹھان قبیلے ہیں ان میں تور جس کا معرب طور ہے۔ راجپوتوں کا مشہور خاندان تنور یا توار ہے۔ تنولی قبیلہ ہزارہ کے علاقے میں آباد ہے۔ شاہنامہ میں یہ فریدون ہے اور تور سے مراد توران یا ترک ہیں۔ اوستا میں یہ کلمہ تورہ آیا۔ پرانوں میں یہ ترشکا ہے اور قدیم زمانے میں شمال مغرب سمت سے برصغیر پر حملہ کرنے والوں کو ترشکا کہا جاتا تھا۔ بعد میں اس کا اطلاق مسلمانوں پر کیا جانے لگا اور وہ ترک کہلانے لگے۔ یہ کلمہ مختلف شکلوں میں وسطِ ایشیا سے برصغیر تک میں رایج رہا ہے۔ افغان اپنا جدِ امجد طالوت کا گمان تور کی نسبت سے ہوا ہے۔
٭ ٹاک یا تکشک:۔ برصغیر میں آباد بہت سی اقوام کا دعوا ہے کہ وہ ٹاک یا تکشک یعنی ناگ کی نسل سے ہیں۔ یہ اقوام ٹاک اور ٹک بھی کہلاتی ہیں۔ اس طرح پٹھانوں کے بہت سے قبایل اس کلمہ سے بنے ہیں، مثلاً خ + ٹک =خٹک اور ش + ٹک= شٹک۔ راجپوتوں کا قبیلہ ناگر اور پٹھان قبیلہ ناغر ہے۔
ماخذ:
٭ ڈاکٹر معین الدین، عہد قدیم اور سلطنت دہلی۔
٭ ڈاکٹر معین الدین ، قدیم مشرق۔
٭ نعمت اللہ ہراتی ، مخزن افغانی۔
٭ شیر محمد گنڈا پور، تاریخ پشتون۔
٭ سدھیشورورما، آریائی زبانیں ۔
عبدالحئی حبیبی، تقلیمات طبقات ناصری ۔
٭ جیمزٹاڈ ۔ تاریخ راجستان۔
٭ مولانا اسماعیل ذبیح ، اسلام آباد۔
٭ کیپٹن رابنسن، مشرقی افغانستان کے خانہ بدوش قبایل۔
٭ دائرہ المعارف اسلامیہ۔
٭ نور الدین جہانگیر ، توزک جہانگیری۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔