میاں گل شہزادہ عدنان اورنگ زیب نے اپنے آخری دورۂ سوات میں عمر حیات سے کہا تھا کہ میں اگلے اتوار کو روخان سے ملوں گا…… لیکن سوات سے واپسی کے ایک دو دن بعد 30 مئی کو ہری پور میں سڑک حادثے میں وہ شہید ہوگئے اور میری ملاقات اُن سے ایسی حالت میں ہوئی کہ وہ بول نہیں سکتے تھے۔ اُن کی میت ایک صندوق میں بند تھی اور اُس میں لگے ایک شیشے میں، مَیں نے دیکھی جو کفن میں لپٹی ہوئی تھی۔ ہزاروں لوگ جنازے کے لیے صفیں باندھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد اُن کی تدفین ہونے والی تھی…… اور وہ شاہی قبرستان میں منوں مٹی تلے دبنے ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے والے تھے۔
میرے آبا و اجداد کا تعلق سیدو غوث اخوند عبدالغفور صاحب سوات کے قریبی لوگوں میں سے تھا۔ وہ روحانی طور پر اُن کے ماننے والوں میں سے تھے۔ شاہی خاندان سے یہی محبت اور خلوص میرے بزرگوں سے مجھے وراثت میں ملی۔ 1917ء میں جب صاحبِ سوات اخوند عبدالغفور کے پوتے میاں گل عبدالودود صاحب ریاستِ سوات کی بنیاد رکھ رہے تھے، تو میرے بڑے بھی اُن کے دست راست تھے۔ 2017ء میں پورے سو سال ریاست سوات کے پورے ہورہے تھے۔ اس لیے مَیں نے سوچا کہ مجھے جشنِ صد سالہ ریاستِ سوات باقاعدہ طور پر منانا چاہیے۔ میری اس تجویز اور سوچ پر میرے بعض ساتھی سیخ پا ہوئے اور انہوں نے اس کی نہ صرف مخالفت کی، بلکہ میری راہ میں کئی مشکلات پیدا کیں…… بلکہ باقاعدہ روڑے اٹکائے۔ مجھے ذہنی طور پر ٹارچر کیا۔ مجھے مالی نقصانات سے دوچار کیا…… لیکن اس کے باوجود مَیں نے سوات پریس کلب میں جشنِ صد سالہ ریاستِ سوات بھرپور اور شایانِ شان طریقے سے منایا۔ جس میں سوات کی تمام سیاسی پارٹیوں کے نمایندے، ادبی اور سماجی شخصیات، سوات بھر کی نامی گرامی قد آور شخصیتیں کثیر تعداد میں شریک ہوئیں۔ اس میں میاں گل شہزادہ عدنان اورنگ زیب مہمانِ خصوصی تھے۔
ابھی چند مہینے پہلے ایس پی ایس سوات رحیم آباد مینگورہ میں میری نئی کتاب ’’ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم‘‘ کی تقریبِ رونمائی میں عدنان باچا نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی۔ انہوں نے مع دوسرے زعما اپنی شرکت سے اس تقریب کو کامیابی سے ہم کنار کیا۔
چند سال پہلے گذشتہ مرکزی حکومت نے والیِ سوات کی یاد میں یادگاری پوسٹل ٹکٹ جاری کیا، تو انہوں نے اس خوشی میں دوسرے چند لوگوں کے علاوہ مجھے، فضل ربی راہیؔ، جلال الدین اور عالمگیر کو شامل کیا…… جو اس بات کی علامت تھی کہ اُنہیں ہم دل سے عزیز تھے۔
کافی سال پہلے میرے دوست شیر محمد نے شاہد آباد فضاگٹ میں اپنے لیے رہایشی مکان تعمیر کیا، تو اُن کو اور علاقے کے دوسرے لوگوں کو پینے کے پانی اور بجلی کے کچھ مسایل درپیش تھے۔ انہوں نے اُس وقت کے ایم این اے میاں گل عدنان اورنگ زیب کو مدعو کیا تھا۔ سٹیج کے فرایض مجھے ادا کرنا تھے۔ پروگرام کے اختتام پر عدنان باچا نے ملاقات کا عندیہ ظاہر کیا، لیکن چند ناگزیر مصروفیات کی وجہ سے ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔
اس طرح میرے بزرگ اور محسن ڈاکٹر شیر محمد خان شین باغ درشخیلہ کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے لیے بہ حیثیتِ مہمانِ خصوصی مَیں نے عدنان باچا کو اسلام آباد سے بلایا تھا۔ یہ ایک پُروقار تقریب تھی۔ اس میں معاشرے کے ’’کریم‘‘ لوگوں نے شرکت کی تھی۔
اگرچہ میاں گل عدنان باچا ایک شاہی گھرانے کے فرد تھے۔ وہ میاں گل جہاں زیب والیِ سوات کے پوتے، سابق صدرِ پاکستان محمد ایوب خان کے نواسے گورنر بلوچستان اور خیبر پختونخوا کراون پرنس میاں گل اورنگ زیب کے لخت جگر تھے، لیکن اس کے باوجود ان میں انکسار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ تہجد گزار تھے۔ یاروں کے یار تھے۔ اُن کو سوات اور سوات کے لوگوں سے پیار تھا۔ وہ سوات کی ترقی کے لیے خاموش انداز سے مصروفِ عمل تھے۔ وہ 61 سال کی عمر میں ہم سے جدا ہوگئے۔ اللہ بخشے وہ ڈھیر ساری خوبیوں کے مالک تھے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔