آج کل ملک کے مروجہ سیاسی نظام کی خامیوں کی وجہ سے بہت عرصہ کے بعد ملک میں ہر طرف ’’لوٹا، لوٹا‘‘ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ ویسے تو لوٹا ایک معصوم برتن ہے…… جو بنی نوع انسان واسطے بہت کارآمد ہے، لیکن ہم انسان چوں کہ ہمیشہ اپنی کم زوریوں کو کسی اور کے سر تھوپ دیتے ہیں۔ اس وجہ سے کبھی گدھے، گھوڑے، بلی یا پھر لومڑی جیسے مسکین جانوروں کی شامت آتی ہے۔ کبھی کریلوں اور نیم جیسی مظلوم نباتات اور کبھی چمچوں، دیگوں، کڑچھو اور لوٹوں جیسے بے زبان و بے جان برتنوں کی، لیکن آج کل لوٹا زبان زدِ عام ہے۔
قارئین، عام زبان میں ہم جماعت تبدیل کرنے والے ارکان کو ’’لوٹا‘‘ کہتے ہیں۔ اس وجہ سے کہ چون کہ لوٹا ہر کسی کے ہاتھ آتا ہے۔ گو کہ منطق کے اصول کے تحت یہ اصطلاح بالکل غلط ہے بلکہ متضاد ہے۔ لوٹا خود کہیں نہیں جاتا…… بلکہ اس کو اٹھایا جاتا ہے۔ اس طرح ہمارے سیاست دان خود کہیں اور جا گھستے ہیں۔
دوسری بات یہ کہ لوٹا صفائی کا کا کام کرتا ہے، جب کہ ہمارے بکاؤ راہنما ایک جگہ خوب گند ڈال کر دوسری جگہ گند پھیلانے جاتے ہیں۔ بہرحال اس سیاسی اصطلاح کی تاریخ کافی پرانی ہے۔
میرے ناقص علم کے مطابق برصغیر کی تاریخ میں یہ لقب پانے والے اولین ’’مردِ جری‘‘ سرگودہا کے ایک وکیل محترم شیخ محمد عالم تھے۔ اپنے وقت میں ’’ڈاکٹر لوٹا‘‘ کے نام سے مشہور تھے۔ آکسفورڈ سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ لاہور اور جہلم میں پریکٹس کی۔ پھر سرگودہا چلے گئے۔ اپنی عوامی زندگی کا آغاز مولانا محمد علی جوہر کی تحریکِ خلافت سے کیا۔ پھر خاکسار تحریک میں شامل ہو کر راولپنڈی کی سیٹ سے اسمبلی پہنچ گئے۔ اس کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ جب مسلم لیگ شفیع گروپ اور جناح گروپ میں تقسیم ہوئی، تو وہ جناح لیگ میں شامل ہوگئے۔ پھر آل انڈیا مسلم نیشنلسٹ میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد 1931ء میں کانگریس میں شامل ہوگئے۔ پھر کچھ عرصہ بعد مولانا ظفر علی خان کی مسلم اتحاد ملت میں شامل ہوگئے۔ پھر نیلے کپڑے پہن کر نیلی پوش تحریک کا حصہ بن گئے اور اپنی ہی جماعت کے سید حبیب کے مقابل راولپنڈی سے انتخابات لڑ کر آئے اور کانگریس میں شامل ہوگئے۔ اس کے بعد 1945ء میں پھر خاکسار پارٹی میں شامل ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل جب وہ اسمبلی میں کانگریس کے ساتھ تھے، تو ان کو قایدِ اعظم نے کہا کہ ’’چوں کہ مسلم لیگ اب ایک پارلیمانی طاقت ہے، تو عالم تم مسلم لیگ میں شامل ہو جاؤ!‘‘ تب عالم صاحب نے کہا، سوچ کر جواب دوں گا۔ اس پر قایدِ اعظم نے طنز کیا کہ ’’عالم! تم کو کسی بھی جماعت میں شامل ہونے کے لیے سوچنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے؟‘‘
بہرحال بقولِ آغا شورش کاشمیری ان کو لوٹا کا اول خطاب روزنامہ زمین دار کے ایک کارکن عطا حسین میر کاشمیری نے دیا تھا۔ کیوں کہ عطا صاحب زمین دار میں صحافت کے ساتھ ساتھ وزارتِ اطلاعات کی معرفت ریڈیو لاہور کے لیے پنجابی خبریں تیار کیا کرتے تھے۔ کسی بات پر ان کو عالم صاحب نے نکلوا دیا اور پھر عطا صاحب نے غصہ میں آکر ایک کالم زمین دار میں لکھ مارا، جس میں پہلی بار شیخ محمد عالم کو لوٹا کا خطاب دیا۔ بس پھر کیا تھا کہ یہ اصطلاح آناً فاناً زبان زدِ عام ہوئی۔ اس کے بعد اب کوئی بھی شخص جب جماعت تبدیل کرتا ہے، تو اس کو فوری لوٹا قرار دیا جاتا ہے۔ پس شیخ عالم صاحب اول لوٹا کہلائے، اس کے بعد یہ اصطلاح مشہور تر ہوتی گئی۔
قارئین، اس کا دوسرا معروف نام مصطفی کھر کا بنا، جب انہوں نے بھٹو صاحب سے اختلاف کے بعد پیر پگاڑا کی مسلم لیگ کو جواین کیا اور دیگر کے ساتھ مل کر لاہور میں جلسہ کیا اور حکومت نے یہ جلسہ خراب کر دیا۔ اس پر مصطفی کھر نے سخت پریس کانفرنس کی اور الزام لگایا کہ میرے جلسہ میں سانپ چھوڑے گئے، تو اس بیان پر حنیف رامے نے کہا، سانپ ہوں یا بھیڑیے، لوٹوں کو کیا فرق پڑتا ہے! اور یوں کھر صاحب دوسرے معروف لوٹا بنے۔
لیکن لوٹا کو اصل شہرت سنہ 1999ء میں اس وقت ملی، جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خلاف ان کے مخالفین آئی جے آئی نے تحریکِ عدمِ اعتماد پیش کی۔ تب چوں کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے میں آئی جے آئی کی حکومت میاں نواز شریف کی قیادت میں تھی، اور مرکز میں پی پی محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں، تو تب خوب زبردست سیاسی رَن پڑا۔ اسی دور میں ’’چھانگا مانگا‘‘ کی بھی اصطلاح مشہور ہوئی۔ کیوں کہ میاں نواز شریف نے اپنے ممبران کو لاہور کے نزدیک چھانگا مانگا شفٹ کر دیا تھا۔ جب کہ دوسری طرف چوں کہ خیبر پختون خوا جو تب سرحد کہلاتا تھا، میں پی پی کی حکومت آفتاب شیرپاؤ کی قیادت میں تھی۔ سو محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے ارکان کو سوات کے پُرفضا مقام پر شفٹ کر دیا تھا۔ اب میڈیا روز لچھے دار خبریں لگاتا، مثلاً ’’چھانگا مانگا میں ایک اور لوٹے کا اضافہ۔‘‘، ’’ایک لوٹا چھانگا مانگا سے نکل کر سوات پہنچ گیا۔‘‘ یہی وہ دور تھا جب آئی ایس آئی کے دو حاضرِ سروس ملازمین یعنی بریگیڈیر امتیاز عرف بریگیڈیر بلا اور میجر عامر پر لوٹا بنانے کا الزام براہِ راست لگا۔ بے نظیر حکومت کے تب کے آئی ایس آئی چیف جنرل ریٹایرڈ شمس الرحمان کلو نے دونوں کو آپریشن مڈ نایٹ جیکال کے نام سے آپریشن میں ٹریپ کرکے ریپورٹ وزیرِ اعظم کو دے دی تھی، اور پھر اسی وجہ ان دونوں افسران کو جنرل اسلم بیگ نے جبری ریٹایر کردیا تھا، جب کہ تب کی وزیراعظم ان کے کورٹ مارشل پر بضد تھیں۔
بہرحال یہ وہ دور تھا جب عوامی سطح پر لوٹا کو شہرت ملی۔ اس کی مختلف تشریحات کی گئیں۔ یہ بات اصولی طور پر درست ہے کہ اگر آپ کسی ایک جماعت کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں، تو آپ اخلاقاً، قانوناً اور سیاسی طور پر اس بات کے پابند ہیں کہ یا تو آپ استعفا دے کر دوسری جماعت کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر آئیں، یا پھر وہی رہ کر جو بھی تحفظات ہوں، جماعت کے اندر ہی احتجاج کریں…… لیکن اس جماعت کے خلاف پارلیمان میں ووٹ مت کریں۔ چوں کہ ہماری سیاسی و اخلاقی روایات بہت کم زور ہیں، یا ان کو پنپنے نہیں دیا گیا، سو اس وجہ اگر کوئی رکن فلور کراسنگ کرتا ہے، تو جن کو چھوڑ کر جاتا ہے، ان کے لیے وہ غدار، بداخلاق، مفاد پرست لوٹا کہلاتا ہے…… لیکن جن کے پاس جاتا ہے، وہاں اس کو باضمیر اور حب الوطنی کا مظہر قرار دیا جاتا ہے۔ مثلاً جنرل مشرف دور میں جب ظفرﷲ جمالی کو وزیراعظم بنانا مقصود تھا، تو ایک دو نہیں بلکہ ایک ساتھ پیپلز پارٹی کے تقریباً ایک چوتھائی ارکان کو توڑا گیا، جن میں راؤ سکندر، اقبال مخدوم، فیصل صالح حیات اور نوریز شکور جیسے بہت قدیم اور سکہ بند جیالے بھی شامل تھے ۔
اب ایک بار پھر یہی حالات ہیں کہ موصولہ اطلاعات کے مطابق تحریکِ انصاف کے تقریباً نصف سنچری کے برابر ممبران لوٹا بننے جا رہے ہیں۔ میڈیا پر ہر روز نیا شور مچ رہا ہے اور سوشل میڈیا پر ’’جنگِ پلاسی‘‘ کا منظر بن چکا ہے۔ ایک طبقہ جو ممبران ظاہر ہوئے ہیں، ان کی ماں بہن ایک کر رہا ہے اور دوسرا طبقہ ان کو باضمیر بنا کر خوش آمدید کَہ رہا ہے۔ بہرحال اس تمام بحث کا نتیجہ یہ ہے کہ فلور کراسنگ کے قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ اس مکروہ حرکت کو مکمل روک دیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اگر صرف اتنا قانون بنا دیا جائے کہ آپ جب بھی کسی جماعت میں شامل ہوں، اس میں چھے ماہ تک آپ بس رکن ہیں اور آپ کوئی جماعتی عہدہ نہیں نہ رکھ سکتے۔ پھر ایک سال تک کوئی مرکزی عہدہ جو ڈویژن کی سطح سے اوپر ہو، نہیں رکھ سکتے ۔ بلدیاتی ٹکٹ کے لیے چھے ماہ صوبائی کے لیے ایک سال اور قومی کے لیے دو سال تک آپ کا کسی جماعت میں بطورِ متحرک رکن ہونا ضروری ہے، تو یقینا اس عمل میں بہتری کی گنجایش پیدا ہوسکتی ہے۔
دوسری بات، ہماری سیاسی جماعتوں اور قایدین کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ جو رکن آج آپ کی طرف کسی اور کی پیٹ میں چھرا گھونپ کر آیا ہے، کل اس کی چھری کسی اور کی خاطر آپ کی گردن پر بھی ہوسکتی ہے۔
تیسری بات، عوام کو بھی اس عمل میں گہری دلچسپی رکھنا ہوگی اور ایسے عناصر جو ذاتی مفادات کے تحت ملک و ملت کے نام پر ضمیر کا سودا کرتے ہیں، ان کا تنقیدی جایزہ لینا ہوگا۔ ایسے لوگوں کو ووٹ کے ذریعے ناکام کرنا ہوگا، تاکہ ان ضمیر فروش عناصر میں بھی خوف پیدا ہو کہ وہ اس بے ضمیری کے ساتھ سیاست میں مقام پیدا نہیں کر سکتے۔ سول سوسایٹی کو اس عمل سے نفرت کا اظہار کرنا چاہیے۔ اس مسئلہ میں نیوٹرل نہ بنے، تو یہ بھی ملک کی ایک نہایت اہم خدمت ہوگی۔
…………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔