90ء کی دہائی میں نشاط چوک ایک طرح سے پورے شہر کی فوڈ سٹریٹ ہوا کرتا تھا۔ یہاں پرانی سبزی منڈی کے نکڑ پر ’’فیروز شاد کڑھے‘‘ (کباب خانہ)، اسی نشاط چوک میں حاجی بابا چوک کی طرف جاتے ہوئے راستے کے بائیں ہاتھ زمین دار کیفی، قذافی چپلی کباب سنٹر اور دائیں ہاتھ اکبری کیفی ایک طرح سے لذتِ کام و دہن کا سامان مہیا کرتے۔
یہاں ایک بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ 90ء کی دہائی میں جو کچھ مجھے یاد ہے، وہی اس سلسلے کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ اُس دور میں اِس حوالے سے اور بھی اچھی جگہیں ہوں گی مگر وہ کسی اور کے ذہن پر نقش ہوں گی۔
ان جگہوں کے علاوہ ’’ملوک تکو والا‘‘ کافی مشہور تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل 9 یا 10 سال ہی ہوتی ہوگی، نشاط چوک میں ٹھیک اُس جگہ جہاں آج کل محمد دہی اور دودھ بیچنے والے کی چھوٹی سی دکان ہے، بہ یک وقت تقریباً بیس پچیس لوگوں کے بیٹھنے کی کھلی جگہ ہوتی تھی۔ ایک بائے دو فٹ چوکے (کٹکے) پر لوگ بیٹھ کر انور کے ہاتھ کی تیار کی ہوئی باربی کیو (بھنا ہوا گوشت) چٹخارے لے لے کر کھاتے۔ ذہن پر زور ڈالتا ہوں، تو یاد پڑتا ہے کہ سنہ 86، 87ء میں اس چوکے پر انور کے والد ملوک بیٹھا کرتے تھے۔ ایک بڑی انگیٹھی (غالباً ڈیڑھ فٹ چوڑی اور کوئی چھے یا سات فٹ لمبی) پر کویلہ رکھ کر دستی پنکھے کی مدد سے اسے انگاروں میں تبدیل کیا جاتا۔ اس کے بعد لوہے کی ڈیڑھ فٹ پتلی بار میں بڑے گوشت (Beef) کے چھوٹے چھوٹے چھے قتلے (Steaks) ڈالے جاتے۔ آخر میں مذکورہ بار کو دہکتے انگاروں کے اوپر رکھا جاتا۔ گوشت بھننے کے عمل سے گزرتا، تو پورے چوک میں اس کی خوش بو پھیل جاتی۔
شمشیر استاد (اقبال ٹیلرنگ شاپ، نشاط چوک) ملوک کے سب سے بڑے بیٹے ہیں، کہتے ہیں کہ شاید یہ لوگوں کو مبالغہ لگے، مگر ہم 90ء کی دہائی میں اہلِ مینگورہ کی تواضع 40 تا 45 سیر گوشت (بار بی کیو اور کڑاہی) سے کیا کرتے تھے۔ واضح رہے اُس وقت گوشت وغیرہ تولنے کے لیے ’’کلو‘‘ کا رواج نہ تھا۔
خدا بخشے ہمارے دادا خوش خور تھے۔ مَیں چوں کہ انہیں پوتوں میں سب سے عزیز تھا، اس لیے وہ اکثر مجھے انگلی تھما کر بازار کی سیر کرایا کرتے، مگر کھانے میں کم ہی ساتھ رکھتے۔ کئی دفعہ انہیں انور کا ’’بار بی کیو‘‘ کیا ہوا کھانا اکیلے نوشِ جاں فرماتے ہوئے دیکھا اور اپنا سا منھ لے کے واپس گھر آیا۔ گوشت چباتے وقت دادا حضور آنکھیں بند رکھتے۔ یہ کھانے سے لطف اُٹھانے کا ان کا اپنا انداز تھا۔ زندگی کے آخری ایام میں ان کو مرغن کھانوں اور بسیار خوری کی وجہ سے دل کا عارضہ لاحق ہوا۔ اس وقت ان کے معالج کون تھے، بالکل یاد نہیں، حتی کہ ان کی شکل بھی یاد نہیں…… مگر وہ ’’سیناریو‘‘ اچھی طرح یاد ہے۔ ڈاکٹر صاحب، دادا جی کا چیک اَپ کرنے کے بعد انہیں تاکید کرنے لگے کہ ’’حاجی صاحب! اب آپ کو کھانے میں احتیاط برتنا ہوگی۔‘‘
دادا جی پوچھنے لگے: ’’ ڈاکٹر صاحب، احتیاط……؟‘‘
ڈاکٹر صاحب بولے: ’’اب آپ کو مرغن کھانوں اور تلی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرنا ہوگا۔‘‘
’’اور اگر نہ کیا، تو……!‘‘
’’تو کیا حاجی صاحب، آپ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے!‘‘
دادا جی بلا توقف جواباً کہنے لگے: ’’سر دَ گیڈے زار شہ!‘‘ (یعنی پرہیز کو تو ہم جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں)
ڈاکٹر صاحب اُٹھ کر مصافحہ کی خاطر ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے: ’’حاجی صاحب! شوق سے انتقال فرمائیے!‘‘
مجھے ’’زمین دار‘‘ اور ’’اکبری کیفی‘‘ میں اپنے بچپن کے دور میں کھانا یا کچھ وقت گزارنا بالکل یاد نہیں۔ دونوں کا ذکر اکثر بڑوں کی زبانی سنا کرتے۔ زمین دار کیفی کی چکن اور مٹن کڑاہی کی مثالیں دی جاتیں۔ اس طرح اکبری کیفی کے ذایقے دار کھانوں کا شہرہ تھا۔ یہاں پلاو، وایٹ میٹ (White Meat) اور کلیجی کی دھوم تھی۔ زمین دار کیفی کی جگہ تو اب ایک پلازہ بن رہا ہے، البتہ اکبری کیفی آج بھی اپنی جگہ پر قایم ہے۔
’’فیروز شاد کڑھی‘‘ کے ساتھ میری بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ پرانی سبزی منڈی کے نکڑ پرریاستِ سوات دور کی تعمیر شدہ بڑی دکانوں میں قایم اس کباب خانے کو لوگ ’’فیرز شاد کڑھے‘‘ کہتے تھے۔ فیروز شاد کے بیٹے ’’عثمان علی‘‘ کے بقول: ’’ہمارے کباب خانے کی بنیاد ہمارے چچا خوشحال لالا نے رکھی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ میرے والد حاجی فیروز شاد (مرحوم) کے حوالے ہوا۔‘‘




فیروز شاد (مرحوم) کا بیٹا عثمان علی اور ان کا پوتا حاجی بابا میں واقع اپنے کباب خانے میں کباب تیار کر رہے ہیں۔ (فوٹو: سحابؔ)

اب مذکورہ کباب خانہ شفٹ ہوکر ہائیر سیکنڈری سکول حاجی بابا کے سامنے واقع ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور کباب خانہ جس سے ہم اکثر گھر کے لیے کباب خریدا کرتے قذافی چپلی کباب سنٹر تھا۔ دو روپے کے عوض ملنے والا کباب مجھے آج بھی یاد ہے۔ حاجی سیفور غنی کہتے ہیں: ’’مَیں نے اس کباب خانے کی بنیاد بھٹو کے دور میں رکھی تھی۔ آپ کَہ سکتے ہیں کہ اس کے تقریباً 50 سال پورے ہوچکے ہیں۔ اول اول دو طرح کا کباب ہمارے ہاں تیار ہوتا تھا، ایک چھوٹا، دوسرا بڑا۔ چھوٹے کی قیمت 8 آنے جب کہ بڑے کی 1 روپیا تھی۔ ‘‘
حاجی سیفور غنی نے اپنی یادوں کی پوٹلی کھولتے ہوئے کہا کہ اول اول وہ فٹ بال کھیلا کرتے تھے۔ ان کے بقول: ’’ڈیفنس لاین میں ہاف پوزیشن پر مَیں فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ ہماری ٹیم کا نام قذافی فٹ بال کلب تھا۔ بعد میں جیسے ہی یہ کباب خانہ مَیں نے کھولا، تو اس کا نام قذافی چپلی کباب سنٹر رکھا۔‘‘

حاجی سیفور غنی نشاط چوک میں قایم اپنے کباب خانے میں خوش گوار موڈ میں موجود ہیں۔ (فوٹو: سحابؔ)

ایک اور کباب خانہ ’’میرجو کڑھے‘‘ کے نام سے مشہور ہے، مگر اس کے ساتھ میری یادیں وابستہ نہیں۔ ’البتہ اس کے بارے میں ایک محترم سے کہانی سنی تھی، جسے جیسے ہی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی شکل میں شیئر کیا، تو علی الصباح اُن کا فون آیا اور پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کا کہا۔ فون کاٹنے کے بعد پوسٹ تو نہیں ہٹائی، البتہ اُس میں تھوڑی سی ایڈیٹنگ ضرور کی۔ کہانی تھوڑی سی ترمیم یا اضافے کے ساتھ یہاں رقم کی جاتی ہے، ملاحظہ ہو: ’’ایک محترم (نام بہ وجوہ رقم نہیں کرسکتا) نے ظہرانے میں کباب منگوایا اور ہمیں نوشِ جاں فرمانے کی دعوت دی۔ گرما گرم کباب تناول فرماتے وقت انہوں نے اپنے گاؤں ’منگلور‘ کے ایک بزرگ ’شیر عالم خان‘ (مرحوم) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ہمارے سامنے پڑے اس چھوٹے سایز کے کباب کو بھی کوئی کباب کہتا ہے بھلا……! خدا سلامت رکھے شیر عالم خان کو وہ جب منگلور سے مینگورہ شہر میرجو کڑھی میں قدم رنجہ فرماتے، تو آواز دیتے: ’الکہ، شیر عالم خان ککوڑے……!‘ اور دس پندرہ منٹ میں اتنے بڑے سایز کا کباب تیار ہوتا، جسے ایک بڑے تال نما برتن (جسے ہم پشتو میں’غورئی‘ کہتے ہیں) میں ’سرو‘ (Serve) کیا جاتا۔ کباب کے ساتھ کٹے ہوئے نارنج، ہری مرچ، پیاز اور میرجو کڑھی کی تیار کی ہوئی روایتی چٹنی رکھ دی جاتی۔ شیر عالم خان، کباب کے ساتھ روٹی کھانے کو معیوب گردانتے اور مدعو کیے گئے مہمانوں کو بھی کباب روٹی کے بغیر کھانے کی تلقین کرتے۔ شیر عالم خان کے نام پر آج بھی مرجو کڑھی میں ’شیر عالم خان ککوڑے‘ دستیاب ہے۔‘‘
ایک عزیز نے جب میری یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر پڑھی، تو چند دوستوں کو ساتھ لے کر میرجو کڑھی گیا۔ وہاں شیر عالم خان کی طرح شانِ بے نیازی سے ہاتھ کھڑا کرکے کہا: ’’الکہ! شیر عالم خان ککوڑے!‘‘ کباب ایک بڑے برتن میں لاکر ان کے سامنے رکھا گیا۔ دوستوں نے خوب مزے لے لے کر کباب کھایا، مگر جیسے ہی بِل ادا کرنے کا وقت آیا، تو عموماً لوگوں کے چودہ طبق روشن ہوتے ہیں، موصوف کے اُس وقت ساڑھے چودہ روشن ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے ’’وٹس اپ‘‘ پیغام کے ذریعے جو گل پاشی کی، وہ الفاظ غیر پارلیمانی کیا…… بلکہ غیر جمہوری ہیں۔
قارئینِ کرام! زندگی نے وفا کی، تو اس سلسلے کو آگے بڑھاتے رہیں گے!
………………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔