عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات ہے دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
صد حیف! ہمارا ہیرو محمد کریم المعروف ’’لٹل کریم‘‘ (Little Karim) جہانِ فانی سے جہانِ باقی چل بسا، اللہ غریقِ رحمت کرے۔
ہم اور ہمارا میڈیا ’’نئے پاکستان‘‘ اور ’’پرانے پاکستان‘‘ کی بحث میں کھوئے رہے۔ کسی کے کان پر اس سناؤنی کی جوں تک نہ رینگی۔ بے حسی، مردہ ضمیری اور سنگ دلی اس دیو مالائی ہستی کے ارتحال پر بحیثیتِ مجموعی غالب رہی ۔نہ کوئی پرسہ نہ نوحہ، آہ……!
قوم و حاکم کس گم راہی کی راہ پر چل نکلے، جو گاتے، تھرکتے ننگے ابدان کو تو ایوارڈ اور وظایف نوازنے میں پیش پیش ہیں مگر اصل ہیروز کے کارناموں سے اس قدر لا علمی اور بے قدری…… ڈوب مرنے کا مقام ہے! آپ ان جعلی ہیروز کو بھی نوازیں…… مگر اصل ہیروز کی بھی تو ان کے شایانِ شان اعزازات سے دل جوئی کریں۔ ورنہ یوں ہی ڈاکٹر قدیر، صد پارہ و کریم ہماری سرد مہری کا شکار ہوتے رہیں گے؟
اغیار جس کو ’’لٹل کریم‘‘ کے نام سے جانتے اور سراہتے ہیں…… اور اپنے اُس سے بے خبر ہیں، کوہ پیما برادری ایک دیو مالائی ہستی سے محروم ہوگئی۔
لٹل کریم ’’گھانچے‘‘ ضلع کے ایک گاؤں ہوشے میں پیدا ہوا۔ کبھی سکول نہیں گیا…… مگر تعلیم و تربیت کے لیے سماجی کام بہت کیا۔ یہاں تک کہ اسپین کی ایک ’’این جی اُو‘‘ نے اُس کو اُس کی خدمات کے صلہ کے طور پر ایک ہوٹل بنا کر دیا…… تاکہ وہ غمِ روزگار سے آزاد ہو جائے…… مگر اُس کی دریا دلی و سخاوت دیکھیے…… یہ سب اور سارے فنڈ اپنی کمیونٹی کی فلاح و بہبود اور تعلیم کے لیے وقف کر دیے…… اور خود ساری عمر ایک جھونپڑا نما مکان میں بسر کرلی…… مگر پہاڑوں کا یہ مارخور کوہ پیمائی کے رموز سے آشنا تھا۔ کوتاہ قد…… مگر بلند حوصلہ، دنوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرلیتا۔ ہارنا کبھی نہیں سیکھا۔ اک بہادر جنگجو جو دنیا کی بلند ترین چوٹیوں سے نبرد آزما موت کے جبڑوں سے زندگیاں چھین لاتا۔ اس کی مہم جویانہ زندگی ایسے ہیرو ازم اور دلیری کے کار ناموں سے بھری پڑی ہے۔
1976ء میں بے روزگاری سے تنگ پورٹر کے طور پر کام کرنے کے لیے جب پہلی دفعہ گاؤں سے اسکردو آیا، تو اس نوجوان کی دبلی پتلی جسامت اور انتہائی چھوٹے قد (پانچ فٹ دو انچ) کو دیکھ کر کوئی مہم اسے لے جانے کو تیار نہ تھی۔ اس کی خوش قسمتی کہ اک ’’اسپینش‘‘ (Spanish) مہم کے لیے ایک پورٹر کم تھا، اس کے علاوہ کوئی نہ ملا، تو اسے با دلِ ناخواستہ ساتھ لے جانا پڑا…… اور یہ مجبوری اس کے لیے ’’گیم چینجر‘‘ (Game Changer) ثابت ہوئی۔ اس کی قوت، رفتار، کام سے خلوص کو دیکھتے ہوئے اسی ٹیم نے اس پر ’’ڈاکومنٹری‘‘ بنائی اور اس کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ اس کے بعد دنیا کے کوہ پیماؤں کے لیے اس کے پاس وقت نہ تھا…… اور مہم جو ٹیمیں اس سے معاملہ طے کر کے مہم جوئی کیا کرتیں۔
1978ء میں برطانوی کوہ پیما ’’کرس بوننگٹن‘‘ کو اپنی کے ٹو مہم کے لیے پورٹرز کی ضرورت تھی۔ کریم بھی وہاں آڈیشن دینے آیا تھا۔ جب بوننگٹن نے کریم کو دیکھا، تو اس نے اسے یہ کَہ کر رد کر دیا کہ تم بہت چھوٹے ہو! مایوس 5 فٹ 2 انچ کے کریم نے 6 فٹ 6 انچ لمبے آدمی کو اپنی ٹانگوں سے اُٹھایا اور ایک بڑے میدان کی لمبائی میں دوڑا۔ سب ہنس پڑے…… لیکن کریم نے اپنی طاقت ثابت کر دی تھی۔ بوننگٹن اُسے اس مہم پر لے گیا…… اور اسی طرح کریم نے اپنا کوہ پیمائی کا سفر شروع کیا۔ بعد میں کریم نے کامیابی سے ’’جی ٹو‘‘ (8,035-m) اور ’’براڈ پیک‘‘ (8,051-m) کو سر کیا۔ ’’جی ٹو‘‘ پر اس نے 25 کلو سامان کو سپلیمنٹری آکسیجن کے بغیر سمٹ تک پہنچایا۔
کریم نے مختلف مہمات کے ایک حصے کے طور پر ’’کے ٹو‘‘ (8,611-m) نو بار کوشش کی لیکن ناموافق موسم کی وجہ سے چوٹی پر نہیں جاسکا۔ اس کے علاوہ کریم اپنے طور پر بلندی پر کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے میں اپنے بہادر کارناموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ جیسے 1981ء کی جاپانی مہم جوئی جس کی قیادت نذیر صابر (مشہور کوہ پیما) کر رہے تھے…… 7100 میٹر بلندی پر موت و حیات کی کشمکش میں پھنس گئی تھی، لٹل کریم جو HAPs (High Altitude Porters) کو لیڈ کر رہا تھا، اس کٹھن گھڑی میں تنِ تنہا اتنی بلندی سے نیچے آتا جاتا رہا اور ٹیم کو آکسیجن اور خوراک کی فراہمی کے لیے اپنی زندگی کی بھی پروا نہ کی۔ یوں پوری ٹیم کو بچا لیا۔
ایک دفعہ ’’کے ٹو‘‘ کو سر کرنے کی فقط دو سو میٹر دوری پر ’’بوٹل نیک‘‘ کے سرے پر غیر ملکی ساتھی جو ’’ہائٹ‘‘ لگنے سے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا، اس کی زندگی بچانے کو ترجیح دی اور اترائی شروع کر دی اور تا دمِ زیست کے ٹو کو مسخر کرنے کے اعزاز سے محروم رہا۔
بقولِ ڈاکٹر شاہد اقبال (بانی بورے والا ٹریکرز) الپائن کلب آف پاکستان کی اسلام آباد میں اک تقریب میں جب اس دیومالائی ہستی سے ملاقات ہوئی، تو ان کو نرم گو، ہمیشہ مسکراتے رہنے والا، عاجز اور نرم مزاج اور نمود و نمایش سے بہت دور پایا۔
بورے والا ٹریکرز کے خالد حسین اور دوسرے دوستوں کی اس ہیرو سے ملاقات کی تمنا دل ہی میں رہ گئی۔
کوئی انجان ان کے گھسے ہوئے کپڑوں، جسامت سے بڑی چمڑے کی جیکٹ، گھسے جوتے جو کسی بھی طرح سے ناہم وار علاقے کے لیے موزوں نہیں…… اور اس کے عاجزانہ رویے سے اس شخص کی عظمت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔
یورپی فلم سازوں نے کریم پر ایک دو دستاویزی فلمیں بنائیں اور انہیں بیرونِ ملک سفر کرنا پڑا۔ اسپین میں اُس کی ملاقات کرسٹیانو رونالڈو سے ہوئی…… جس نے اسے دستخط شدہ ’’رونالڈو 7‘‘ فٹ بال جرسی پیش کی۔
ان تمام باتوں کے باوجود ننھا کریم اپنے ہی ملک میں زیادہ تر غیر واضح اور غیر مقبول رہا۔ جب وہ بیمار اور بے روزگار ہوگیا، تو اس کا خاندان اس کے طبی اخراجات برداشت نہیں کرسکتا تھا…… اور اسے رونالڈو کی قمیص بھی فروخت پر رکھنی پڑی۔ تاہم پاک فوج کو سلام جنہوں نے اس ہیرو کی علالت کو دیکھتے ہوئے ’’سی ایم ایچ راولپنڈی‘‘ میں علاج کے لیے چند ماہ پہلے داخل کیا…… مگر وہ جاں بر نہ ہوسکا اور جان، جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔
اس سے قطعِ نظر کہ کریم دوبارہ کوہ پیمائی کی حسرت دل میں لیے اگلے جہان جا بسا…… اس کی اولاد چار بیٹے اور اتنی ہی بیٹیاں ہیں…… اس کی میراث نہ صرف برقرار ہے بلکہ اسے اس کی دو پوتیاں، حنیف کی بیٹیاں اور اک پوتا زاہد حنیف آگے بڑھا رہے ہیں، جنہوں نے ہنزہ کی وادیِ شمشال میں 6,080 میٹر بلند ’’منگلک سر چوٹی‘‘ کو سر کیا ہے۔ پچھلے سال مئی میں اس کی لڑکیوں کو ’’لاس کینڈاس‘‘ جو اسپین کی سب سے بلند چوٹی ہے…… کو سر کرنے پر بہترین ہائیکرز کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ یہ چوٹی اسپین میں ہائیکنگ سائٹس میں سے ایک ہے۔ اس لیے کریم کو بلاشبہ ایک سچے کوہ پیما کے طور پر یاد کیا جائے گا، جس نے ہمیشہ دوسروں کی ضرورتوں کو اپنے اوپر رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ ضرورت کے اس وقت حکومت اس کی وفات کے بعد جو کچھ کر سکتی ہے وہ کرے اور ہم بحیثیتِ قوم ان کی برسوں کی محنت کو تسلیم کریں اور اس کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔