یہ آرٹیکل آپ کے کسی کام کا نہیں۔ آپ اسے پڑھ کر بوریت کا شکار ہوں گے…… اگر آپ کا تعلق ان دو گروہوں سے ہے:
پہلا گروہ جو میری طرح ’’ورک لائف بیلنس‘‘ (درحقیقت ورک لائف بیلنس نام کی چیز کا کوئی وجود نہیں) پر یقین رکھتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے لوگ نہ کبھی کام میں امتیازی مہارت حاصل کرپاتے ہیں اور نہ ’’ری لیشن شپز‘‘ میں…… ان کا دھیان ہمیشہ دو جگہ تقسیم رہتا ہے۔
دوسرا وہ گروہ جو معاشرے کی تیار کردہ چیک لسٹ ہاتھ میں تھامے ایک عدد نوکری، ڈھائی عدد بچے، ایک ہم سفر اور مختلف قسم کے پلیژرکو ایکسپلور کرکے یا پھر اپنے مسایل سے دھیان ہٹانے کے لیے مختلف طریقوں کو استعمال کرکے دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں۔
لیکن اس سب میں ایک گروہ ایسا بھی ہے، جو بہت زیادہ نایاب ہے اور یقینا اپنے کام میں ماہر بھی…… یہ گروہ دنیا کے ساتھ نہیں چلتا…… بلکہ اپنے راستے خود بناتا ہے۔ ایسے لوگوں کو جرمن فلاسفر نطشے (جنہیں اوسط درجے کے انسانوں سے شدید خار ہے) "Bermensch” کہتے ہیں۔ ان سپر ہیومنز کے پاس ایک ایسی پاور ہوتی ہے جو اوسط درجے کا انسان تراشنے میں ناکام رہتا ہے…… اور اس خوبی کو کہتے ہیں ’’فوکس۔‘‘
جب مقصد بڑا ہو، تو فوکس اور قربانیاں بھی اسی معیار کی درکار ہوتی ہیں۔ جاپان کے سمورائی ’’میاموتو موساشی‘‘ (Miyamoto Musashi) ایسی ہی ایک فوکسڈ زندگی کی مثال ہیں…… جنہوں نے اپنی حیاتی میں لڑے جانے والے 60 مقابلوں میں صرف جیت کو اپنا مقدر بنایا۔ موساشی نے آخری مقابلہ جیتنے کے بعد اپنی زندگی اور تلوار بازی سے سیکھے جانے والے ’’وزڈم‘‘ کو ایک کتاب کی شکل دی جسے ’’ڈوکوڈو‘‘ (Dokkodo) کہتے ہیں…… جو 21 اصولوں پر مشتمل اور زندگی بھر جاری رکھی جانے والی پریکٹس کا نام ہے۔ کیوں کہ بقول موساشی کے آپ کی جنگ کے نتایج آپ کی پریکٹس پر منحصر ہوتے ہیں۔
موساشی محض ایک سمورائی نہیں بلکہ آرٹسٹ، فلاسفر اور قابل بدھسٹ (Buddhist) بھی تھے۔ آپ بھی سوچیں گے کہ ایک تلوار باز کے وزڈم سے ہم ماڈرن انسان کیا سیکھ سکتے ہیں؟ یہ21 اصول ہمیں ماڈرن دنیا میں مدھم پڑتی انسانی خصوصیت کو دوبارہ روشن کرنے میں مدد کرسکتے ہیں…… اور وہ خصوصیت ہے ’’فوکس۔‘‘
1:۔ موساشی کہتے ہیں کہ ذہن میں موجودہ نظریات کی رو سے معاملات کو دیکھیں گے، تو کبھی ’’امپرومنٹ‘‘ نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے پہلا اصول ہے، معاملات کو ویسے دیکھنا جیسے کہ وہ ہیں، ان پر اپنے نظریات یا آئیڈیل کا رنگ نہ چڑھائیں۔ چوں کہ موساشی، سمورائی سے دست بردار ہوکر رونن (وہ جن کا کوئی ماسٹر یا استاد نہیں ہوتا) بنے، رونن کو اپنا ہنر تراشنے کے لیے تنہائی اور موجودہ حقیقت کو بنا کسی جانب داری کے قبول کرنا ضروری ہوتا ہے، تاکہ اپنے مقصد پر مکمل فوکس رکھ سکے۔
2:۔ ’’سستے پلیژر‘‘ سے دوری:۔ پلیژر آپ پر حاوی ہو، اس سے پہلے آپ اس کو قابو میں کرلیں۔محض موساشی نہیں بلکہ تاریخ کے کئی "Bermensch” یہی تلقین کرتے ہیں کہ اگر پرفکشن چاہیے، تو انرجی بچانا ضروری ہے۔ موساشی کو بنا کسی ماسٹر کے اپنے ہنر کو تراشنا تھا۔ پلیژر اس کی پرفکشن اور فوکس میں رکاوٹ بن سکتا تھا۔
3:۔ مینٹل کلیرٹی:۔ اگر آپ اپنے ایموشنز میں پھنسے ہوئے ہیں، تو مینٹل کلیرٹی کو بھول جائیے۔ ڈاکٹر ڈینیل کانمن کی ریسرچ کے مطابق انسانوں کے فیصلے جو جذبات سے لیے جائیں، انتہائی غیر منطقی ہوتے ہیں۔ اس لیے اپنے ذہن میں چل رہی سوچ اور باڈی میں اُجاگر ہونے والے احساسات کے متعلق مائنڈ فل (Mindful) ہونا ضروری ہے۔ اگر ڈر، خوف اور جذبات میں ہیں، تو تھم جائیے، اور جب مائنڈ کلیئر ہو، تب میدان میں اترنا بہتر ہے۔ کیوں کہ جنگیں جذبات کے ساتھ نہیں بلکہ مینٹل کلیرٹی اور فوکس کے ساتھ لڑی اور جیتی جاتی ہیں۔
4:۔ اپنے متعلق سرسری جب کہ دنیا کے متعلق گہرائی سے سوچیں۔ کیا ہمارے مرنے سے دنیا رک جاتی ہے؟ کیا کاینات پر ہمارے نہ ہونے سے کوئی اثر ہوتا ہے؟ موساشی کے مطابق ہمارا دنیا پر اتنا اثر نہیں جتنا کہ دنیا کا ہم پر ہے۔ ہم دنیا پر منحصر ہیں…… نہ کہ دنیا ہم پر۔ اس لیے اپنے متعلق زیادہ غرور اور تکبر میں مبتلا ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں۔ بے شک انسان ہونے کی ناتے ہم اہمیت رکھتے ہیں…… لیکن دنیا اور کاینات کے مقابلے میں ہماری حیثیت کسی ذرے کی سی ہے۔ تبھی ہمارے پاس عاجز نہ ہونے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ موساشی مہلک بھی تھا اور عاجز بھی…… اکیلے اور فوکسڈ رہنے نے اسے عاجزی سکھائی۔ کیوں کہ تکبر اور پرائیڈ جیسے ایموشنز کی زیادتی اس کو فریب کا شکار کرسکتی تھی اور یوں اس کا فوکس اور اس کی پرفکشن کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔
5:۔ چاہ اور خواہش جو آپ کے کنٹرول میں نہیں، اس سے خود کو الگ کرنا فوکس کے لیے ضروری ہے۔ کسی چیز کی چاہ یا کسی چیز سے دوری کی خواہش دونوں ہی ایک سکے کے دو رُخ ہیں…… اور دونوں ہی آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ دنیا اور کاینات وسیع ہے، لیکن ہماری ترقی کا دار و مدار ہمارے اندر موجود چھوٹی سی دنیا پر ہی ہوتا ہے…… یعنی آپ کا فوکس آپ کے ایکشن پر ہونا ضروری ہے، نہ کہ ان چیزوں پر جو آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں۔
6:۔ پچھتاوا آپ کی انرجی ضایع کرتا ہے:۔ موساشی کہتے ہیں جو ہوگیا اس پر پچھتاوے کا کوئی فایدہ نہیں۔ بے شک سیلف ری فلکشن بہت ضروری ہے، جو غلطیاں ہوئیں، ان پر نظرِ ثانی اہمیت کی حامل ہے…… لیکن اس پر پچھتاوا غیر ضروری ہے۔ کیوں کہ عقل غلطیاں کرنے اور ناکامیوں کا سامنا کرنے سے آتی ہے۔ ہماری اپنی تباہ کاریاں ہی ہمیں تجربہ کار بناتی ہیں، تو پھر پچھتاوا کیسا……! دلائی لاما کہتے ہیں:’’اگر آپ ہار بھی جائیں، تو اس ہار سے ملنے والے سبق کو کبھی نہ بھولیں۔‘‘ لوگ اکثر تحایف کو اہمیت دیتے ہیں، چیزوں کی شکل میں یادیں جمع کرتے ہیں۔ قیمتی تحفے ملنے پر خوش ہوتے ہیں…… لیکن میرے نزدیک سب سے عظیم تحفہ وہ ہے جو آپ کو کوئی سبق سکھا جائے۔ کسی سے ملنے والے سبق آموز تجربے سے بڑا اور قیمتی کوئی تحفہ نہیں۔ اسے "Intangible Asset”کَہ سکتے ہیں۔
7:۔ جلن اور حسد:۔ جلن اور حسد کے لیے ایک فوکسڈ لائف میں کوئی جگہ نہیں۔ چوں کہ موساشی کی زندگی اکیلے اور دورانِ سفر گزری…… اس لیے دوسروں کی زندگی کو دیکھ کر جلن کا عنصر پیدا ہونا ضروری تھا۔ موساشی کہتے ہیں کہ جلن آپ کا فوکس کم زور کردیتی ہے۔ آپ کی نظریں اپنے مقصد اور پریکٹس سے ہٹ کر دوسروں پر ٹھہر جاتی ہیں۔ یوں جلن سے پیدا ہونے والا غصہ ناراضی (Resentment) آپ کے فوکس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
8:۔ علاحدگی (Separation):۔ علاحدگی کے رنج سے اپنی زندگی کو محفوظ رکھیں۔ علاحدگی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ کبھی لوگوں سے، جگہوں سے، تو کبھی چیزوں سے۔ خود کو لوگوں، جگہوں، چیزوں، احساسات سے مانوس کرنا ہمیں ان سے دور ہونے پر رنج اور دکھ دیتا ہے۔ فطرت کا قانون ہے کہ کوئی بھی چیز مستقل نہیں۔ ہماری زندگی طویل ہوسکتی ہے…… لیکن موت اٹل ہے۔ چوں کہ موساشی کی زندگی سفر اور اپنے فن کی پریکٹس کے گرد گھومتی تھی…… تبھی لوگوں اور جگہوں کو چھوڑنے کا رنج اور دکھ اُس کے فوکس کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔ عام زندگی میں بھی یہ اصول اپنانا ضروری ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں، جو آج بھی کچھ لوگوں کے چھوڑ جانے کے رنج کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں…… جب کہ یہ فطرت کا قانون ہے کہ لوگ، احساسات، چیزیں، حتیٰ کہ ہمارا اپنا وجود بھی عارضی ہے۔
9:۔ ناراضی اور شکایت:۔ ناراضی اور شکایت ہماری ذات کے لیے مناسب ہے نہ دوسروں ہی کے لیے۔ ناراضی (Resentment) اور شکایت (Complaining) ایک بہت بڑا ٹریپ ہے۔ اگر آپ اس ٹریپ میں پھنس جائیں، تو اس سے نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ بہت ہی آرام دہ ذہنی حالت ہوتی ہے۔ دوسروں پر سارا الزام ڈال کر دستبردار ہوجانا ایک عجیب سا ذہنی سکون دیتا ہے، لیکن اس ٹریپ میں پھنس کر آپ اپنی زندگی کو بہتر نہیں بناسکتے اور نہ فوکس کو تراش ہی سکتے ہیں۔ لوگ ہمیشہ اچھے نہیں ہوتے، تلخ رویے اور ناانصافی کا سامنا اکثر رہتا ہے ہم سب کو…… آپ لوگوں کے رویوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے۔ ہم خود بھی اکثر دوسروں کو اپنے رویے اور حرکات سے نقصان پہنچاتے ہیں (وہ الگ بات ہے کہ ہمیں دنیا میں سب سے اچھا اور فرشتہ انسان اپنا آپ ہی لگتا ہے۔) شکایت اور حالات/ لوگوں / دنیا سے ناراضی اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ کا فوکس دوسروں پر ہے کہ وہ کیا کررہے ہیں، نہ کہ اپنی پریکٹس پر…… اور یقینا موساشی یہ افورڈ نہیں کرسکتا تھا۔
10:۔ محبت:۔ محبت (رومینٹک محبت کی بات ہو رہی ہے۔ بے غرض محبت اور (Compassionate Love) کی نہیں) یا ہوس جیسے جذبات کو اپنی رہنمائی ہر گز نہ کرنے دیں۔ رومانیت کے مخالف فلسفی ’’ایلن ڈی بوٹن‘‘ کے مطابق رومانوی محبت نے انسانوں کی کئی نسلوں کو گم راہ کیا ہے۔ کیوں کہ حقیقی زندگی اور حقیقت بہت بورنگ اور عام سی ہے…… رومانیت آئیڈیلزم پر منحصر ہے…… اور حقیقت کا وار جب آئیڈیل کو توڑتا ہے، تو سوائے ’’سفرنگ‘‘ (Suffering) کے اور کچھ نہیں آتا حصے میں۔ رومانٹک محبت جیسے احساسات آپ سے غلط فیصلے کروا سکتے ہیں۔ کیوں کہ آپ ’’آئیڈئلزم‘‘ میں اپنا منطقی دماغ(Rational brain) بند کیے بیٹھے ہوتے ہیں…… جس سے آپ کا فوکس اپنے مقصد پر سے ہٹ سکتا ہے…… اور موساشی ایک بدھسٹ ہونے کے ناتے رومانوی محبت کو اپنی پریکٹس اور فوکس میں مسئلہ بننے نہیں دے سکتا تھا۔
11:۔ ہر معاملے میں ترجیحات سے کام لینا فوکس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہم سب ان لوگوں، چیزوں اور نظریات کو ترجیح دیتے ہیں جو ہمیں اچھا محسوس کرواتی ہیں۔ البتہ ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے جب ہمیں ایسے لوگوں یا حالات کا سامنا کرنا پڑے جو ہماری ترجیح میں شامل نہیں…… اور یہی وجہ کہ ان کی موجودگی ہمیں تکلیف دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ آپ اپنے ماحول کے کنٹرول میں ہیں نہ کہ اپنے آپ کے۔ اب آپ کے موڈ کا ریموٹ کنٹرول باہری حالات یا لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ چوں کہ موساشی اپنی زندگی میں دورانِ سفر مختلف لوگوں سے ملتا اور مختلف حالات کا سامنا کرتا…… اب اگر ایسے میں وہ اپنی ترجیحات مقرر کرلیتا کہ مجھے فلاں قسم کے حالات یا فلاں قسم کے لوگ پسند ہیں، تو پھر اس کا موڈ فلاں لوگوں کے کنٹرول میں ہوتا…… نہ کہ اپنے آپ کے۔ اور برے موڈ میں فوکس اور پریکٹس دونوں پر اثر ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھی حالات سامنے ہیں، ان کا حقیقی جایزہ لیتے ہوئے اپنی بیسٹ پرفارمنس دیں…… اور یوں ممکن ہے کہ آپ کی غلطیوں کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہوں…… اور آپ نتایج کی فکر سے بھی بری الذمہ محسوس کریں۔
12:۔ آپ کا قیام جس جگہ ہے اس سے لاتعلق رہیے۔ تاریخ دان ’’یووال نوح ہراری‘‘ اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ اگر آپ کو لگتا ہے کہ کسی خاص جگہ چھٹیاں گزار کر، یا کسی خاص جگہ قیام کرکے آپ کا دماغ فریش یا خوش ہوجائے گا، تو یقین جانیے ایسا ہر گز نہیں۔ کیوں کہ جگہ بدلنے سے زیادہ مائنڈ سیٹ بدلنا ضروری ہے (شاید کچھ ایسے لوگ ہوں جو یووال کی اس بات سے انکار کریں، ان کا تجربہ یقینا مختلف ہوسکتا ہے۔) چوں کہ موساشی کو جاپان کے مختلف علاقوں میں قیام کرنا پڑتا تھا، اس لیے جگہوں کو اہمیت دینے کی بجائے اس کا سارا فوکس ہمیشہ اپنی پریکٹس پر ہوتا تھا۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ بس ایک بار اس فلاں جگہ چلا جاؤں، تو زندگی بدل جائے گی…… لیکن سائیکالوجی کے مطابق مسئلہ گھر نہیں اکثر ذہنیت کا ہوتا ہے۔ آپ لاشعوری طور پر اپنی ذہنی پریشانیوں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ بے شک جگہ نئی ہو…… لیکن آپ کی ذہنی حالت وہی پرانی والی ہوتی ہے۔
13:۔ لذیذکھانا جو کہ ایک بہت بڑا پلیژر ہے، موساشی اس کے شکنجے سے دور رہ کر سادہ کھانا کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ موساشی نے وضاحت نہیں کی کہ ایسا کیوں کرتے ہیں، لیکن تاریخ میں باقی فلسفی گزرے ہیں…… جنہوں نے لذیذ اور زیادہ کھانے کو نقصان دہ قرار دیا۔ کیوں کہ اس سے آپ کی "Appetite” بڑھ جاتی ہے…… آپ بے اعتدالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ آپ سادہ اور چھوٹے پلیژرز کو نظرانداز کرنے لگتے ہیں۔ برین زیادہ پلیژر والے ہارمون ریلیز کرنے لگتا ہے…… جس کا اثر کھانے کی زیادتی اور موٹاپا ہے۔ سادہ کھانا نہ صرف صحت کے لیے بہتر ہے بلکہ وقت اور انرجی بچاتا ہے (یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کھانا اگر زندہ رہنے کے لیے کھایا جائے نہ کہ زبان کے ذایقہ کے لیے تو زندگی آسان کر دیتا ہے۔)
14:۔ وہ چیزیں جو آپ کی ضرورت نہیں ان کا بوجھ بلا وجہ کندھوں پر رکھنا آپ کی پریکٹس اور فوکس میں خلل پیدا کرسکتا ہے۔ چوں کہ موساشی کی زندگی ایک مسافر کی تھی اور مسافر زیادہ سامان کے ساتھ سفر نہیں کرسکتا۔ فوکس کے لیے دماغ غیر ضروری چیزوں سے ہٹنا ضروری ہے۔ تاریخ دان ’’یووال نوح ہراری‘‘ نوجوانوں کو تلقین کرتے ہیں کہ اگر انہیں آرٹی فیشل انٹیلی جنس سے آگے بڑھنا ہے، تو ضروری ہے کہ وہ بے جا سطحی خواہشات اور نظریات کا بوجھ اپنے کندھوں سے اتار دیں۔ کیوں کہ اس بوجھ تلے کبھی آرٹی فیشل انٹیلی جنس کو ان کے خلاف استعمال کرنے والے سرمایہ داروں سے جیت نہیں پائیں گے اورحقیقت اور فسانے میں فرق نہیں کر پائیں گے۔ جب آپ کی زندگی میں بلاوجہ اور غیر ضروری چیزوں اور دماغ میں غیر ضروری سوچوں اور جانب دار نظریات کا ڈیرہ ہو، تو آپ کبھی اپنے مقصد پر فوکس نہیں کر پائیں گے۔
15:۔ روایتوں، نظریات اور عقیدوں پر اندھا یقین نہ کریں۔ چوں کہ موساشی کو اپنے تجربات اور مشاہدے سے اندازہ ہوا کہ کس طرح چند غیر ماہر اور اناڑی حکم رانوں پر اندھا اعتماد نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ جب ہم عقیدے کا چشمہ پہنے اپنے پسندیدہ حکم رانوں اور نظریات کو سپورٹ کر رہے ہوتے ہیں، دراصل اس دوران میں ہمارا منطقی دماغ بند پڑا ہوتا ہے۔ ’’کامن سینس‘‘ بھی ’’کامن‘‘ نہیں رہتا۔ کیوں کہ ہر سینس عقیدے کی نذر ہوجاتا ہے۔ یا پھر معاشرے میں جو باتیں صدیوں سے چلی آرہی ہیں…… ان پر بنا سوچے سمجھے عمل پیرا ہونا ہمارے لیے غلط ثابت ہوسکتا ہے۔ ضروری نہیں کہ تمام روایتیں ہی غلط ہوں…… لیکن جو رسم آپ کو تکلیف پہنچا رہی ہے، اس کے خلاف قدم اٹھانا ضروری ہے۔ اپنی زندگی اور فن کو سنوارنے کے لیے کلچر اور مشہور طریقوں سے بالا تر ہوکر بھی کچھ فیصلے لینا بہتر رہتا ہے۔
16:۔ زیادہ ہتھیاروں سے خود کو لیس کرنا یا پھر غیر ضروری ہتھیار سے اپنے فن کی پریکٹس کرنے سے گرہیز کریں۔ موساشی کو مختلف ہتھیاروں کی نالج تھی۔ بقول موساشی کے ہر ہتھیار کی اپنی خاصیت ہوتی ہے…… لیکن آپ صرف ان کو استعمال میں لائیں جو آپ کے لیے کارآمد ہیں۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی پر نظرِ ثانی کریں، تو وہ لوگ جو ضرورت سے زیادہ پُرعزم ہوتے ہیں، اگر کوئی کام آسان تکنیک سے ہورہا ہو، اس میں خواہ مخواہ کی پیچیدگیاں شامل کرلیتے ہیں…… لیکن موساشی یہ بھی کہتے ہیں کہ کسی بھی تکنیک کے ساتھ اٹیچ ہونا نقصان دے سکتا ہے۔ کچھ مسایل اور حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ انہیں کسی مختلف اپروچ کے ساتھ حل کیا جائے…… لیکن اگر آپ اپنی تکنیک کو دل سے لگائے بیٹھے ہیں اور ہر مسئلے پر اسی کو ’’اپلائی‘‘ کر رہے ہیں، تو مسایل کا حل ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ موساشی کے مطابق کامیابی تک رسائی ایک نازک عمل ہے۔ اصل فن یہ ہے کہ کس طرح فوکس کو برقرار رکھتے ہوئے حالات کو مدِ نظر رکھ کر اپنی حکمتِ عملی (Strategy) تبدیل کی جائے۔ ہمیں اکثر کہا جاتا ہے کہ کام، رلیشن شپز، سوشل لائف، فیملی ٹائم ہر چیز کا زندگی میں ہونا ضروری ہے، لیکن حقیقت میں یہ ممکن نہیں(شاید کچھ ملٹی ٹیلنٹڈ لوگ کر پاتے ہوں۔) مثال کے طور پر اگر آپ فیملی کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی سوشل گیدرنگز (Social Gatherings) پر سمجھوتا کرنا ہوگا۔ زندگی میں کچھ گولز سیٹ کریں اور سارا فوکس وہیں لگا دیں۔ یقینا ہر چیز کی اپنی خاصیت ہوتی ہے لیکن ہم ہر چیز حاصل نہیں کرسکتے۔
17:۔ موت سے ڈر فوکس کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔ چوں کہ موساشی ایک سمورائی تھا اور سمورائی کو روز پریکٹس اور مقابلوں میں موت کا سامنا ہوتا تھا۔ موساشی موت کی حقیقت کو قبول کرنے پر یقین رکھتا تھا۔ کیوں کہ یہ اٹل ہے اور یوں دورانِ مقابلہ وہ موت کے ڈر سے بالاتر ہوکر لڑتا تھا اور یہی وجہ کہ وہ کبھی کوئی مقابلہ نہیں ہارا۔ موت ہمارے لیے اس لیے اتنی ’’اَن کمفرٹیبل‘‘ ہے، کیوں کہ اس کے آگے کیا ہے؟ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا۔ ہمیں موت سے زیادہ خوف "Unknown” کا ہوتا ہے، اور شاید یہی موت کی خوب صورتی بھی ہے کہ یہ پُراسراریت سے بھرپور ہے۔ جب ایک دن موت کا سامنا ہے، تو کیوں نہ اپنی زندگی میں لوگوں اور موت کی پروا کیے بغیر اپنے "Highest Potential” کو ایکسپلور کیا جائے۔ موت کی جگہ ہم اپنے اوہام اور خوف کو بھی اس اصول پر رکھ کر دیکھ سکتے ہیں۔اگر ہم اپنے بلاوجہ کے خوف اور اوہام سے بالاتر ہوکر اپنے مسایل کا جایزہ لیں، تو یقینا ہم ان کا پریکٹیکل حل نکال سکتے ہیں۔
18:۔ اپنے بڑھاپے کے لیے جاگیر یا چیزیں جمع کرنے کا کوئی فایدہ نہیں۔ بے شک بڑھاپا موت کی مانند اٹل ہے اور شاید تکلیف دِہ بھی۔ موساشی نے اپنی ساری زندگی اپنے فوکس کو اپنی پریکٹس پر جمائے رکھا۔ کوئی مقابلہ نہ ہارا اور بڑھاپے میں اپنے سفر کے دوران میں سیکھے جانے والے وزڈم کو انسانیت کے ساتھ شیئر کیا۔ ماڈرن دنیا میں جب تک ہم اپنے گولز پورے کرتے ہیں، بڑھاپا سر کو ہوتا ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ انسان سیونگز (Savings) نہ کرے، لیکن ساری زندگی محنت اس لیے کریں کہ بڑھاپا اچھا ہو۔ اس بات کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ کیوں کہ بڑھاپے میں آپ کو اتنی زیادہ دولت کی ضرورت ہی نہیں۔ تبھی موساشی دولت کے علاوہ ورثہ چھوڑے جانے کو بہتر عمل مانتے ہیں۔ نئی نسل کے لیے صرف پیسے نہیں بلکہ حکمت بھی چھوڑ کر جانا ہے۔ بدھ مت بھی یہی کہتا ہے کہ دولت کا حصول غلط نہیں لیکن اس کا بہتر استعمال بہت ضروری ہے۔ بڑھاپے میں پیسوں کے انبار سے زیادہ ذہنی سکون اور اطمینان کا حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔
19:۔ بدھا اور اپنے خداؤں کا احترام کرو لیکن اپنی مدد آپ کرو۔ موساشی ایک بدھسٹ تھا، تبھی اس نے بدھا کا ذکر کیا…… لیکن باقی مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو بھی تلقین کرتے ہیں کہ اپنے مذہب کا احترام کرو، لیکن اپنی زندگی آپ نے خود ڈیزائن کرنی ہے۔ ہمارے مذہبِ اسلام میں بھی اسی بات پر زور ہے کہ خدا ان کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔ کسی کی ناانصافی کو اس لیے برداشت نہ کریں کہ اگلے جہان میں حساب ہوگا۔ بے شک اگلے جہان میں حساب ہو، لیکن اس جہان میں بھی اپنے حق کے لیے بولنا آپ پر فرض ہے۔ غیبی مدد یا نجات دہندہ کے آنے کے چانسز نہیں، جو کرنا ہے آپ نے خود کرنا ہے۔ بے شک قسمت نام کی ایک پُراسرار قوت موجود ہے، لیکن اس کو سمجھنے سے فی الحال ہم قاصر ہیں۔ قسمت ایک پیچیدہ عمل ہے۔ البتہ قسمت سے ملنے والی چیزوں کو بھی ہینڈل کرنا ایک آرٹ ہے۔ اکثر ہم قسمت سے ملنے والی نعمتوں کو نظر انداز یا "Exploit” کرتے ہیں، لیکن جو بھی ہمارے کنٹرول میں ہے، اس کی ذمے داری ہمیں خود لینی ہے۔
20:۔ اپنے آپ سے زیادہ مقصد کے وقار اور عزت کی پروا کریں۔ چوں کہ موساشی ایک سمورائی تھا اور ایک تلوارباز کے لیے اس کا وقار اس کی جان سے بڑھ کر تھا…… لیکن وقار اور عزت کی تعریف ہر کلچر میں مختلف ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عزت اور وقار کے نام پر اکثر قتل بھی ہوتے ہیں جن کی وجوہات دوسروں کے کلچر کے اعتبار سے اتنی بڑی نہ ہوں، لیکن ہمارے معاشرے کے اعتبار سے ان پر قتل و غارت تک ہوجاتا ہے۔ جاپان میں لوگ اپنی ڈیوٹی کو اپنا دین دھرم مانتے ہیں اور ڈیوٹی پورا نہ کرنا مطلب عزت اور وقار کو نقصان پہنچنا ہے۔ اگر کلچر میں عزت اور وقار کی تعریف جاپان جیسی ہو، تو لوگ اپنا کام پوری ایمان داری سے کریں گے۔ یقینا اور اگر عزت کی وضاحت وہ ہو جو ہمارے کلچر میں ہے، تو پھر خون اور قتل و غارت نتیجہ ہوتا ہے۔ بے شک کلچر بہت معنی رکھتا ہے۔ ہم اپنی عزت اور وقار کن چیزوں میں دیکھتے ہیں؟ یہ ہم پر منحصر ہوتا ہے۔ خواتین کے گھر سے باہر جاب کرنے یا مرضی کی شادی کرنے پر قتل ہونے میں ہمارا وقار چھپا ہے یا پھر اپنا کام اور اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کو ہم عزت اور وقار کی نظر سے دیکھتے ہیں؟ یہ ہم پر اورکلچر پر منحصر ہوتا ہے۔
21:۔ اپنے اصولوں اور اس پر چلنے والے راستے سے کبھی نہ بھٹکیں۔ موساشی کے لیے اس کی پریکٹس اور ایک کامیاب تلوارباز بننا اس کا راستہ تھا۔ ذرا سا فوکس ہٹنے پر مقابلے میں اس کی جان جا سکتی تھی…… اور اس فوکس کو حاصل کرنے کے لیے اُسے زندگی کی کشش اور موت کے خوف سے بالاتر ہوکر سوچنا پڑا۔
قارئین! ہم سب یہی سوچ رہے ہیں کہ یہ سب بہت مشکل ہے، یہ بہت زیادتی ہے خود سے، یہ سوچ یقینا مغرب کی دین ہے۔ کیوں کہ ماڈرن دنیا میں کمٹمنٹ اور ڈیڈی کیشن دونوں ہی ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ ان میں سے کئی اصول بزنس، تعلیم، گولز، صحت، ایڈکشنز، کریٹیوٹی، ورک، رلیشن شپز وغیرہ میں کام آسکتے ہیں…… لیکن یہ ہمیں کٹھن لگتے ہیں۔ کیوں کہ یہ ہماری آسانیوں اور پلیژر کے درمیان دیوار بننا چاہتے ہیں اور ہم میں کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اتنی قربانیاں دینے کی ہمت نہیں۔ کوئی بھی بزنس یا رشتہ بِنا ’’ڈیڈی کیشن‘‘ اور ’’کمٹمنٹ‘‘ کے اپنا ’’بیسٹ ورژن‘‘ نہیں بن سکتا۔ فوکس ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موساشی اپنے اصولوں پر قایم رہنے اور اپنے فوکس کو برقرار رکھنے کی وجہ سے لڑے جانے والے ساٹھ مقابلوں میں سے ایک بھی نہیں ہارا!
………………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا amjadalisahaab[email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔