خدائی خدمت گار فضل غنی، امیر زادہ کے فرزندِ ارجمند تھے…… جنہوں نے 6 جنوری 1936ء کو سوات کے گاؤں برہ بانڈئی میں ان کے ہاں آنکھ کھولی۔
فضل غنی نے ابتدائی تعلیم شاہ جہان پاچا گل سے ان کی بیٹھک میں حاصل کی۔ اس کے بعد 1942ء میں گورنمنٹ پرایمری سکول مٹہ میں تیسری جماعت میں داخل ہوئے۔ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ششم جماعت میں جہانزیب کالج میں داخلہ لیا۔ یہاں سے ساتویں جماعت پاس کرکے آٹھویں میں ودودیہ سکول سیدو میں نویں جماعت میں داخل ہوئے۔ 1953ء میں آپ دسویں میں زیرِ تعلیم تھے کہ اس اثنا میں ٹال میں ایک پرائیویٹ سکول میں معلم بن گئے۔ میٹرک کرنے کے بعد 1955ء میں باقاعدہ طور پر سرکاری طور پر استاد بھرتی ہوگئے۔ ملازمت کے دوران میں انہوں نے پیشہ ورانہ مہارت بھی حاصل کی جس میں 1957ء میں پشاوریونیورسٹی سے پشتو”Proficiency” امتحان، ایلیمنٹری کالج ہری پور سے ’’جے وی‘‘ یعنی ’’جونیئر ورنیکولر‘‘ اور کمالیہ کالج پنجاب سے ’’ایس وی‘‘ یعنی ’’سینئر ورنیکولر‘‘ کے امتحانات شامل ہیں۔
فضل غنی نے 1968ء میں پشاور بورڈسے اُردو آنر کا امتحان بھی امتیازی نمبروں کے ساتھ پاس کیا۔ اس کے علاوہ ملازمت کے دوران میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی لا تعداد اسناد بھی حاصل کیں۔ یوں فضل غنی نے 1955ء سے 1996ء تک سوات کے مختلف مقامات پر فرایضِ منصبی ادا کیے۔ ان کی سبک دوشی کے موقع پر ان کے اعزاز میں ایک بہت بڑے پروگرام کا اہتمام کیاگیا تھا……جس میں تمام خیبر پختون خوا سے اساتذہ، عام لوگوں اور دیگر سیاسی عمایدین نے شرکت کی۔
فضل غنی کی اولاد میں چھے بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ سب سے بڑے بیٹے سلطان محمود پی پی سی کالج کے منتظم، نام ور معلم اور ایک سلجھے ہوئے انسان تھے۔ 2006ء میں اس دارِ فانی سے رخصت کوچ کرگئے۔ اللہ تعالا ان کے درجات بلند فرمائے۔
دوسرے بیٹے محمد خورشید دیارِ غیر میں وقت گزارنے کے بعد آج کل گھر پہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بعدظہور احمد ہیں جو سعودی عرب میں کمپیوٹر انجینئر ہونے کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی کے فعال کارکن بھی ہیں۔ ظہور احمد کے بعد میرے محسن، میرے انتہائی قدردان اور مشکل وقتوں کے ساتھی بختِ اکبر غنی زئی ہیں۔ وہ سابقہ ایس ڈی ای اُو ہیں…… اور آج کل ہائی ا سکول بانڈئی میں بحیثیتِ معلم اپنے فرایض سر انجام دے رہے ہیں۔
بخت اکبر غنی زئی نے ایم اے اُردو، ایم اے پشتو، ایل ایل بی اورایم ایڈ کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہ پاکستانی زبانوں میں ایم فل بھی کر رہے ہیں۔ آپ اپنے والد کے سیاسی وارث بھی ہیں۔ اس لیے آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدراور ملگری استاذان کے صوبائی جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہو چکے ہیں۔
بخت اکبر غنی زئی کے بعد نثار احمد ہیں جو محکمۂ زراعت میں واٹر مینجمنٹ آفیسر ہیں۔
فضل غنی کے چھٹے بیٹے نظیر احمد سینئرڈرگ انسپکٹر ہیں۔
فضل غنی نے سوات سٹیٹ کے دنوں سے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تھا۔ اس ضمن میں 1956ء میں ’’گم نام سپاہی‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی۔ اُس وقت سے لے کر ان کی وفات تک وہ سیاست سے وابستہ رہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے سر گرم رکن تھے۔ سوات سٹیٹ کے خاتمے کے بعد آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری اور بعد میں صوبہ بھر کے سینئرنایب صدر رہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام خیبر پختون خوا کے تقریباًسبھی اضلاع کے اساتذہ کرام انہیں جانتے تھے۔ 1995ء میں آپ ’’ملگری استاذان تنظیم‘‘ کی آرگنایزر کمیٹی کے ممبر بنے۔ اس تنظیم میں ان کا بڑا کارنامہ آئین کا مرتب کرنا ہے۔ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ’’ملگری استاذان‘‘ کے سرپرستِ اعلا بھی رہے۔ ان کے ساتھ بختِ اکبر غنی زئی جنرل سیکرٹری تھے۔
مرحوم فضل غنی نے ریٹایرمنٹ کے بعد باقاعدہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی دور اندیشی کے عوض وہ سوات آرگنایزنگ کمیٹی کے ممبر بنے اور قلیل مدت میں ’’سوات قومی اتحاد‘‘ کے دفتر کی نگرانی کرنے لگے۔ اپنی ذہانت کی بنا پر بعد میں سینئر نایب صدر بنے۔ فضل غنی کی سیاسی خدمات کے ساتھ ساتھ ان کی ادبی خدمات سے بھی انکار نہیں کیاجا سکتا۔ ان کے مضامین، مقالے، اخباری بیانات، خطو ط، میٹنگز اور اجلاسوں کی رپورٹس سے ان کے ادبی ذوق کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔
بختِ اکبر غنی زئی نے لایبریری ’’مکتبہ غنی زئی‘‘ کے نام سے مرتب کی ہے جس میں انہوں نے اپنے والد کی کتابوں کو بھی یک جا کرکے محفوظ کیا ہے۔ ان کتب کے اندر فضل غنی کی تحریروں سے ثابت ہو تا ہے کہ وہ محض پڑھنے کے شوقین نہیں تھے…… بل کہ اعلا پائے کے خوش نویس بھی تھے۔پشتو، اُردو دونوں زبانوں میں لکھتے تھے۔ ان کے متعلق مرحوم تصدیق اقبال بابو لکھتے ہیں:’’آج بھی شستہ، پختہ اور شگفتہ پشتو سننے کے لیے کوئی آپ سے ملے۔ شانے پہ چادر ڈالے خالص پختون لہجے میں باتیں کرنے کے علاوہ ان کاولولہ انگیز جوشِ خطابت دیدنی ہوتا ہے۔ کیا کمال کے آدمی تھے۔ دھڑلے سے بات کیا کرتے تھے اور حق بات کی خاطر بڑے بڑے مگر مچھوں سے لڑتے تھے۔ ہمیشہ بات ڈنکے کی چوٹ پہ کیا کرتے تھے۔ بے باکی، جراری اور جگر داری آپ کا طرہ ٔ امتیاز تھا۔‘‘
فضل غنی اُردو ادب میں ساحرؔ لدھیانوی، فیضؔ، جالب ؔاور کرشن چندر سے متاثر تھے۔ اس لیے تو آپ انقلابی سوچ کے مالک تھے۔ انہوں نے جتنی بھی کتابیں خریدیں، تقریباً ہر کتاب سے متعلق لکھا۔ ایک کتاب ’’عہد ِ مغلیہ مع دستاویزات‘‘کے متعلق لکھتے ہیں کہ یکم جنوری 2002ء کو اپنے دوستوں خورشید خان اور شیر زادہ خان کے ہم راہ لاہورکی سیر کرنے چلے گئے۔ وہاں مشہور بازار انار کلی کی سیر کرنے کے بعداُردو بازار لاہور چلے گئے…… جہاں بک سٹال میں یہ کتاب خریدی۔ اسی طرح ایک اور کتاب ’’ڈکٹیٹر کون‘‘کے متعلق لکھتے ہیں کہ 27 جولائی 1975ء کوچھوٹے بھائی فضل رحیم، حسن خان، امن خان اور علی شاہ خان کے ہم راہ کراچی جاتے ہوئے لاہور ریلوے سٹیشن پر بک سٹال سے یہ کتاب لی گئی۔
فضل غنی ماہرِ تعلیم، مفکراور دُور اندیش انسان تھے۔ ان کے نظریات سے معلوم ہو تا ہے کہ وہ حق کے شیدائی تھے۔ انتہائی سادہ لباس پہنتے تھے۔ بڑوں کے ساتھ بڑے اور چھوٹوں کے ساتھ چھوٹوں جیسا سلوک کیا کرتے تھے۔ انتہائی مہمان نواز اور دل سوز تھے۔ ہمیشہ حق و صداقت پر قایم رہے۔ میری اس چھوٹی سی تحریر میں مرحوم کی خدمات کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ ان کی زندگی کے ایک ایک رُخ پر لکھتے ہوئے سیکڑوں صفحات سیاہ ہو جائیں گے…… لیکن ان کی شخصیت کے کئی پہلو پھر بھی ادھورے رہ جائیں گے۔ مرحوم کی ادبی اورسیاسی خدمات پر ایک سیمینار کا انعقاد یقینی بنایا جائے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالا انہیں جنت الفردوس میں اعلا مقام عطا فرمائے، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔