نومبر 2021ء کے آخر میں، سوات میں آل پارٹیز کانفرنس کے موقع پرریاستِ سوات کے آخری حکم ران میاں گل جہان زیب المعروف والی صاحب کی بہو نے اپنی تقریر کے دوران میں سوات میں ٹیکسوں کے نفاذ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے یہ دعوا دہرایا کہ ریاستِ سوات کے ادغام کے وقت والی صاحب نے حکومتِ پاکستان سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ ریاست کے ادغام کے بعد یہاں پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کا نفاذ نہیں ہوگا۔ اس کی تقریر ویب سائٹ باخبر سوات ڈاٹ کام پر کچھ یوں رپورٹ کی گئی: ’’سوات کے شاہی خاندان کی بہو اور سابق ایم این اے مسرت احمد زیب نے انکشاف کیا ہے کہ ریاست کے ادغام کے وقت والیِ سوات نے حکومت پاکستان سے معاہدہ کیا تھا کہ ضلع سوات میں کسی قسم کا کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔ یہ معاہدہ ہمیشہ کے لئے برقرار رہے گا۔ سوات میں کسی قسم کے ٹیکس کا نفاذ معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ سوات نے 1949ء میں پاکستان کو تسلیم کرکے پاکستان کا حصہ بنی تھی۔ اس کے بعد 1969ء میں ادغام کے وقت والیِ سوات میاں گل عبدالحق جہانزیب نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ معاہدے کے بعدیہ معاہدہ کیا کہ موجودہ سوات، بونیر، شانگلہ اور کوہستان میں تا حیات کسی قسم کا ٹیکس لاگو نہیں ہوگا، جبکہ دیر کی ریاست نے تو کوئی معاہدہ ہی نہیں کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ تمام ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع کی سیاسی جماعتیں سیاست سے بالاتر ہو کر حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے خلاف یک آواز ہو جائیں۔‘‘
یہ باتیں حکومت کی جانب سے ضلع سوات میں بعض بلا واسطہ ٹیکسوں جیسا کہ انکم ٹیکس، ایکسائز ٹیکس وغیرہ کے نفاذ کی کوششوں کے تناظر میں کہی گئی ہیں۔ ورنہ بالواسطہ ٹیکس تو پہلے ہی سے یہاں پر لاگو ہے۔ تاہم یہاں اس پر بات نہیں کی جاتی کہ سوات میں ان بلاواسطہ ٹیکسوں کا نفاذ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اس لیے کہ یہ ایک الگ موضوع ہے بلکہ درجِ بالا رپورٹ کردہ باتوں میں تاریخی حوالے سے جو غلط بیانیاں ہیں، ان کی تصحیح کی کوشش کی جاتی ہے۔
پہلے اس نکتہ کی وضاحت اورحتی الامکان تصحیح ضروری ہے کہ کیا 1969ء میں ریاستِ سوات کے خاتمے کے وقت والی صاحب نے پاکستان کے ساتھ ایساکوئی معاہدہ کیا تھا کہ ریاست کے خاتمے کے بعد کسی مخصوص مدت یا ہمیشہ کے لیے یہاں پر ٹیکسوں کا نفاذ نہیں ہوگا؟ محترمہ کا مذکورہ بالا دعوا کوئی نیا انکشاف نہیں۔ والی صاحب کے خاندان کے افراد اور بعض دوسرے لوگ بہت پہلے سے یہ دعوا کرتے چلے آرہے ہیں…… لیکن اس کے ثبوت میں ابھی تک اس طرح کے کسی معاہدے کی کاپی سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں۔ چوں کہ یہ واہمہ بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، لہٰذا گذشتہ 25، 26 سال سے مَیں اس طرح کے معاہدے کی کاپی کی تلاش میں ہوں…… لیکن ابھی تک کوئی بھی کاپی کسی بھی محافظ خانہ، آرکائیوز میں سے یا کسی فرد کے ہاں نہیں ملی۔ اگر کوئی اس طرح کے معاہدے کی کاپی مہیا کرے، تو میں اس کے لیے شکر گزار رہوں گا۔
والی صاحب نے بھی اپنی سوانح عمری میں ریاستِ سوات کے خاتمے کے ضمن میں اپنی باتوں میں اس طرح کے کسی معاہدے کا کہیں ذکر نہیں کیا…… بلکہ یہی بتایا ہے کہ جب ریاست کے ادغام کا فیصلہ کیا گیا، تو ولی عہد میاں گل اورنگ زیب اور نوابِ دیر کو راولپنڈی بلا کر انھیں ادغام کے بارے میں پیغام دیا گیا۔ حکومت نے میری عزت کی خاطر مجھے نہیں بلکہ میرے بیٹے کو بلایا۔ یہ (25 جولائی اور) جمعہ کا دن تھا جب کہ آیندہ پیر کے دن 28 جولائی 1969ء کو ریاست کا ادغام عمل میں آیا۔ والی صاحب نے تویہ اعتراف کیا ہے کہ اس نے مئی 1969ء میں یحییٰ خان سے کہا کہ وہ جو بھی سوچتے ہیں لیکن ریاست کے مدغم کرنے کا وقت آگیا ہے اورمیں انہیں اس کی پیشکش کرتا ہوں۔ وہ مزید بتاتا ہے کہ جب ادغام کا دن اچانک آیا، تو اس کا اعلان ریڈیو پر کیا گیا اور یہ اخبارات میں چھپ کر آیا۔ وہ آگے بتاتا ہے کہ "No agreement, and we had only three days’ warning.” یعنی کہ ہمارے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا اور ہمیں صرف تین دن کا انتباہ ملا۔ (ملاحظہ ہو والی صاحب کی سوانح عمری ’’دی لاسٹ والی آف سوات‘‘ کے بنکاک سے 1995ء میں شایع شدہ ایڈیشن کے صفحات 134 تا 136)
اس طرح والی صاحب نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریاستِ سوات کے ادغام کے وقت ان سے کسی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا۔ یاد رہے کہ 28 جولائی کو اس وقت کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدرِ پاکستان یحییٰ خان نے قوم سے اپنے خطاب میں چترال، دیر اور سوات کی ریاستوں کو مدغم کرانے کی ہدایات جاری کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان ریاستوں کے حکم رانوں کو 15 اگست 1969ء کو ’’دیر، سوات اینڈ چترال ایڈمنسٹریشن ریگولیشن‘‘ کے ذریعے باقاعدہ طور پر اپنی حکم رانی کے اختیارات سے سبک دوش کیا گیا جس کے ساتھ ان ریاستوں کا خاتمہ ہوا۔
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، بھرپور کوشش کے باوجود، مَیں ابھی تک ایسے کسی معاہدے کی کسی تحریری کاپی دیکھنے اور حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا ہوں…… جس میں ریاستِ سوات کے خاتمے کے بعد سوات میں ٹیکسوں کے نفاذ سے استثنا کا ذکر ہو۔ تاہم والی صاحب کا فروری 1954ء میں حکومتِ پاکستان سے ’’سپلی مینٹری انسٹرومنٹ آف ایکسی شن‘‘ یا ضمنی ضابطۂ الحاق کی کاپی ریکارڈ پر موجود ہے…… جس کے تحت والی صاحب نے اپنے اختیارات پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کوسونپ دیے۔ اب پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کو پاکستان کے دیگر حصوں کی طرح ریاستِ سوات کے لیے بھی قانون سازی کا حق، وفاقی اور دیگر متفرقہ شعبوں (پارٹس I اور II آف دی شیڈول) میں مل گیا اور اسے ان پر ریاستِ سوات میں عمل در آمد کا حق بھی حاصل ہوگیا۔ لہٰذا والی صاحب ہی نے 1954ء میں حکومتِ پاکستان کویہ اختیار دیا تھا کہ وہ مذکورہ شعبوں میں ریاستِ سوات کے لیے نہ صرف قانون سازی کرسکتی ہے بلکہ یہاں پر متعلقہ ٹیکسوں کا نفاذ بھی کرسکتی ہے۔ حتیٰ کہ اگر چاہے تو ریاستِ سوات کا خاتمہ بھی کرسکتی ہے۔ (کچھ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو میری انگریزی کتاب ’’سوات سٹیٹ‘‘ یا اس کے اردو ترجمے ’’ریاستِ سوات‘‘ کا باب نمبر 10)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سابقہ ریاست ِسوات کے علاقوں میں ٹیکسوں کا نفاذ اس وجہ سے نہیں کیا گیا کہ ریاست کے ادغام کے وقت والی صاحب نے پاکستان کے ساتھ اس ضمن میں معاہدہ کیا تھا (جو کہ جیسا اوپر ذکر ہوا، والی صاحب کے اپنے بیان کے مطابق نہیں ہوا) تو دوسری سابقہ ریاستوں امب، چترال اور دیر کے علاقوں میں اس طرح کے ٹیکسوں سے استثنا کیوں اور کس معاہدے کی وجہ سے ہے؟ اور کالام کو اس حوالے سے کیوں استثنا حاصل ہے؟ کالام تو ریاستِ سوات کا حصہ ہی نہیں تھا۔ ان علاقوں کو بعض بلاواسطہ ٹیکسوں میں چھوٹ کسی کے معاہدے کی وجہ سے نہیں بلکہ ابتدا ہی سے پاکستان کی آئینی دستاویزات میں ان کی خصوصی حیثیت کی وجہ سے ہے۔ اس خصوصی حیثیت کی تفصیل دینے کی یہاں گنجایش نہیں لیکن جو افراد اس کو سمجھنا چاہتے ہیں، وہ میری کتب ’’سوات سٹیٹ‘‘ (اُردو ترجمہ ’’ریاستِ سوات‘‘)، ’’دی نارتھ-ویسٹ فرنٹیئر (خیبر پختونخوا)‘‘ اور ’’سوات: تاریخ کے دوراہے پر‘‘ اور خصوصی طور پر ’’دی نارتھ-ویسٹ فرنٹیئر (خیبر پختونخوا)‘‘ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ریاستِ سوات کے حکم ران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کب کیا؟ اس کی صراحت میری انگریزی کتاب ’’سوات سٹیٹ‘‘ اور اس کے اُردو ترجمہ ’’ریاستِ سوات‘‘ میں زیرِ عنوان ’’پاکستان سے تعلقات‘‘ میں موجود ہے کہ ریاستِ سوات کے اُس وقت کے حکم ران میاں گل عبدالودود المعروف باچا صاحب نے کیسے اور کب پاکستان کی نو زائیدہ ریاست سے الحاق کیا اور اس الحاق کی شرایط کیا تھیں؟ ریاستِ سوات کے حکم ران نے 3 نومبر 1947ء کو پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر مہرِ تصدیق ثبت کی اور پاکستان کی جانب سے اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح نے 24 نومبر1947ء کو سابقہ برطانوی حکومت کے ساتھ موجود شرایط پر اس الحاق کو تسلیم کرلیا تھا۔
اپنی سوانح عمری میں باچا صاحب کا دعوا ہے کہ پاکستان سے الحاق کرنے والے ریاستی حکم رانوں میں وہ اولین حکم ران ہے۔ جب کہ اس کے جانشین والی صاحب کی سوانح عمری ’’دی لاسٹ والی آف سوات‘‘ میں اس کے بیان کے مطابق اگرچہ ریاستِ سوات کے حکم ران نے سب سے پہلے پاکستان سے الحاق کی خواہش کی تھی لیکن حکومتِ پاکستان نے کہا کہ ہم پہلے چترال کے حکم ران سے ضابطۂ الحاق پر دستخط لیں گے، اس کے بعد دیر والے سے اور اس کے بعد سوات والے سے۔ لہٰذا اس وجہ سے ریاستِ سوات، پاکستان سے الحاق کرنے میں تیسرے نمبر پر آیا۔
تاہم باپ اور بیٹے کے پاکستان سے ریاستِ سوات کے الحاق سے متعلق یہ دعوے حقایق کے منافی ہیں۔ پاکستان سے الحاق کرنے والی پہلی ریاست جونا گڑھ تھی جس کے حکم ران نے 14 ستمبر 1947ء کو پاکستان سے دستاویزِ الحاق یا ضابطۂ الحاق پر دستخط کیے تھے اور گورنر جنرل پاکستان نے اگلے ہی دن یعنی 15 ستمبر 1947ء کو اس پر دستخط ثبت کیے تھے۔ بہاولپور اور خیرپور کی ریاستوں کے حکم رانوں نے ضابطۂ الحاق پر 3 اکتوبر 1947ء کو دستخط کیے تھے اور گورنر جنرل پاکستان نے ان پر 5 اکتوبر 1947ء کو۔
مذکورہ حقایق کی روشنی میں ریاستِ سوات کے پاکستان سے الحاق سے متعلق نہ صرف باچا صاحب اور والی صاحب کے دعوے حقایق کے منافی ہیں، بلکہ ان کی بہو محترمہ کا مذکورہ بالا یہ دعوا بھی حقیقت پر مبنی نہیں کہ ریاستِ سوات نے 1949ء میں پاکستان کو تسلیم کرکے یہ ریاست، پاکستان کا حصہ بنی تھی۔
باقی آئندہ، ان شاء اللہ!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔