90 ء کی دہائی میں والد (مرحوم) انگلی پکڑا کر اکثر بازار کی سیر کرایا کرتے۔ ان کا ہمیشہ ایک ہی چائے خانے میں جانا یاد ہے…… بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ کسی اور چائے خانے میں والد (مرحوم) کو کبھی چائے پیتے نہیں دیکھا۔ والد (مرحوم) اسے ’’گل باچا ہوٹل‘‘ جب کہ خود گل باچا اپنے چائے خانے کو ’’گل باچا کیفی‘‘ کہلوانا پسند کرتے۔ ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی میں جہاں آج کل ’’شتہ مند تکو والا‘‘ کی دکان ہے، اس کے ساتھ ہی گل باچا کا چائے خانہ تھا۔
میرے ذہن کے پنے پر گل باچا کا ناک نقشا کچھ یوں محفوظ ہے: اکہرا بدن، میانہ قد، رنگ گندمی، آنکھیں روشن، داڑھی منڈی ہوئی، ہلکی موچھ، لباس سادہ یعنی شلوار قمیص اور اُس پر پشتون روایات کی امین ’’واسکٹ‘‘ زیبِ تن کرتے۔
مجھے آج بھی یاد ہے، گل باچا سگریٹ عجیب انداز سے پیتے۔ دیگر لوگوں کی طرح دو انگلیوں میں پکڑ کر نہیں بلکہ ہاتھ کی مٹھی سی بنا کر انگشتِ شہادت اور درمیانی انگلی کی مدد سے سگریٹ پکڑتے، انگشتِ شہادت اور انگوٹھے کے درمیان ایک چھوٹا سوراخ سا بنالیتے اور اس پر منھ رکھ کر زور سے کھینچتے۔ ہر کش لیتے وقت مٹھی میں اتنے زور سے دھواں کھینچتے کہ چائے خانے میں موجود لوگوں کا دھیان بادلِ نخواستہ ان کی طرف جاتا۔ اس طرح سگریٹ کا گُل جھاڑنے کے لیے کسی فلمی ہیرو کی طرح درمیانی انگلی اور انگوٹھے کی مدد سے زور سے چھٹکی دیتے۔ گل باچا کی مذکورہ چھٹکی کی آواز دور تک سنائی دیتی۔

دکان جس پر ’’طوطی کراکری سٹور‘‘ کا بورڈ لگا ہے، نوے کی دہائی میں یہاں ’’گل باچا کیفی‘‘ قایم تھی۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

گل باچا کا چائے خانہ جس دکان میں قایم تھا، آج وہاں طوطی (مینگورہ بازار کا مشہور کویلہ بیچنے والا) کی پیالے بیچنے کی دکان ہے۔ طوطی کہتے ہیں: ’’گل باچا کا آبائی علاقہ ’سپینی اوبہ‘ (ملم جبہ جاتے وقت راستے میں آنے والا مشہور مقام) ہے۔ عمر اس کی 70، 75 سال ہوگی۔ آج کل رحیم آباد کے مقام پر ایک پٹرول پمپ میں چوکی دار ہیں۔‘‘
دِل فسردہ تو ہوا دیکھ کے اُس کو لیکن
عمر بھر کون جواں، کون حسیں رہتا ہے
اب بات ہوجائے اُس آخری چائے خانے کی جس کے ساتھ بچپن کی یادیں جڑی ہیں۔ جی ہاں! بات ہو رہی ہے ’’آرزو مند ہوٹل‘‘ کی، جہاں آج بھی سپیشل چائے کا رواج نہیں۔ چاہے امجد علی سحابؔ جیسا ٹٹ پونجیا ہو یا کوئی رئیس زادہ، سب کی ایک ہی قسم کی پیالی میں ایک ہی ’’چائے جوش‘‘ میں تیارکی گئی چائے سے تواضع کی جاتی ہے۔

تاج چوک میں قایم آرزو مند ہوٹل جہاں آج بھی چائے کا شوق رکھنے والوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے۔ (فوٹو: فضل خالق)

آرزومند (مرحوم) کے صاحب زادے ’’راجا‘‘ کے بقول: ’’ہوٹل کی بنیاد 1956-57ء میں چمن نامی ایک شخص نے رکھی تھی۔ وہ بعد میں اس وقت رایج کسی مخصوص نشے کی لت میں مبتلا ہوگئے۔انہوں نے ہوٹل میرے والد کے ہاتھ بیچ دیا۔‘‘
خدا سلامت رکھے، میری والدہ محترمہ کہتی ہیں: ’’آرزو مند کے والد ’’سلطان‘‘ انتہائی شریف انسان تھے۔ وہ ہمارے گھر اور پورے محلے (محلہ شیرزادہ خان) کے لیے پینے کا صاف پانی بنڑ کے ’’گاگا‘‘ (دریا سے کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کا نکالا جانے والا چینل) سے روزانہ کی بنیاد پر لے آیا کرتے۔ ان کے ساتھ ایک گدھا ہوا کرتا تھا، جس پر بڑے سیلقے سے گھی کے چار کنستر رکھنے کی جگہ بنائی گئی تھی۔ ’’گاگا‘‘ کے صاف پانی سے کنستر بھر کر گدھے پر لادے جاتے اور گھر کی گھڑونچی میں رکھے گئے گھڑوں میں مذکورہ کنستر کی مدد سے پانی بھر دیا جاتا۔ ‘‘
آرزو مند ہوٹل کے حوالے سے والدہ محترمہ کہتی ہیں: ’’میرے ختم القرآن کے موقع پر مولوی صاحب نے ایک پیالی چائے کے علاوہ اور کچھ لینے سے انکار کیا۔ مَیں دوڑی دوڑی آرزو مند ہوٹل گئی اور دو کپ چائے اور کھانے کے لیے ہوٹل ہی سے کیک رسک قسم کی چیز اُٹھائی۔ یہ ایک طرح سے استادِ محترم کی تواضع کا سامان بنا۔‘‘




آرزومند ہوٹل کے اندر کا منظر، سواتے ککوڑے بھی پڑا ہے اور چائے بھی نظر آ رہی ہے۔ (فوٹو: امجد علی سحابؔ)

والدہ محترمہ یہ بھی کہتی ہیں:’’جب کبھی ہمارے گھر (واقع محلہ شیر زادہ خان تاج چوک) مہمان آتے، تو مجھے کیتھلی تھمائی جاتی۔ مَیں بھاگ کر آرزو مند ہوٹل جایا کرتی اور اپنے والد (غلام احد ریٹائرڈ ہیڈ ماسٹر) کا حوالہ دے کر کیتھلی بھر کر لے آتی۔اس طرح ماہِ رمضان میں آرزومند ہوٹل میں جو پکوڑے تیار ہوتے، شاید ہی پورے مینگورہ شہر میں ایسے کہیں اور تیار ہوتے۔‘‘
آج کل آرزو مند ہوٹل کے تھڑے پر صبح کے وقت پراٹھے اور دس بجے ’’سواتے ککوڑے‘‘ تیار ہوتا ہے۔ ’’ککوڑے‘‘ اتنی تعداد میں تیار کرکے محفوظ رکھا جاتا ہے کہ پورا دن ہوٹل آنے والے لوگ چائے کے ساتھ تناول فرماتے ہیں۔

آرزو مند ہوٹل کے تھڑے پر ’’سواتے ککوڑے‘‘ تیار ہو رہا ہے۔ یہ ککوڑے ہوٹل کی پہچان بن گیا ہے۔ (فوٹو: فضل خالق)

آج بھی جب کبھی ہوٹل کا رُخ کرتا ہوں، تو اسے ہر عمر کے چائے کے شوقین افراد سے اٹا پاتا ہوں۔ کیا گرمی کیا سردی…… بقولِ شاعر
ہم نے مشروب سبھی مضرِ صحت ترک کیے
ایک چھوڑی نہ گئی ہم سے یہ سالی، چائے
بابے بطورِ خاص آرزو مند ہوٹل میں بیٹھے اور چائے نوش کرتے پائے جاتے ہیں۔
آرزو مند کے بیٹے ’’راجا‘‘ کے بقول : ’’آج ہوٹل جس جگہ قایم ہے، 92ء سے پہلے اس کی عمارت عین اس کے سامنے سڑک کے دوسری جانب کھڑی تھی۔‘‘
چائے خانوں کا ذکر یہاں ختم ہوا چاہتا ہے۔ اگر زندگی نے وفاکی، تو آیندہ کی اقساط میں کوشش کریں گے کہ ملک مارکیٹ، احسان مارکیٹ اور جانس گیم والی مارکیٹ کا ذکر کیا جائے، جو اگر ہماری کُل نہیں، توآدھی کاینات تو تھی ہی تھی……!
وہی ہے آگ مگر آگ میں دھواں نہ رہا
یار زندہ صحبت باقی!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔