کامریڈ امجد علی سحاب
مَیں بچپن سے ’’سولہ سنگار‘‘ کے حوالے سے مختلف ناولوں اور افسانوں یہاں تک کہ گیتوں میں سنتا چلا آرہا ہوں۔ کئی بار اس طرف نہ چاہتے ہوئے بھی دھیان گیا ہے کہ دراصل یہ ’’سولہ سنگار‘‘ والی اصطلاح ہے کیا؟ چلیے، مختلف حوالوں سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔
سرِ دست یہ قضیہ حل کیے دیتے ہیں کہ ’’سنگار‘‘ اور ’’سنگھار‘‘ میں کون سا اِملا دُرست ہے؟ 13 جنوری 2022ء کو اس حوالے سے مَیں نے تھوڑا سا مطالعہ کیا تھا جس کا نچوڑ ذیل میں درج ہے:
’’سنگار‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا اِملا عام طور پر ’’سنگھار‘‘ لکھا جاتا ہے۔ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘، ’’نور اللغات‘‘ اور ’’علمی اُردو لغت (متوسط) ‘‘کے مطابق دُرست املا ’’سنگار‘‘ ہے نہ کہ ’’سنگھار‘‘ جب کہ اس کے معنی ’’آراستگی‘‘، ’’بناو‘‘، ’’تزئین‘‘، ’’کنگھی چوٹی‘‘، ’’مانگ پٹی‘‘، ’’آرایش‘‘، ’’سجاوٹ‘‘ وغیرہ کے ہیں۔
’’نوراللغات‘‘ میں کہیں پر بھی لفظ ’’سنگھار‘‘ درج نہیں ملتا۔ البتہ ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ میں ’’سنگھار‘‘ کی تفصیل میں درج ہے: ’’دیکھو (سنگار)‘‘ اس کا مطلب ہے کہ ’’سنگار‘‘ ہی درست اِملا ہے ۔
رشید حسن خان کی کتاب ’’انشا اور تلفظ‘‘ (مطبوعہ ’’الفتح پبلی کیشنز‘‘، اشاعتِ دوم 2014ء) کے صفحہ نمبر 69 پر ’’الفاظ کا اِملا‘‘ کے زیرِ عنوان ایک مرکب لفظ ’’بناو سنگار‘‘ درج ملتا ہے۔
’’سنگار‘‘ کے ذیل میں نور و آصفیہ دونوں میں ایک محاورہ ’’سنگار کرنا‘‘ نیز دو مرکب الفاظ ’’سنگار میز‘‘ اور ’’سنگار دان‘‘بھی درج ملتے ہیں۔ دونوں ذکر شدہ لغات (آصفیہ و نور) میں ’’سولہ سنگار‘‘ درج ہے۔ صاحبِ نور نے البتہ ’’بارہ ابرن سولہ سنگار‘‘ کا حوالہ بھی دے رکھا ہے۔ اس طرح نوراللغات میں حضرتِ اختر شاہ اودھ کا یہ خوب صورت شعر بھی حوالتاً درج ملتا ہے :
آتے ہی سنگار دان مانگا
نکھری کیا کیا وہ شوخ زیبا
اس تفصیل کے بعد یہ ماننے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے کہ دُرست اِملا ’’سنگار‘‘ ہے۔
مولوی سید احمد دہلوی کے تالیف شدہ لغت ’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کے علاوہ پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ کی تالیف ’’نادراتِ اُردو‘‘ اور رشید حسن خان کی تالیف ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ میں بھی تھوڑی بہت تفصیل درج ملتی ہے مگر جس عرق ریزی سے کام مولوی نور الحسن نیر نے ’’نوراللغات‘‘ میں لیا ہے، بزبانِ انشاء اللہ خاں انشاؔ
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
’’نوراللغات‘‘ کی جلد سوم (د۔ ق) میں درج ہے: ’’دیکھو بارہ اَبرن سولہ سنگار۔‘‘ پھر جیسے ہی جلد اوّل (ا۔ ب) اُٹھا کر مطلوبہ صفحہ تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے، تو وہاں لفظ ’’اَبرن‘‘ کے اِملا کا مسئلہ سر اٹھائے کھڑا ملتا ہے۔ وہاں یہ اصطلاح ’’بارہ اَبھرن سولہ سنگار‘‘ درج ملتی ہے۔ اس مسئلے کا حل رشید حسن خان کی تالیف ’’کلاسکی ادب کی فرہنگ‘‘ (طبع دوم، جولائی 2018ء، ناشر، ڈاکٹر تحسین فاروقی، ناظم مجلسِ ترقیِ ادب، لاہور) کے صفحہ نمبر 93 پر ان الفاظ میں ملتا ہے: ’’بارہ اَبھرن (اَبرن): بارہ زیور۔‘‘ یعنی اگر کوئی ’’اَبھرن‘‘ لکھ لے، تو بھی ٹھیک ہے اور اگر ’’اَبرن‘‘ لکھ لے، تو بھی کوئی مضایقہ نہیں۔
’’فرہنگِ آصفیہ‘‘ کے مطابق ’’سولہ سنگار‘‘ وہ سولہ طرح کی آرایش و زینت ہے جو ہندوستان کی عورتوں سے مخصوص اور انتہا کے بناو میں داخل ہے۔
’’نادراتِ اُردو‘‘ کے مطابق ’’سولہ سنگار‘‘ ہندوستانی عورتوں کے اعلا درجے کی جسمانی سجاوٹ ہے۔ (مولف ’’پروفیسر ایم نذیر احمد تشنہ‘‘ نے ’’سولہ سنگار‘‘ کی جگہ اِملا ’’سولہ سنگھار‘‘ رقم کیا ہے)
’’نوراللغات‘‘ کے مطابق ’’سولہ سنگار‘‘ دراصل عورتوں کا پورا سنگار ہے۔ بارہ اَبھرن یعنی بارہ جگہ پہننے کا زیور۔
’’نوراللغات‘‘ کے مطابق سولہ سنگار یہ ہیں:
پہلا، غسل کرنا۔
دوسرا، تیل ملنا۔
تیسرا، سر گوندھنا۔
چوتھا، سر کو زیور سے آراستہ کرنا۔
پانچواں، چندن بھرنا۔
چھٹا، لباس پہننا۔
ساتواں، قشقہ کھینچنا۔
آٹھواں، کاجل لگانا۔
نواں، گوشوارہ لٹکانا۔
دسواں، ناک کا زیور یا موتی سے آراستہ کرنا۔
گیارھواں، گلے میں زیور پہننا۔
بارھواں، پھولوں یا موتیوں کا ہار گلے میں ڈالنا۔
تیرھواں، مہندی لگانا۔
چودھواں، کمر بند کا جس میں گھنگرو ہوتے ہیں کمر میں لپیٹنا۔
پندرھواں، پاؤں کو زیور سے آراستہ کرنا۔
سولھواں، پان کھانا۔
اب آخر میں وہ اشعار درج کیے دیتے ہیں جن میں سولہ سنگار کا ذکر ملتا ہے۔ اب یہ الگ بات ہے کہ شعرائے کرام نے سنگار کا اِملا ’’سنگھار‘‘درج فرمایا ہے۔
حضرتِ محمود عالم کے بقول:
حسن سولہ سنگھار کرتا ہے
اور کر آیا ہے اٹھارہ غم
جب کہ باصرؔ سلطان کاظمی کہتے ہیں:
عشق روتا ہے آٹھ آٹھ آنسو
حسن سولہ سنگھار میں مصروف
اب آخر میں بشیرؔ بدر کا شعر ملاحظہ ہو:
یہ دیکھ ہجر تیرا کتنا خوب صورت ہے
عجیب مرد ہوں سولہ سنگھار کرتا ہوں
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔