تحریر: محمد شیر جان سینا خیل
[email protected]
پشتو اکیڈمی پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر شیر زمان سیماب صاحب کے زیر ہدایت تفویض شدہ ایم فل ٹرم پیپر بعنوان ( وقار خان پشتون قومی نمائندہ )کے سلسلے میں وقار خان مرحوم کے ساتھ ملاقات اور انٹرویو کا موقع ملا۔ کیا خبر تھی کہ یہ پہلی اور آخری ملاقات ثابت ہوگی۔
دو گھنٹے کی اس ملاقات میں وقار خان کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ……جس کے نتیجے میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلو سامنے آئے۔ مضمون زیرِ نظر میں اس ملاقات کا سرسری جایزہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔تفصیلی کتابچہ عن قریب شایع ہوگا۔
وقار احمد خان 15 اکتوبر 1967ء گاؤں شاہ ڈھیرئی تحصیلِ کبل میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد خان تھا۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول کوزہ سمائی میں حاصل کی۔ مڈل اور میٹرک کے امتحانات بالترتیب گورنمنٹ مڈل سکول شاہ ڈھیرئی اور گورنمنٹ ہائی سکول دیولئی سے پاس کیے۔1988ء میں جہانزیب کالج سے ایف ایس سی کیا۔ مزید تعلیم کے لیے کراچی چلے گئے۔ وہاں نیشنل کالج کراچی سے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
وقار خان کے مطابق ان کا سیاست میں آنا اتفاقی عمل تھا۔پرویز مشرف کے دور میں 2001ء میں لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کا اعلان ہوا، تو نئے قانون کی رو سے ایک ووٹ سے ناظم اور نایب ناظم کا انتخاب ہونا تھا۔ وقار خان ایک گرینڈ جرگے میں اپنے بھائی افتخار احمد خان کے ساتھ بطورِ نایب ناظم نام زد ہوئے۔ یوں کامیابی کی صورت میں پہلی بار سیاست کے میدانِ کارزار میں داخل ہوئے۔
2002ء میں جب جنرل الیکشن کا اعلان ہوا، تو وقار خان نایب ناظم کے منصب سے مستعفی ہوئے اور اپنے چچا خان نواب کی مشاورت سے ایک گرینڈ جرگہ کی تائید کے ساتھ اے این پی کی طرف سے اس وقت کے pk82 کے لیے بطورِ امیدوار صوبائی اسمبلی نام زد ہوئے۔ اس الیکشن میں سات مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے وجود میں آیا تھا…… جس نے پورے سوات میں ساتوں کی سات نشستیں جیت لیں۔ وقار خان کے مقابلے میں ایم ایم اے کے امیدوار مولانا عرفان اللہ کامیاب ہوئے…… جب کہ وقار خان دوسرے نمبر پر آئے۔ پہلی بار عام انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے دوسری پوزیشن حاصل کرنا وقار خان کی عوامی مقبولیت کی واضح دلیل تھی۔
2008ء میں مولانا فضل اللہ کی سربراہی میں تحریکِ طالبان زور پکڑچکی تھی۔ اسی سال جنرل پرویز مشرف نے عام انتخابات کا اعلان کیا۔ سوات کے پُرآشوب اور غیر یقینی حالات کی وجہ سے الیکشن مہم مشکل تھی۔ تاہم اس بار سوات کے عوام نے 2002ء کے انتخابات کے بالکل برعکس فیصلہ کیا…… اور سوات کی تمام نشستوں پر اے این پی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔یوں وقار خان pk 82 سے پہلی بار ممبر صوبائی اسمبلی نام زد ہوئے۔
2008ء کا سال باشندگانِ سوات کے لیے پیغامِ بربادی لایا تھا۔ فنا کی آندھی کی ان بے رحم لہروں سے وقار خان کا خاندان بھی محفوظ نہیں رہ سکا۔25 اور 26 اگست کی درمیانی شب وقار خان کے گھرانے کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی…… جس وقت وقار خان کے بڑے بھائی اقبال احمد خان کو دیگر سات ساتھیوں سمیت بے دردی سے قتل کیا گیا۔
2013ء کے عام انتخابات میں وقار خان ایک بار پھر رنررہے۔ 2018ء میں پی ٹی آئی کے ڈاکٹر امجد نے دو نشستوں pk 7 اورpk 8 سے الیکشن لڑا۔ دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے کی صورت میں ایک نشست pk 7 سے مستعفی ہوئے۔ ضمنی الیکشن میں وقار خان 13 ہزار 997 ووٹ لے کر دوسری بار صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
وقار احمد خان نے اپنے دونوں ادوار میں اپنے حلقے میں ڈھیر سارے ترقیاتی کام کیے، جن میں سکولوں کی اَپ گریڈیشن، بی ایچ یو، سڑکوں کی کشادگی اور پلوں کی تعمیر شامل ہیں۔
وقار خان عوام کے دلوں پر راج کرنے والے حقیقی نمایندے تھے۔ اپنے نام کی طرح وقار اور سنجیدگی میں ہلکے پھلکے مِزاح کا عجیب امتزاج تھا۔ عجز و انکسار سے عبارت صبر اور غرور سے نا آشنا تھے۔ کیا اپنے اور کیا غیر…… لوگوں سے ملنے جلنے میں کسی قسم کے پروٹوکول اور امتیازی سلوک کے روادار نہیں تھے۔ پیکرِ شرافت اور تصویرِ مروت تھے۔ خاکساری اور ملنساری کا نمونہ تھے۔ برداشت اور رواداری، فراخ دلی اور وسیع النظری جیسی صفات سے متصف تھے۔ مروت، ملن ساری اور لوگوں سے بے تکلفی کی یہ حالت تھی کہ ہر چھوٹا بڑا انہیں ’’جان لالا‘‘ کے نام سے پکارتا تھا۔
ہر وقت متبسم رہنے والے وہی ’’جان لالا‘‘ اپنے پیاروں کو اشک بار چھوڑ کر داعیِ اجل کو لبیک کَہ گئے۔ اللہ تعالا سے دعا ہے کہ ان کو کروٹ کروٹ ابدی خوشیاں نصیب کرے اور جنت میں اعلا مقام سے نوازے، آمین ثم آمین!
………………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔