90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر کے چند چائے خانوں کا شہرہ تھا۔ ان میں سپیشل طوطی رحمان، سہراب خان چوک کے چائے خانے، ملنگ ہوٹل، گل باچا ہوٹل (گل باچا کیفی) اور آرزو مند ہوٹل کے ساتھ میری یادیں وابستہ ہیں۔
سپیشل طوطی رحمان پر میری ایک جامع تحریر (جو ویب سائٹ "lafzuna.com” پر 16 جنوری 2018ء کو شایع ہوا) موجود ہے۔ یہاں پر اُس سے ایک اقتباس نمونتاًدیا جاتا ہے۔سینئر صحافی فیاض ظفر کے بقول: ’’یہ آج سے کوئی سولہ سترہ سال پہلے کی بات ہے، جب عام چائے تین روپے اور سپیشل چائے یہی کوئی پانچ روپے فی پیالہ کے حساب سے نوش کی جاتی تھی۔ سپیشل طوطی رحمان کے کھوکھے یا ہوٹل پر جب کوئی شخص چائے پینے آتا، تو وہ ہر نئے آنے والے سے کہتا کہ جناب، کون سی چائے پئیں گے؟ یہاں پانچ روپے سے لے کر پندرہ سولہ سو روپے تک کی ایک پیالی چائے تیار کی جاتی ہے۔ یہ بات کسی نے یہاں ایک فوڈ انسپکٹر کے گوش گزار کی۔ فوڈ انسپکٹر نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میریٹ‘‘ اور ’’پی سی‘‘ جیسے عالیشان ہوٹلوں میں پچاس روپیہ فی پیالی چائے فروخت ہوتی ہے، چل کر دیکھتے ہیں کہ کھوکھے کو چلانے والے میں سرخاب کے پر لگے ہیں یا پھر چائے میں کوئی خاص بات ہے۔ فوڈا نسپکٹر جیسے ہی اپنے معاون کے ساتھ ملا بابا روڈ پر ایک عام سی دکانوں کے بیچ ’’سپیشل طوطی رحمان ہوٹل‘‘ میں جلوہ افروز ہوا، تو سلام دعا کے بعد طوطی رحمان کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگا کہ بھئی، تگڑی سی چائے پینے کا موڈ ہے۔ تیار کرکے دے دیجیے۔ طوطی رحمان نے فوڈ انسپکٹر کا سرسری جائزہ لینے کے بعد کہا کہ صاحب، چائے کون سی پینا پسند فرمائیں گے، یہاں بیس مختلف قسم کی چائے ملتی ہے، یعنی پانچ روپیہ سے لے کر سولہ سو روپیہ تک کی چائے یہاں دستیاب ہے۔ فوڈ انسپکٹر نے اپنی شناخت چھپا کر اسے سولہ سو روپیہ والی چائے کا کپ تیار کرنے کا آرڈر دے دیا۔ طوطی رحمان نے اس وقت مذکورہ چائے کو تیار کرنے والی جڑی بوٹیاں نکالیں۔ ہاون دستے کی مدد سے انہیں پیسا اور خالص دودھ کی بالائی میں چائے کی پتی ڈالتے ہوئے دو پیالی کڑک چائے تیار کی۔ فوڈ انسپکٹر نے خوب مزے لے کر گرم گرم چائے کی چسکیاں لیں اور ہوٹل سے نکلتے وقت پورے پانچ ہزار روپے جرمانہ بھرنے کا پروانہ طوطی رحمان کو تھما دیا۔ یوں نہ صرف طوطی رحمان بے چارے کے بتیس سو روپے ڈوب گئے بلکہ الٹی آنتیں گلے پڑگئیں یعنی پانچ ہزار کا جرمانہ بھی انہیں بھرنا پڑا۔‘‘
پوری تحریر کسی بھی وقت ’’سپیشل طوطی رحمان‘‘ گوگل کرکے پڑھی جاسکتی ہے۔




مینگورہ شہر کا ایک یادگار کردار ’’سپیشل طوطی رحمان‘‘

سہراب خان چوک کا چائے خانہ عین چوک کے وسط میں سپین زر پلازہ کے سامنے تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے مذکورہ چائے خانہ پوری رات کھلا رہتا تھا۔ اس میں ڈبل شفٹ میں مختلف نوکر کام کرتے تھے۔ 95، 96ء میں جب ہمارا لڑکپن کا زمانہ تھا، تو محلے کے آٹھ دس مختلف ہم عمر دوست دس روپے فی کس جمع کرکے ’’وی سی آر‘‘بیٹھک لے آتے۔ واضح رہے کہ اُس زمانے میں 70، 80 روپے کے عوض ایک عدد ویڈیو کیسٹ ریکارڈر (وی سی آر)، ایک عدد رنگین ٹی وی اور سات یا آٹھ عدد ویڈیو کیسٹیں 24 گھنٹوں کے لیے دی جاتیں۔ ہماری عمر یا ہم سے تھوڑے بڑے جانتے ہیں کہ ویڈیو کیسٹوں میں چار یا پانچ کیسٹیں انڈیا کی فلمیں ہوتیں، ایک یا دو انگریزی کی ایکشن فلمیں ہوتیں اور آٹھویں ’’لو سٹوری‘‘ کی کیسٹ ہوتی، جسے صبح ایک یا دو بجے کے وقت ہی دیکھا جاسکتا تھا۔
بات سہراب خان چوک کے چائے خانے سے ہوتی ہوئی ’’لو سٹوری‘‘ تک جا پہنچی۔ لڑکے جیسے ہی عصر کے وقت ’’وی سی آر‘‘ گھر لے آتے، تو سرِشام کھانا کھالیتے۔ اکثر دو تین فلمیں متواتر دیکھنے کے بعد جیسے ہی رات کے گیارہ ساڑھے گیارہ بجتے، تو انہیں بھوک ستانے لگتی۔ سردیوں کی شامیں مختصر اور راتیں لمبی ہوا کرتی ہیں۔ اکثر اہلِ مینگورہ رات کے 9 بجے کا خبرنامہ دیکھ کر سونے کو ترجیح دیتے۔ گیارہ، ساڑھے گیارہ یا بارہ بجے تو بیش تر لوگ تقریباً ایک تہائی نیند پوری کرچکے ہوتے۔ ایسے میں کون اپنی ماں یا بہن سے چائے تیار کرنے کی عاجزانہ سی درخواست کی ہمت کرسکتا تھا۔ جمع شدہ رقم میں ہمیشہ بیس پچیس روپے آدھی رات کو چائے پراٹا تناول فرمانے کے لیے الگ سے رکھے جاتے۔ آدھی رات کو تمام دوست وی سی آر اور ٹی وی ’’آف‘‘ کرکے دبے قدموں بیٹھک سے نکل پڑتے اور سیدھا سہراب خان چوک کے چائے خانے جاپہنچتے۔ وہاں فی کس ایک پیالی چائے اور ایک ہی پراٹھا ملتا۔ آدھی رات، کڑاکے کی سردی، بھاپ اُڑاتی چائے اور گرما گرم پراٹھا…… بقولِ سردار خان سوزؔ:
بے نور کر گیا کوئی دنیا کو سوزؔ کی
وہ چاند چھپ گیا وہ ستارے نہیں رہے
جس جگہ مذکورہ چائے خانہ قایم تھا اور آدھی رات کو ہم جیسے ’’گناہ گاروں‘‘ کے پیٹ کی آگ بجھاتا تھا، اب وہاں ایک پیپر ڈیکوریشن والے کی دکان ہے۔ آج بھی جب سہراب خان چوک سے گزرتا ہوں اور مذکورہ جگہ پر نظر پڑتی ہے، تو سیف الدین سیفؔ کی مشہور نظم کا یہ بند غیر ارادی طور پر گنگنانے لگتا ہوں کہ
گو زمانہ تری محبت کا
ایک بھولی ہوئی کہانی ہے
تیرے کوچے میں عمر بھر نہ گئے
ساری دنیا کی خاک چھانی ہے
لذتِ وصل ہو کہ زخمِ فراق
جو بھی ہو تیری مہربانی ہے
کس تمنا سے تجھ کو چاہا تھا
کس محبت سے ہار مانی ہے
اپنی قسمت پہ ناز کرتا ہوں
جب ترے شہر سے گزرتا ہوں
اسی طرح کا ایک چائے خانہ ’’ملنگ ہوٹل‘‘ کے نام سے عیسیٰ خیل محلہ میں قایم بارگین میں اب بھی موجود ہے۔ روزِ اول سے اس چائے خانے کی چائے، سادہ نان اور پراٹھے کی دھوم ہے۔ یہی کوئی تین ہفتے پہلے اس طرف سے گزر رہا تھا، تو چائے کا موڈ بنا۔ ایک لڑکا مخصوص آواز لگاتا بڑے سے ’’ٹرے‘‘ میں تیار چائے کی درجن بھر پیالیاں پہلے سے منتظر چھوٹی بڑی ہر عمر کے لوگوں میں تقسیم کرنے چائے خانے کے اندر قدم رنجہ فرما گیا۔ مَیں اُس بڑے بینچ کے آخری سرے پر بیٹھا تھا، جس میں چائے تقسیم کی جا رہی تھی۔ مجھ تک پہنچتے پہنچتے ٹرے خالی ہوچکا تھا:
میرا نصیب کہ ساون کا جھومتا بادل
تمام شہر پہ برسا ہے میرے گھر کے سوا
مَیں بھی تو نچلا بیٹھنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ لڑکے کو سپیشل چائے کا آرڈر دے دیا۔ گھڑی کے حساب سے پانچ منٹ کے اندر اندر سپیشل چائے کی پیالی میرے سامنے رکھی گئی میز کے اوپر پڑی تھی۔ نوے کی دہائی میں ’’ملنگ ہوٹل‘‘ کی انتظامیہ کا دعوا تھا کہ ہماری ہر پیالی سپیشل ہے۔ گو کہ چائے تگڑی تھی۔ اس کے اوپر بالائی کی تہہ الگ سے غضب ڈھا رہی تھی، مگر بقولِ انشاء اللہ خاں انشاؔ
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
گل باچا کیفی اور آرزو مند ہوٹل کے ساتھ یادوں کا ایک طویل سلسلہ وابستہ ہے۔ اگر زندگی نے وفا کی، تو ذکر شدہ چائے خانوں پر اگلی نشست میں تفصیلاً بات کی جائے گی۔ تب تک اللہ حافظ و ناصر!
پھر ملیں گے اگر خدا لایا
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔